1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

::::::: قُرآن کے سایے میں::: اللہ کے بارے میں کِس چیز نے دھوکے میں ڈالا ہے؟ :::::::

'ایمانیات' میں موضوعات آغاز کردہ از عادل سہیل, ‏اکتوبر 14، 2017۔

  1. ‏اکتوبر 14، 2017 #1
    عادل سہیل

    عادل سہیل مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2011
    پیغامات:
    356
    موصول شکریہ جات:
    940
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    ::::::: قُرآن کے سایے میں::: اللہ کے بارے میں کِس چیز نے دھوکے میں ڈالا ہے؟ :::::::

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
    أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
    و الصَّلاۃُ والسَّلامُ عَلیٰ رَسولہ ِ الکریم مُحمدٍ و عَلیَ آلہِ وَأصحابہِ وَأزواجِہِ وَ مَن تَبِعَھُم بِاِحسانٍ إِلٰی یَومِ الدِین ، أما بَعد
    :::
    اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے ﴿ يَا أَيُّهَا الْاِنسان مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ::: اے اِنسان تمہیں کِس چیز نے تمہارے بُزرگی والے رب کے بارے میں دھوکے میں ڈالا ﴾ سُورت الانفطار (82)/آیت 6،
    یعنی اے اِنسان تمہیں کس چیز نےتمہارے بُزرگی والے رب کے بارے میں دھوکہ دِیے رکھا یہاں تک تم نے وہ کچھ بھلا دِیا جو کچھ تُم پر فرض کیا گیا تھا ،
    اور اگر تمہارے رب نے تمہاری غلطیوں ، کوتاہیوں اور گناہوں پر گرفت کرنے میں ڈھیل دیے رکھی تو تم توبہ کر کے اپنے رب کی طرف پلٹنے کی بجائے، اپنے رب کی گرفت اور اُس کے عذاب کو بُھولے رہے اور اُس کی نافرمانی میں بڑھتے ہی گئے ،
    اِمام قتادہ رحمہُ اللہ نے اِس آیت مُبارکہ کی تفیسر میں فرمایا"""( اِس سے مُراد یہ ہے کہ) اِنسان کو اُس پر مسلط اُس کے ازلی دُشمن شیطان نے دھوکے میں ڈالا"""،
    اور اِمام مَقاتِل رحمہُ اللہ نے فرمایا """( اِس سے مُراد یہ ہے کہ)اِنسان کے ساتھ جب اللہ اِنسان کے پہلے(اور پھر بعد والے) گناہ پردرگذر والا مُعاملہ فرماتا ہے تو اُس کی وجہ سے اِنسان دھوکے میں پڑتا ہے (کہ اللہ تعالیٰ مُجھ پر گرفت نہیں کرے گا کیونکہ وہ غفور و رحیم ہے، اور وہ مزید گُناہ کرتا چلتا ہے)"""،
    اِمام السدی رحمہُ اللہ کا فرمان ہے کہ """ اللہ کی شفقت نے اُسے دھوکے میں ڈالا """،
    عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ُ کا فرمان ہے کہ""" تُم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ جسے اللہ قیامت والے دِن تنہائی میں نہ ملے گا اور یہ نہ فرمائے گا کہ ، اے آدم کے بیٹے تجھے کس چیز نے میرے بارے میں دھوکے میں ڈالا ؟ اے آدم کے بیٹے جو کچھ تُم نے سیکھا اُس پر کیا عمل کیا ؟ اے آدم کے بیٹے تم نے رسولوں (اور نبیوں) کی دعوت کو کِس حد تک (عملی طور پر)قبول کیا؟"""، بحوالہ تفسیر البغوی،
    اور اِمام ابن کثیر رحمہُ اللہ نے اپنی تفسیر میں لکھا """یہ اللہ کی طرف سے وعید(دھمکی) ہے ، نہ کہ وہ جو کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اِس آیت شریفہ میں لفظ "الکریم" ہی اِس سوال کا جواب ہے، یعنی ، اللہ کے کرم نے اِنسان کو دھوکے میں ڈالا،
    جی نہیں ایسا نہیں ہے ، بلکہ اس آیت شریفہ میں لفظ "الکریم" کا معنی و مفہوم "عظیم (بُزرگی اور بڑائی والا)" ہے ، یعنی ، اے آدم کی اولاد تمہیں کِس چیز نے اپنے بُزرگی اور بڑائی والےرب کی نافرمانی پر لگائے رکھا ، اور اب تم اپنے رب کے سامنے اِس حال میں آئے ہو جو (ایک اِیمان والے ، اور تابع فرمان بندے کے) لائق نہیں """،
    جی ہاں ، یہی دُرست ہے کہ اِس آیت شریفہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی رحمت یا اپنے کرم کی خبر دے کر اِنسان کو غلطیوں کوتاہیوں اور گناہوں کی طرف سے لا پرواہ رہنے کے بارے میں نہیں فرمایا ،
    بلکہ اِس آیت شریفہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اِنسان کو اپنی عظمت ، بُزرگی اور بڑائی کی یاد دہانی کروا کے یہ سمجھایا ہے کہ اُس چیز کو پہچان کر اُس سے بچو جو تمہیں تمہارے عظیم رب کی نافرمانی پر لگاتی ہے ، اور اپنے رب کی گرفت اور عذاب سے بچو،
    پس اے اِنسان ، سوچو ، پھر سوچو، پھر سوچو، اور اُس وقت تک سوچتے رہو جب تک کہ تم اُس چیز یا اُن چیزوں کو جان نہیں لیتے جو چیزیں تمہیں تمہارے رب کی عظمت ، بُزرگی اور بڑائی بھلا کر اُس کی نافرمانی پر لگاتی ہیں ، کیا وہ اللہ کی ذات پاک اور صفات پاک سے جہالت ہے ؟؟؟
    یا اللہ کے عِلم ، قُدرت اور عذاب کی وسعت اور شدت پر عدم اِیمان ؟؟؟
    سوچیے ، اے اللہ کے بندو ، سوچیے، جِس دِن ہمیں ہمارے بُرے کاموں کے بارے میں پوچھا جائے گا ، تو ہم اپنے عظیم ، بُزرگی اور بڑائی والے رب کے سامنے کن قدموں پر کھڑے ہوں گے ؟؟؟
    اور جب ہمارا رب اللہ جلّ جلالہُ ہم سےعلیحدگی میں ، تنہائی میں پوچھے گا کہ، اے میرے بندے تُم نے میری عظمت، بُزرگی اور بڑائی کی قدر کیوں نہ کی ؟؟؟
    کیا میں نے تُم پر اپنی نعمتیں نازل نہیں کیں تھیں؟؟؟
    کیا میں نے تُمہارے ساتھ در گذر والا رویہ نہیں رکھا ؟؟؟
    تُم نے مجھ سے حیاء کیوں نہیں کی ؟؟؟
    کس چیز نے تمہیں میرے بارے میں دھوکہ دِیا؟؟؟
    ہمارے پاس اِن سوالوں کا کیا جواب ہے ؟؟؟ کیا جواب ہو گا ؟؟؟
    اُس دِن جب کوئی جھوٹ ، کوئی اداکاری ، کوئی غچہ بازی کام آنے والی نہیں ، اُس دِن ہمارے جسم کے حصے ہی بول بول کر سچ بتائیں گے ، جیسا کہ ہمارے رب اللہ عزّ وجلّ نے ہمیں بتا رکھا ہے کہ ﴿ الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَىٰ أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ::: آج (قیامت کے دِن ) ہم اُن کے مُنہوں پر مہریں لگا دیں گے ، اور اُن کے ہاتھ ہمارے ساتھ بات کریں گے(وہ کچھ بتائیں گے ) جو کچھ یہ (دُنیا میں کرتے ) کماتے رہیں ہیں ، اور اُن کے پاؤں (بھی اُس کی ) گواہی دیں گے ﴾ سُورت یٰس (36)/آیت 65،
    تو کیا یہ ہی بہتر نہیں کہ ہم اپنے بزرگی اور بڑائی والے رب کی عظمت ، رحمت، ناراضگی ، گرفت اور عذاب کے بارے میں دھوکوں میں پڑ کر اس کی نافرمانی کرنے سے باز آجائیں۔
    والسلام علیکم ورحمۃ ُ اللہ و برکاتہ ُ ،
    طلب گارء دُعا ء ، عادِل سُہیل ظفر ۔
    تایخ کتابت : 26/09/1434ہجری، بمُطابق، 03/08/2013عیسوئی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر مُیسر ہے :

    http://bit.ly/2yKzHaZ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں