1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مؤدبانہ گزارش یا فکری انحراف ؟

'جدیدیت' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالعون محمدی, ‏فروری 09، 2015۔

  1. ‏فروری 09، 2015 #1
    ابوالعون محمدی

    ابوالعون محمدی مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 29، 2014
    پیغامات:
    4
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    مؤدبانہ گزارش یا فکری انحراف ؟

    فريدالله صافى جامعه سلفيه اسلام آباد

    الحمدللہ و الصلاۃ و السلام علی رسول اللہ اما بعد
    فقال اللہ تعالیٰ: یا ایھاالذین اٰمنوا کونوا قوامین بالقسط شھداء للہ
    وقال: اعدلوا ھو اقرب للتقویٰ المائدہ
    :8

    مورخہ 2014-12-25 بروز جمعرات روزنامہ جنگ----- کالم:روزنِ دیوار، عنوان:علماءکرام سےمؤدبانہ گذارش----- میں ایک محترم کالم نگار کی طرف سے ایک تجویز سامنے آئی شاید جسے موصوف کے عقلی زاویوں نے مثبت تصور کیا ہو اور پھر اس خط و لکیر کی تابعداری اور نشر و اشاعت کو ضروری سمجھا ہو، تجویز میں احادیث کے ازسرے نو جائزے کا کہا گیا ،تعبیر کچھ یوں تھى "يه بات صحيح هے كه عربيو ں كے حافظے كي بهت دھومیں تھیں اور کہا جاتا ہے کہ وہ کئی نسلوں تک سنی ہوئی بات من وعن بیان کرنے پر قادر تھے لیکن ظاہر وباطن میں فرق کے علاوہ سفردرسفر رواىت میں سہوا اونچ نیچ بھی ہوسکتی ہے میں نے اپنے گذشتہ کالم میں تجویز کیا تھا کہ علماء کا ایک بورڈ احادیث کے تمام مجموعے کا ایک بارپھر جائزہ لے اور اس میں جو احادیث قرآن پاک کی تعلیمات اور حضور اكرم صلى الله عليه وسلم كى سیرت طیبہ کے منافی ہوں انکی تاویل کرنے کی بجائے انہیں مسترد کر دیا جائے میرے نزدیک بہت سی روایات ايسى ہیں جنہیں گستاخانہ کہا جاسکتا ہے".
    معلوم رہے یہ جملے صحیح بخاری کی حدیث قتل بنو قریظہ جس میں ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے ان کے غدر پر بچوں اور عورتوں کو غلام بنالیا تھا اور بڑوں کو قتل کردیا تھا
    کے پس منظر میں کہے گئے ہیں
    اس تجویز کی مثبت دلالتوں میں سے ایک یہ ہے کہ محترم کالم نگار ذھنی جمود کی بجائے وسعتِ فکر کے حامل ہیں اگرچہ جس نہج پر ہوں لیکن محترم کا مذکورہ دعوی میزانِ عدل میں کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اگر اس فکر کو ترازو میں ڈال کر نابینے شخص کو منصف بنا دیا جائے تو شايد وہ اپنی بے نور آنکھوں سے اس کا
    ھباءاََمنثوراََ ہونا جان لے اور یقیناََ یہ نہ ہی عبارت وتعبیر کا غصہ ہے اور نہ ہی مبالغہ آرائی بلکہ نقل و عقل نے اس حقيقت کو ہر طرف سے سہارا دے کر زبر الحدید کی مضبوطی بخشی ہوئی ہے اور ویسے بھی گھر دروازے سے داخل ہوا جاتا ہے اور شریعت نے روزنِ دیوار یا نقبِ جدار سے دیکھنے والی آنکھ پھوڑنے کا حکم دیا ہے.
    آئیے مختلف عنوانات کے تحت گلستانِ حقیقت سےپھول توڑنے کی کوشش کرتے ہیںَ اس سے پہلے کہ ہم دعوے کا اثبات یا نفی کریں کچھ سوالات محترم کالم نگار سے کرنا ضروری سمجھتے ہیں تاکہ مسئلے کا اصل واساس سے جائزہ لیا جاسکے.
    کچھ سوالات
    v معترض وتجزیہ نگار کی یہ رائے اپنی ہے یا دوسروں سے ماخوذ ؟
    اگر اپنی ہے تو کیا محترم کا علمی مستویٰ اس قدر بلند ہے کہ ان کے عمقِ علمی نے بحر کی چھان بین کرلی ہو اور وہ اشکالات سامنے آئے ہوں جومحدثين جيسے علی بن مدینی يا امام المعللین دارقطنی کو پیش نہ آسکے.

    v پھر اگر یہ رائے طوطے کی زبان سے ملتی جلتی ہو تو قائل کی طرف عدم نسبت کو ہم سرقہ علمیہ کہیں یا مستشرقین کی سیاست؟
    v محترم اپنی زندگی کے کئی زینے طے کر چکے ہیں آخر کیا وجہ اس سے پہلے یہ فکر لاحق نہ تھی؟
    کیا اس سے پہلے مشکوک دین پر عمل ہوتا رہا؟

    v کیا محترم کا نبی صلى الله عليه وسلم کی زندگی سے اتنا گہرا تعلق ہے کہ وہ ہر چیز پر عمل کرچکےاور اب یہ باب باقی رہ گیا؟
    v جو بات محترم نے کی کیا اس پر سلف صالحین میں سے کسی کی اس پر صراحت یا اشارہ ہے؟
    یا قرآن، سنت یا اجماع کی صورت میں کوئی غیر سقیم دلیل؟

    v محدثین کا حدیث کے متعلق بنایا گیا کونسا اصول ہے جو قرآن يا سنت سے مستنبط نہیں، یا انکا جائزہ معتمد نہیں؟
    یا کونسا اصول ہے جو قرآن و سنت کے متعارض ہے؟

    v اگر عربوں کے حافظے قوی ہونے کے باوجود غلطی کا احتمال رکھتے ہیں تو کیا ضعیف حافظے اس کا ازسرےنو جائزہ لیتے ہوئے فحش غلطیوں سے مبرّیٰ رہیں گے یا یہ معصوم عن الخطا کا امتیاز رکھتے ہیں؟
    تو مطلب یہ ہوا کہ لوہا لوہے کو نہ کاٹ سکا لہذا لوہے کو لکڑی سے کاٹا جائے۔ مالکم کیف تحکمون

    v ازسرےنو جائزے کا معنی یہ ہوگا کہ احادیث مبارکہ نبی صلى الله عليه وسلم سے سن لی جائیں تو یہ ممکن نہیں۔
    اور اگر اسی مواد کو لینا یا انہی اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے جائزہ لینا مراد ہے تو یہ نہ تجدید ہے نہ ازسرےنو جائزہ۔
    اور اگر نئے اصولوں کی وضع مراد ہے تو یہ خرقِ اجماع ہے جو بطلان کے علاوہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔

    v آخر کیا وجہ ہے کہ حدیث کی ازسرےنو تجدید کی فکر لاحق ہے نہ فقہ کی نہ تاریخ کی اور نہ اپنے مسلك كى۔
    v امت مسلمہ کو ہی یہ دعوت کیوں؟ جبکہ اہل کتاب کو اپنے محرف دین پر ازسرےنو جائزہ کی دعوت نہیں۔
    v ’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون‘‘ (الحجر:9) اور ’’فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون‘‘ (النحل:43) کےمفہومی تقاضوں نے قرآن و سنت دونوں کو محفوظ قرار دیا ہے، اگر یہ اس قدر مستمر غلطی تھی تو اللہ رب العالمین نے اسے برقرار کیوں رکھا؟
    کیا یہ اللہ اور اس کے رسول سے زیادہ احتیاط یا تقدم بین یدی اللہ ورسولہ نہیں؟

    v اتنے بڑے Issueجس کی آج ضرورت پڑی شریعت نے اس کے متعلق خبر کیوں نہ دی حالانکہ وما كان ربك نسیا
    v جن حافظوں پر ’’اکیس الناس ’’نبی صلي الله عليه وسلم کو اعتماد ہو تو اس پر اعتراض آخر کون کرسکتا ہے-----؟
    v آخرى سوال یہ کہ قرآن بھی تو عرب حافظوں اور ہاتھوں نے محفوظ کیا ہے اس کے متعلق کیا خیال ہے؟ حالانکہ عام ذہن اپنی ٖقصرفہمی کی وجہ سے کبھی اس میںdoubt کا شکار ہوتے ہیں،

    اس پر کیوں سکوت حالانکہ تفریق بین المتماثلین تو شریعت کا اصول نہیں، اگر چاند پر اس لئےاعتراض ہے کہ وہ چمکتا ہے تو سورج پر سکوت کچھ پوشیدہ رازوں کا پتہ دیتا ہے اور استشراق سے مربوط باہمی مخفی خطوط کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔
    ازسرےنو جائزے کے اسباب
    کسی بھی چیز کا ازسرےنو جائزہ بغیر اسباب و عوامل کےاصحاب فہم و فراست کے ہاں حماقت و سفاہت کے زمرے میں آتا ہے اور اسباب و عوامل کا انحصار ہم تین صورتوں میں کرسکتے ہیں؛
    پہلا سبب: اس چیز کی وضع و بناوٹ میں غفلت و سستی برتی گئی ہو جس کی وجہ سے اس کے ازسرےنو جائزے اور تجدید کی ضرورت پڑتی ہے، اس سبب کا وجود حدیث میں ناممکن ومحال اس طرح ہے کہ احادیث کا سفر ’’ فانک باعیننا ‘‘ (الطور:48) اور ’’ وما ینطق عن الھویٰ ‘‘ (النجم:3) کی بناء پر اللہ رب العالمین کی راہنمائی میں ہوااور وہ متصف ہے ’’ ولا یؤودہ حفظھما ‘‘ کی صفت سےاور حکم کی تعمیل کرنے والی نبی صلي الله عليه وسلم کی محتاط ہستی تھی۔
    كه ایک صحابی حدیث میں ’’ وبنبیک الذی ارسلت ‘‘ کی جگہ ’’ وبرسولک الذی ارسلت ‘‘ پڑھتے ہیں تو نبی صلي الله عليه وسلم ان کی اس غلطی کا بھی مواخذہ کرتے ہیں اور پھر ان احادیث کو لینے والی کائنات کی مطھرہ ہستیاں بعدالنبی صلي الله عليه وسلم ہیں جو کہ بھوک سے نڈھال وبے ہوش ہونا تو پسند کرتے تھے لیکن احادیث کا ضیاع نہیں، اور پھر ان کے وارث امام بخاری رحمه الله اور ان جیسی شخصیات ہوں جو کتابت حدیث میں ہر حدیث کو طاقچے میں رکھنے کیلئے غسل و استخارہ کرتے۔

    دوسرا سبب: یا پھر تجدید کسی چیز کی میعاد کے ختم ہوجانے پر ہوا کرتی ہےجبکہ آیاتِ قرآنیہ و احادیثِ رسول صلي الله عليه وسلم کی میعاد الی یوم القیا مۃ ہے تو گویا اس کا ازسرےنو جائزے کا مفہوم یہ ہوگا Renew the New.
    تیسرا سبب: کہ گذشتہ دونوں اسباب تو نہیں ہیں لیکن موجودہ چیز وقتی تقاضوں کو پورا نہیں کر رہی ہوتی لہذا تجدید کی جاتی ہے جبکہ انسانی زندگی کا کونسا موڑ ہے جس پر کلام اللہ اور سنتِ رسول صلي الله عليه وسلم کار آمد نہیں۔
    معلوم ہوا کہ ازسرےنو جائزے کے اسباب و عوامل احادیث میں نہیں تو انتفاء ملزوم سے انتفاء لازم و ضروری اور انتفاءِ سبب سے انتفاءِ مسبب مطرد قاعدہ ہے۔
    مزید یہاں یہ بھی سمجھنا شاید ضروری ہے کہ ازسرےنو جائزہ ہر چیز میں نہیں ہوا کرتا، مثلا والدین کی بتائی ہوئی تاریخ پیدائش،نام،جگہ وقت میں کوئی ازسرےنو جائزہ نہیں لیتا۔

    حفظ صدر افضل ہے یا کتابت؟
    دورِ قدیم و حدیث کے ماہرین اس نقطے پر متفق ہیں کی انسان کا اصل علم و معلومات وہ ہیں جو اس کے سینے میں محفوظ ہیں اسی چیز کو ایک تعبیر یوں دی گئی ہے . "العلم ما حوی الصدر لا ماحوی القمطر " الغرض حفظِ صدر کو حفظِ کتابت پر فوقیت کئی پہلؤوں سے ہے۔
    · حافظہ انسان کا دائمی ساتھی ہے جبکہ کہ کاغذ وکاپی دوسرے کی جیب۔
    · مکتوب چیز میں دوسروں کی کمی و زیاتی دونوں محتمل ہے جبکہ حافظہ اپنا مخفی خزانہ۔
    · مکتوب مالِ مسروقہ بننے کا احتمال رکھتا ہے جبکہ حافظہ خود حارث و چوکیدار۔
    · مکتوب دیمک وغیرہ کا ماکول بن سکتا ہے تو گویا اس کا ساتھ معتمد علیہ نہیں۔
    · مکتوب کا استحضار بعید ہوتا ہے جبکہ حفظ کا استحضار سھل۔
    · عرفاً بھی شاگرد استاد کی ڈانٹ ڈپٹ کا شکار ہوتا ہے جب وہ لکھنے پر اکتفاء کرکے حافظے میں منتقل نہ کرے۔
    کتابت وسیلہ ہے حفظ کا اور غایۃ و مقصود اور وسیلے میں اصل غایۃ ہے او ر درخت کے سائے مین بیٹھ کر منزل کو بھول جانا حماقت تصور کیا جاتا ہے۔

    مان ليا
    کچھ لمحات کیلئے اگر مذكورہ تجویز تسلیم بھی کرلی جائے تو پہلا سوال یہ ہوگا کہ یہ جائزہ لے کون؟ ہےکوئی ان زخمی بدن اور بےہمت طیور میں جو بحرِ احمر کی مبدا جان سکے کہ لاکھوں احادیث کا حافظ اور ہزاروں علل کو انگلیوں کے پوروں پر گن سکے، صحیح کو سقیم سے ابنِ مھدی اور یا بخاری کی طرز اس نہج پر جدا کرے کہ سمندر میں پڑی لاکھوں کنکریوں میں سے یاقوت و مرجان لا کر شاہین دنیا کے حوالے کردے
    پھر اگر نابینا رعایا پر اصم و بہرہ بادشاہ بن کر اس فریضے کے قیام کیلئے اٹھتا ہے تو یہ یا تو متقدمین کے اصولوں کا کاربند رہے گا تو یہ تو اعتماد علی غیرالمعتمد علیہ ہے اور ’’فر من المطر ووقف تحت المیزاب‘‘ ہے اور اگر نئے اصول وضع کرتا ہے تو وہ کس فقہ کےتحت يا كس سو چ كى روشنی میں آج كى سو چ تورب كى ربوبيت پر متفق نہیں تو گویا اس کا ناممکن ہونا واضح ہے اور سعی لاحاصل نظر آتی ہے
    اس کے ساتھ ساتھ اگر یہ بات بھی سمجھ لی جائے کہ علوم کی دو قسمیں ہیں
    پہلی قسم وہ ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور ہر آنے والا دن اس کا سورج مزید ترقی کے منازل طے کرتا ہے جیسے علم سائنس، ریاضی، کیمیاء وغیرہ۔
    دوسری قسم ان علوم کی ہے جو وقت گذرنے کے ساتھ انحطاط کے مراحل طے کرتے ہیں انہیں میں سے علمِ حدیث ہے کہ جو علمِ حدیث کے عالم کل تھے وہ آج نہیں اور اسی چیز کی طرف نبی نے بھی اشارہ ان کلمات سے کیا ہے ’’ویقبض العلم‘‘ (کہ قیامت کے قریب) علم اٹھالیا جائے گا تو کیا عقل سليم تسلیم کرتی ہے کی ایک پھل دار درخت کو پودے کی شکل میں بدل کر اس کی نشونما شروع کردی جائے، "وان ھم الا یظنون"

    اظھارِ افسوس
    ہمیں افسوس اس قسم کے تجزیوں پر نہیں اور نہ ہی ایسے کالم نگاروں پر جن کی نکیل شاید اپنے ہاتھوں میں نہیں بلکہ اس الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر ہے جس میں انسانی قوانین کے خلاف ایک جملہ نظر نہیں آتا لیکن قوانینِ الہیہ یا دینِ ربانی کا جو جس انداز و لہجے میں تمسخر کرے اس کیلئے دروازے کھلے ہیں خواہ وہ شعوری طور پر یا لا شعوری طور پر اور اس سلسلے میں نہ خوفِ الہی ہے اور نہ ہی شرم و ندامت کا مفید سرمایہ۔ " وما قدروا اللہ حق قدرہ "


    خیر خواہی
    محترم کالم نگار صاحب کا یہ اگر احادیث کے متعلق ایک سوال و استفسار ہے تو دلائل سے تشفی ہونا منصفین کا مزاج و رویہ ہوا کرتا ہے اور اگر یہ اعتراض و مشغلہ ہے تو شاید مسئلے کی نوعیت نازک و گھمبیر ہے دنیا میں کئی ادیانِ باطلہ اعتراض کے قابل اور کئی مشاغل غیرمعیوبہ وجود رکھتے ہیں ان کا رخ کرنا شاید زیادہ ----اصوب ہے اور سبیل المومنین کی تابعداری ہی بہترین سرمایہ ہے اور امام اوزاعی کی نصیحت میں اپنے آپ کو اور دوسروں کو کرتا ہوں "قف حیث وقف القوم" کہ سلف کے Full stop كو Full stop سمجھو۔

    أن أريد الا الاصلاح ما استطعت وما توفيقي الا باالله.

    فريدالله صافى جامعه سلفيه اسلام آباد
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 09، 2015 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,134
    موصول شکریہ جات:
    8,179
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جزاکم اللہ خیرا۔
     
  3. ‏فروری 09، 2015 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,749
    موصول شکریہ جات:
    6,547
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    جزاک اللہ خیرا اخی!
     
  4. ‏فروری 09، 2015 #4
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,016
    موصول شکریہ جات:
    1,187
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    بہت اچھے یہ وہی سلسلہ فکر ہے جس کی ایک کڑی ارشاد حقانی جو مر گیا ہے جس نے پاکستان میں عربی زبان کی تدریس پر پابندی لگانے کی تجویز پیش کی تھی
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں