1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

كيا انبياء كرام قبروں میں سنتے ہیں؟ طبرانی حدیث تخریج کی ضرورت

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از مدثر, ‏اکتوبر 07، 2017۔

  1. ‏اکتوبر 07، 2017 #1
    مدثر

    مدثر مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 05، 2017
    پیغامات:
    4
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    20

    جیسا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی صحیح حدیث ہے کہ جب درود پاک پڑھا جاۓ تو درود رسول الله صلی الله علیہ وسلم تک پہنچا دیا جاتا ہے الله کی طرف سے، لیکن کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ انبیاء خود سنتے ہیں مطلب ان میں خود سننے کی صلاحیت الله نے دے رکھی ہے قبروں میں-
    اسی اثنا میں مجھے ایک بھائی نے یہ حدیث پیش کی، جو کہ ان کے مطابق صحیح ہے، کیا کوئی طبرانی کی اس حدیث کی تخریج بتا سکتا ہے کہ یہ صحیح، حسن یا ضعیف حدیث ہے اور بہتر ہوگا پرانے آئمہ کرام کی طرف سے اس حدیث کی تخریج پیش کی جاۓ،، اور اس کے الفاظ کا اصل معنی کیا ہے-

    قال الطبراني: حدثنا يحيى بن أيوب العلاف، حدثنا سعيد بن أبي مريم، عن سعيد بن أبي هلال، عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله. ليس من عبد يصلي علي إلا بلغني صوته حيث كان قلنا: وبعد وفاتك؟ قال: وبعد وفاتي، إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء
    .

    جزاک الله خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں