1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

كيا كائنات واہمہ هے؟!!

'ایمانیات' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏ستمبر 20، 2016۔

  1. ‏ستمبر 20، 2016 #1
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    كيا كائنات واہمہ هے؟!!
    الحمد لله وحده والصلاة والسلام على من لا نبي بعده. وبعد
    يہ ايك ايسا فلسفيانہ نظريہ ہے٬ جس كے تار اسلامی عقيدے سے جڑتے هيں۔ اس لئے علماء نے اس پر سنبھل كر بيان ديا هے۔ ايك تركی مسلم فلسفي نے اپنی كتاب "Eternity has begun" (خلود كي شروعات ہو چكی هے) لكھ كر اس موضوع كو عروج تك پہنچايا۔ ان كے مطابق ساری چيزيں صرف واہمہ هيں۔ ان كی حقيقت كوئی نہيں! بلكہ انسان اور انسان كے اعضاء تک كو وهم قرار ديا هے! دنيا كے حوادثات اور جنت وجہنم تک كو اس نے خيالی كہا هے۔ اور اس كی مستند ابن عربی اور غزالی وغيره جيسے فلسفی صوفياء كا كلام هے۔ جنہيں فی غير محلہ استعمال كر كے بعض سائنسدانوں كے كلام سے مطابقت دی گئ هے۔ ابن عربی نے جنت وجہنم دونوں كو برابر لذت كا مقام قرار ديا هے۔ اور معروف كرخی و بايزيد وغيره نےاسی نظريہ كے تحت جہنم ميں جانے كي چاہت دكھائی هے۔ اگر ايسا مان ليا جائے٬ تو بہت سی حقيقتوں سے دامن بچانا مشكل هو جائےگا۔
    وه كہتے هيں كہ جب انسان سوتے ميں خواب ديكھ رها هوتا هے۔ تو جاگنے كے بعد اسے پوری كيفيت بدلی هوئی ملتی هے۔ مثلا خواب ميں وه خود كو كوئی بادشاه يا شہزاده ديكھ رها تھا۔ جاگتے هی فورا اسے نظر آيا كہ وه كسی چھوٹے سے هوٹل كا ويٹر هے۔ وه سوچتا هے كہ اب جاگ گيا۔ جبکہ در حقيقت وه ايك چھوٹي نيند سے بڑی نيند كی آغوش ميں چلا گيا۔ مطلب يہ كہ يہ دنياوی زندگي بڑی نيند هے۔
    يہاں پر دو سوال ذهن ميں ابھرتے هيں:
    - الله نے اپنے هاتھ سے آدم كو بنانے كا باربار ذكر كيا هے۔ جب سب كچھ واہمہ هے٬ تو كيا اس كلام كا سليم هونا باقی ره جاتا هے؟ اس كا اس تخليق پر اور شكل وصورت نيز مناسب اعضاء وجوارح كو مناسب مقامات پر فٹ كرنے كا احسان جتانا كيسا هے؟
    - اگر سارا كچھ واہمہ هے تو انسان نے كوئی كام كيا هی نہیں! نہ صحيح نہ غلط۔ كيوں كہ جس كا وجود هی نہ هو وه كوئی كام كيسے كر سكتا هے؟! پھر تو جنت وجہنم پر ايمان كا موقف هی ختم هو گيا۔ جب كہ وه ايمان كے اركان ميں سے هيں؟!
    اس طرح كے سوالات پر بعض فلسفی صوفياء ساكت هيں۔ اور بعض نے تو جنت وجہنم كا انكار هی كرديا۔ اور كسی نے دونوں كے درميان امتيازي فرق ميں خط تنسيخ پھير دی۔
    ان كا نظريہ هے كہ جس طرح كمپيوٹر پر جو ڈاٹا فيڈ كيا جاتا هے۔ وهی اسكرين پر نظر آتا هے۔ انسانی دماغ پر بھی اسی طرح كے ڈاٹا فيڈ كئے گئے هيں۔ موت حيات هنسی خوشی پريشانی غمی وغيره صرف ڈاٹا هيں٬ جو انسان كے دماغ ميں هيں۔ خارجي دنيا ميں اس كا كوئی وجود نہیں۔ بالفرض كسی انسان كے دماغ كو كسی كھچا كھچ بھرےاسٹيڈيم ميں تالياں بجاتے خوشياں مناتے سيٹيوں كي آواز سنتے هوئےاور اسپورٹ كا مزه ليتے هوئے كا ڈاٹا فيڈ كر ديا جائے٬ تو اسے تنہائی ميں كسی پہاڑی كے اوپر بھی يہی ساری چيزيں محسوس هو رہی هوں گی.
    جب ان سے سوال كيا گيا كہ اگر ساری چيزيں تصوراتی وجود هيں٬ تو دماغ بھی تو وهم هے۔ اس ميں ڈاٹا فيڈ كرنا بھي تو وهم هک هوا؟!! اس جگہ ايسے فلاسفہ اور صوفياء دونوں خاموش نظر آتے هيں۔
    امام غزالي نے موت كے وقت جو بات كہی تھی اس ميں واقعی عبرت هے۔ كہ كتاب وسنت پر ايمان ركھنا هی كاميابی هے۔ اور اسی ميں دلوں كو سكون هے۔ گرچہ كوئي بات سمجھ ميں نہ آسكی هو۔ كيوں كہ اس ميں غلطی كا امكان مستحيل هے۔ علم كلام اور فلسفہ نظريات كا نام هے۔ جس ميں صحت كے بعد بھی نہ تو قلبی سكون هے٬ اور نہ غلطيوں كے خدشات سے مبرا۔

    عبد اللہ الکافی المحمدی
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں