1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

لوٹ مار سیل ،،،، لوٹ مار سیل ،،،، لوٹ مار سیل(رمضان المبارک)

'روزہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو حسن, ‏مئی 05، 2019۔

  1. ‏مئی 05، 2019 #1
    ابو حسن

    ابو حسن رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 09، 2018
    پیغامات:
    146
    موصول شکریہ جات:
    17
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    ( تحریر از ابو حسن ، میاں سعید )

    دیکھنا کہیں یہ سیل ہم سے چھوٹ نہ جائے اور دیکھنا کہیں یہ مبارک ایام غفلت میں نہ گزر جائیں ،
    دیکھنا کہیں یہ فضول ٹیلیویژن کے پروگراموں میں وقت برباد نہ ہوجائے،
    دیکھنا کہیں یہ سوشل میڈیا کی فضول پوسٹوں میں وقت برباد نہ ہوجائے،
    دیکھنا کہیں یہ سوشل میڈیا کی فضول بحث و مباحثوں میں وقت برباد نہ ہوجائے،
    دیکھنا کہیں یہ سیاست و سیاسی مخالفین اور اپنے سیاسی لیڈر کے دفاع میں وقت برباد نہ ہوجائے،
    دیکھنا کہیں دوسروں کو لعن و طعن میں وقت نہ گزر جائے ،
    دیکھنا کہیں نئے نمازیوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھ کر اپنے اعمال کو خسارے میں نہ ڈال لینا ،
    دیکھنا اور خاص دیکھنا کہ اپنی عبادت کے تکبر میں سارے اعمال برباد نہ ہوجائیں ،

    دیکھنا کہیں آپ کے الفاظ کے تیر کسی تائب کے دل کو چھلنی نہ کردیں،

    نہ تو جنت و جہنم کے ذمہ دار آپ ہیں اور نہ ہی مسجد آپکا گھر ہے بلکہ اللہ کی طرف کی چل کر آنے والا وہ مبارک تائب انسان اللہ تعالی کا مہمان ہے اور معاملہ تو غفور و الرحیم کے ہاتھ ہے اور کہیں اپنے تئیں متقی ہونے کے گھمنڈ میں کسی تائب کو بدظن کرنے کے وبال میں اپنی جان شکنجے میں نہ پھنسوا بیٹھنا


    وہ شخص تباہ و برباد ہو جائے جس پر رمضان آ کر چلا جائے اور اس کی مغفرت نہ ہو، (سنن ترمذی)

    نفل فرض کے برابر،

    ایک نیکی کا بدلہ 70 گنا میں ملے،

    عمرہ حج کے برابر،

    ویسے تو پورا سال اللہ تعالی کی رحمت نازل ہوتی ہے پر اس ایک ماہ میں خاص ہے،

    جس ماہ کی ابتداء ہی ایسی بابرکت ہو اس کے کیا کہنے ؟ اور اس کی ابتداء کے متعلق سیدالاولین و الاخرین ﷺ بتا رہے ہیں کہ کیا کیا اکرام اللہ تعالی کی طرف سے کیا جاتا ہے

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور دوزخ کے دورازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور پھر اس کا کوئی دروازہ نہیں کھولا جاتا پھر جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اس کا کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور پکارنے والا پکارتا ہے اے خیر کے طلبگار آگے بڑھ اور اے شر کے طلبگار ٹھہر جا اور اللہ کی طرف سے بندے آگ سے آزاد کر دئیے جاتے ہیں یہ معاملہ ہر رات جاری رہتا ہے
    (سنن ترمذی)

    اس ماہ میں لیلۃ القدر ہے، یہ بابرکت رات ہزار مہینوں سے بھی افضل ہے ، اس رات کی فضیلت کے باعث فرشتے اور جبریل اس رات میں اترتے ہیں، یہ رات فجر تک سلامتی اور خیر والی ہوتی ہے، اس مہینے میں گناہ اور خطائیں معاف کر دی جاتی ہیں،

    آپ ﷺ کا فرمان ہے "پانچوں نمازیں ، جمعہ سے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک کے درمیانی گناہوں کا کفارہ ہیں بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے" ( مسلم)

    پیارے نبی ﷺ جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو اپنی کمر کس لیتے اور رات کو عبادت کرتے، رمضان میں لیلۃ القدر بھی ہے ؛ چنانچہ

    "جو شخص بھی ایمان کی حالت میں اور ثواب کی امید کے ساتھ اس رات کا قیام کرے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں" (متفق علیہ)

    آپ ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے " جو شخص رمضان میں ایمان کی حالت میں ثواب کی امید سے روزے رکھے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں" (متفق علیہ)

    یہ بھی آپ ﷺ کا فرمان ہے "مرد کے اہل و عیال ، مال و دولت، ذاتی اور پڑوسیوں سے متعلق گناہوں کو روزہ مٹا دیتا ہے" (متفق علیہ)

    روزے کی وجہ سے خوشیاں ملتی ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے "روزے دار دو مرتبہ خوش ہوتا ہے: روزہ افطار کرے تو خوش ہوتا ہے، اور جس وقت اپنے پروردگار کو ملے گا تو اپنے روزے کی وجہ سے خوش ہو گا" (بخاری)

    روزہ قیامت کے دن روزے داروں کیلیے شفاعت کرے گا "روزہ کہے گا: پروردگار! میں نے اسے دن میں کھانے پینے اور من پسند چیزوں سے روکے رکھا ؛ اس لیے میری اس کے بارے میں شفاعت قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا: میں نے رات کو اسے سونے نہیں دیا؛ اس لیے میری بھی اس کے بارے میں شفاعت قبول فرما۔ تو اللہ تعالی ان دونوں کی شفاعت قبول فرمائے گا" (مسند احمد)

    مومن اللہ کی راہ میں دیتے ہوئے کسی بھی چیز کو حقیر نہیں سمجھتا؛ کیونکہ ایک پائی ہزاروں کی مالیت سے زیادہ اہم ہو سکتی ہے، پانی پلانا اور کھانا کھلانا بھی صدقہ ہے،

    آپ ﷺ کا فرمان ہے "روزہ افطار کروانے والے کا ثواب بھی روزے دار کے برابر ہے، اور اس سے روزے دار کے اجر میں بھی کوئی کمی نہیں آتی"( سنن ترمذی)

    ابن عمر رضی اللہ عنہ جب بھی روزہ رکھتے تو افطاری مساکین کے ساتھ ہی کرتے تھے، صدقہ خیرات اور روزے بیک وقت رکھنا موجبِ جنت ہے، اللہ کے بندوں پر سخاوت کرنے والے پر اللہ سخاوت فرماتا ہے؛ کیونکہ جیسا کام ویسا دام،

    آپ ﷺ کا فرمان ہے "جنت میں ایسے کمرے ہیں جن کا اندرونی حصہ باہر سے اور بیرونی حصہ اندر سے دکھائی دیتا ہے
    تو ایک دیہاتی شخص نے کھڑے ہو کر کہا: "اللہ کے رسول ! یہ کس کیلئے ہیں؟"
    تو آپ ﷺ نے فرمایا "جو اعلی گفتگو کرے، کھانا کھلائے، پابندی سے روزے رکھے، اور رات کے وقت جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو قیام کرے" (سنن ترمذی)

    اعتکاف بیٹھنا عبادت اور سنت ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ "رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں آخر دم تک اعتکاف بیٹھتے رہے"(متفق علیہ)

    زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں "مسلمانوں پر تعجب ہے کہ انہوں نے اعتکاف بیٹھنا ہی چھوڑ دیا ہے؛ حالانکہ آپ ﷺ جب سے مدینہ آئے آپ ہر سال اعتکاف بیٹھتے رہے یہاں تک اللہ تعالی نے آپ کی روح قبض فرما لی"

    روزہ رکھ کر قربِ الہی کی جستجو اسی وقت کار آمد ہو گی جب فرائض کی ادائیگی اور محرمات سے مکمل اجتناب پایا جائے گا؛ لہذا جب روزہ رکھو تو آپ کے ساتھ آپ کے کان، آنکھیں، زبان اور ہاتھوں کو بھی روزہ رکھوائیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ روزے کا دن بھی عام دنوں جیسا ہی ہو ، اس لیے ! روزوں کے ثواب میں کمی کا باعث بننے والے امور سے بچو، حرام چیزوں کا ارتکاب مت کرو اور نہ ہی حرام چیزیں سنو،

    آپ ﷺ کا فرمان ہے "جو شخص جھوٹی بات کرنا یا اس پر عمل نہیں چھوڑتا تو اللہ تعالی کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں "( بخاری)

    والدین کے ساتھ نیکی اور صلہ رحمی بلندئ درجات کا باعث ہے، لہذا برکتوں والے لمحات میں نیک اولاد اپنے والدین کے مزید قریب ہو جاتی ہے۔

    اچھی بات کی دعوت دینے والے کو قیامت کے دن تک اتنا ہی اجر ملتا رہے گا جتنا اس پر عمل کرنے والے کو ملتا ہے، اگر ایک آدمی بھی راہِ راست پر آ جائے تو یہ سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔

    اچھی دوستی معاونت ، قوت اور استقامت کا باعث ہوتی ہے، کوئی بھی عقل مند اچھے دوستوں سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا؛
    غار میں اچھے ساتھی نے ہی کہا تھا
    {إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا جب اس نے اپنی ساتھی سے کہا: غم نہ کر! بیشک اللہ تعالی ہمارے ساتھ ہے۔التوبۃ : 40

    کسی شخص کے نیک ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ زبان کی حفاظت کرے اور نیک کام کرے، اللہ تعالی جب کسی قوم کے بارے میں برا فیصلہ فرما لے تو انہیں جھگڑوں میں ملوث فرما دیتا ہے اور انہیں کچھ کرنے کی توفیق نہیں دیتا ہے۔

    توبہ کا دروازہ کھلا ہے، اللہ تعالی کی طرف سے نوازشیں ہو رہی ہیں، اب کامیاب وہی ہو گا جو توبہ کے دروازے پر دستک دے اور اللہ کے سامنے گڑگڑائے، اپنے نامہ اعمال میں کثرت کے ساتھ استغفار پانے والے کیلیے خوشخبری ہے۔

    نیکیوں میں مومن کو سرور اور مزا آتا ہے، کامیابی و کامرانی بھی اسی میں ہے، دن ہو یا رات تقوی کا دامن مومن کے ہاتھ سے نہیں چھوٹتا۔ مسلمان کبھی فارغ نہیں بیٹھتا ؛ کیونکہ موت اس کی تاک میں ہے، اس لیے ذاتی محاسبہ کی روش اپنانے والا کامیاب اور غافل شخص نامراد ہوتا ہے، نتائج سامنے رکھنے پر نجات کے مواقع بڑھ جاتے ہیں ، اور ایسا شخص مبارکبادی کا مستحق ہے جو ہوس پرستی بن دیکھے وعدوں کی وجہ سے ترک کر دے۔

    اپنی نگاہوں کو بے لگام رکھنے والے کی حسرت و ندامت بھی بے قابو ہو جاتی ہے، نیک عورت ہمیشہ حیا کی چادر لیکر رکھتی ہے، پردہ ہی اس کی خوبصورتی ہے، وہ ہمیشہ بلا ضرورت اجنبی مردوں کے سامنے آنے اور بازار میں جانے سے کتراتی ہے۔
    ،
    اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

    یہ بات جان لو کہ ، اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

    اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد، یا اللہ! حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے والے خلفائے راشدین ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الاکرمین ، یا اللہ ! اس رمضان المبارک کو ہماری زندگیوں کو تقویٰ میں بدلنے اور کثرت سے اعمال صالح کرنے کی ابتداء کا مہینہ بنا دے،،،آمین

    (راقم نے اس تحریر کے چند اقتباس خطبات حرمین سے لیے ہیں)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں