1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قرآن میں حقیقت و مجاز کی بحث

'تفسیر قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالحسن علوی, ‏ستمبر 09، 2011۔

  1. ‏ستمبر 09، 2011 #1
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    حقیقت و مجازِ قرآن

    قرآن میں مجاز
    اس بارے میں علماء میں سے کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ قرآن میں حقیقت کا استعمال ہوا ہے اور حقیقت کی تعریف یہ ہے:
    وھی کل لفظ بقی علی موضوعہ و لا تقدیم فیہ و لا تاخیر
    روز مرہ زندگی میں اکثر کلام حقیقت پر مشتمل ہو تا ہے۔جہاں تک مجاز کا معاملہ ہے تو جمہور علماء قرآن میں مجاز کے وقوع کے قائل ہیں' اگرچہ بعض علماء نے قرآن میں مجاز کا انکار کیا ہے 'مثلاً 'اہل ظواہر 'شوافع میں' ابن القاص' اور مالکیہ میں 'ابن خویزمنداد' قرآن میں مجاز کے قائل نہیں ہیں۔ ان علماء کا اعتراض یہ ہے کہ مجاز جھوٹ کی ایک قسم ہے اور قرآن جھوٹ سے منزّہ ہے۔ ان کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ متکلم مجاز کو اس وقت اختیار کرتا ہے جب اس کے لیے حقیقت کا دائرہ تنگ ہو جائے اور اللہ کے لیے یہ محال ہے کہ اس پر حقیقت کا دائرہ تنگ ہو۔ لیکن ان حضرات کا یہ شبہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے 'کیونکہ اگر قرآن میں مجاز نہ رہے تو اس کی ایک بہت بڑی خوبی باقی نہ رہے گی' کیونکہ علم بلاغت کے ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کلام میں حقیقت کی نسبت مجاز کے استعمال میں زیادہ خوبی ہے اور اگر قرآن کو مجاز سے خالی مان لیا جائے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ قرآن توکید' حذف اور تصریف قصص سے بھی خالی ہے۔ امام عزبن عبد السلام رحمہ اللہ نے اس موضوع پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے اور امام سیوطی رحمہ اللہ نے اس کتاب کا خلاصہ بہت سے اضافوں کے ساتھ ایک علیحدہ کتاب میں بیان کر دیا ہے' جس کا نام انہوں نے 'مجاز الفرسان الی مجاز القرآن' رکھا ہے۔
     
  2. ‏ستمبر 09، 2011 #2
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    مجاز کی اقسام
    مجاز کی دو قسمیں ہیں :مجاز فی الترکیب اور مجاز فی المفرد ۔

    پہلی قسم
    پہلی قسم مجاز فی الترکیب ہے۔ اسے مجاز الاسناد اور مجازِ عقلی بھی کہتے ہیں' اس میں علاقہ مشابہت کا ہوتا ہے۔ اس کی تعریف یہ ہے :
    أن یسند الفعل أو شبہہ الی غیر ما ھو لہ أصالة لملابستہ لہ
    اس کی مثال اللہ تعالیٰ کادرج ذیل قول ہے:
    (وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْھِمْ اٰیٰتُہ زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا) (الانفال:٢)
    اس آیت مبارکہ میں ایمان بڑھانا جوکہ اللہ کا فعل ہے اس کی نسبت آیات کی طرف مجازاً کی گئی ہے' کیونکہ آیات زیادتی ایمان کا سبب ہیں۔

    اسی طرح ایک اور جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
    (یُذَبِّحُ اَبْنَآئَھُمْ) (القصص:٤)
    حالانکہ ذبح کرنے والے فرعون کے اعوان و انصار تھے' لیکن ذبح کی نسبت فرعون کی طرف مجازاً کی گئی ہے ۔

    اسی طرح ایک اور جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
    (وَقَالَ فِرْعَوْنُ یٰھَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا) (المؤمن:٣٦)
    حالانکہ محل بنانے والے ہامان کے کارندے تھے لیکن مجازاً اس کی نسبت ہامان کی طرف کی گئی ہے۔

    اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
    (وَاَحَلُّوْا قَوْمَھُمْ دَارَ الْبَوَارِ) (ابرٰھیم)
    حالانکہ جہنم میں قومِ فرعون کو داخل کرنے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے' لیکن یہاں اس فعل کی نسبت قومِ فرعون کے سرداروں کی طرف مجازاًکی گئی ہے' کیونکہ وہ اپنی قوم کے جہنم میں جانے کا سبب ہوں گے۔

    ایک جگہ قیامت کے دن کی ہولناکی کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا گیا ہے:
    (یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبًا) (المزمّل)
    اس آیت مبارکہ میں فعل کی نسبت مجازاً دن کی طرف کی گئی 'کیونکہ اُس دن میں یہ فعل واقع ہو گا۔

    اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے :
    (وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَھَا) (الزلزال)
    اس آیت میں فعل اخراج کی نسبت زمین کی طرف کی گئی ہے حالانکہ یہ اللہ کا فعل ہے ۔اور یہ نسبت مجازاً ہے ۔
     
  3. ‏ستمبر 09، 2011 #3
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    دوسری قسم
    مجاز کی دوسر ی قسم مجاز فی المفرد ہے' اسے مجاز لغوی بھی کہتے ہیں۔ اس میں علاقہ مشابہت کا نہیں ہوتا۔ اس کی تعریف یہ ہے:
    استعمال اللفظ فی غیر ما وضع لہ أولا
    اس کی مزید کئی اقسام ہیں :
     
  4. ‏ستمبر 09، 2011 #4
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    حذف
    یعنی کلام میں کچھ حذف کر دینا۔ اس کی مثال درج ذیل ہے :
    (قَالُوْا سَلٰمًا) (الفرقان)
    ''سَلَامًا'' مفعول مطلق ہے اور اس کا فعل '' سَلَّمْنَا '' محذوف ہے۔ اور تقدیر عبار ت یوں ہو گی: '' قالوا سلمنا سلاما''۔

    اسی طر ح کلام میں عموماً مضاف کو حذف کر دیا جاتا ہے۔ مثلاً ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
    (وَسْئَلِ الْقَرْیَةَ) (یوسف:٨٢)
    اس آیت میں 'قریة 'سے مراد ' اہل قریة' ہیں' کیونکہ 'قریة'سے سوال نہیں ہوتا' اس لیے یہاں 'اہل' محذوف ہے۔

    اسی طرح حواریین مسیح کے الفاظ یوں نقل کیے گئے ہیں:
    (نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ ) (الصف:١٤)
    ''ہم اللہ کے (دین )کے مددگار ہیں ''۔
    یہاں مراد 'نَحْنُ اَنْصَارُ دِیْنُ اللّٰہِ' ہے۔ لفظ 'دین ' یہاں محذوف ہے۔

    اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے :
    (وَاُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِھِمُ الْعِجْلَ) (البقرة:٩٣)
    یہاں پر 'حب ' محذوف ہے اور مراد 'حُبّ العِجل ' یعنی بچھڑے کی محبت ہے۔

    اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    (وَاخْتَارَمُوْسٰی قَوْمَہ ) (الاعراف:١٥٥)
    یہاں پر 'مِن' محذوف ہے اور مراد 'مِنْ قَوْمِہ' ہے ۔

    علامہ زرکشی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ محققین علماء حذفِ مضاف کو مجاز کی اقسام میں شمار نہیں کرتے' کیونکہ اس کا استعمال اسی معنی میں ہوتا ہے جس کے لیے یہ وضع کیا گیا ہوتا ہے۔
     
  5. ‏ستمبر 09، 2011 #5
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    زیادتی
    اس کی مثال درج ذیل ہے :
    (لَیْسَ کَمِثْلِہ شَیْئ ) (الشورٰی:١١)
    اس آیت مبارکہ میں بعض نحویوں کے نزدیک 'مثل' زائدہ ہے اور تقدیر عبارت یہ ہوگی: 'لیس کھو شیئ'۔ جبکہ معروف موقف یہ ہے کہ 'کاف' زائدہ ہے اور 'مثل' لیس کی خبر ہے اور تقدیر عبارت یہ ہوگی 'لیس مثلہ شیئ'۔ کیونکہ اسم(یعنی مثل) کو زائد کہنے سے بہتر ہے کہ حرف (یعنی کاف) کو زائد کہا جائے۔ یہ قول ابن جنی اور ابو سعید السیرافی وغیرہ کا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے اس آیت سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں ہے اور'حرف کاف' یہاں زائدہ ہے' اگر ہم اس کو زائدہ نہ مانیں تو کلام محال ہو جائے گا' کیونکہ اگر 'حرف کاف' کو زائدہ نہ مانا جائے تو یہ 'مثل'کے معنی میں ہو گا اورتقدیر عبارت ہو گی 'لیس مثل مثلہ شیئ'۔ اگر ہم اس تقدیر عبارت کو مان لیں تو اللہ کے لیے 'مثل' کا اثبات ہو گا اور نفی اس بات کی ہو گی کہ اس کی مثل کے مشابہ کوئی نہیں ہے 'یعنی مثل سے مشابہت کی نفی ہوئی نہ کہ اللہ کی ذات سے۔

    ایک قول یہ بھی ہے کہ یہاں کچھ بھی زائد نہیں ہے کیونکہ یا تو یہاں 'مثل' صفت کے معنی میں ہے اور تقدیر عبارت ہے 'لَیْسَ کَصِفْتِہ شَیْئ' یا پھر 'مثل' سے مراد مثل ہی ہے کیونکہ معدوم سے بھی کسی چیز کی نفی کرنا جائز ہے' اس لیے اللہ کا 'مثل' معدوم ہے اور اس (مثل معدوم) کے مثل کی نفی کی جا رہی ہے۔
     
  6. ‏ستمبر 09، 2011 #6
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    کل کا اطلا ق جزء پر ہو
    یعنی کل بول کر مراد اس کا جزء ہو۔ اس کی مثال درج ذیل ہے:
    ( یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَھُمْ فِیْ اٰذَانِھِمْ) (البقرة:١٩)
    اس آیت میں 'اَصَابِع' یعنی انگلیوں سے مرادان کا جزء یعنی انگلیوں کے پور ہیں۔ کیونکہ انسان کی انگلی اس کے کان میں نہیں آ سکتی۔

    اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے :
    (فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ ) (البقرة:١٨٥)
    اس آیت مبارکہ میں مہینے کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے اور مہینے میں دن اور رات دونوں داخل ہوتے ہیں۔ یہاں مراد مہینے کا جزء یعنی صرف دن ہے ۔

    جزء کا اطلاق کل پر ہو
    یعنی جزء بول کے مراد اس کا کل ہو۔ اس کی مثال درج ذیل ہے:
    (فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ) (البقرة:١٤٤)
    اس آیت مبارکہ میں 'وَجْہ'سے مراد پورا جسم ہے۔

    اسی طرح (قُمِ الَّیْلَ) (المزّمل:٢) اور (وَارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِیْنَ) (البقرة)' اور (مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَہ) (الدھر:٢٦) میں قیام' رکوع اور سجود سے مراد نماز ہے' ان آیات میں نماز کا جزء بول کر مراد نماز لی گئی ہے۔ اسی طرح (ھَدْیًا بٰلِغَ الْکَعْبَةِ) (المائدة:٩٥) میں 'الکَعْبَة' سے مراد حرم ہے 'کیونکہ قربانیاں کعبہ میں تو ذبح نہیں ہوتیں۔

    بعض اوقات لفظ 'بَعْض' بول کر کل مراد لیا جاتا ہے یہ بھی اس میں شامل ہے مثلاً: (وَ'لِاُبَیِّنَ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْہِ) (الزخرف:٦٣)

    بعض نے ذات کی صفت سے اس کے بعض حصے کو متصف کرنا اور بعض کی صفت سے کل کی توصیف کو بھی ان دو اقسام میں شامل کیا ہے۔ پہلے کی مثال (نَاصِیَةٍ کَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ) (العلق) ہے کیونکہ خطأ کل کی صفت ہے' یہاں بعض (یعنی نَاصِیَة ) کی بیان ہوئی ہے۔ اسی طرح دوسرے کی مثال (اِنَّا مِنْکُمْ وَجِلُوْنَ) (الحجر) اور (وَلَمُلِئْتَ مِنْھُمْ رُعْبًا) (الکہف) ہے۔ 'وجل' اور 'رعب' قلب کی صفات ہیں جبکہ ان کی نسبت مجسم انسان کی طرف کی گئی ہے ۔
     
  7. ‏ستمبر 09، 2011 #7
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    اسم خاص کا اطلاق عام پر
    یعنی خاص بول کر مراد عام ہو' اس کی مثال درج ذیل ہے :
    (اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ) (الشعراء)
    اسم عام کا اطلاق خاص پر
    یعنی عام بول کر مراد خاص ہو۔ اس کی مثال درج ذیل ہے:
    (وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ) (الشوریٰ:٥)
    اس آیت میں 'مَنْ فِی الْاَرْضِ' عام ہے ' لیکن اس سے مرادخاص یعنی صرف مؤمنین ہیں' کفار اس میں داخل نہیں ہیں' جیسا کہ ایک دوسری آیت میں وضاحت ہے (وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) (المؤمن:٧)

    اسی طرح (وَالشُّعَرَآء یَتَّبِعُھُمُ الْغَاونَ) (الشعراء) میں تمام شعراء مراد نہیں ہیں۔ اسی طرح (قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا)(الحجرات:١٤) میں کچھ بدو مراد ہیں۔ اسی طرح (وَکَذَّبَ بِہ قَوْمُکَ وَھُوَ الْحَقُّ) (الانعام:٦٦) میں بعض قوم مراد ہے۔

    اسی طرح (وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ) (الانعام) میں پہلے مسلمان داخل نہیں ہیں۔ چونکہ اللہ کے رسول ۖ سے پہلے بہت سے مسلمان انبیاء گزرے ہیں' اس لیے یہاں اللہ کے رسول ۖ کی مراد ہے کہ اپنی قوم میں' میں پہلا مسلمان ہوں۔ اسی طرح (اَلَّذِیْنَ قَالَ لَھُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَکُمْ) (آل عمران:١٧٣) میں 'اَلنَّاس' عام نہیں ہے بلکہ خاص ہے۔

    اسی طرح (تُدَمِّرُ کُلَّ شَیْئٍ بِاَمْرِ رَبِّھَا) (الاحقاف:٢٥) میں ' کُلَّ شَیْئٍ ' عام نہیں بلکہ خاص ہے 'یعنی جس کے تباہ ہونے کا ارادہ اللہ نے کر لیا تھا اس کو تباہ کرتی تھی۔ اسی طرح (اَلْحَجُّ اَشْھُر مَّعْلُوْمات) (البقرة:١٩٧) میں 'اَشْھُر 'سے مراد دو مہینے اور کچھ دن زائد ہیں' یعنی پورے تین مہینے نہیں ہیں' جبکہ عربی زبان میں 'اَشْھُر' کا اطلاق کم ازکم تین پر ہوتا ہے ۔
     
  8. ‏ستمبر 09، 2011 #8
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    ملزوم کا اطلاق لازم پر
    یعنی ملزوم بول کر مراد لازم ہو۔ اس کی مثال درج ذیل ہے:
    (اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْھِمْ سُلْطٰنًا فَھُوَ یَتَکَلَّمُ) (الروم:٣٥)
    اس آیت مبارکہ میں 'سُلْطَان' یعنی دلیل کی طرف کلام کرنے کے فعل کی نسبت کی گئی ہے لیکن ' یَتَکَلَّمُ' اس آیت میں 'یَدُلُّ' یعنی رہنمائی کرناکے معنی میں ہے۔ رہنمائی کرنا لازم ہے اور کلام کرنا اس کاملزوم ہے' اس لیے یہاں لازم کی جگہ ملزوم کو مجازاً لایا گیا ہے۔

    لازم کا اطلاق ملزوم پر
    یعنی لازم بول کر مراد ملزوم ہو۔ اس کی مثال امام زرکشی نے یہ بیان کی ہے :
    (ھَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآء) (المائدة:١١٢)
    یہاں استطاعت کا اطلاق فعل پرہے' یعنی ' یَسْتَطِیْعُ' سے مراد ' یَفْعَلُ' ہے' کیونکہ کسی فعل کے لیے استطاعت کا ہونا لازم ہے' اس لیے استطاعت لازم اور فعل ملزوم ہے اور یہاں لازم بول کر مراد ملزوم ہے کیونکہ اللہ تو ہر چیز کی استطاعت رکھتا ہے اور اس کے بارے میں یہ سوال ہی بے معنی ہے کہ وہ کسی چیز کی استطاعت رکھتا ہے یا نہیں ؟
     
  9. ‏ستمبر 09، 2011 #9
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    مسبب کا اطلاق سبب پر
    یعنی مسبب بول کر مراد سبب ہو۔ اس کی مثال درج ذیل ہے:
    (یُنَزِّلُ لَکُمْ مِّنَ السَّمَآء رِزْقًا) (المؤمن : ١٣)
    اس آیت میں 'رِزْق' جو کہ مسبب ہے اس سے مراد بارش ہے جو کہ اس کا سبب ہے' کیونکہ آسمان سے تو رزق نازل نہیں ہوتا' رزق تو زمین سے نکلتا ہے' لیکن اس رزق کا سبب بارش ہے جو کہ آسمان سے نازل ہوتی ہے۔

    اسی طرح (قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا)(الاعراف:٢٦) میں 'لِبَاس' سے مراداس کا سبب یعنی بارش ہے۔ اسی طرح (لَا یَجِدُوْنَ نِکَاحًا) (النور:٣٣) میں ' نکاح' سے مراد اس کے اسباب ہیں' جیسے حق مہروغیرہ

    سبب کا اطلاق مسبب پر
    یعنی سبب بول کر مراد مسبب ہو۔ اس کی مثال درج ذیل ہے:
    (مَا کَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ) (ھود:٢٠)
    اس آیت میں سننے سے مرادقبول کرناہے۔ چونکہ سنناقبول کرنے کا سبب ہے اس لیے سبب یعنی سننابول کر مراد مسبب یعنی قبول کرنا لیا گیا ہے ۔اسی طرح (وَجَزٰؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَة مِّثْلُھَا) (الشوریٰ:٤٠) میں بھی دوسری 'سَیِّئَة 'سے مراد جزاء ہے کیونکہ'سَیِّئَة' سبب ہے اور 'جَزَاء' اس کا مسبب ہے ۔

    سبب کے سبب کی طرف فعل کی نسبت بھی اس میں داخل ہے مثلاً قرآن میں ہے: (فَاَخْرَجَھُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِ) (البقرة:٣٦) اس آیت میں حضرت آدم و حوا علیہما الصلاة و السلام کو جنت سے نکالنے کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے' حالانکہ دونوں کوجنت سے اللہ تعالیٰ نے نکالا تھا۔ چونکہ اللہ کے اس نکالنے کاسبب پھل کھانا تھا اور پھل کھانے کا سبب شیطان تھا' اس لیے نکالنے کی نسبت سبب کے سبب یعنی شیطان کی طرف کر دی گئی۔
     
  10. ‏ستمبر 09، 2011 #10
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    اعتبار ما کان یعنی ماضی کا اعتبار حال میں کرنا
    یعنی ایک چیز کی ماضی کی کسی حالت کا زمانہ حال میں اطلاق کرنا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    (وَاٰتُواالْیَتٰمٰی اَمْوَالَھُمْ) (النساء:٢)
    اس آیت مبارکہ میں یتیموں کو ان کا مال واپس کرنے کا حکم دیا گیا ہے' حالانکہ یتیموں کو ان کا مال اُس وقت واپس کرنے کا حکم ہے جبکہ وہ بالغ ہوجائیں اور بلوغت کے بعد وہ یتیم نہیں رہتے۔ اس لیے یہاں ان بالغ بچوں کو یتیم ان کے ماضی کے اعتبار سے کہا گیاہے۔

    اسی طرح (فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ)(البقرة:٢٣٢)میں 'اَزْوَاج ' یعنی شوہرکا لفظ اعتبار ماکان ہے' کیونکہ نکاح تو شوہروں سے نہیں ہوتا' بلکہ مراد سابقہ شوہر ہیں۔ اسی طرح (مَنْ یَّاْتِ رَبَّہ مُجْرِمًا) (طٰہٰ: ٧٤) میں مجرم اعتبار ماکان ہے' یعنی دنیا میں مجرم تھا ۔

    اعتبار ما یکون یعنی حال میں مستقبل کا اعتبار کرنا
    یعنی ایک شے کی مستقبل میں کسی متوقع حالت کا اطلاق حال پر کر دینا۔ اس کی مثال درج ذیل ہے:
    (اِنِّیْ اَرٰنِیْ اَعْصِرُ خَمْرًا) (یوسف:٣٦)
    اس آیت میں انگور کی جگہ 'خَمْر' یعنی شراب کا لفظ بولا گیا ہے کیونکہ انگور اپنے ممکنہ مستقبل کے اعتبار سے شراب ہیں۔

    اسی طرح (وَلَا یَلِدُوْآ اِلاَّ فَاجِرًا کَفَّارًا) (نوح) میں بھی اعتبار ما یکون ہے کیونکہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے اُس وقت وہ کافر اور فاجر نہیں ہوتا ' بلکہ فطرتِ اسلام پر پیداہوتا ہے۔ یہاں کافروں کے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے ان کو کافر اور فاجر کہا گیا ہے۔

    اسی طرح (حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہ) (البقرة:٢٣٠) میں 'زَوْج' کا لفظ اعتبار مایکون ہے کیونکہ نکاح زوج یعنی شوہر سے نہیں ہوتا بلکہ غیر شوہر سے ہوتا ہے۔ اسی طرح (فَبَشَّرْنٰہُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ) (الصّٰفّٰت) میں 'حَلِیْم' اعتبار ما یکون کا لحاظ رکھتے ہوئے کہا ہے' کیونکہ کوئی بھی بچہ پیدا ہوتے ہی اس صفت سے متصف نہیں ہوتا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں