• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فوق الاسباب قدرت ( عقیدہ دیوبند )

شمولیت
فروری 06، 2013
پیغامات
156
ری ایکشن اسکور
93
پوائنٹ
85
فوق الاسباب قدرت:
حاجی دوست محمد خاں صاحب زادہ عبدالوہاب خاں ایک شخص کے معتقد ہوگئے اور بیعت کا قصد کیا وہ شخص جن سے بیعت ہونا چاہتے تھے محض صورت کے درویش تھے اور واقع میں پکے دنیا دار اس لئے دوست محمد خاں کو صاحبزادہ کی
یہ کجی پسند نہ آئی اور کئی بار منع کیا کہ اس شخص سے مرید نہ ہو عبدالواہاب بعض خوارق دیکھ کر ایسے ریجھے کہ باپ
کا کہنا بھی ناگوار گزرا ماننا تو درکنار ادھر پیر صاحب کو فخر تھا کہ دوست محمد خاں کا لڑکا پولیس کا کوتوال مرید ہوتا ہے
آخر حاجی صاحب نے جب اپنے بیٹے کا اصرار دیکھا تو باقتضاء محبت دست بدعا ہوئے اور مراقب ہو کر حضرت کی جانب
متوجہ ہو کر خلوت میں جابیٹھے عبدالوہاب خاں پیر کے پاس آئے اور مودب دو زانو بیٹھ گئے بے اختیار پیر کی زبان
سے نکلا اول باپ سے اجازت لے آو اس کے بغیر بیعت مفید نہیں ہے غرض ہاتھ بیعت کےلئے تھا مگر چھوڑ دیئے
اور انکار فرمادیا حاجی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ جس وقت میں امام ربانی کی طرف متوجہ ہوا تو دیکھا حضرت غایت
شفقت کے ساتھ عبدالوہاب کاہاتھ پکڑ کر میرے ہاتھ میں پکڑاتے اور یوں فرماتے لواب یہ اس کا مرید نہ ہوگا۔
یہی وقت تھا کہ انہوں ( پیر ) نے عبدالوہاب کا ہاتھ چھوڑا اور یہ کہہ کر بیعت لینے سے انکار کیا کہ باپ سے اجازت
لے آو۔ ( تذکرۃ الرشید ص 216 ج 2 )
مقلد مفتی عزیرالرحمن بنجور ی مقلد مولوی حسین احمد صاحب کے ایک مرید کا واقعہ نکل کرتے ہیں جو اسے آسام
کے ایک پہاڑی علاقہ میں پیش آیا تھا فرماتے ہیں: بالی زندی مولوی بازار کے ایک صاحب آزادی سے قبل ڈھاکہ
میں شیلانگ بذریعہ موٹر جا رہے تھے صوبہ آسام اکثر پہاڑی ہے اس میں موٹر یا بس چلنے کا جو راستہ ہے وہ بہت تنگ ہے فقط ایک گاڑی جا سکتی ہے دو کی گنجائش نہیں یہ صاحب حضرت کےمرید تھے جب نصف راستہ طے ہو گیا تو دیکھا کہ سامنے سےگھوڑا بڑے اوروں سے آرہا ہے اس شخص اور دیگر تمام حضرات کو خطرہ پیدا ہو ا اب کیا ہوگا
موٹر روک لی لیکن اس کے باوجود بھی بڑی تشویش تھی کیونکہ گھوڑا بلا سواری بڑی تیزی سے دوڑا آرہا تھا راوی کا کہنا ہے کہ اس شخص نےدل میں سوچا کہ اگر پیرو مرشد ہوتے تو دعا کرتے ابھی اتنا سوچا ہی تھا کہ حضرت شیخ
گھوڑے کی لگام پکڑ کر کہیں غائب ہوگئے۔ ( انفاس قدسیہ ص 181 )

حوالہ۔ حدیث اور اہل تقلید بجواب حدیث اور اہل حدیث جلد 1 ۔
http://kitabosunnat.com/kutub-libra...eed-ba-jawab-hadith-aur-ahl-hadith-jild1.html
 
Top