1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فریقین کی زبانی رضامندی کی اہمیت۔۔

'ایجاب وقبول' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالله بن عبدالرشيد, ‏جنوری 22، 2016۔

  1. ‏جنوری 22، 2016 #1
    عبدالله بن عبدالرشيد

    عبدالله بن عبدالرشيد رکن
    جگہ:
    الهند،كولكاتا
    شمولیت:
    ‏جنوری 23، 2015
    پیغامات:
    63
    موصول شکریہ جات:
    30
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    نکاح میں شرعی نقطئہ نگاہ سے فریقین کی زبانی رضامندی کی کیا اہمیت ہے جبکہ فریقین جب نا بالغ لڑکا یا لڑکی یا بالغ مرد و عورت ہوں؟

    اہل علم سے گزارش ہیکہ مدلل جواب ارسال فرمائیں۔ممنون ہونگا۔
     
  2. ‏جنوری 22، 2016 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,369
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    فی الحال ایک صورت کا شرعی حکم درج ذیل تھریڈ میں دیکھیں، مزید۔ ان شاء اللہ۔ بعد میں پیش کرتا ہوں ؛
    نکاح میں لڑکی اور ولی کی رضا
     
  3. ‏جنوری 22، 2016 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,369
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    نابالغ بچوں کا نکاح جائز ہے، اسلامی نظریاتی کونسل​



    کونسل کے اراکین کا کہنا تھا کہ اس صورت میں لڑکی کی رخصتی نہیں ہو سکتی اور بلوغت کے فوری بعد لڑکا یا لڑکی اس نکاح کو ختم بھی کر سکتے ہیں۔​

    اسلام آباد — ​
    پاکستان میں حکومت اور پارلیمان کو اسلامی قوانین سے متعلق سفارشات دینے والی اسلامی نظریاتی کونسل کے اراکین نے دو روزہ مشاورتی اجلاس میں فیصلہ کیا کہ اسلامی تعلیمات کے تحت کسی بچے یا بچی کے نکاح کے لیے عمر کی قید نہیں اور والدین یا سرپرست کی رضا مندی پر نابالغ بچوں کا نکاح ہو سکتا ہے۔
    تاہم اراکین کا کہنا تھا کہ اس صورت میں لڑکی کی رخصتی نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے بتایا کہ بلوغت کے فوری بعد لڑکا یا لڑکی اس فیصلے پر اعتراض کی صورت میں نکاح ختم بھی کر سکتے ہیں۔
    وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کونسل کے رکن علامہ امین شہیدی نے اس فیصلے کی وضاحت کرنے ہوئے کہا۔
    ’’نکاح اور ہے رخصتی اور ہے۔ رخصتی بلوغت سے پہلے درست نہیں کسی بھی قیمت پر۔ نکاح میں کوئی حرج نہیں ہے۔ نکاح بچپن میں بھی ہو سکتا ہے لیکن نکاح کا مطلب رخصتی نہیں ہے۔ جب اعتراض ہوتا ہے تو اس زاویے سے ہوتا ہے کہ بچی شادی کے لائق ہے ہی نہیں۔"
    ان کا کہنا تھا کہ جب قانون کی زبان میں بات کی جاتی ہے تو ہر ایک کا حکم الگ سے بیان کرنے کی ضرورت ہے۔
    امین شہیدی کا کہنا تھا کہ نابالغ بچی کی رخصتی پر کونسل کی طرف سے سزا اور جرمانے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔
    حال ہی میں سندھ کی قانون ساز اسمبلی نے ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی جس میں کم عمر بچوں کی شادیوں کو مسترد کیا گیا۔
    انسانی حقوق کی تنظمیں ایسی شادیوں کی مسلسل مخالفت کرتی آئی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات اکثر جائیداد یا خاندانی تنازعات کے حل کے وقت پیش آتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان کا موقف رہا ہے کہ کم عمری کی شادی بچیوں کے لیے صحت، جسمانی اور نفسیاتی پیچیدگیوں کا سبب بنتی ہیں۔
    خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے نیشنل کمیشن آن اسٹیٹس آف وومن کی سربراہ خاور ممتاز کا کہنا ہے کہ اسلام میں ایک معاہدہ ہوتا ہے ’’اور معاہدہ دو بالغ لوگوں میں ہی ہو سکتا ہے۔‘‘
    ’’یہ تو دیکھے نا کہ ہمارے معاشرے میں اس مقام تک کسی بچی کو لانا جب وہ منکوحہ کہلائے جب بلوغت بھی ہوجائے گی تو اس کے لیے مشکل ہو جائے گی اپنے والدین کی مرضی کے خلاف جانا۔"
    ان کا کہنا تھا کہ اس سے معاشرے میں مزید ابہام پیدا ہوگا کیونکہ ’’ایک طرف آئین میں شادی کی عمر 16 سال ہے اور سندھ اسمبلی نے وہ عمر 18 کر دی ہے‘‘۔
    خاور ممتاز کا کہنا تھا کہ کونسل کا ایسے مشورے دینے سے پہلے بین الاقوامی اسلامی مشائخ کی تحقیقات سے بھی مستفید ہونا انتہائی اہم ہے جس سے دنیا بھر میں ان کے بقول پاکستان اور اسلام کی ساکھ کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
    کونسل کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اسلام تمام مذہبی اقلیتیوں کو اپنے مذہبی عقائد کے مطابق شادیوں سے متعلق معاہدے کرنے کی اجازت دیتا ہے اس لئے پاکستان میں بھی اس پر کوئی قدغن نہیں ہو سکتی۔
    لنک
     
  4. ‏جنوری 22، 2016 #4
    عبدالله بن عبدالرشيد

    عبدالله بن عبدالرشيد رکن
    جگہ:
    الهند،كولكاتا
    شمولیت:
    ‏جنوری 23، 2015
    پیغامات:
    63
    موصول شکریہ جات:
    30
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    جزاک اللہ۔خیرا۔
    شیخ دوسری صورتوں کے متعلق بھی جلد راہنمائی فرمادیں ۔
    اللہ آپکے علم و عمل میں برکت عطا کریں۔
     
  5. ‏جنوری 22، 2016 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,369
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    نابالغ لڑکے کا نکاح بالغ لڑکی سے؟
    شروع از بتاریخ : 13 September 2013 09:36 AM
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    ایک مسماۃ کا نکاح ہمرا ہ ایک شخص کے ہوا جب کہ فریقین بحالت نابالغی تھے۔ اسی اثناء میں مسماۃ مذکور کو اس کے خاوند کا ولی اپنے گھر لے گیا۔ کچھ عرصہ کے بعد بالغہ ہوگئی اور اس کا خاوند ابھی تک نابالغ تھا۔ نابالغ خاوند کا باپ لڑکی کو ناجائز فعل پر مجبور کرتا رہا وہ مار وغیرہ سے تنگ آکر اپنی بیوہ والدہ کے پاس چلی جاتی رہی۔ پھر خاوند کا باپ لڑکی والے گائوں میں آکر لوگوں کی منت سماجت کرکے پھر لے جاتا۔ اور اس کو فعل بد پر مجبور کرتا۔ اب وہ لڑکی کسی طرح اپنے خاوند کے باپ کے گھر جانے کو تیار نہیں خاوند نے اب دعویٰ دائرکردیا ہے۔ مگر شہادت نکاح کوئی نہیں۔ اگر دعویٰ خاوند مذکور کا خارج ہوجائے تو کیا وہ نکاح ثانی کرسکتی ہے۔ اگر کرسکتی ہے تو کتنی عدت کی ضرورت ہے۔ کیا دوران مقدمہ نکاح کرسکتی ہے۔ (سی ڈی معرفت بابو عالم خانصاحب)​
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    صورت مرقومہ میں مسماۃ مذکورہ کو اختیار فسخ حاصل ہے۔ اس وجہ سے کے بوقت نکاح وہ نابالغہ تھی۔ عند الحنفیہ اس کی بھی ضرورت نہیں۔ والد ناکح کے فعل سے نکاح فسخ ہوگیا۔ اب اس کو اختیار ہے دوسری جگہ نکاح کرلے۔ بوجہ عدم ملاپ اصل خاوند کے عدت اس پر واجب نہیں ۔ واللہ اعلم۔ (8 اپریل 1933ء)​
    شرفیہ


    صورت مذکورہ میں عدالت میں مقدمہ دائر کرکے فیصلہ کرایا جائے خواہ خلع ہو یا ایسے طلاق خواہ حاکم فسخ کردے۔ (ابو سعید شرف الدین دہلوی)​



    جلد 2 ص 193​


    محدث فتویٰ​
     
  6. ‏جنوری 22، 2016 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,369
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    لڑکی کا نکاح اس کی اجازت ، رضا اور خوشی حاصل کیے بغیر..الخ
    شروع از بتاریخ : 27 June 2013 08:32 AM
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    ایک والد حقیقی نے اپنی بالغ اور جوان لڑکی کا نکاح اس کی اجازت ، رضا اور خوشی حاصل کیے بغیر اپنے کسی رشتہ دار لڑکے سے کردیا ہے۔ لڑکی مذکورہ نکاح سے پہلے بھی برملا پکار کر کہتی رہی ہے کہ میں اس لڑکے کے ساتھ شادی کرنے پر ہرگز راضی اور خوش نہیں ہوں۔ ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی اور لڑکی مذکورہ اب بھی علی الاعلان اس نکاح پر ناراضگی ، خفگی اور عدم رضا کا اظہار کرتے ہوئے اپنے رشتہ دار مردوں اور عورتوں کے سامنے رونا شروع کردیتی ہے اور واضح الفاظ میں اس نکاح کو ناپسند اور ردّ کرتی ہے۔ اس نکاح کا قرآن و حدیث کے اعتبار سے کیا حکم ہے؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    صورتِ مسئولہ اگر درست ہے تو معاملہ مندرجہ ذیل حدیث کی روشنی میں طے کرلیا جائے۔
    (( عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جَارِیَۃً بِکْرًا أَتَتِ النَّبِيَّ صلی الله علیہ وسلم فَذَکَرَتْ لَہٗ أَنَّ أَبَاھَا زَوَّجَھَا وَھِيَ کَارِھَۃٌ ، فَخَیَّرَھَا النَّبِيُّ صلی الله علیہ وسلم ))1

    ’’ ابن عباس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح کیا ہے اور وہ پسند نہیں کرتی تو نبی صلی الله علیہ وسلمنے اسے اختیار دے دیا۔‘‘ ۲۰ ؍ ۸ ؍ ۱۴۲۲ھ
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    1 صحیح سنن ابن ماجہ:۱۵۲۰ ــ ۱۸۷۵

    قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل
    جلد 02 ص 465
    محدث فتویٰ
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    نابالغ کا نکاح و طلاق
    شروع از بتاریخ : 27 September 2013 09:42 AM
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    زید کا نکاح بعمر آٹھ سال ہندہ کے ساتھ ہوا ہندہ کی عمر اس وقت 20 سال کی تھی۔ ہندہ کو اپنی عفت سنبھالنا نہایت دشوار ہوگیا ہے۔ حتیٰ کہ ایک لڑکی ناجائز فعل سے ہندہ کو پیدا ہوئی ہے۔ والدین ہر دو جانب کے اس ناجائز فعل سے پھانسی کھانے کو تیار ہیں۔ عورت بار بار استدعا کرتی ہے کہ میری مخلضی ہوجس طرح سے ہو کیا حکم ہے؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    جس طرح نابالغ کی طرف سے بوقت نکاح باپ ولی ہوسکتا ہے۔ بوقت ضرورت طلاق بھی ولی دے سکتا ہے۔ کذا قال الشیخ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ (اختیارات) (اہلحدیث 3/10 دسمبر 1937ء)
    شرفیہ


    یہ نکاح بھی قیاسی تھا اور پھر قیاس بھی اعلیٰ کو ادنیٰ پر کیا گیا۔ ورنہ کتاب وسنت یا خلفاء راشدین سے اس کا ثبوت نہیں ملتا۔ اور جب یہ نکاح منعقد ہوگیا تو پھر بقول شیخ السلام طلاق کو بھی اسی پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔ (ابو سعید شرف الدین دہلوی)

    فتاویٰ ثنائیہ ۔۔
    جلد 2 ص 314
    محدث فتویٰ
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔
    قبل از بلوغت کا نکاح
    شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 03 September 2012 04:06 PM
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    ایک آدمی نے اپنی سگی بہن جس کی عمر ۷ سال تھی اور اس آدمی کی عمر ۱۷ سال تھی اور جس کے ساتھ شادی کی تھی اس کی عمر ۹ سال تھی اور غیر مختون تھا ۔اور لڑکی کا دادا اور والدہ اس نکاح پر ناراض بھی تھے۔ اور یہ ۱۹۷۳ء کا واقعہ ہے : اور لڑکی نے قبل از بلوغت نفرت اور سن بلوغت میں نکاح سے مکمل انکار کر دیا اور اب لڑکی اس لڑکے سے شادی ہر گز نہیں کرنا چاہتی ۔ کیا یہ نکاح باقی ہے یا نہیں ؟ اگر باقی ہے تو اس کے فسخ کا کیا طریقہ ہے کیا قاضی ہی فسخ کر سکتا ہے یا ولی یعنی اس کا بھائی بھی فسخ کا حق رکھتا ہے اور حالت یہ ہے کہ اس کا خاوند جو بنا تھا وہ اس کو طلاق نہیں دیتا اور اس نے شادی بھی اور کرالی ہے ۔ اور وہ اس کو رکھنا بھی نہیں چاہتا؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    عدالت سے نکاح فسخ کروا لیا جائے۔
    وباللہ التوفیق







     
  7. ‏جنوری 22، 2016 #7
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,369
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    حافظ مبشر حسین لاہوری حفظہ اللہ کی بہترین کتاب ’’ ھدیۃ العروس ‘‘ کا
    ایک صفحہ کا سکین اپلوڈ کر رہا ہوں ۔۔اگر یہ آپ کے پاس ڈسپلے ہو تو اس کے مزید اپلوڈ کرتا ہوں ؛
    نابالغ کا نکاح۱.jpg
    نابالغ کا نکاح ۲.jpg
     
    Last edited: ‏جنوری 22، 2016
  8. ‏جنوری 22، 2016 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,369
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔
    آج آپ کی پروفائل پر ۔۔الھند ، کولکتا ۔۔لکھا دیکھا ۔۔۔کیا یہ انڈیا کا مشہور شہر ’’ کلکتہ ‘‘ ہے ،
    وہاں سلفی حضرات کے کیا احوال ہیں ۔۔تقریباً کتنی مساجد ،مدارس ہیں ۔۔۔معروف مسند عالم کون ؟
    دعاؤں میں یاد رکھیں ؛
     
  9. ‏جنوری 22، 2016 #9
    عبدالله بن عبدالرشيد

    عبدالله بن عبدالرشيد رکن
    جگہ:
    الهند،كولكاتا
    شمولیت:
    ‏جنوری 23، 2015
    پیغامات:
    63
    موصول شکریہ جات:
    30
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    جی شیخ یہ انڈیا کا۔مشہور شہر کلکتہ ہی ہے
    الحمدللہ یہاں تیزی کے ساتھ منہج سلف کی جانب عوام الناس کی رغبت بڑھ رہی ہے
    البتہ مخالفین کی شورش انگیزیاں بھی زوروں پر ہیں
    لیکن اللہ تبارک و تعالی کے کرم سے ہم ہر بار منہج مستقیم کا حتی الاستطاعت دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور رہبری کے حصول کیلئے علماء عظام سے استفادہ کرتے ہیں۔
    لیکن افسوس کن بات یہ ہے کہ یہاں علماء اہل حدیث کی بہت قلت ہے جو یقینا بد نصیبی کی بات ہے
    دراصل اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے یہاں کے لوگ علماء کی عزت و تکریم کے معاملے میں بڑے بخیل واقع ہوئے ہیں
    لیکن ادھر کچھ دنوں سے اللہ کا بڑا فضل ہے اور لوگ اب اس سلسلے میں حساس ہونے لگے ہیں۔والحمدللہ
    اور جہاں تک مساجد کی تعداد کی بات ہے تو فی الحال ہمارے چھ (6) مساجد اور کئی مکاتب ہیں
    جو یقینا کم ہیں۔ اللہم بارک لنا۔
    اسی طرح مستند علماء میں شیخ مولانا محمد معروف السفی،شیخ اسرائیل المدنی، شیخ شعیب الرحمان محمدی واحدپوری،شیخ آصف اقبال المدنی ،شیخ محمد زکی المدنی اور شیخ زکریا السلفی حفظہم اللہ اجمعین ہیں
    انکے علاوہ مضافات و اطراف کے اور بھی سلفی علماء کرام موجود ہیں لیکن شہر کلکتہ میں بس اتنے ہی ہیں۔

    جزاک اللہ خیرا کثیرا
    کہ آپنے ہماری جانب توجہ فرمائی۔
    اللہم بارک فیک و ایانا۔
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  10. ‏جنوری 22، 2016 #10
    محمد کاشف

    محمد کاشف رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 17، 2015
    پیغامات:
    153
    موصول شکریہ جات:
    16
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    ما شاء اللہ۔۔آمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں