1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مؤذن کے لئے فضیلت :

'مساجد' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏اگست 11، 2015۔

  1. ‏اگست 11، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    مؤذن کے لئے فضیلت :



    11215067_1152400834776106_384377230899012637_n.jpg
     
  2. ‏اگست 11، 2015 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    شیخ @اسحاق سلفی بھائی اس حدیث کی تحقیق درکار ہے کیا یہ حدیث صحیح ہے ؟؟
     
  3. ‏اگست 11، 2015 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    یہ حدیث ضعیف ہے ،
    علامہ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے ’’ انوار الصحیفہ ‘‘ میں اسے ضعیف کہا ہے (جریج کے ۔عنعن۔ کے سبب )
    اور ’’ زوائد ابن ماجہ ‘‘ میں علامہ البوصیری نے بھی اسے ضعیف کہا ہے (اس ایک راوی عبد اللہ بن صالح کی وجہ سے )
    اور علامہ البانی ؒ نے اسے اس کے ایک شاہد کی بنا پر صحیح کہا ہے (تفصیل کیلئے دیکھئے : السلسلة الصحيحة ج 1/ص102 رقم الحديث 42 )

    اور مزید تفصیل درج ذیل ہے :
    ’’ من أذن اثنتي عشرة سنة وجبت له الجنة و كتب له بتأذينه في كل مرة ستون حسنة و بإقامته ثلاثون حسنة‘‘
    رواه :
    (سنن بن ماجة/720) ، (سنن الدراقطنى/942) ،
    (السنن الكبرى للبيهقى/1/433) ، (مستدرك الحاكم/736) ،
    (المعجم الكبير للطبرانى/786) ، (المعجم الاوسط للطبرانى/8977) ،
    (شعب الايمان للبيهقى/2923) ،


    كلهم من طريق : أبو صالح عبد الله بن صالح المصرى حدثني يحيى بن أيوب عن ابن جريج ، عن نافع ، عن ابن عمر ، لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ نَافِعٍ ، إلا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَلا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، إلا يَحْيَى بن أَيُّوبَ ، تَفَرَّدَ بِهِ : عَبْدُ اللَّهِ بن صَالِحٍ عُمَرَ ، وكلا من عبد الله بن صالح المصرى ويحيى بن ايوب مُتكلم فيهم ، ويكفى عنعنة بن جريج فى الحديث فقد كان يدلس رحمه الله مما يجعل ضعف الاسناد ظاهراً .

    ويحيى بن أيوب هو الغافقي أبو العباس المصري ، قال ابن سعد منكر الحديث وقال الدارقطني في بعض حديثه اضطراب ومن مناكيره عن ابن جريج عن الزهري عن سالم عن أبيه مرفوعا وإن كان مائعا فانتفعوا به وقال الترمذي عن البخاري ثقة وقال يعقوب بن سفيان كان ثقة حافظا وقال الاسماعيلي لا يحتج به ، قال النسائى : عنده غير حديث منكر وليس هو بذاك القوى فى الحديث .

    وقال أبو زرعة الدمشقي عن أحمد بن صالح كان يحيى بن أيوب من وجوه أهل البصرة وربما خل في حفظه وقال ابن شاهين في الثقات قال ابن صالح له اشياء يخالف فيها وقال ابراهيم الحربي ثقة وقال الساجي صدوق يهم كان أحمد يقول يحيى بن أيوب يخطئ خطأ كثيرا وقال الحاكم أبو أحمد إذا حدث من حفظه يخطئ وما حدث من كتاب فليس به بأس وذكره العقيلي في الضعفاء


    وعبدالله بن صالح هو بن محمد بن مسلم الجهني مولاهم أبو صالح المصري ، وقال صالح بن محمد كان ابن معين يوثقه وعندي انه كان يكذب في الحديث وقال ابن المديني ضربت على حديثه وما أروي عنه شيئا وقال أحمد بن صالح متهم ليس بشئ وقال النسائي ليس بثقة وقال سعيد البردعي قلت لابي زرعة أبو صالح كاتب الليث فضحك وقال ذاك رجل حسن الحديث ، قال البخارى : صدوق عندنا ودرجته عند بن حجر صدوق كثير الغلط وكانت فيه غفلة ، وقال ابن عدي هو عندي مستقيم الحديث إلا أنه يقع في حديثة في أسانيده ومتونه غلط ولا يتعمد الكذب.

    ثم رواه الحاكم فى (المستدرك/737) ، والبيهقى فى (السنن الكبرى للبيهقى/1/433)

    كلاهما من طريق اسمعيل بن مهران ثنا أبو طاهر و أبو الربيع قالا ثنا ابن وهب أخبرني ابن لهيعة عن عبيدالله بن أبي جعفر عن نافع عن ابن عمر به

    وهذا الاسناد ظاهره الصحة لكنه معلل ، وبن لهعية فى رواية العبادلة صحيح الحديث ، لكن لا ننسى تدليسه رحمه الله ، وهو اسناد غريب انفرد به عبيدالله بن أبي جعفر وهو المصرى ثقة لينه احمد رحمه الله ، وانفرده به عن نافع يجعل فى القلب شكا منه ، ثم لم يروه الا الحاكم والبيهقى من كتب السنة .
     
  4. ‏اگست 11، 2015 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    صحیح احادیث میں موذن کی بڑی فضیلت وارد ہے :
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ أَبُوهُ فِي حِجْر أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ، قَالَ لِي أَبُو سَعِيدٍ:‏‏‏‏ إِذَا كُنْتَ فِي الْبَوَادِي فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالْأَذَانِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏"لَا يَسْمَعُهُ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَجَرٌ وَلَا حَجَرٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ".(سنن ابن ماجہ :حدیث نمبر: 723)
    عبدالرحمٰن بن ابوصعصعہ (جو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش تھے) کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تم صحراء میں ہو تو اذان میں اپنی آواز بلند کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اذان کو جنات، انسان، درخت اور پتھر جو بھی سنیں گے وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دیں گے“ ۱؎۔
    قال الشيخ الألباني: صحيح
    وأخرجہ : صحیح البخاری/الأذان ۵ (۶۰۸)، بدء الخلق ۱۲ (۳۲۹۶)، التوحید ۵۲ (۷۵۴۸)، سنن النسائی/الأذان ۱۴ (۶۴۵)، موطا امام مالک/الصلاة ۱ (۵)، مسند احمد (۳/۳۵، ۴۳) (صحیح) ( «ولا شجر ولا حجر» کا لفظ صرف ابن ماجہ میں ہے، اور ابن خزیمہ میں بھی ایسے ہی ہے)

    وضاحت: ۱؎ : تو جتنی دور آواز پہنچے گی گواہ زیادہ ہوں گے، اور صحراء و بیابان کی قید اس لئے ہے کہ آبادی میں گواہوں کی کمی نہیں ہوتی، آدمی ہی بہت ہوتے ہیں اس لئے زیادہ آواز بلند کرنے کی ضرورت نہیں، اگرچہ آواز بلند کرنا مستحب ہے۔

    یہی حدیث صحیح البخاری میں ان الفاظ سے موجود ہے :
    أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ لَهُ:‏‏‏‏"إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ، فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ، فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ:‏‏‏‏ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
    (صحیح البخاری :حدیث نمبر: 609 )
    ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ صحابی نے ان سے بیان کیا کہ میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں بکریوں اور جنگل میں رہنا پسند ہے۔ اس لیے جب تم جنگل میں اپنی بکریوں کو لیے ہوئے موجود ہو اور نماز کے لیے اذان دو تو تم بلند آواز سے اذان دیا کرو۔ کیونکہ جن و انس بلکہ تمام ہی چیزیں جو مؤذن کی آواز سنتی ہیں قیامت کے دن اس پر گواہی دیں گی۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں