1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جشن میلاد

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از اسحاق سلفی, ‏جنوری 04، 2015۔

  1. ‏جنوری 04، 2015 #1
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,318
    موصول شکریہ جات:
    2,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    پیارے نبی ﷺ سے محبت کا معیار واظہار

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جناب رسول اکرم ﷺ سے سچی قلبی محبت جزوِایمان ہے ،بلکہ اصل ایمان ہے۔ اور وہ بندہ ایمان سے تہی دامن ہے جس کا دل آنحضرت ﷺ کی محبت سے خالی ہے۔ جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ»
    ''اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی شخص بھی اس وقت تک ایماندار نہیں ہوگا جب تک کہ میں اس کے والد اور اولاد سے بھی زیادہ اس کا محبوب نہ بن جاؤں۔'' (بخاری: کتاب الایمان: باب حب رسول من الایمان؛۱۴)

    صحیح بخاری ہی کی دوسری حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ ''تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک ایماندار کہلانے کا مستحق نہیں جب تک کہ اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر اس کے دل میں میری محبت نہ پیدا ہوجائے۔'' (ایضاً ؛۱۵)
    عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وحَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ»
    فتح الباری میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
    وَالْمُرَادُ بِالْمَحَبَّةِ هُنَا حُبُّ الِاخْتِيَارِ لَا حُبُّ الطَّبْعِ قَالَهُ الْخَطَّابِيُّ وَقَالَ النَّوَوِيُّ فِيهِ تَلْمِيحٌ إِلَى قَضِيَّةِ النَّفْسِ الْأَمَّارَةِ وَالْمُطْمَئِنَّةِ فَإِنَّ مَنْ رَجَّحَ جَانِبَ الْمُطْمَئِنَّةِ كَانَ حُبُّهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِحًا وَمَنْ رَجَّحَ جَانِبَ الْأَمَّارَةِ كَانَ حُكْمُهُ بِالْعَكْسِ الخ
    یعنی یہاں ان احادیث میں جس محبت کو ایمان کی شرط یا ایمان کا حصہ بتایا گیا ہے ،وہ اختیاری محبت ہے ،
    (یعنی ایمانی شعور کے ساتھ پیارے بنی ﷺ کی عظمت و حقانیت مان کر ان سے محبت کرنا )
    یہاں طبعی محبت مراد و مطلوب نہیں ،جو انسان ہونے کے ناطے طبعی مرغوب و پسندیدہ چیزوں اور رشتوں سے ہوتی ہے ۔
    اسی لئے علامہ نووی ؒ فرماتے ہیں:اس حدیث میں محبت رسول ﷺ کا معنی ہے ، کہ نفس امارہ اور نفس مطمئنہ کی کشمکش میں اگر بندہ
    کا نفس مطمئنہ غالب رہے ۔(یعنی اللہ و رسول ﷺ کے حکم پر دل مطمئن و مستحکم ہو جائے )تو سمجھ لودل میں محبت رسولﷺثابت و موجود ہے۔اور اگر اس کے برعکس ہو یعنی نفس امارہ غالب آئے اور اللہ و رسول اللہﷺ کی نافرمانی پر آمادہ کرلے تو جان لو دل میں محبت رسول ﷺ موجود نہیں ۔
    تو اس محبت کا معیار اور تقاضا کیا ہے؟
    کیا محض زبان سے محبت کا دعویٰ کردینا ہی کافی ہے یا اس کے لئے کوئی عملی ثبوت بھی مہیا کرنا ہوگا؟
    صاف ظاہر ہے کہ محض زبانی دعویٰ کوئی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ اس کے ساتھ عملی ثبوت بھی ضروری ہے جس کا طریقہ یہ ہے کہ ایسے شخص کے جسم و جان پر اللہ کے رسول ﷺ کے ارشادات و فرمودات کی حاکمیت ہو، اس کا ہر کام شریعت نبوی کے مطابق ہو، اس کا ہر قول حدیث ِنبوی کی روشنی میں صادر ہوتا ہو۔ اس کی ساری زندگی اللہ کے رسول کے اُسوئہ حسنہ کے مطابق مرتب ہو۔ اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری ہی کو وہ معیارِ نجات سمجھتا ہو اور آپ ﷺ کی نافرمانی کو موجب ِعذاب خیال کرتا ہو۔ لیکن اگر اس کے برعکس کوئی شخص ہر آن اللہ کے رسول ﷺ کی حکم عدولی کرتا ہو اور آپ کی سنت و ہدایت کے مقابلہ میں بدعات و رسومات کو ترجیح دیتا ہو تو ایسا شخص حب ِرسول کا لاکھ دعویٰ کرے یہ کبھی اپنے دعویٰ میں سچا قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ اپنے تئیں سچا سمجھتا ہے تو سمجھتا رہے مگر اللہ کے رسول ﷺ ایسے نافرمان اور سنت کے تارک سے بری ہیں کیونکہ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

    ''فمن رغب عن سنتي فلیس مني'' (بخاری؛۵۰۶۳) جس نے میرے طریقے اور سنت سے منہ موڑا ،اس کا مجھ کوئی تعلق نہیں ۔
    یہ جملہ آپ ﷺ نے ان حضرات کو فرمایا تھا ،جو چند نفلی عبادات میں اضافے کا شوق رکھتے تھے۔
    جس کا حاصل یہ ہے کہ بندہ اگر بظاہر نیک کام میں بھی اپنی مرضی سے سنت رسول ﷺ سے مختلف عمل کرے گا تو یہ بھی
    محبت رسول ﷺ کی نفی اور ان کے حکم سے رو گردانی ہوگی ۔
    تو غور کرو جو آدمی خود ساختہ اعمال و نظریات کو اپنائے گا وہ کس قدر مخالف و نافرمان ٹھہرے گا ؟
    جشن میلاد النبی ﷺ ۔انہی خود ساختہ اعمال میں سے ہے ۔جنہیں محبت رسول ﷺ کے مقدس عنوان سے رائج و قبول کیا گیا ہے ۔
    اگر بالفرض یہ تسلیم کرلیا جائے کہ ۱۲؍ ربیع الاول ہی آنحضرتﷺ کا یومِ ولادت ہے تو تب بھی اس تاریخ کو جشن عید اور خوشیاں منانا اور اسے کارِ ثواب سمجھنا از روئے شریعت درست نہیں کیونکہ جب خود حضورﷺ نے اپنی ولادت کا 'جشن' نہیں منایا، کبھی 'عیدمیلاد' کا انتظام یا حکم نہیں فرمایا، نہ ہی صحابہ کرام نے کبھی یہ خود ساختہ 'عیدمیلاد' منائی اور نہ تابعین ، تبع تابعین، مفسرین ، محدثین اور ائمہ اربعہ (امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ) سے اس کا کوئی ثبوت فراہم ہوتا ہے تو لامحالہ یہ دین میں اضافہ ہے جسے آپ بدعت کہیں یا کچھ اور... بہرصورت اگر اسے کارِ ثواب ہی قرار دینا ہے تو پھر اس ہٹ دھرمی سے پہلے اعلان کردیجئے کہ آنحضرتﷺ سمیت تمام صحابہ، تابعین، تبع تابعین وغیرہ اس ثواب سے محروم رہے اور ہم گنہگار (نعوذ باللہ) ان عظیم لوگوں سے سبقت لے گئے ہیں!
     
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں