1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قومی حکومت پرسید مودودی کے اعتراضات۔ جمہوریت دین جدید۔ ڈاکٹر شفیق الرحمن

'جمہوریت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد آصف مغل, ‏اگست 03، 2013۔

  1. ‏اگست 03، 2013 #1
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    مسلمانان پاک وہند نے اسلامی حکومت کے قیام کے لئے ایک اور راستہ اختیار کیا کہ مسلم اکثریت کے صوبوں میں مسلمانوں کی اپنی حکومت قائم کی جائے پھر قومی حکومت بتدریج اسلامی حکومت میں تبدیل کی جائے۔ مسلمانان ہند کا یہ منصوبہ اسلامی انقلاب کے لئے قطعاً غیر مفید ثابت ہوا پاکستان کی نصف صدی سے زائد کی تاریخ اس کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    بانی جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اس کی ناکامی کی بنیادی وجہ اسی وقت یوں بیان کردی تھی:

    ''ایک قوم کے تمام افراد کو محض اس وجہ سے کہ وہ نسلاً مسلمان ہیں حقیقی مسلمان فرض کرلینا اور یہ اُمید رکھنا کہ ان کے اجتماع سے جو کام بھی ہوگا---- اسلامی اصولوں ہی پر ہوگا پہلی اور بنیادی غلطی ہے۔ انبوہ عظیم جس کو مسلمان قوم کہا جاتا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے 999 فی ہزار افراد نہ اسلام کا علم رکھتے ہیں نہ حق اور باطل کی تمیز سے آشنا ہیں اور نہ ہی ان کا اخلاقی نقطہ نظر اور ذہنی رویہ اسلام کے مطابق تبدیل ہوا ہے باپ سے بیٹے اور بیٹے سے پوتے کو بس مسلمان کا نام ملتا چلا آ رہا ہے۔ اس لیے یہ مسلمان ہیں نہ انہوں نے حق کو حق جان کر قبول کیا اور نہ باطل کو باطل جان کر ترک کیا ہے۔ اُنکی اکثریت رائے کے ہاتھ میں باگیں دے کر اگر کوئی شخص یہ اُمید رکھتا ہے کہ گاڑی اسلام کے راستے پر چلے گی تو اس کی خوش فہمی قابل داد ہے۔'' (تحریک آزادی ہند اور مسلمان حصہ دوم ص 140)

    سید مودودی نے مثال دے کر یوں سمجھایا:

    ''جمہوری انتخاب کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے دودھ کو بلو کر مکھن نکالا جاتا ہے اگر دودھ زہریلا ہو تو اس سے جو مکھن نکلے گا قدرتی بات ہے کہ دودھ سے زیادہ زہریلا ہوگا۔ اسی طرح سوسائٹی اگر بگڑی ہوئی ہو تو اس کے ووٹوں سے منتخب ہوکر وہی لوگ برسراقتدار آئیں گے جو اس سوسائٹی کی خواہشاتِ نفس سے سند مقبولیت حاصل کرسکیں گے۔ پس جو لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ اگر مسلم اکثریت کے علاقے ہندو اکثریت کے تسلط سے آزاد ہو جائیں اور یہاں جمہوری نظام قائم ہو جائے تو اس طرح حکومت اِلٰہیہ قائم ہوجائے گی ان کا گمان غلط ہے ۔ دراصل اس نتیجے میں جو کچھ حاصل ہوگا وہ صرف مسلمانوں کی کافرانہ حکومت ہوگی۔ اس کا نام حکومت الٰہیہ رکھنا اس پاک نام کو ذلیل کرنا ہے۔'' (تحریک آزادی ہند اور مسلمان ص142)
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 03، 2013 #2
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    پاکستان کا مطلب کیا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ صرف جذباتی نعرہ تھا۔ جمہوری طریقہ سے لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ کا نفاذ نہیں ہوسکتا۔ سید مودودی نے جمہوریت اور مسلمانوں کی مختلف جماعتوں پر جو اعتراضات کئے اس کے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیں :

    ''ایک مسلمان کی حیثیت سے جب میں دُنیا پر نگاہ ڈالتا ہوں تو مجھے اس امر پر اظہار مسرت کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ترکی پر ترک ، ایران پر ایرانی اور افغانستان پر افغان حکمران ہیں مسلمان ہونے کی حیثیت سے میں حُکمُ النَّاسِ عَلی النَّاسِ لِلنَّاسِ
    (Government of the people by the people for the people)
    کے نظریے کاقائل نہیں ہوں کہ مجھے اس پر مسرت ہو میں اس کے برعکس حُکمُ ﷲِ عَلی النَّاسِ بِالحَق (Rule of Allah on man with Justice ) کا نظریہ رکھتا ہوں۔ اس اعتبار سے میرے نزدیک انگلستان پر انگریزوں کی حاکمیت اور فرانس پر اہل فرانس کی حاکمیت جس قدر غلط ہے اسی قدر ترکی اور دوسرے ملکوں پر ان کے اپنے باشندوں کی حاکمیت بھی غلط ہے بلکہ اس سے زیادہ غلط اس لئے کہ جو قومیں اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہیں ان کا اﷲ کے بجائے انسانوں کی حاکمیت اختیار کرنا اور بھی زیادہ افسوس ناک ہے۔ غیر مسلم اگر ضَالِّین کے حکم میں ہیں تو یہ اس طرز عمل کی بنا پر مَغضُوبِ عَلَیھِم کی تعریف میں آتے ہیں۔

    مسلمان ہونے کی حیثیت میں میرے لیے اس مسئلہ میں بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ ہندوستان میں جہاں مسلم کثیرالتعداد ہیں وہاں ان کی حکومت قائم ہو جائے میرے نزدیک جو سوال سب سے اقدم ہے وہ یہ ہے کہ آپ کے اس پاکستان میں نظام حکومت کی اساس اﷲ کی حاکمیت پر رکھی جائے گی یا مغربی نظریہ جمہوریت کے مطابق عوام کی حاکمیت پر؟ اگر پہلی صورت ہے تو یقینا یہ پاکستان ہوگا ورنہ بصورت دیگر یہ ویسا ہی ''ناپاکستان'' ہوگا جیسا ملک کا وہ حصہ جہاں آپ کی اسکیم کے مطابق غیر مسلم حکومت کریں گے۔ بلکہ اﷲ کی نگاہ میں یہ اس سے زیادہ ناپاک ، اس سے زیادہ مبغوض و ملعون ہوگا کیونکہ یہاں اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے وہ کام کریں گے جو غیر مسلم کرتے ہیں۔ اگر میں اس بات پر خوش ہوں کہ یہاں رام داس کی بجائے عبداﷲ خدائی کے منصب پر بیٹھے گا تو یہ اسلام نہیں ہے۔ بلکہ نرا نیشنلزم ہے اور یہ مسلم نیشنلزم بھی اﷲ کی شریعت میں اتنا ہی ملعون ہے جتنا ہندوستانی نیشنلزم۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے میری نگاہ میں اس سوال کی بھی کوئی اہمیت نہیں کہ ہندوستان ایک ملک رہے یا دس ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے تمام روئے زمین ایک ملک ہے۔ انسان نے اس کو ہزاروں حصوں میں تقسیم کررکھا ہے۔ یہ اب تک کی تقسیم اگر جائز تھی تو آئندہ مزید تقسیم ہو جائے تو کیا بگڑ جائے گا۔ یہ کونسا ایسا بڑا مسئلہ ہے جس پر مسلمان ایک لمحہ کے لئے بھی غور و فکر میں اپنا وقت ضائع کریں؟
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  3. ‏اگست 03، 2013 #3
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    مسلمان کو تو صرف اس چیز سے بحث ہے کہ یہاں انسان کا سر اﷲ کے حکم کے آگے جھکتا ہے یا حُکمُ النَّاسِ کے آگے۔ اگر اﷲ کے حکم کے آگے جھکتا ہے تب تو اسے اور زیادہ وسیع کیجئے ہمالیہ کی دیوار کو بیچ میں سے ہٹائیے۔ سمندر کو بھی نظر انداز کردیجئے تاکہ ایشیا، افریقہ اور امریکہ سب ہندوستان میں شامل ہوسکیں اور اگر یہ حُکمُ النَّاسِ کے آگے جھکتا ہے تو جہنم میں جائے ہندوستان اور اس کی خاک کا پرستار۔ مجھے اس سے کیا دلچسپی کہ یہ ایک ملک رہے یا دس ہزار ٹکڑوں میں بٹ جائے۔ اس بت کے ٹوٹنے پر تڑپے وہ جو اسے معبود سمجھتا ہو مجھے تو اگر کہیں ایک مربع میل کا رقبہ بھی مل جائے جس میں انسان پر اﷲ کے سوا کسی اور کی حاکمیت نہ ہو تو میں اس کے ایک ذرہ خاک کو ہندوستان بھر سے زیادہ قیمتی سمجھوں گا۔

    مسلمان ہونے کی حیثیت سے میرے نزدیک یہ امر بھی کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتا کہ ہندوستان کو انگریزی امپریلزم سے آزاد کرایا جائے۔ انگریز کی حاکمیت سے نکلنا تو صرف لَا اِلٰہَ کاہم معنی ہوگا۔ فیصلہ کا انحصار محض اس نفی پر نہیں ہے بلکہ اس پر ہے کہ اس کے بعد اثبات کس چیز کا ہوگا۔ اگر آزادی کی یہ ساری لڑائی صرف اس لئے ہے... اور مجاہدین حریت میں کون صاحب یہ جھوٹ بولنے کی ہمت رکھتے ہیں کہ اس لئے نہیں ہے ... کہ امپریلزم کے اِلٰہ کو ہٹا کر ڈیموکریسی کے اِلٰہ کو بت خانہ حکومت میں جلوہ افروز کیا جائے تو مسلمان کے نزدیک درحقیقت اس سے کوئی فرق بھی واقع نہیں ہوتا۔ لات گیا منات آگیا۔ ایک جھوٹے خدا نے دوسرے جھوٹے خدا کی جگہ لے لی باطل کی بندگی جیسی تھی ویسی ہی رہی۔ کون مسلمان اس کو آزادی کے لفظ سے تعبیر کرسکتا ہے؟

    اس وقت ہندوستان میں مسلمانوں کی جو مختلف جماعتیں اسلام کے نام سے کام کررہی ہیں فی الواقع اسلام کے معیار پر ان کے نظریات ، مقاصد اور کارناموں کو پرکھا جائے تو سب کے سب جنس فاسد نکلیں گی۔ خواہ مغربی تعلیم و تربیت پائے سیاسی لیڈر ہوں یا قدیم طرز کے مذہبی رہنما دونوں راہِ حق سے ہٹ کر تاریکیوں میں بھٹک رہے ہیں۔ ایک دماغ پر ہندو کا ہوا سوار ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ ہندو امپریلزم کے چنگل سے بچ جانے کا نام نجات ہے اور دوسرے گروہ کے سر پر انگریز کا بھوت مسلط ہے وہ انگریزی امپریلزم کے چنگل سے بچ جانے کو نجات سمجھ رہا ہے ان میں کسی کی نظر بھی مسلمان کی نظر نہیں ورنہ یہ دیکھتے کہ اصلی شیطان یہ ہے نہ وہ ،اصلی شیطان غیر اﷲ کی حاکمیت ہے اس سے نجات نہ پائی تو کچھ نہ پایا۔ لڑنا ہے تو اس کو مٹانے کے لئے لڑو جو تیر چلانا ہو اس ہدف کی طرف باندھ کر چلائو۔ جس قدر قوت صرف کرنی ہے اسے محو کرنے پر صرف کرو۔ اس کے سوا جس کام میں بھی تم اپنی مساعی صرف کرو گے وہ پراگندہ اور رائیگاں ہوکر رہے گا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  4. ‏اگست 03، 2013 #4
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    مغربی طرز کے لیڈروں پر تو چنداں حیرت نہیں کہ ان بیچاروں کو قرآن کی ہوا تک نہیں لگی۔ مگر حیرت ہے ان علماء پر جن کا رات دن کا مشغلہ ہی قال ﷲ وقال الرسول ہے سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر ان کو کیا ہوگیا ہے؟ یہ قرآن کو کس نظر سے پڑھتے ہیں کہ ہزار بار پڑھنے کے بعد بھی انہیں اس قطعی اور دائمی پالیسی کی طرف ہدایت نہیں ملتی جو مسلمان کے لئے اصولی طور پر مقرر کردی گئی ہے۔ جن مسائل کو انہوں نے اہم قرار دے رکھا ہے قرآن میں ہمیں ان کی فروعی اور ضمنی اہمیت کا بھی نشان نہیں ملتا اور جن معاملات پر بے چین ہوکرانہوں نے دہلی میں آزاد مسلم کانفرنس منعقد فرمائی اور تڑ پ تڑپ کر تقریریں کیں اس نوعیت کے معاملات کہیں اشارتاً بھی قرآن مجید میں زیر بحث نہیں آتے برعکس اس کے قرآن حکیم میں ہم دیکھتے ہیں کہ نبی پر نبی آتا ہے اور ایک ہی بات کی طرف اپنی قوم کو دعوت دیتا ہے۔

    قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَيْرُہٗ۝۰ۭ (ھود61/11)
    ''اے میری قوم اﷲ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔''

    ............اسلامی تحریک کے ہر رہنمانے ہر ملک اور ہر زمانے میں تمام وقتی اور مقامی مسائل کو نظرانداز کرکے اسی ایک مسئلہ کو آگے رکھا ، اسی پر اپنا زور صرف کیاتو اس سے صرف یہی نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ ان کے نزدیک یہ مسئلہ اُمُّ المَسائل تھا اور وہ اسی کے حل پر زندگی کے تمام مسائل کا حل موقوف سمجھتے تھے'' (تحریک آزادی ہند اور مسلمان 101 تا106)

    سید مودودی کے قلم سے مختلف اعتراضا ت کا جواب

    انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ 1947ء کی تحریک میں مسلمانانِ ہند قوم پرستی کے جنون میں مبتلا تھے انہوں نے سید مودودی کو قوم کا دشمن سمجھا جو ان کے خیال میں قوم کی طاقت کو منتشر کرکے قومی مفاد کو نقصان پہنچارہا تھا۔ مختلف قسم کے اعتراضات کئے گئے انہوں نے وضاحت کے ساتھ ہر سوال کا جواب دیا۔

    کسی نے مسلم لیگ کی حمایت کے لئے یوں دلیل دی کہ اس وقت مسلمانان ہند دو فتنوں میں مبتلا ہیں۔ اوّل کانگریس کی وطنی تحریک کا فتنہ اور دوم مسلم لیگ کی مسلم نیشنلزم کی تحریک۔ دونوں تحریکیں اسلام کے خلاف ہیں لیکن انسان جب دو بلائوں میں مبتلا ہوتو چھوٹی بلا کو قبول کرلینا چاہیے۔ یقینا مسلم لیگ کی تحریک کانگریس کے مقابلہ میں کم فتنہ ہے۔ کیا اس صورت میں ہم مسلم لیگ کے حق میں ووٹ نہ دیں ؟

    سید مودودی صاحب نے کیا خوب جواب دیا:
    ''آپ ذرا وسیع نگاہ سے دیکھیں تو ان دو فتنوں کے علاوہ آپ کو اور بہت سے اخلاقی ، فکری ، تمدنی ، مذہبی، سیاسی اور معاشی فتنے نظر آئیں گے جو اس وقت مسلمانوں پر ہجوم کئے ہوئے ہیں۔ یہ ایک فطری سزا ہے جو اﷲ کی طرف سے ہر اس قوم کو ملا کرتی ہے جو کتاب اﷲ کے حامل ہونے کے باوجود اس کی اتباع سے منہ موڑے۔ اس سزا سے اگر مسلمان بچ سکتے ہیں تو وہ صرف اس طرح کہ اپنے اصلی اور بنیادی جرم سے باز آجائیں۔''
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں