1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فقہ حنفی میں امارات اسلامیہ افغانستان و عراق میں صلیبی افواج کی مدد کرنے والوں کا حُکم

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از متلاشی, ‏اگست 21، 2013۔

  1. ‏اگست 22، 2013 #11
    متلاشی

    متلاشی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2012
    پیغامات:
    336
    موصول شکریہ جات:
    373
    تمغے کے پوائنٹ:
    92

    آپ نے جو لنک دیا ہے اس میں تو کہا گیا ہے کہ مدرسہ لشکر طیبہ کو بھی مالی امداد فراہم کرتا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    دیوبندی فتویٰ تو بہت لگادیئے ہیں اُن پر بھی نظر کریں تاکہ حق مزید واضح ہوجائے
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 22، 2013 #12
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    مفتی صاحب نے جو خلاصہ اردو میں بیان کیا ہے، وہی خلاصہ عربی عبارت سے واضح ہوتا ہے۔ اس لیے تو مفتی صاحب نے بھی سائل کے جواب میں جو عربی عبارت پیش کی ہے۔ اس کا ترجمہ نہیں کیا۔
    اگر خلاصہ اور عربی عبارت میں کوئی فرق ہوتا تو ضرور مفتی صاحب بھی اشارہ کرتے۔

    اگر آپ سمجھتے ہیں کہ دونوں میں فرق ہے تو برائے مہربانی آپ عربی عبارت کا ترجمہ نہ کریں، بلکہ خلاصہ اور عربی عبارت میں جو فرق ہے، اس کو بیان کردیں۔ شکریہ ہوگا آپ کا ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏اگست 23، 2013 #13
    ابوزینب

    ابوزینب رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 25، 2013
    پیغامات:
    445
    موصول شکریہ جات:
    282
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    متلاشی دھوکہ پر دھوکہ دے رہے ہو۔مفتی صاحب ارجاء کے مارے ہوئے تھے اس لئے انہوں نے اردو پیراگراف میں اس عبارت سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا کیونکہ عربی کی عبارت سے ان کے ارجاء کی عمارت ملبے کا ڈھیر بن جاتی ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ عربی کی عبارت کیا کہہ رہی ہے ۔ پڑھو اس کو غور سے اس میں مقام عبرت ہے:
    یہ ہے وہ وجہ جس کی وجہ سے مفتی صاحب نے اس عبارت کی اردو نہ تو نقل کی اور نہ اس سے کوئی نتیجہ اخذ کیا ۔ کیوں کہ اس عبارت میں ایک مرجئہ کے لئے اس کے عقیدے کے برخلاف بات تھی جس کی وجہ سے مفتی صاحب بڑے نرم الفاظ میں سائل کو سمجھانے کی کوشش کی کہ :
    جبکہ رسولﷺنے فرمایا :
    ((من مشیٰ مع فاسقٍ لقوہ، فقد اعان علیٰ ھدم الاسلام))
    '' جوشخص کسی فاسق کے ساتھ اسے تقویت پہنچانے کے لئے چلا،اس نے اسلام کی جڑیں کھودنے میں مدد کی۔''

    اب کوئی بھی انصاف پسند آدمی فیصلہ کرلے کہ کیا مفتی صاحب اپنے ارجاء کی وجہ سے پس وہ شخص اسلام سے خارج ہوگیا۔کو اپنے ارجائی عقیدے کی وجہ سے چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں یا مرتد حکمرانوں کے خوف سے اس حدیث سے استدلال نہ کرسکے ۔ کیونکہ یہ تو محض ایک ملازمت کا مسئلہ تھاجس میں بذات خود کسی فوجی کاروائی میں شامل نہ تھا بلکہ دیگر امور انجام دیتا تھا۔اس پر مفتی صاحب نے اس سائل کو یہ کہا کہ :
    مفتی صاحب نے حرام اور حلال کے پیمانے فراموش کرکے بہتر اور غیر بہتر کو برقرار رکھا۔ حالانکہ خط کے مندرجات کے مطابق برطانوی فرم فوجی مشن پر تھی اور میدان جنگ میں ناٹو کے فوجیوں کو لاجسٹک سپورٹ کررہی تھی ۔ لیکن مفتی صاحب نے اپنے ارجائی عقیدے کو برقرار رکھنے کے لئے حق سے انحراف کیا اور سائل کو بہتر اور غیر بہتر کے مسئلے میں الجھادیا۔حالانکہ سلف سے ظالموں کا ساتھ دینے کے بارے میں بہت سا کلام موجود ہے جس میں کچھ ہم یہاں نقل کررہے ہیں :
    ہم نے یہاں تک پڑھا ہے کہ جو دھوبی ان ظالموں کے کپڑے دھوتا ہے وہ بھی ان کے ظلم میں شریک کار ہوگا۔ اور جو ظالم کو قلم اور دوات پکڑائے وہ بھی ظالموں میں شمار ہوگا۔تو کس طرح اس مفتی نے اس کی ملازمت کو اس وقت کے لئے جائز رکھا جب تک کہ دوسری بہتر ملازمت نہیں مل جاتی ذرا اس کی ملازمت کے امور پر تو غور کرلو اور پھر اس کے مقام کا بھی تعین کرلو کہ وہ ان امور کو انجام دینے کے بعد کس مقام پر فائز ہوچکا ہوگا۔
    اب کیا رہ جاتا ہے ان خدمات کے بعد ناٹو کے لشکر کی تمام خدمات تو یہ کمپنی انجام دے رہی ہے۔اتنی خطرناک خدمات پر بہتر اور غیر بہتر کہنا عجیب وغریب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو درید بن صمہ جو کہ ایک بوڑھا تھا ایک پہاڑ پر کھڑا ہوکر حنین کے دن کفار کو صرف مشورے دے رہا تھا اس پاداش میں اس کو قتل کرنے کے لئے اپنے پھوپھی زاد بھائی اپنے حواری زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا۔وہاں تو صرف ایک مشورہ تھا ۔ اور یہاں تو عملی اعتبار سے خدمات کی ایک طویل فہرست ہے۔لیکن کیا کیا جائے اس ارجائی مذہب کا یہ حق کو بیان کرنے سے قاصر ہے۔اسی ارجاء کی وجہ سے تو آج مسلمانوں کی یہ حالت زار ہے کہ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک مسلمانوں کے خون سے زمین رنگین ہورہی ہے۔ اور اس کو رنگین کرنے والے مرتد حکمران ہیں ۔ اور ارجاء کی غلاظت میں لتھڑے ہوئے یہ علماء ان مرتدین کے دفاع میں مصروف ہیں حدثیوں کو نقل ضرور کرتے ہیں لیکن ان کو بیان کرتے وقت ان کے مفہوم کو یکسر طور پر بدل دیتے ہیں ۔ کیونکہ اس طرح اگر نہ کریں تو اپنے ارجائی مذہب کو کس طرح بچائیں گے متذکرہ بالا فتوے بھی ایسا ہی کیا گیا ظالموں سے تعاون کی بناء پر ایسے افراد کو خارج عن الاسلام سمجھا گیا لیکن انہوں نے اس کو چھپا دیا عربی کی عبارت نقل کرکے اور اس کے مطابق فتویٰ نہ دے کر انہوں نے کس کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے؟؟
    لوگوں کو چاہیے کہ وہ عقیدہ ارجاء کو پہچانیں کہ ارجاء نے کس قدر اسلام کو نقصان پہنچایا ہے ۔ہم ذیل میں سلف کے اقوال کے ذریعے سے قارئین کو ارجاء کی نحوست سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں:
    امام زہری ﷫فرماتے ہیں کہ:







    تو متلاشی اب تو تمہیں اچھی طرح معلوم ہوجانا چاہیے کہ فسادی کون ہوتا ہے؟؟؟تم نے بھی مفتی صاحب کی طرح اس فورم کے قارئین کو دھوکہ دینے کی کوشش کی لیکن الحمد للہ اللہ کے فضل وکرم سے اس کوشش کو ناکام بنادیا گیا ہے ۔ ہم نے حق کو باطل پر دے مارا ہے ۔اور باطل کا مغز پھاڑ کر رکھ دیا ہے۔اب کسی میں زرہ برابر بھی علمی غیرت ہوگی تو وہ حق سے انحراف نہیں کرے گا۔ان شاء اللہ تعالیٰ
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏اگست 23، 2013 #14
    متلاشی

    متلاشی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2012
    پیغامات:
    336
    موصول شکریہ جات:
    373
    تمغے کے پوائنٹ:
    92

    ابوزینب صاحب مفتی حضرات کو بھی اپنی طرح جاہل ہی سمجھتے ہیں۔ مرجیہ اور کافر کہنے میں ذرا بھی نہیں چوکتے۔
    ابوزینب صاحب ہوسکتا ہے آپ کے دیوبندی اکابر نے دلی رضامندی کی شرط کو محلوض رکھا ہو۔ اسی لئے وہ جائز و ناجائز کہتے ہیں۔ اُن نے نزدیک کفر اتنا سستہ نہیں ہوگا جتنا آپ کے نزدیک ہے۔
    جیسا کے سائل کے فتوے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سائیل دلی طور پر رضامند نہیں ہے۔ بلکہ مجبوری میں یہ کام کر رہا ہے اسی لئے اُس نے اپنے مسلے کو مفتی صاحب کے سامنے پیش کیا ہے اگر وہ دلی طور پر راضی ہوتا یہ اُس کا مقصد ہوتا کہ وہ صلیبیوں کی مدد اسلام کے خلاف کرتے تو کیوں مفتی صاحب سے فتویٰ لیتا۔


    اسی لئے مفتی صاحب فرماتے ہیں جب
    کیونکہ جو عبارات انہوں نے عربی میں لکھی ہیں اُن میں دلی طور پر رضامندی کو کفر پر محمول کیا ۔ اگر مفتی صاحب ارجاء کا شکار ہوتے تو وہ ان عبارات کو کیوں فتویٰ میں نقل کرتے۔ یہ آپ کی خوارجی ذہنیت ہے کہ ایک پہلو کو لے کر کفر کفر کی ڈگڈُگی بجاتے پھرتے ہیں اور دیگر پہلوں سے صرف نظر کر لیتے ہیں۔
    اگر تم کہو کہ مفتی نے عربی عبارات کیوں لکھی اگر یہ دلی طور پر رضامندی کے طور پر ہے تو عرض ہے ان عربی عبارت میں وہ وعید سائل کو بتائی گئی ہے جس سے اُس کو غیر مسلموں کے مذہب سے دلی رضامندی اور اسلام دشمنی کی وجہ سے سائل کے حق میں وارد ہوتی ہیں۔ تاکہ سائل کسی فتنہ میں مبتلا نہ ہوئے۔
    باقی جہاں آپ کے جامعہ بنوریہ کے مرجئہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو وہ آپ کی ذمہ داری پر ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏اگست 24، 2013 #15
    ابوزینب

    ابوزینب رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 25، 2013
    پیغامات:
    445
    موصول شکریہ جات:
    282
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    اہل سنت کے عقائد سے جو بھی انحراف کرے گا اور ارجاء ظاہر کرے گا وہ یقیناً مرجئہ ہی کہلائے گا۔آپ شوق سے جہالت کے فتاوی جاری کرتے رہیں۔آپ کا انجام بھی عبداللہ عبدل اور القول السدید جیسا ہی ہوگا ان شاء اللہ۔
    سب سے پہلے اس غلط فہمی کو میرے بارے میں دور کرلیں کہ میں دیوبندی نہیں ہوں۔دوسری بات یہ کہ دلی رضامندی کی شرط میں اہل حدیث اور دیوبندی دونوں مشترک ہیں۔اور دلی رضامندی کی شرط لگانا جہمیت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔اہل السنۃ والجماعۃ جہم بن صفوان کے عقیدے سے مبرا ہیں۔
    سائل کا یہ فعل اکراہ کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔اگر کوئی شخص کسی قبر یا کسی بت کو سجدہ کرے اور یہ کہے کہ میں دل طور پر رضامند نہیں ہوں۔یا میں سجدہ تعظیمی کررہا ہوں سجدہ عبادت نہیں کررہا ہوں۔تو اہل السنۃ والجماعۃ اس کے اس عقیدے سے بری ہیں۔

    اگر کوئی بھی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ کافر اس وقت ہوگا جب کفر پر دل سے رضامند ہو۔تو یہ عقیدہ تو جہم بن صفوان کا ہے۔اہل السنۃ والجماعۃ کا یہ عقیدہ نہیں ہے۔اہل السنۃ کے نزدیک جو ایمان کی تعریف ہے وہ درج ذیل ہے:
    اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر قول سے کفر کیا یا عمل سے کفر کیا تو ایمان چلاگیا۔چنانچہ سورۃ توبہ میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو کافر قرار دیا جنہوں نے کفریہ قول منہ سے نکالا۔اور اسی طرح جو شخص کوئی کفریہ عمل کرے گا۔تو کفر کی طرف منسوب ہوگا۔اس سے اس کے دلی ارادے کو نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ اس کفر پر دلی طور راضی تھا یا نہیں۔ایسا عقیدہ اہل السنۃ کا نہیں ہے بلکہ جہم بن صفوان کا ہے اس پیراگراف کو پڑھنے سے شاید آپ کی سمجھ میں یہ بات آجائے:
    اس بحث کے ساتھ ساتھ الحمد للہ متلاشی کا عقیدہ بھی ہم پر واضح ہوگیا کہ وہ جہم بن صفوان کا پیروکار ہے۔اس کا عقیدہ وہی ہے جو جہم بن صفوان کا تھا کہ دلی رضامندی کو وہ کفر کے لئے شرط قرار دیتا ہے۔متلاشی ہرگز اہل الحدیث کے عقیدے پر نہیں ہے۔اس کا عقیدہ سلف کے عقیدہ سے متصادم ہے اور جہم بن صفوان کے عقیدے سے ہم آہنگ ہے۔
     
  6. ‏اگست 27، 2013 #16
    متلاشی

    متلاشی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2012
    پیغامات:
    336
    موصول شکریہ جات:
    373
    تمغے کے پوائنٹ:
    92

    تو آپ کے نذدیک جامع بنوریہ والے جہم بن ضفوان کی طرح ارجاء کا شکار ہیں۔
     
  7. ‏اگست 28، 2013 #17
    ابوزینب

    ابوزینب رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 25، 2013
    پیغامات:
    445
    موصول شکریہ جات:
    282
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    کیا یہی جواب ہے متلاشی جو تم نے لکھا ہے ہمارے دلائل کا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
  8. ‏اگست 29، 2013 #18
    متلاشی

    متلاشی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2012
    پیغامات:
    336
    موصول شکریہ جات:
    373
    تمغے کے پوائنٹ:
    92

    میرے بھاءی یہ سوال ہے؟ پھر دہرا دیتا ہوں
     
  9. ‏اگست 29، 2013 #19
    ابوزینب

    ابوزینب رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 25، 2013
    پیغامات:
    445
    موصول شکریہ جات:
    282
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    متلاشی اگر کوئی شخص کفریہ عمل کے لئے دلی رضامندی کی شرط لگاتا ہے تو وہ یقیناً جہم بن صفوان کے عقیدے پر ہے ۔ چاہے وہ اہل الحدیث ہو یا بنوریہ والا۔اس میں کسی قسم کی کوئی تخصیص نہیں ہے کہ اہل حدیث دلی رضامندی کی شرط لگائے تو جہمی اور بنوری والا شرط لگائے تو وہ نہیں ۔ ایسا نہیں ہے جو شخص بھی ایسا عقیدہ لے کر آئے گا خواہ وہ اہل الحدیث سے ہو ۔ یا حنفیوں سے ہو ۔اہل السنۃ کے عقائد سے منحرف کہلائے گا۔
     
  10. ‏اگست 31، 2013 #20
    متلاشی

    متلاشی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2012
    پیغامات:
    336
    موصول شکریہ جات:
    373
    تمغے کے پوائنٹ:
    92

    ابوزینب صاحب آپ کیوں دیوبندی نہیں ہیں۔ وجہ بتائیں ایسی کیا خرابی ہے دیوبندیوں میں جس کی وجہ سے آپ کو یہ وہم لگا رہتا ہے کہ ہم آپ کو دیوبندی سمجھ رہے ہیں۔


    یہ جس کو آپ بنوریہ والا کہ رہے ہیں آپ کی خوارجی ویب سائٹ میں انہی بنوریہ والوں کا فتویٰ لگا ہوا ہے نیٹو سپلائی لائن کے متعلق ۔ آپ کی ٹی ٹی پی نے یہ فتویٰ کیوں لگایا ہوا ہے۔ اگر بنوریہ والے مرجیہ ہیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں