1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قرآن کی تلاوت کے وقت سکینت اورفرشتوں کے اترنے کا بیان

'عظمت قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏اگست 09، 2012۔

  1. ‏اگست 09، 2012 #1
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,955
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    حدیث نمبر: 5018
    وقال الليث حدثني يزيد بن الهاد،‏‏‏‏ عن محمد بن إبراهيم،‏‏‏‏ عن أسيد بن حضير،‏‏‏‏ قال بينما هو يقرأ من الليل سورة البقرة وفرسه مربوط عنده إذ جالت الفرس فسكت فسكتت فقرأ فجالت الفرس،‏‏‏‏ فسكت وسكتت الفرس ثم قرأ فجالت الفرس،‏‏‏‏ فانصرف وكان ابنه يحيى قريبا منها فأشفق أن تصيبه فلما اجتره رفع رأسه إلى السماء حتى ما يراها فلما أصبح حدث النبي صلى الله عليه وسلم فقال ‏"‏ اقرأ يا ابن حضير اقرأ يا ابن حضير ‏"‏‏.‏ قال فأشفقت يا رسول الله أن تطأ يحيى وكان منها قريبا فرفعت رأسي فانصرفت إليه فرفعت رأسي إلى السماء فإذا مثل الظلة فيها أمثال المصابيح فخرجت حتى لا أراها‏.‏ قال ‏"‏ وتدري ما ذاك ‏"‏‏.‏ قال لا‏.‏ قال ‏"‏ تلك الملائكة دنت لصوتك ولو قرأت لأصبحت ينظر الناس إليها لا تتوارى منهم ‏"‏‏.‏ قال ابن الهاد وحدثني هذا الحديث عبد الله بن خباب عن أبي سعيد الخدري عن أسيد بن حضير‏.‏


    اورلیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یزید بن الہاد نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن ابراہیم نے کہ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رات کے وقت وہ سورۃ البقرہ کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کا گھوڑا ان کے پاس ہی بندھا ہوا تھا۔ اتنے میں گھوڑا بدکنے لگا تو انہوں نے تلاوت بند کر دی تو گھوڑا بھی رک گیا۔ پھر انہوں نے تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھر بدکنے لگا۔ اس مرتبہ بھی جب انہوں نے تلاوت بند کی توگھوڑا بھی خاموش ہو گیا۔ تیسری مرتبہ انہوں نے تلاوت شروع کی تو پھر گھوڑا بدکا۔ ان کے بیٹے یحیٰی چونکہ گھوڑے کے قریب ہی تھے اس لئے اس ڈر سے کہ کہیں انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے۔ انہوں نے تلاوت بند کر دی اور بچے کو وہاں سے ہٹا دیا پھر اوپر نظر اٹھائی تو کچھ نہ دکھائی دیا۔ صبح کے وقت یہ واقعہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن حضیر! تم پڑھتے رہتے تلاوت بند نہ کرتے (تو بہتر تھا) انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے ڈر لگا کہ کہیں گھوڑا میرے بچے یحیٰی کو نہ کچل ڈالے ‘ وہ اس سے بہت قریب تھا۔ میں سر اوپر اٹھایا اور پھر یحیٰی کی طرف گیا۔ پھر میں نے آسمان کی طرف سر اٹھایا تو ایک چھتری سی نظر آئی جس میں روشن چراغ تھے۔ پھر جب میں دوبارہ باہر آیا تو میں نے اسے نہیں دیکھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں معلوم بھی ہے وہ کیا چیز تھی؟ اسید نے عرض کیا کہ نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ فرشتے تھے تمہاری آواز سننے کے لئے قریب ہو رہے تھے اگر تم رات بھر پڑھتے رہتے تو صبح تک اور لوگ بھی انہیں دیکھتے وہ لوگوں سے چھپتے نہیں۔ اور ابن الہاد نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے یہ حدیث عبداللہ بن خباب نے بیان کی، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اور ان سے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے۔


     
  2. ‏اگست 09، 2012 #2
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    فرشتے غیر مرئی مخلوق ہیں اس لئے اللہ پاک نے اس موقع پر بھی ان کو نظروں سے پوشیدہ کردیا۔ اس سے سو رہ بقرہ کی انتہائی فضیلت ثابت ہو ئی۔
     
  3. ‏دسمبر 01، 2013 #3
    نوائے دل

    نوائے دل رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 21، 2013
    پیغامات:
    105
    موصول شکریہ جات:
    35
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    سبحان اللہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں