1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مجلس واحد کی تین طلاقوں کا مسئلہ

'طلاق' میں موضوعات آغاز کردہ از اویس تبسم, ‏اگست 29، 2015۔

  1. ‏اگست 29، 2015 #1
    اویس تبسم

    اویس تبسم رکن
    جگہ:
    گجرات،پاکستان
    شمولیت:
    ‏جنوری 27، 2015
    پیغامات:
    366
    موصول شکریہ جات:
    133
    تمغے کے پوائنٹ:
    80

    مجلس واحد کی تین طلاقوں کا مسئلہ

    مجلس واحد کی تین طلاقوں پر تفصیلی بحث سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ طلاق کی نوعیت اور سماج پر پڑنے والے اسکے اثرات کا بھی جائزہ لے لیا جائے تاکہ اس اہم اور نازک مسئلے پر غور کرنے والے کو مسئلہ کی نزاکت اور اور نتائج کا صحیح احساس ہو سکےاللہ تعالیٰ نے حقوق میں اپنا حق مقدم رکھا ہے اور حقوق العباد میں والدین کے حق کو اولیت بخشی ہے۔والدین کا لفظ معنوی اعتبار سے اگرچہ ماں اور باپ دونوں ہی پر یکساں طورسے استعمال ہوتا ہے لیکن حقوق کے اعتبار سے ماں کا حق باپ کے مقابلہ میں تین گناہ زیادہ ہے۔والدین اولاد کے لئے تو ماں اور باپ کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن خود ان کی اپنی حیثیت زوجین، یعنی میاں بیوی کی ہے۔عورت بچے کے لئے ماں اور شوہر کے لئے بیوی ہے،لیکن ان دونوں حیثیتوں کے علاوہ بھی سماج میں اس کی دوسری بہت سی قابل احترام حیثیتیں ہیں اور ہر حیثیت اپنا ایک جداگانہ حق رکھتی ہےعورت اگر عفت اور صالحیت کے حسن سے آراستہ ہے تو وہ بلاشبہ اس کائنات کی سب سے قیمتی اور محبوب متاع ہے،اس لئے وہ رحم،عفو اور حسن سلوک کی سب سے زیادہ مستحق ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں عورت سب سے زیادہ مظلوم رہی ہے۔اس کی پیدائش کو عار اور اس کے وجود کو نحوست قرار دے کر مدتوں اسے زندہ درگور کیا جاتا رہا ۔ہمارے ہندوستان میں عرصہ تک اسے اپنے شوہر کی چتا میں کود کر جان دینے پر مجبور کیا جاتا رہا،بلکہ اب بھی ایسے اندوہناک حادثات کی خبریں گاہے گاہے ملتی رہتی ہیں اسلام سب سے پہلے عورت کے حقوق کے تحفظ اور اس کی نسائیت کے احترام کی آواز اٹھائی اور اسے اس کا فطری مقام عطا کیا ،دادی اور نانی کی بزرگی،ماں کا تقدس، خالہ کا احترام، بیوی کا لطف و پیار، بہن کی محبت، بیٹی کی عزت یہ سب اسلام کی دین ہے میاں بیوی کے تعلق کق قرآن نے لباس سے تعبیر کیا ہے۔اس سے جامع اور موزوں و حسین تعبیر ممکن نہیں تھی،جسم اور لباس میں کوئی پردہ نہیں،جسم جہاں لباس کا محتاج ہے، وہیں لباس کا حسن جسم کے بغیر ممکن نہیں، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ملزوم ہیں۔اسی طرح زوجین کا وجود اور ان کی زندگی کا لطف و سکون ایک دوسرے کے بغیر ممکن نہیں ، یہ ایک دوسرے کے لئے جتنے زیادہ موزوں و متناسب و جاذب ہوں گے، اتنا ہی زیادہ زندگی کا حسن نکھرے گا اور خاندان امن و راحت سے ہمکنار ہوگا یہ اسلام کے حسن معاشرت کا ادنیٰ اور ہلکا اشارہ تھا لیکن زندگی حادثات و مکروہات سے بھی دوچار ہوتی ہے،ایسا بھی ہوتا ہے کہ لباس جسم کے لئے ناموزوں ثابت ہوتا ہے۔ اس وقت کی نزاکتوں کا احساس کر کے شریعت اسلامیہ نے ایسے اصول وضع فرمائے ہیں جن سے جسم اور لباس دونوں کی رعایت و حرمت قائم رہتے ہوئے دونوں ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں اسے اسلام نے طلاق سے تعبیر کیا ہے،جو حلال اشیاء میں سے سب سے زیادہ قابل نفرت و کراہت قرار دیا گیا ہے اور جس کا استعمال اشد ترین ضرورتوں کے سوا روا نہیں رکھا گیا ہے بلکہ طلاق سے مشابہ دوسری تمام صورتوں کو طلاق سے مستثنیٰ قرار دیاگیا ہے،مثلا ظہار،ابلاء،طلاق مکرہ (جبری طلاق) وغیرہ
    طلاق کا شرعی طریقہ
    جب میاں بیوی میں ایسی نااتفاقی پیدا ہو جائے جس سے خاندان کی تباہی اور زندگی کے امن و سکون کی بربادی کا خطرہ لاحق ہو اور زوجین کے درمیان حدود اللہ کا قیام ناممکن ہو جائے تو شوہر کو اختیار ہے کہ بیوی کو اس طہر کی حالت میں ایک طلاق دے جس میں اس نے بیوی سے مقاربت نہ کی ہو۔یہ ایک طلاق رجعی واقع ہوگی اور عدت کے اندر شوہر کو رجعت کا حق حاصل ہوگا۔یہ تین ماہ کی مدت ہے جس میں زوجین اور ان کے اقرباء و متعلقین کو ان کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے غوروفکر کرنے کا موقع ملے گا،اگر سدھار کی کوئی صورت نہیں بنتی اور طلاق ضروری ہی ہے تو دوسرے طہر میں دوسری طلاق دے،یہ دوسری طلاق بھی رجعی ہوگی اور اب بھی شوہر کو عدت کے اندر رجعت کا اور عدت کے بعد تجدید نکاح کا حق حاصل ہے سورۃ بقرۃ آیت نمبر 229 میں ارشاد ہے
    طلاق (رجعی) دو مرتبہ ہے (اور دونوں مرتبہ) یا تو معروف طریقہ پر عورت کو روک لیا جائے یا عمدہ طریقہ سے چھوڑ دیا جائےآگے ارشاد ہے
    پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ اس شوہر کیلئے اس وقت تک حلال نہ ہوگی جب تک وہ دوسرے شوہر سے نکاح نہ کر لےیہ تیسری آخری طلاق بائن ہوگی جس سے زوجین کے درمیان دائمی تفریق واقع ہو جائے گی اللہ تعالیٰ نے طلاق کو بدفعات ثلاثہ دینے کی ہدایت دے کر جو حکمت اور سہولت ملحوظ رکھی ہے وہ اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے جب ہدایت ربانی کے مطابق طلاق دی جائے اور یہ جب ہی ممکن ہے جب طلاق باری باری دو طہروں میں دی جائے اس قرآنی ہدایت کو نظرانداز کر کے اگر بیک لفظ و بیک مجلس تینوں طلاقیں ایک ساتھ دے دی جائیں اور انہیں تسلیم بھی کر لیا جائے تو جہاں یہ فعل معصیت ہے وہیں کتاب اللہ کے ساتھ ایک مذاق بھی ہے ساتھ ہی رجعت کا جو حق اللہ نے دیا تھا اس کی بربادی بھی ہے۔خاندان کی تباہی اور اہل و عیال کے حقوق کی پامالی اس پرمستزاد ہے۔غالبا انہیں سب وجوہات سے متاثر ہوکر امت کے ایک طبقے نے ایسی طلاقوں کو لغو اور باطل قرار دیا ہے جو بہرحال انتہاپسندی اور دین میں غلو ہے لیکن جہاں امیہ کا یہ مسلک حق و صواب سے بعید ہے وہیں یہ مسلک بھی صحیح نہیں کہ یہ تینوں طلاقیں تین شمار ہوں اورعورت شوہر پر حرام ہو جائے۔اعتدال کی راہ یہ ہے کہ جہالت یا جذبات کی رو میں آکر دی ہوئی ایک مجلس کی یہ تین طلاقیں ایک رجعی شمار ہوں اور اس غیر طریقہ طلاق کو طالق کی جہالت پر محمول کیا جائے
    لفظ مرتان کی تشریح
    قرآن کی مذکورہ بالا آیت سے اسی مفہوم کی تشریح ہو رہی ہے۔علماء احناف میں سے مشہور عالم مولانا اشرف علی صاحب تھانوی کے استاد شیخ محمد صاحب تھانوی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں یعنی آیت کا مطلب یہ ہے کہ ایک طلاق کے بعد دوسری طلاق دی جائے اس لئے کہ شرعی طلاق وہ ہے جو متفرق طور پر متفرق طہروں میں دی جاتی نہ کہ بیک وقت ایک مجلس میں (حاشیہ نسائی شریف، ج 2،ص 29) لفظ مرتان کی یہی تفسیر علامہ سندھی حنفی (حاشیہ نسائی شریف، ج 2،ص 29)،علامہ ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نسفی (مدارک التنزیل ،ج 2 ص 177)
    مولانا عبدالحق صاحب اکلیل (اکلیل علیٰ مدارک التنزیل کشوری،ج 2ص171) علامہ انور شاہ صاحب کشمیری( فیض الباری ج4ص32) وغیرہ نے بھی کی ہے۔جن کی عبارتیں اور ان کے ترجمے طوالت کے خوف سے حذف کئے جا رہے ہیں البتہ آخر میں علامہ ابو بکر کی یہ تشریح ملاحظہ کے لئے نقل کی جاتی ہے فرماتے ہیں یعنی الطلاق مرتان، دو طلاق،دوبار،دو طہروں میں واقع کرنے کے امر کو شامل ہے لہذا جو شخص دو طلاق بیک دفعہ یعنی ایک طہر میں دیتا ہے وہ حکم خداوندی کی خلاف ورزی کرتا ہے (احکام القرآن) اسی لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے مرتان کہا،اس کے بعد تیسری طلاق کا ذکر کیا یعنی دو رجعی طلاقوں کا ذکر پہلے کیا پھر تیسری بائنہ کا ذکر آخر میں۔اس سے متفرق مدتوں میں طلاق دینے کے ساتھ پہلی دو طلاقوں کے رجعی ہونے کا اشارہ بھی ملتا ہے نیز عربی زبان بلکہ دنیا کی کسی بھی زبان میں آپ اگر کہیں کہ میں نے یہ کام تین مرتبہ کیا ۔تو اس سے تین مرتبہ الگ الگ کام کرنا مراد ہوگا،مثلا اذان دیتے وقت اللہ اکبر چار مرتبہ دہرانے کی بجائے پہلی ہی بار کہہ دیں اللہ اکبر اربع مرات، تو اس سے اذان پوری نہ ہوگی جب تک کہ چار مرتبہ نہ اسی کلمہ کو دہرائیں۔یا مثلا نماز کے بعد تسبیحات پڑھتے وقت اگر آپ کہیں سبحان اللہ 33 مرتبہ،الحمد للہ 33 مرتبہ،اللہ اکبر 34 مرتبہ، تو اس سے تسبیحات کی تعداد 100 پوری نہ ہوگی اور نہ حدیث پر عمل ہو سکے گا یہ سب اعمال قولی تھے،جب یہ اپنی مطلوبہ تعداد پوری کئے بغیر مکمل نہیں ہو سکتے تو طلاق و لعان وغیرہ جو سراسر قولی ہیں کیسے پورے ہوجائیں گے لعان اور طلاق زوجین کی تفریق کے اعتبار سے حکما ایک ہی جیسے ہیں اور لعان والی آیت میں اس جگہ شہادت کا عمل پانچ بار کہے جانے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا،تو پھر طلاق کق اس اصول سے کیسے الگ کیا جاسکتا ہے؟ ان تشریحات سے معلوم ہوا کہ طلاق والی آیت میں مرتان،سے مراد الگ الگ ایک مجلس کی تین طلاقوں کے ایک رجعی ہونے کا واضح ثبوت ملتا ہے، جبکہ ان تینوں کے تین طلاق ہونے کا اشارہ تک کسی آیت سے نہیں ملتا،فقہی موشگافیوں اور مسلکی گروہ بندیوں سے الگ ہو کر قرآن کو خالی ذہن کے ساتھ پڑھا جائے تو ایک مجلس کی تین طلاقوں کے ایک رجعی ہونے کا مفہوم سب کے قلب و دماغ پر با آسانی ثبت ہو جائے گا۔
    مسئلے کی نوعیت احادیث مبارکہ کی روشنی میں
    طلاق ثلاثہ کی بابت سب سے مشہور و جامع حدیث وہ ہے جسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت کی ہے۔حدیث کے الفاظ ہیں عہد نبویﷺ ، خلافت صدیقی رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو برسوں تک تین طلاق ایک شمار ہوتی تھی،لیکن جب کثرت سے لوگوں نے طلاق دینی شروع کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس کام میں لوگوں کو مہلت دی گئی تھی اس میں وہ جلدبازی سے کام لینے لگے،لہذا ہم اس کو ان پر نافذ کر دیں تو کیا حرج ہے چنانچہ انہوں نے ان سب کو نافذ کر دیا (صحیح مسلم کتاب الطلاق)
    یعنی ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین قرار دے کر عورت کو بائنہ قرار دیتے تھے انہوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ سرکاری حکم نامے کے ذریعہ یہ بات مشتہر کرادی کہ جو شخص بھی بیک زبان تین طلاقیں دے گا وہ تین شمار ہوں گی اور ایسا کرنے والے پر وہ بڑی سختی کرتے تھے یہ حدیث اس مسئلے کے لئے فریقین کی سب سے اہم دلیل ہے۔جو لوگ تین کے قائل ہیں وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس عمل کو اپنے لئے مدار عمل بناتے ہیں اور یہ کہ صحابہ نے اس حکمنامہ کی مخالفت نہیں کی اور سب نے خاموشی اختیار کی لیکن جو لوگ مجلس واحد کی تین طلاقوں کے ایک رجعی ہونے کے قائل ہیں وہ اس حدیث سے اس طرح استدلال کرتے ہیں کہ اس حدیث سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قبل اور بعد دونوں زمانوں کا الگ الگ تعامل ظاہر ہو رہا ہے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عہد رسالت،عہد صدیقی اور عہد فاروقی کے ابتدائی دو برسوں تک ایک مجلس کی تین طلاق ایک مانی جاتی تھی امت کا اس مسئلے پر اجماع تھا اور اس کے خلاف کوئی ایک فرد بھی نہ تھا اختلاف کی ابتدا حضرت عمررضی اللہ عنہ کے اس فرمان کی وجہ سے ہوئی جس میں آپ نے ایسی تین طلاقوں کو تین قرار دینے کا حکم نافذ فرمایا۔
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فرمان کی توجیہ
    اس مقام پر پہنچ کر ہر صاحب فکر یہ سوچنے لگتا ہے کہ قرآنی تشریحات،نیز عہد رسالت و عہد صدیقی کے تعامل عام کے باوجودحضرت عمررضی اللہ عنہ جیسے حساس نے اس مسئلے میں اتنی نمایاں تبدیلی کیسے کر ڈالی؟ کیا بالفاظ دیگر یہ مداخلت فی دین نہیں؟ لیکن حقیقت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ محض اجتہاد تھا جس میں ان کے پیش نظر امت کے مصالح تھے اور عوام کی تربیت تھی۔کیونکہ بیک مجلس و بیک زبان تین طلاقوں کے دینے کا غلط و غیر شرعی رواج عام ہو گیا تھا جس سے کتاب اللہ کر ساتھ کھلا ہوا تلعب ظاہر ہو رہا تھا اور اس باب میں لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رخصتوں اور سہولتوں کو نظر انداز کر دیا تھا۔یہ باتیں ظاہر ہے کہ حضرت عمر جیسے غیور کو کب برداشت ہو سکتی ہیں۔چنانچہ انہوں نے تہدید و سیاستہ اپنا فرمان جاری کیا اور اس پر سختی سے عمل بھی اسی لئے کرایا تاکہ لوگ غیر شرعی طلاقوں سے پرہیز کریں
    حدیث رکانہ بن عبد یزید
    حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے حضرت رکانہ اپنی بیوی کو تین طلاق دے کر سخت مغموم ہوئے آنحضرت ﷺ نے ان سے پوچھا: کس طرح طلاق دی؟انہوں نے کہا میں نے تین طلاقیں دی ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا: کیا ایک ہی مجلس میں؟ انہوں نے عرض کیا،جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا: وہ سب ایک ہی ہیں،آپ چاہیں تو بیوی سے رجعت کر لیں۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت رکانہ نے اپنی بیوی سے رجوع کر لیا (مسند احمد۔ج 1،ص 165)
    ان دونوں احادیث سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ایک مجلس کی تین طلاق کے ایک رجعی ہونے پر عہد نبوی ؐ ،عہد صدیقی اور عہد فاروقی کے ابتدائی دو برسوں تک امت کا اجماع تھا۔
    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا فتویٰ
    حضرت عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں یعنی اگر کوئی شخص بیک زبان تین بار کہے تجھ کو طلاق دی تو یہ ایک طلاق ہوگی (ابو داؤد مع عون المعبودج2ص327)غیر مدخول بہا کے بارے میں امام طاؤس قسم کھا کر کہتے ہیں یعنی بخدا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ غیر مدخول بہا کی تین طلاقوں کو ایک ہی قرار دیتے تھے (ایضا) صحابہ کرام میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے علاوہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ،حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بھی ایک مجلس کی تین طلاق کے ایک رجعی ہونے کے قائل تھے۔الغرض حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فرمان کے بعد بھی صحابہ کی معتدبہ تعداد اپنے مسلک اول پر قائم تھی۔
    مجلس واحد کی تین طلاقوں پر اجماع کی حقیقت
    ایک مجلس کی تین طلاقوں کے تین ہونے پر سب سے زیادہ جو دلیل زیر بحث لائی جاتی ہے وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فرمان کے بعد امت کے اجماع کی ہے اور عوام کو دراصل اسی اجماع کے بھاری بھر کم لفظ سے دھوکہ ہوا ہے،حلانکہ یہ صحیح نہیں کیونکہ مجلس واحد کی تین طلاقوں کا مسئلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فتویٰ کے بعد بھی کبھی بھی متفق علیہ نہیں رہا بلکہ اس میں اول روز ہی سے اختلاف پایا جاتا ہے جس کا اعتراف خود علماء احناف نے بھی کیا ہے چنانچہ ازری نے اپنی کتاب “معلم” میں امام محمد بن مقاتل حنفی کی یہ روایت نقل کی ہے:
    طلاق ثلاثہ جو ایک ساتھ ہوں وہ ایک رجعی کے حکم میں ہیں اور امام ابو حنیفہ ؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کا بھی ایک قول یہی ہے امام طحاوی نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے یعنی کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ جب شوہر اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دیدے تو وہ ایک ہی شمار ہوگی امام نووی شافعیؒ نے بھی لکھا ہے یعنی علماء اسلام کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جس نے اپنی بیوی سے انت طالق ثلٰثا کہا نیز امام طاؤسؒ اور بعض ظاہریہ نیز حجاجؒ بن ارطاۃ اور محمد بن اسحٰق جیسے اجلہ امت بھی اسی کے قائل تھے ہندوستان کے مشہور حنفی عالم مولانا عبدالحی لکھنوی عمدہ الرعایہ ج 2ص 71 میں ایک مجلس کی تین طلاقوں کے ایک رجعی ہونے کی بابت امت کے ایک گروہ کی رائے نقل فرماتے ہیں یعنی دوسرا قول یہ ہے کہ شوہر اگر تین طلاق دیدے تب بھی ایک رجعی ہی پڑے گی اور یہ وہ قول ہے جو بعض صحابہ سے منقول ہے اور امام داؤد ظاہری اور ان کے متبعین اسی کے قائل ہیں اور یہی امام مالک اور امام احمد کے بعض اصحاب کا بھی قول ہے امام شوکانی نے اس مسئلہ پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے ایک مجلس کی تین طلاقوں کے ایک رجعی ہونے کا فتویٰ حضرت ابو موسیٰ اشعری،حضرت علی،حضرت عبداللہ بن عباس، امام طاؤس،امام عطاء، جابر بن یزید،ہادی،قاسم،ناصر،احمد بن عیسیٰ، عبداللہ بن موسیٰ بن عبداللہ،ابن تیمیہ،ابن قیم کی طرف منسوب کیا ہے ابن مغیث نے حضرت عبداللہ بن مسعود،حضرت عبدالرحمٰن بن عوف اور حضرت زبیر بن عوام سے بھی نقل کیا ہے اور مشائخ قرطبہ جیسے محمد بن تقی،محمد بن عبدالسلام وغیرہ کی ایک جماعت کا بھی فتویٰ اسی قول سے نقل کیا ہے (نیل الاوطار) مذکورہ تفصیلات سے ہر انصاف پسند پر یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کے تین ہونے پر امت کا اجماع ثابت نہیں ،بلکہ یہ مسئلہ عہد فاروقی کے بعد نسلا بعد نسل اور خلفا عن سلف مختلف فیہ رہا اور عہد فاروقی کے ابتدائی دو برسوں کے پہلے تک یہ مسئلہ نزاع و اختلاف سے دوچار نہیں ہوا،اس وقت تک پوری امت ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک رجعی شمار کرتی تھی اور حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس حکمنامہ پر عام صحابہ و تابعین نے محض سکوت اختیار کیا تھا اس کا مطلب تھا کہ وہ خلیفہ کو امت کی اپنی مصلحت و مفاد کا مجاز سمجھتے تھے لیکن اس کے باوجود بھی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تین طلاقوں کے ایک رجعی ہونے کا فتویٰ دیتے رہے،اسی طرح حضرت زبیر بن عوام،عبدالرحمن بن عوف بھی،اور تابعین میں حضرت عکرمہ اور طاؤس کا بھی یہی عمل تھا،اور تبع تابعین میں محمد بن اسحٰق،خلاس بن عمرو اور حارث اور ان کے بعد داؤد بن علی اور ان کے اصحاب نیز امام مالک کے بعد اسحٰق اور بعض حنفیہ اور امام احمد کے بعض اصحاب بھی اس طرح ایک مجلس کی تین طلاق کے ایک رجعی ہونے پر امت کا اجماع قدیم تھا جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ اور قیاس سے ثابت ہے اس اجماع کے خلاف امت کا کوئی دوسرا اجماع ثابت نہیں اور یہ کیسے ممکن بھی تھا کہ حضرت عمر کا ایک تعزیری و سیاسی حکم جو بعض وقتی مصالح کی بنیاد پر تھا اور جس کی تشہیر کماحقہ ممکن بھی نہیں تھی کیونکہ اکثر صحابہ اپنے وطن سے دور ہزاروں میل پر جہاد میں مصروف تھے اور جنہیں اس فتوے کی مطلتقا خبر نہ تھی وہ امت کے اجماع قدیم ہی پر قائم رہے کتاب اللہ کی واضح آیات اور رسول اللہ ﷺ کے دو ٹوک فیصلے اور عہد نبوی سے عہد فاروقی کے ابتدائی دو برسوں تک ہزارہا ہزار صحابہ و تابعین ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک ہی سمجھتے رہے اس کے مطابق فتویٰ بھی دیتے تھے اور اسی پر عمل بھی کرتے تھے ان میں سے کسی ایک کا بھی اختلاف ثابت نہیں۔لہذا ان حقائق کو نظرانداز کر کے کس طرح اس کے خلاف امت کے اجماع کا دعویٰ کیا جاتا ہے
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فتویٰ کی حقیقت
    اگر دل و دماغ کو تقلیدی جمود سے پاک کر کے اور بنظر انصاف حضرت عمر کے اس فتوی پر نظر ڈالی جائے تو صاف واضح ہوتا ہے کہ یہ حضرت عمر کا محض اجتہاد تھا جس کے ذریعہ وہ طلاق کے مسئلہ پر کتاب اللہ و سنت رسول اللہ کی ہدایت کے مطابق عوام کو تربیت دینا چاہتے تھے اور محض ان کی تربیت اور خلوص ہی کا جذبہ تھا کہ وہ اس مسئلہ میں شدت و سختی برتتے تھے تانکہ لوگ اللہ تعالیٰ کی اس رحمت اور سہولت سے فائدہ اٹھالیں جو باری باری الگ الگ مدتوں میں طلاق دینے میں اللہ تعالیٰ نے ملحوظ رکھی ہے اور محض اسی مصلحت کے پیش نظر عام صحابہ نے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں موجود تھے آپ کے اس اجتہاد پر سکوت اختیار کیا۔کیونکہ وہ خلیفہ وقت کو اس مصلحت کا اہل سمجھتے تھے اس طرح یہ عدم اختلاف صحابہ کا محض سکوت تھا جسے لوگوں نے اجماع تصور کر لیا اس موقع پر ایک سچا مومن اس سے زیادہ نہیں سوچ سکتا کہ یہ حضرت عمر کے زمانہ کی ایک ہنگامی اور وقتی حالت تھی جس کے سدھار کی طرف امیر المومنین نے قدم اٹھایا تھا ورنہ جب صحیح حدیث آجائے تو ہر امتی کا فرض ہے کہ وہ بلا چوں و چرا اس پر عمل کرے اور اس کے خلاف ہر چیز کو ترک کر دے خواہ وہ کسی کی کی ہوئی ہو یا کہی ہوئی یہاں کسی کو یہ شبہ نہ ہونا چاہئے کہ جب تمام صحابہ ایک مجلس کی تین طلاق کے ایک رجعی ہونے پر متفق تھے تو اس اجماع کے خلاف حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فتویٰ کیوں دیا؟ اس لیے کہ حضرت عمر نے اجماع قدیم کی مخالفت ہرگز نہیں کی، بلکہ ان کا حکم محض تہدید و تنبیہ اور ترتیب و سیاست کی بنا پر تھا تانکہ لوگ جان جائیں کہ غیر شرعی طریقہ پر طلاق دینے کی سزا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رخصت نہ قبول کرنے اور حکم الہی کی حکمتوں کو پامال کرنے پر یہ سرکاری مواخذہ لیکن سزائیں زمانوں اور اشخاص کی تبدیلی کے ساتھ بدل بھی جاتی ہیں اور حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اس حکم کو جاری کرتے وقت یہ ہرگز نہیں فرمایا تھا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا حکم اور آپﷺ کی حدیث ہے،بلکہ صراحت کردی تھی کہ یہ میرا شخصی تغریری حکم ہے جس کا قول رسول سے کوئی تعلق نہیں ،بلکہ طلاق کے بارے میں اللہ کی دی ہوئی رخصت اور سہولت کے استعمال اورتحفظ کیلئے یہ محض ایک انسانی تدبیر ہے جسے شریعت اور دین کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔خصوصا اس صورت میں جبکہ اس کے خلاف آیات قرآنی ،احادیث صحیحہ اور امت کا اجماع قدیم موجود ہو۔
    مفسدات و قبائح
    چونکہ عام طور پر لوگ طلاق کے شرعی طریقہ سے ناواقف ہیں اور طلاق کے اسباب عوما غضب ہی کی پیداوار ہوتے ہیں اس لئے جب بیک زبان،بیک مجلس طلاق دے کے ٹھنڈے پڑتے ہیں اور انہیں صورت حال کا علم ہوتا ہے تو پچھتاتے اور تڑپتے ہیں اس وقت ہمارے مفتیان کرام انہیں اپنا مسلک بتا کر الگ ہو جاتے ہیں اور طلاق دینے والا ناواقف مسکین اپنی بیوی کی جدائی ،گھر کی بربادی اور بال بچوں کی کس مپرسی کو دیکھ دیکھ کر روتا اور بلکتا ہے،اور اپنے مذہبی دائرے کی تنگی اور حکمت الہیٰ سے ناواقف اور اللہ کی دی ہوئی رخصت و سہولت سے محرومی کا تصور کر کے کبھی اپنے کو کوستا ہے، کبھی اپنے مذہب کو اور کبھی اپنے مذہب کے مفتیان کرام کا ماتم کرتا ہے ،لیکن حلالہ ملعونہ کے سوا اپنی بیوی کی واپسی کا کوئی راستہ نہیں پاتا،اس وقت شرم و حیا کے دامن کو تا ر تار کر کے اپنی بیوی کی پاکیزگی اور طہارت نفس کا گلا گھونٹ کر حلالہ جیسی ملعوں چیز کے لئے راہیں ڈھونڈتا اور ہموار کرتا رہتا ہے۔ حلانکہ حلالہ جس چیز کا نام ہے اور شریعت نے اسے جس صورت میں جائز اور حلال قرار دیا ہے وہ صرف یہ ہے کہ مطلقہ بائنہ کہیں دوسری جگہ صحیح شرعی طریقہ پر شادی کر کے نئے شوہر کی صحبت سے ہمکنار ہو جائے اور اس کے ساتھ حسن معاشرت کی پختہ نیت و ارادہ رکھے اور پہلے شوہر کو قطعا فراموش کر جائے اور اس سے ہر قسم کا تعلق زوجیت بالکلیہ منقطع کرلے۔پھر بدقسمتی سے اس کا شوہر ہلاک ہوجائے یا اس کو طلاق دیدے،تو ایسی صورت میں پہلے شوہر کو اس سے نکاح کا حق حاصل ہوگا لیکن مروجہ حلالہ جس کا فتویٰ عام طور سے ہمارے علماءکرام دیا کرتے ہیں وہ ایک فعل لعنت ہے اور ہرگز زواج شرعی نہیں بلکہ رسول اللہ سلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کرنے اور کرانے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے اور آنحضرتﷺ کی لعنت دین فطرت کی کسی سنت پر کبھی نہیں ہو سکتی بلکہ کبائرومعاصی ہی پر ہوتی ہے اور حلالہ حقیقتا ایک معصیت ہے جس کی نسبت شریعت الہیہ کی طرف ایک شیطانی حرکت اور فضیحت ہے۔ آنحضرت ﷺ نے حلالہ کرنے والے کو کرایہ کا سانڈ کہا ہے اور حلالہ کے نکاح کو کتاب اللہ کے ساتھ مذاق قرار دیا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس کوئی بھی حلالہ کرنے والا لایا جائے گا تو میں اسے رجم کر دوں گا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حلالہ کرنے والے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا دونوں زانی ہیں اور اس قسم کا نکاح رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں صریح گناہ تصور کیا جاتا تھا،زوج اول کے لئے حلالہ کی خاطر اگر بیس برس تک بھی عورت کو اپنے نکاح میں روک رکھا جائے تو یہ جائز نہیں ہوگا،حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حلالہ کرنے والے کو دھوکہ باز قرار دیا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی بناء پر اپنے فتویٰ کے ذریعہ رجعت کی پابندی لگائی تھی کہ لوگ حلالہ جیسے لعنتی فعل کی جرات نہیں کر سکیں گے،بلکہ ایک مجلس کی تین طلاق سے پرہیز کریں گے اور شرع شریف کے مطابق ہی طلاق دیا کریں گے،یہ کون تصور کر سکتا تھا کہ کبھی ایسا دور بھی آئے گا کہ لوگ حلالہ جیسی ملعون چیز کا ارتکاب کرنا گورہ کریں گے۔
    حلالہ کی لعنتیں
    حلالہ ایسی بےغیرت چیز ہے جس کا کوئی شریف اور خوددار شخص تصور بھی نہیں کر سکتا،اسی لئے نکاح شرعی کا اعلان و اشتہار ہوتا ہے جس پر خوشی اور مبارکبادی کا اظہارہوتا ہے،تقریبات اور ولیمہ کا اہتمام ہوتا ہے لیکن حلالہ کے نکاح کو لوگ کانوں کان چھپاتے ہیں نیز عورت کے نکاح کا داعیہ اس کے دین،حسب و نسب اور مال و جمال سے ہوتا ہے،لیکن کیا حلالہ کرنے والا بھی ان میں سے کسی داعیہ کا طالب ہے؟ ذرا حلالہ کا نکاح کرنے والے سے پوچھئے کہ کیا اس کے دل میں اپنی زوجہ کے نان و نفقہ اور اس کے لباس کا بھی احساس ہے یا نہیں؟ اور کیا حلالہ کے لئے نکاح کرائی جانے والی عورت عام شرعی نکاح کرنے والی عورتوں کی طرح خود کو سنوارتی اور مزین کرتی ہے؟ کیا لوگوں کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ حلالہ کے ذریعہ داغدار کی جانے والی کتنی ہی شریف زادیاں عزت و شرافت سے محروم ہو کر فسق و فجور کی بری راہوں کا شکار ہو گئیں اور حلالہ کے عادی ملعون مرد نے کتنے گھرانے تباہ کئے اور کتنی حقیقی بہنوں کو ایک ساتھ اپنی زوجیت میں کھا۔ الغرض ایک مجلس کی تین طلاق کو کتاب اللہ،سنت رسولﷺ اور تعامل صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف تین مان لینے کی بنا پر آج جہاں سینکڑوں خاندان تباہ وبرباد ہیں وہیں مخالفین اسلام کو بھی اس مسئلہ کی آڑ لے کر مسلم پرسنل لا پر حملہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ضرورت ہے کہ علماء امت اس مسئلہ کی تمام جزئیات پر بنظرتعمق غوروفکر کر کے امت کے لئے وہی فطری اور ربانی سہولتیں پیدا کریں جو عہد نبویﷺ میں امت کو حاصل تھیں۔
    آخر میں خلاصہ کلام کر طور پر یہ عرض کر دینا بھی ضروری ہے کی آج مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد اس مسئلہ کے بارے میں مسلکی تعصب و جمود کے خلاف شاکی ہیں اور کسی انقلابی اور اصلاحی اقدام کے محتاج و منتظر ہیں۔ضرورت ہے کہ وقت کے حق پرست علماء تمام مسلکی حدودوقیود کو پھاند کر امت کی اس اہم ترین ضرورت پر فیصلہ کن اقدام کریں۔
    مولانا مختار احمد صاحب ندوی
    ناظم جمعیت اہل حدیث بمبئی
     
  2. ‏نومبر 16، 2016 #2
    اسرار احمد صدیقی

    اسرار احمد صدیقی مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 03، 2016
    پیغامات:
    10
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    مسئلہ طلاق میں ابن عباس رض کا فتوی
    ”ایک شخص نے حضرت ابن عباسؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال کیا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، حضرت ابن عباسؓ نے اس پر سکوت اختیار کیا ہم نے یہ خیال کہ شاید وہ اس عورت کو واپس اسے دلانا چاہتے ہیں مگر حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ تم خود حماقت کا ارتکاب کرتے ہو اور پھر کہتے ہو ااے ابن عباس ‌! ابن عباس اے ابن عباسؓ؟ بات یہ ہے کہ جو شخص خدا تعالٰی سے نہ ڈرے تو اس کے لیے کوئی راہ نہیں نکل سکتی جب تم نے اللہ تعالٰی کی نافرمانی کی ہے تو اب تمہارے لیے کوئی گنجائش ہی نہیں تمہاری بیوی اب تم سے بالکل علٰیحدہ ہو چکی ہے۔ (سنن الکبریٰ جلد ۷ ص۳۳۱)
    حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ اسنادہ صحیح (تعلیق المغنی ص۴۳۰

    +



    مسئلہ طلاق ثلاثہ حدیث رکانہ کا جائزہ
    حضرت رکانہؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور آنحضرت
    نے ارشاد فرمایا کہ اے رکانہ تم رجوع کر لو۔ انہوں نے کہا کہ حضرت میں نے تو بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں، آنحضرت نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں تم رجوع کر لو۔ (ابو داؤد جلد ۱ ص۲۹۷ و سنن الکبرٰی جلد ۷ ص۳۳۹)
    امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس میں بعض بن ابی رافع مجہول راوی ہیں۔ (شرح مسلم جلد ۱ ص۴۷۸)

    علامہ ابن حزم ؒ فرماتے ہیں کہ بعض بنی ابی رافع مجہول ہیں اور مجہول سند سے حجت قائم نہیں ہو سکتی۔ (محلی جلد ۱۰ص۱۶۸)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں