1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قصر نماز کی مسافت یا فاصلہ

'الجماعہ' میں موضوعات آغاز کردہ از غضنفر اللہ, ‏جون 27، 2016۔

  1. ‏جون 27، 2016 #1
    غضنفر اللہ

    غضنفر اللہ مبتدی
    جگہ:
    گجرات
    شمولیت:
    ‏اگست 03، 2015
    پیغامات:
    5
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    17

    قصر نماز کی مسافت یا فاصلہ کتنا ہے اور اسکے دلائل کیا ہیں
     
  2. ‏جون 27، 2016 #2
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محترم غضنفراللہ بھائی!
    آپ کے سوال کا جواب علماء کی طرف سے آجائے گا، ان شاء اللہ!
    البتہ فقط آپ کی راہنمائی کے لیے عرض کرنا تھا کہ آپ نے جس طریقے سے علماء کو نیچے ٹیگ کرنے کی کوشش کی ہے یہ طریقہ درست نہیں ہے۔ یہ دراصل موضوعاتی ٹیگ ہے۔
    upload_2016-6-27_12-14-58.png
    درست طریقہ البتہ اس طرح ہے کہ کسی عالم محترم کے نام سے پہلے@ لکھیں اور بغیر سپیس دیئے، ایسے۔۔
    محترم @اسحاق سلفی صاحب!
     
  3. ‏جون 27، 2016 #3
    غضنفر اللہ

    غضنفر اللہ مبتدی
    جگہ:
    گجرات
    شمولیت:
    ‏اگست 03، 2015
    پیغامات:
    5
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    17

    جزاک اللہ خیرا
     
  4. ‏جون 27، 2016 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,362
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

  5. ‏جون 27، 2016 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,362
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    فتاویٰ جات
    اس مسئلہ پر شیخ العلماء شیخ حافظ عبدالمنان نور پوریؒ کا فتویٰ پیش ہے ؛

    نماز قصر کی مسافت اور مدت

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    قصر کتنی مسافت سے شروع ہوتا ہے اور مدت اس کی کتنے دن ہے؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    قصر صلاۃ کے لیے مسافت تئیس کلو میٹر ہے کیونکہ حدیث میں نو میل وارد ہے اور پرانے میل انگریزی میل سے بڑے تھے تو اگر کسی نے ۲۳ کلو میٹر یا اس سے زیادہ مسافت سفر کرنا ہو تو وہ اپنے شہر ، قصبہ یا دیہات کی آبادی سے باہر چلا جائے تو نماز قصر پڑھے اسی طرح سفر سے واپسی پر اپنے شہر قصبہ یا دیہات کی آبادی میں داخل ہونے سے قبل قبل قصر پڑھے۔
    تردد کی صورت میں کوئی مدت معین نہیں مہینہ کئی مہینے بھی قصر ہے اور اگر وہ منزل مقصود پر پہنچ کر کچھ معین عرصہ قیام کا ارادہ رکھتا ہے تو پھر زیادہ صحیح اور پختہ بات یہی ہے کہ وہ مدت چار دن ہے مطلب یہ ہے کہ اگر وہ چار دن یا اس سے زیادہ عرصہ کسی جگہ پر ٹھہرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اس جگہ پر پہنچ جانے کے بعد نماز پوری پڑھے قصر نہ پڑھے اور اگر اس کا ارادہ چار دن سے کم ٹھہرنے کا ہو تو وہ اس جگہ پہنچنے کے بعد بھی نماز قصر پڑھے۔

     
    Last edited: ‏جنوری 16، 2019
  6. ‏جون 27، 2016 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,362
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    نماز قصر کےلیے مقدار سفر کےبارے میں رہنمائی
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

    نماز قصر کےلیے مقدار سفر کےبارے میں رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیرا

    ٭الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال ٭

    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    نماز قصر کے لیے مقدار سفر کے متعلق کافی اختلاف ہے۔ بعض حضرات کے نزدیک سفر کی کوئی مقدار مقرر نہیں ہے، بعض محدثین ایک دن اور ایک رات کی مسافت پر نماز قصر جائز قرار دیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق کوئی صریح قولی روایت نہیں ملتی جس سےنماز قصر کے لیے مسافت کی مقدار کو معین کیا جاسکتا ہو، البتہ حضرت انسؓ جو سفر و حضر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک خادم خاص کی حیثیت سے رہے ہیں، انہوں نے آپﷺ کے ایک فعل سے استنباط کیا ہے کہ کم از کم نو میل کی مسافت پر نماز قصر کی جاسکتی ہے،
    چنانچہ آپ کے شاگرد یحییٰ بن یزید نے نماز قصر کے لیے مسافت کی مقدار کے متعلق سوال کیا تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ جب رسول اللہ ﷺ تین میل یا تین فرسخ کا سفر کرتے تو نماز قصر فرماتے (روایت میں سفر کی تعیین کے متعلق تردد ایک راوی شعبہ کو ہوا ہے) [صحیح مسلم: حدیث نمبر 691]
    ایک فرسخ تین میل کا ہوتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مسافت اگر نو میل ہوتو انپے شہر یا گاؤں کی حد سے نکل کر نماز قصر کی جاسکتی ہے۔
    لہٰذا آپ 22 کلو میٹر سفر ایک شہر ہی میں کرتے ہیں تو آپ کے لیے قصر کرنا جائز نہیں ہے۔
    جہاں تک 80 کلومیٹر سفر کرنے کی بات ہے تو اس میں قصر ہو سکتا ہے اور دو نمازوں کو جمع کرنا بھی جائز ہے۔
    وبالله التوفيق

    فتویٰ کمیٹی

    محدث فتویٰ
     
    Last edited: ‏جنوری 16، 2019
  7. ‏جون 27، 2016 #7
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ.
    محترم شیخ میں نے تو پڑھا ہے کہ اسکی کوئ حد متعین نہیں ہے. بلکہ اس سلسلے میں عرف کا اعتبار ہوگا.
    فقہ الحدیث میں بہت اچھے سے سمجھایا ہے.
     
  8. ‏جولائی 01، 2016 #8
    غضنفر اللہ

    غضنفر اللہ مبتدی
    جگہ:
    گجرات
    شمولیت:
    ‏اگست 03، 2015
    پیغامات:
    5
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    17

    شیخ عمر اثری میں آپ کے دلائل سے مطمئن نہیں ہوا.
     
  9. ‏جولائی 01، 2016 #9
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ.
    محترم!
    پہلی بات تو یہ کہ میں کوئ شیخ نہیں ہوں. میں بس ایک طالب علم ہوں. اور فورم کے شیوخ سے سیکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں.
    دوسری بات یہ کہ ابھی میں نے دلائل ہی کہاں دۓ ہیں. ؟؟؟
     
  10. ‏جنوری 16، 2019 #10
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,362
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    کفار کی قید میں قیدی قصر نماز ادا کرے گا یا پوری نماز پڑھے گا ؟


    میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی قیدی کفار کی قید میں ہے، تو کیا وہ قصر نماز ادا کرے گا یا پوری نماز
    اور جیل میں جو قیدی مختلف جرائم میں بند ہوتے ہیں ان کے لیے اس بارے میں صحیح حکم کیا ہے
    میں مقبوضہ کشمیر سے ہوں اور میرا ایک دوست مقید ہے، اسی نے یہ سوال پوچھا تھا،
    یہ سوال پہلے بھی دو مفتی حضرات سے کیا گیا تھا ،ان کا جواب اس بارے میں یہ تھا کہ وہ قصر کریں، اس بارے میں صحیح رہنمائی فرمائیے کتاب و سنت کے مطابق، جزاک اللہ خیرا

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جواب :
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    اس مسئلہ پر سعودی عرب کے جید علماء کی سائیٹ (الاسلام سؤال و جواب )
    پر فتویٰ دیا گیا ہے ،جو ترجمہ کے ساتھ پیش ہے ؛
    ــــــــــــــــــــــــــ
    الحمد لله
    أولا :
    إذا كان المسجون قد سجن في مكان خارج بلد إقامته ، ويبعد عنها مسافة القصر : فهو في حكم المسافر :
    فإذا كان لا يعلم متى يخرج : قصر من الصلاة وجمع بين الصلاتين عند الحاجة إلى الجمع ، حتى يخرج أو يعلم أنه يمكث في سجنه أكثر من أربعة أيام .
    وإن علم أنه يمكث أكثر من أربعة أيام ، كالذي حكم عليه بالسجن أكثر من هذه المدة : فإنه لا يترخص برخص السفر، عند جمهور الفقهاء .

    اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد :
    واضح ہو کہ اگر کوئی قیدی اپنے شہر سے دور کسی اور جگہ قید ہو اور اس کی مسافت نماز کے قصر کرنے والی ہو تو وہ مسافر کے حکم میں ہے۔
    چنانچہ اگر اسے معلوم نہیں ہے کہ وہ کب قید سے نکلے گا؟ تو ضرورت کے وقت نمازیں جمع کر سکتا ہے، یہاں تک کہ اسے معلوم ہو جائے کہ وہ جیل سے کب نکلے گا یا اسے علم ہو جائے کہ وہ چار دن سے زیادہ جیل میں گزارے گا۔
    اگر اسے علم ہو جائے کہ وہ چار دن سے زیادہ جیل میں گزارے گا تو اس کا حکم ایسے شخص کا ہو گا جس پر اس سے زیادہ قید کا حکم لاگو کیا گیا ہے: اس لیے وہ سفر کی رخصتوں پر عمل نہیں کر سکتا، یہ جمہور فقہائے کرام کا موقف ہے۔
    .
    والمسافر الذي يقيم ببلد ولكنه لا يدري متى تنقضي حاجته ، ولم يحدد زمناً معيناً للإقامة ، فإنه يترخص برخص السفر ولو طالت المدة .
    اور ایسا مسافر جو کسی علاقے میں ٹھہرا تو ہوا ہے لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کا کام کب ختم ہو گا، نہ ہی اس علاقے میں ٹھہرنے کی کوئی مدت معین ہے تو وہ سفر کی رخصتوں پر عمل کرے گا، چاہے مدت چار دن سے زیادہ لمبی ہو جائے۔
    امام أبو محمد موفق الدين ابن قدامة المقدسي (المتوفى: 620ھ) رحمہ اللہ "المغنی" (2/215) میں کہتے ہیں:
    " مَنْ لَمْ يُجْمِعْ الْإِقَامَةَ مُدَّةً تَزِيدُ عَلَى إحْدَى وَعِشْرِينَ صَلَاةً، فَلَهُ الْقَصْرُ، وَلَوْ أَقَامَ سِنِينَ، مِثْلُ أَنْ يُقِيمَ لِقَضَاءِ حَاجَةٍ يَرْجُو نَجَاحَهَا، أَوْ لِجِهَادِ عَدُوٍّ، أَوْ حَبَسَهُ سُلْطَانٌ، أَوْ مَرَضٌ، وَسَوَاءٌ غَلَبَ عَلَى ظَنِّهِ انْقِضَاءُ الْحَاجَةِ فِي مُدَّةٍ يَسِيرَةٍ، أَوْ كَثِيرَةٍ، بَعْدَ أَنْ يَحْتَمِلَ انْقِضَاؤُهَا فِي الْمُدَّةِ الَّتِي لَا تَقْطَعُ حُكْمَ السَّفَرِ.
    ترجمہ :
    "جو شخص اکیس نمازوں سے زیادہ قیام کرنے کی پختہ نیت نہ کرے تو وہ قصر نماز پڑھ سکتا ہے، چاہے اسے کئی سال قیام کرنا پڑے، مثلاً: وہ اپنے کسی ایسے کام کو پورا کرنے کے لئے قیام کرے جس کے پورے ہونے کی امید ہو، یا دشمن سے جہاد کے لئے یا حکمران اسے قید کر دے، یا بیماری اسے سفر نہ کرنے دے۔ [ان تمام صورتوں میں] حکم یکساں ہی رہے گا چاہے اس کے گمان میں کام جلد پورا ہونے کا امکان ہو یا دیر سے، [تاہم اتنا ہے کہ] اسے اتنی مدت کے بعد کام مکمل ہونے کا گمان ہو جس سے سفر کا حکم کالعدم نہیں ہوتا۔

    اور امام ابن المنذرؒ (أبو بكر محمد بن إبراهيم بن المنذر النيسابوري (المتوفى: 319هـ)فرماتے ہیں :
    قَالَ ابْنُ الْمُنْذِرِ: أَجْمَعَ أَهْلُ الْعِلْمِ أَنَّ لِلْمُسَافِرِ أَنْ يَقْصُرَ مَا لَمْ يُجْمِعْ إقَامَةً، وَإِنْ أَتَى عَلَيْهِ سِنُونَ " انتهى . : المغنی" (2/215)
    ابن المنذر رحمہ اللہ کہتے ہیں: اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ مسافر جب تک اقامت پذیر ہونے کی نیت نہیں کرتا تو وہ قصر کر سکتا ہے، چاہے وہ اس طرح سالہا سال گزار دے"

    ثانيا :
    لا تجب على المحبوسين صلاة الجمعة وهم في عنابرهم ، فإن أمكنهم صلاتها في مسجد السجن وجبت عليهم .
    وكل أهل عنبر منهم يصلون الصلوات الخمس في عنبرهم جماعة ، إذا لم يمكن أن يصلوا في مسجد السجن .

    دوم:

    الگ الگ کوٹھڑیوں میں مقید قیدیوں پر نماز جمعہ واجب نہیں ہے، لیکن اگر ان کے لیے جیل خانے کی مسجد میں جمعہ ادا کرنا ممکن ہو تو ان پر نماز جمعہ ادا کرنا واجب ہے۔

    اگر جیل کے قیدیوں کے لئے جیل خانے کی مسجد میں پانچوں نمازیں ادا کرنا ممکن نہ ہو تو سب اپنی اپنی جیل میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں گے۔
    قال الشيخ ابن باز رحمه الله :
    " أفتى مجلس هيئة كبار العلماء بعدم الموافقة على جمع السجناء على إمام واحد في صلاة الجمعة والجماعة ، وهم داخل عنابر السجن ، يقتدون به بواسطة مكبر الصوت لعدم وجوب صلاة الجمعة عليهم ، حيث لا يمكنهم السعي إليها، ولأسباب أخرى.
    ومن أمكنه الحضور لأداء صلاة الجمعة في مسجد السجن ، إذا كان فيه مسجد تقام فيه صلاة الجمعة : صلاها مع الجماعة، وإلا فإنها تسقط عنه ، ويصليها ظهرا .
    وكل مجموعة تصلي الصلوات الخمس جماعة داخل عنبرهم ، إذا لم يمكن جمعهم في مسجد أو مكان واحد " انتهى من "مجموع فتاوى ابن باز" (12/ 155-156).

    اور سعودی عرب کے مشہور مفتی اعظم شیخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز (المتوفى: 1420ھ) رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    "علما سپریم کونسل کی جانب سے جاری فتوی میں ہے کہ انہوں نے تمام قیدیوں کو ان کی اپنی اپنی کوٹھڑی میں رہتے ہوئے ایک ہی امام کی اقتدا میں نماز با جماعت پر موافقت نہیں کی؛ کہ تمام قیدی صرف لاؤڈ اسپیکر کی آواز کے ذریعے امام کی اقتدا کریں؛ اس لیے کہ ان پر نماز جمعہ واجب ہی نہیں ہے؛ کیونکہ وہ نماز جمعہ کے لئے جا ہی نہیں سکتے، نیز عدم وجوب کے دیگر اسباب بھی ہے۔

    اور اگر کسی قیدی کو جیل خانے کی مسجد میں نماز جمعہ کے لئے جانے کی اجازت ہو اور وہاں پر نماز جمعہ ادا بھی کی جاتی ہو تو وہ جماعت کے ساتھ جمعہ ادا کرے گا، بصورت دیگر نماز جمعہ قیدی سے ساقط ہو جائے گی، اور ظہر کی نماز ادا کرے گا۔

    اگر قیدیوں کے لئے مسجد یا کسی بھی جگہ اکٹھے ہو کر نماز با جماعت ادا کرنا ممکن نہ ہو تو ہر حوالات کے لوگ اکٹھے ہو کر پانچوں نمازیں با جماعت ادا کریں گے۔" ختم شد
    "مجموع فتاوى ابن باز" (12/ 155-156)


    اور فتاوی کیلئے کبار سعودی اہل علم کی کمیٹی (اللجنۃ الدائمۃ ) کا فتوی ہے کہ:
    " إذا أقيمت الجمعة داخل السجن أو في غيره، واستطاع أداءها - يعني المسجون - فتجب عليه، وإذا لم يستطع أداء الجمعة فيصليها ظهرا " انتهى من "فتاوى اللجنة الدائمة" (8/ 184)

    دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ:
    "جیل کے اندر یا کسی بھی جگہ پر جمعہ ادا کیا جائے اور قیدیوں کے لئے وہاں جانا ممکن بھی ہو تو قیدیوں پر جمعہ ادا کرنا واجب ہے، اور اگر وہاں جانا ممکن نہ ہو تو پھر جمعہ کی جگہ ظہر کی نماز ادا کریں گے۔" ختم شد
    فتاوی دائمی فتوی کمیٹی: (8/184)

    فإذا كان هؤلاء مسجونين بأحكام صدرت عليهم ، فاستقروا في سجنهم الذي يقضون فيه هذه الأحكام ، فإن حكمهم حكم المقيم ، لا يترخصون بقصر ولا جمع ولا إفطار في رمضان ، ويصلون جماعة ، كل مجموعة تصلي داخل عنبرهم ، وليس عليهم جمعة إلا إذا أذنت لهم إدارة السجن بالصلاة في مسجد السجن ، فتجب .

    أما إذا كانوا في حال لا يدرون غدا أين سيكونون ، وكانت إدارة السجون ترحلهم عادة من بلد إلى بلد : فمثل هؤلاء يترخصون برخص السفر ، فيجوز لهم القصر والجمع .

    نسأل الله أن يفك أسر المأسورين من المظلومين ، ويفرج كرب المكروبين من المسلمين .
    والله تعالى أعلم .

    لہذا اگر ان قیدیوں کے عدالتی فیصلے سنائے جا چکے ہیں، اور وہ ان عدالتی احکامات کو ہی جیل میں رہتے ہوئے بھگت رہے ہیں تو پھر ان کا حکم مقیم شخص کا ہے، چنانچہ یہ لوگ نمازیں قصر یا جمع نہیں کر سکتے، نہ ہی رمضان میں روزے چھوڑ سکتے ہیں، یہ لوگ با جماعت نماز ادا کریں گے، ہر گروپ اپنی اپنی جگہ میں اکٹھے ہو کر نماز ادا کرے گا، اسی طرح ان پر نماز جمعہ فرض نہیں ہے، الا کہ جیل خانہ کی انتظامیہ کی جانب سے انہیں جیل کی مسجد میں جمعہ ادا کرنے کی اجازت دے دی جائے تو ان پر جمعہ ادا کرنا واجب ہو جائے گا۔
    لیکن اگر صورت حال ایسی ہو کہ انہیں معلوم نہیں ہے کہ کل وہ کہاں پر ہوں گے، اور جیل انتظامیہ کی جانب سے انہیں ایک شہر سے دوسرے شہر میں منتقل کیا جاتا رہتا ہے تو پھر ایسی صورت میں وہ سفر کی رخصتوں پر عمل کریں گے، ان کے لئے نمازیں قصر اور جمع کرنے کی اجازت ہے۔
    ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی مظلوم قیدیوں کو آزادی نصیب فرمائے، مشکل میں پھنسے ہوئے مسلمانوں کی مشکل کشائی فرمائے۔

    المصدر: الإسلام سؤال وجواب
    https://islamqa.info/ar/answers/222814/
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں