1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قربانی پر اعتراض کا جواب درکار ہے

'انکار حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن قدامہ, ‏ستمبر 25، 2015۔

  1. ‏ستمبر 25، 2015 #1
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    جولوگ قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے وہ گائے ، بیل ، دنبہ بکرا کی بجائے اپنی مونچھوں اور ''زیر ناف بالوں کی قربانی دے سکتے ہیں ۔
    بحوالہ حدیث نبوی ۔
    حضور ﷺ نے فرمایا
    ''مجھے حکم دیا گیا ہے کہ امت کیلئے اضحی کے دن کو عید قرار دوں ''

    کسی آدمی نے آپ ﷺسےعرض کیا اللہ کے رسول مجھے بتائیں اگر میں دودھ دینے والی بکری جو کہ مجھے کسی نے عطیہ کی ہے کے سوا اور کوئی جانور نہ پاوُں تو کیا میں اسے ذبح کر دوں ؟

    آپ ﷺ نے فرمایا ''نہیں '' لیکن تم عید کے روز اپنے بال اور ناخن کٹاوُ ، مونچھیں کترواوُ ، اور زیر ناف بال مونڈھ لو ، اللہ کے ہاں یہ تمہاری مکمل قربانی ہے ۔

    [بحوالہ ابو داوُد - نسائی ]

    میری اس پوسٹ پر بھونکنے والے پہلے مجھے یہ بتائیں کہ قربانی کے بارے میں قرآن میں تمام حکم صرف عازمین حج کیلئے ہیں نہ کہ حاجیوں کے علاوہ غیر حاجیوں کیلئے کوئی قربانی کا حکم ہے ۔
    جو کہتے ہیں کہ کہ حدیث کی کتابوں سے غیر حاجیوں کیلئے قربانی کا حکم ہے تو ان حدیث کو ماننے والوں کو زیر ناف بالوں کی قربانی کو بھی مستند ہی سمجھنا چاہیے ۔ کیونکہ یہ بھی تو حدیث ہی ہے مولویوں کی اماں جان کا طلاق نامہ تو نہیں ۔

    اور جو لوگ کہتے ہیں سنت ابراہیمی کی پیروی لازم ہے تو وہ جاہل سورہ یونس کی آیت نمبر 35 غور سے پڑھیں کہ جس میں ان لوگوں کی اطاعت / پیروی سے اللہ ہی روک رہا ہے کہ جو لوگ کبھی حالت گمراہی میں تھے اور بعد میں ہدائت پا گئے ۔ اور حضرت ابراہیم کے بارے میں یہ واقعات قرآن میں ہی ہیں کہ کبھی ان نے سورج ، کبھی چاند کبھی ستارے کو اپنا معبود سمجھ کر شرک کرتے رہے ہیں تو قرآن کے مطابق وہ قابل پیروی نہیں ہیں ۔

    ابراہیم ؏ نے جس دنبہ کی قربانی دی وہ اللہ نے مفت میںن عطا تب کیا جب وہ اپنے صاحب زادہ اسماعیل ؏ کی گردن پر چھری چلا رہے تھے ، نہ کہ آج کے لوگوں کی طرح جانور خرید کر ۔ اور نہ کوئی شخص ویسا عمل کر سکتا ہے ۔ تو سنت ابراہیمی کیا ہوئی ؟

    جب اللہ نے دنبہ کی ہی قربانی لینی تھی تو ابراہیم کی آزمائش کیوں کی؟ اور آج تک یہ کوئی حرامخور مولوی واضح نہیں کر سکا کہ وہ آزمائش ابراہیم ؏ کی تھی یا اسماعیل کی ؟ کیونکہ اس آزمائش میں تو مرنا اسماعیل نے ہی تھا تو وہ ابراہیم ؏ کی آزمائش کیسے ہوئی ؟
    اس لیئے کہ رسول ﷺ نے فرمایا اور ہم نے مان لیا ۔ جب رسول اور قرآن دونوں نجومی اور ستاروں کا علم رکھنے والے کو جبت / جھوٹ اور شرک کے دائرہ میں لاتے ہیں تو قرآن میں اس موقع کی آیات غور سے پڑھیں کہ جب ابراہیم کے باپ آزر نے ابراہیم کو میلہ میں جانے کا کہا تو ابراہیم کے الفاظ جواب قرآن میں ہے کہ '' فا انظرتا فی النجوم فا قالا انی اسقمتم '' کہ ایک نظر ابراہیم نے ستاروں میں ڈالی [یعنی ستاروں سے بطور نجومی حسابب کیا] اور کہا کہ آئندہ مستقبل میں میں بیمار ہو جاوں گا [یعنی مستقبل کے حالات کی پیش گوئی نجوم کے سہارے کی ]

    تو جناب اس ضمن میں رسول ﷺ کے بیان میں کس کو سہی اور کس کو لغو مانا جائے ؟

    کتا ،،گدھا ، خنزیر کو روز مرہ میں کھانے والے صدقات پر پلنے والے مولوی عید الضحی کے موقع پر تازہ گوشت کھانے کے شوق میں حقائق اور ناقابل تردید قرآن کی آیات کو جھٹلائے ہوئے ہیں ۔
    معاشرے میں غربت کی وجہ سے عزتیں نیلام ہو رہی ہیں اور ان میں ''وہ جذبہ قربانی نہیں کہ بجائے حقیقی معنوں میں مالیاتی قربانی غریبوں کیلئے دی جائے '' ان کو غرض ہے تو صرف جہالت کے مذہب کے نام پر فروغ اور اپنا پیٹ بھرنے تک ۔

    اگر قربانی غریبوں کی مدد کرنا نہیں تو اور کچھ بھی نہیں ۔

    کیا یہ ممکن نہیں کہ حضرت ابراہیم نے جس رات اپنے بیٹے کی قربانی والا خواب دیکھا ہو [شائید اس رات حضرت جبرائیل کو سائکل پیغام الہی دینے کو نہیں ملا تھا ] تو اگلی صبح وہ دنبہ کو اسماعیل سجھ کے قربان گاہ لے گئے ہوں [کیونکہ جو انسان سورج ، چاند ستارے کو اپنا معبود سمجھ سکتا ہے تو کوئی بعید نہیں کہ وہ انسان دنبہ کو اپنا بیٹا نہ سمجھ بیٹھا ہو ۔ ]

    جب قرآن میں ابلیس کے بارے میں یہ آیت ہے کہ ابلیس نے کہا کہ اے اللہ میں رہتی دنیا تک لوگوں کو راہ راست سے بھٹکاوں گا لیکن سوائے ان کے جو تیرے لوگ ہیں ۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ابلیس کسی نبی کو جب بھٹکا ہی نہیں سکتا تو ابراہیم ؏ نے اسے پتھر کیوں مارے تھے ؟

    کہیں ایسا تو نہیں کہ شیطان نے جب دنبہ کو حضرت اسماعیل کی جگہ لے جاتے دیکھا ہوگا تو اس نے کہا ہوگا کہ اپنے بیٹے کوقربان کرو جس سے خائف ہوکر ابراہیم نے شیطان کو پتھر مارے ۔

    ایسے واقعات کو جو جاہل مذہبی طور پر سچ مانتے ہیں وہ سعودیہ گورنمنٹ کے پتھر سے بنے شیطانوں کو پاگلوں کی طرح پتھر مارنے کو عبادت سمجھتے ہیں ۔ گویا حرمین شریفین بھیپڑے ہوئے پتھر کے بنے شیطان کیا یہ ثابت نہیں کرتے کہ حرمین شریفین اللہ کے گھر کے علاوہ شیطان کا بھی گھر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ثابت ہوا ناں ؟

    ویسے کسی جانور کی جان قربانی کے نام پر لینے سے ہزارگنا بہتر ہے کہ اپنے ''زیر ناف بالوں'' کی قربانی کر لی جائے ۔ کیونکہ بکرا ، دنبہ گائے اور بیل حضرت اسماعیل نہیں ہیں اور نہ آپ حضرت ابراہیم جیسا اپنی سگی اولاد کو قربان کر کے بن سکتے ہیں ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں