1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فیس بک اکاؤنٹ سے ڈیٹا چوری ہونے کی تصدیق کا آسان طریقہ

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از کنعان, ‏اکتوبر 16، 2018۔

  1. ‏اکتوبر 16، 2018 #1
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    فیس بک اکاؤنٹ سے ڈیٹا چوری ہونے کی تصدیق کا آسان طریقہ
    ویب ڈیسک ایکسپریس پير 15 اکتوبر 2018

    [​IMG]
    فیس بک نے کروڑوں صارفین کی معلومات چوری ہونے کے بعد ڈیٹا چوری کی آگاہی کیلیے ایک پیج بنایا ہے

    لندن: اب سے دو ہفتوں قبل فیس بک نے باقاعدہ اعتراف کیا تھا کہ اس کے تین کروڑ صارفین کے ڈیٹا کا کچھ حصہ ہیکرز نے دیکھا یا چرایا ہے۔ اس کے بعد سے اب تک فیس بک کی سیکیورٹی پر بہت سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ اگرآپ اس بارے میں فکر مند ہیں تو آپ بھی اپنی معلومات کے متعلق یہاں سے آگاہی حاصل کر سکتے ہیں۔

    پہلے اس لنک کے ذریعے فیس بک ہیلپ سینٹر پر جائیں جس کے لیے فیس بک پر لاگ ان ہونا ضروری ہے۔


    https://www.facebook.com/help/securitynotice?ref=sec


    اب اسکرول کرکے نیچے کی جانب آئیں جہاں یہ جملہ تحریر ہے:
    “Is my Facebook account impacted by this security issue”

    یہاں آپ کو ہلکے نیلے رنگ میں ایک تحریر نظر آئے گی اور ڈیٹا چوری نہ ہونے کے صورت میں یہ لکھا دکھائی دے گا۔

    [​IMG]

    اب اگر آپ کا ڈیٹا کسی طرح بلا اجازت چوری یا استعمال ہوا ہے تو اس طرح کی تحریر دکھائی دے گی:

    [​IMG]

    یہاں آپ کو یس اور نو آپشن بھی ملے گا

    اور یس کی صورت میں آپ جان سکیں گے کہ آیا آپ ان تین کروڑ افراد میں شامل ہیں جن کے اکاؤنٹ پر نقب لگی ہے،
    یا
    ان ڈیڑھ کروڑ افراد میں ہیں جن کے ای میل اور فون نمبر چرائے گئے ہیں،
    یا
    ان ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد میں سے ہیں جن کے نام، مقام، گھر، تاریخِ پیدائش، ازواجی تعلق اور دیگر معلومات اڑائی گئی ہیں۔


    ڈیٹا چوری ہونے کی صورت میں کیا کیا جائے؟

    اس ضمن میں زیادہ فکرمند ہو کر پاس ورڈ یا کریڈٹ کارڈ کی تفصیل بدلنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس صورت میں ڈیٹا پر حملے اور اس کے بعد بینک اکاؤنٹ یا کریڈٹ کارڈ سے رقم چرانے کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

    تاہم اسپیم کال، ای میل اور اسپیم پیغامات پر نظر رکھیں کیونکہ ان کی بھرمار ہو سکتی ہے، ہیکرز یہ ڈیٹا مختلف کمپنیوں کو فروخت کرسکتے ہیں۔

    فشنگ سے بچیں جس میں ای میل کے ذریعے آپ کو آن لائن اکاؤنٹس یا بینک کے جعلی پیجز پر جانے کا کہا جا سکتا ہے۔ وہاں مزید ڈیٹا لے کر اس سے رقم اینٹھی جا سکتی ہے اس ضمن میں بہت محتاط رہیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں