1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ ۔ چند روشن پہلو !!!

'سیرت سلف الصالحین رحمہم اللہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏اپریل 17، 2014۔

  1. ‏اپریل 17، 2014 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,961
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ ۔ چند روشن پہلو !!!
    10255715_244137072456014_995671487011250067_n.jpg
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    امام بخاری کا سلسلہ نسب محمد بن اسماعیل بن ابراھیم بن مغیرہ بن بروزبتہ البخاری الجعفی ہے۔ آپ کے والد اسماعیل جلیل القدر عالم تھے۔

    ۱۳ شوال ۱۹۴ ھ بروز جمعہ بخارا میں آپ کی ولادت ہوئی، کم سنی ہی میں شفقت پدری سے محروم ہو گئے۔ والدہ نے تعلیم و تربیت کی ذمہ داری نبھائی۔ بچپن ہی سے علم سے دل چسپی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہایت قوی حافظہ عطا فرمایا تھا۔ حدیثیں سنتے ہی آپ کو یاد ہوجاتیں۔ فقط ۱۶ برس کی عمر ہی میں عبد اللہ بن مبارک اور وقیع کی جمع کردہ حدیثیں حفظ کرلیں۔ ۱۸ سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں روضہ اقدس کی قریب بیٹھ کرچاندنی راتوں میں (چراغ نہ ہونے کے سبب) قضاےۃ الصحابہ کی تصنیف کی۔ آپ نے بہت سی کتابیں تصنیف کیں لیکن جو شہرت اور مقبولیت صحیح بخاری کو نصیب ہوئی وہ کسی اور کی حصے میں نہ آئی۔ علم حدیث کی سلسلے میں آپ نے شام، مصر، بصرہ، حجاز، خراسان وغیرہ کا سفر کیا۔ خود آپ کے بیان کی مطابق ایک ہزار اسی افراد سے حدیثیں حاصل کی۔ تلامذہ کا بھی وسیع حلقہ تھا۔ براہ راست آپ سے نوے ہزار اشخاص نے جامع صحیح کو سنا۔ ساری زندگی آپ کی شہرت رہی اور عوام و خواص مستفید ہوتے رہے۔ ۲۵۶ ھ میں داعی اجل کو لبیک کہا۔

    (۱) ابنی آپ بچے ہی تھے کہ بینائی جاتی رہی۔ والد کا سایہ سر سے اٹھ چکا تھا۔ والدہ کی سایہ عاطفت میں پرورش پا رہے تھے۔ لخت جگر کی حالت دیکھ کر مضطرب ہو گئیں۔ آخر بارگاہ ایزدی میں ہاتھ اٹھے۔ دل نے آہ زاری کی، آنکھوں نے اشک بہائے۔ اللہ کو یہ ادا پسند آئی، صالحین کی دعائیں رد نہیں ہوتیں، ابراھیم خلیل اللہ خواب میں آکر فرماتے ہیں اے نیک خو، تیرے نور نظر کا نور اللہ نے واپس کر دیا۔صبح بیدار ہو کر کیا دیکھتی ہیں کہ بیٹا بینا ہو گیا ہے۔

    (۲) آپ طفل مکتب ہیں، عمر تقریباً ۱۱ برس ہے، استاد داخلی کے حلقہ درس میں شامل ہونے لگے۔ استاد داخلی نے طلبہ کو ایک سند سنائی : سفیان عن ابی الزبیر عن ابراہیم۔ امام بخاری نے عرض کیا کہ ابو الزبیر ابراھیم سے روایت نہیں کرتے۔ استاد نے بچہ سمجھ کر توجہ نہ کی اور ڈانٹ دیا لیکن بعد میں اصل دیکھا تو اسی کو درست پایا۔ دوسرے دن حلقہ درس میں امام بخاری سے سوال کیا، اچھا بچے ذرا بتاؤ صحیح سند کیا ہے۔ آپ نے فرمایا یہ ابو الزبیر بن عدی ہیں جو ابراھیم سے روایت کرتے ہیں۔ استاد نے فرمایا تم نے درست کہا۔

    (۳) امام بخاری کے ہم درس حاشد بن اسماعیل کا بیان ہے کہ ہم لوگ بخارا کے علماء کے درس میں شامل ہوتے تھے۔ تمام ساتھی حدیثیں لکھتے لیکن امام بخاری نہ لکھتے جس پر دوسرے ساتھی ان کی ملامت کرتے اور کہتے جب تمہیں لکھنا پڑھنا نہیں ہے تو کیوں درس میں آتے ہو۔ ۱۵، ۱۶ دن ایسے ہی گزر گئے تو امام بخاری سے رہا نہ گیا، انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا تم لوگ اپنے دفتر نکالو، اس کے بعد امام نے اس دن تک پڑھی ہوئی تمام حدیثیں زبانی سنادی۔ حاشد کہتے ہیں کہ اس وقت ہم لوگ تقریباً پندرہ ہزار حدیثیں لکھ چکے تھے اور ہم لوگوں سے امام کی یاداشت سے اپنی نوشتوں کی اصلاح کی۔

    (۴) آپ کے علم و فضل کا شہرہ تھا چنانچہ جب آپ بغداد تشریف لے گئے تو وہاں کے علماء نے آپ کا امتحان لینا چاہا، ایک مجلس کا اہتمام کیا گیا جس میں امام بخاری کے سامنے دس لوگوں نے دس دس حدیثیں پیش کیں جس کے متن اور اسناد میں رد و بدل کردی گئی تھی۔ آپ ہر حدیث سننے کے بعد فرماتے جاتے مجھے اس کا علم نہیں ہے، بعض کم فہم یہ سمجھ بیٹھے کہ آپ معیار مطلوب کو نہیں پہونچے۔ آپ سب کی حدیثیں سننے کے بعد ہر ایک کو باری باری بلایا اور کہا تم نے جو حدیثیں بیان کی وہ اس طرح ہیں اور آپ نے ایک ایک کرکے سب کو ترتیب اور صحیح متن اور درست سند کے ساتھ سنا دیا۔ تمام لوگ آپ کا حفظ اور علم و فضل دیکھ ششدر رہ گئے۔

    (۵) آپ اپنے استاد اسحاق بن راہویہ کے درس میں موجود تھے، استاد محترم نے فرمایا کاش تم احادیث صحیح کے عنوان پر ایک کتاب جمع کردیتے، امام صاحب کے دل میں استاد کی بات گھر کر گئی۔ اسی دوران آپ نے خواب میں دیکھا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو پنکھا جھل رہے ہیں۔ تعبیر بتانے والوں سے استفسار کیا تو انہوں نے بتایا کہ تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے کذب و افتراء کی مکھیاں دور کرو گے، چنانچہ آپ کا ارادہ اور بختہ ہو گیا۔ آپ نے اپنے حافظہ میں موجود ۶ لاکھ حدیثوں میں سے صحیح احادیث کا انتخاب کرنا شروع کیا اور صحیح بخاری کی تالیف اس شان سے کی کہ اب تک یہ مقبولیت کسی دوسری کتاب کو نصیب نہ ہوئی۔ آپ ہر حدیث لکھنے سے پہلے غسل کرتے، دو رکعت نماز پڑھتے اور اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو کر دعا کرتے، اس کے بعد حدیث تحریر فرماتے۔ چنانچہ ۱۶ سال کی طویل مدت میں آپ نے صحیح بخاری کو مکمل کیا جسے اصح الکتب بعد کتاب اللہ کا درجہ ملا اور اسے عدیم المثال شہرت اور مقبولیت ملی۔

    (۶) ابو زید مروزی بیان کرتے ہیں کہ میں مقام ابراھیم اور حجر اسود کے درمیان سویا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا آپ فرما رہے تھے اے ابو زید امام شافعی کی کتاب کا درس کب تک دیتے رہو گے؟ میری کتاب کا درس کب دو گے ؟ میں نے عرض کیا حضور آپ کی کتاب کون سی ہے۔ آپ نے فرمایا محمد بن اسماعیل کی الجامع الصحیح۔

    (۷) ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ آپ بعد نماز ظہر نفل میں مشغول ہوگئے اور نہایت اطمینان سے نفل ادا کرنے کے بعد اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ذرا میرے کپڑے کے اندر دیکھنا، کوئی شے ہے۔ لوگوں نے دیکھا تو ایک بھڑ تھی اور آپ کے جسم پر ڈنک کے سترہ نشانات تھے۔ جسم متورم ہو گیا تھا۔ لوگوں نے فرض کیا آپ نے نماز کیوں نہ منقطع کردی۔ فرمایا میں ایسی سورۃ تلاوت کر رہا تھا دل چاہتا تھا کہ اسے مکمل کرلوں۔

    (۸) امام بخاری کو والد سے میراث میں کافی دولت ملی تھی جس سے آپ تجارت کیا کرتے تھے لیکن عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کے بجائے آپ اسے طلب علم اور غریبوں کی مدد کرنے میں صرف کردیتے۔ معاملات میں انتہائی محتاط تھے۔ ایک مرتبہ کچھ تاجر مال خریدنے کے غرض سے شام کے وقت آپ کے پاس پہونچے۔ ان سے گفتگو کے بعد معاملہ طے ہو گیا۔ آپ نے کہا شام ہو گئی آپ لوگ صبح آجائیں تو بہتر ہوگا۔ صبح کچھ دوسرے تاجر بھی آگئے اور انھوں نے آپ کے مال کی زیادہ قیمت لگائی۔ آپ نے فرمایا جو لوگ شام کو آئے انہیں مال دینے کا ارادہ کر چکا ہوں اس لئے چند ہزار کے لئے اپنا ارادہ تبدیل نہیں کر سکتا۔

    (۹)ایک مرتبہ امام بخاری سفر کر رہے تھے۔ آپ کے پاس ایک ہزار اشرفیاں تھیں۔ راستے میں ایک شخص نہایت عقیدت سے پیش آیا اور آپ سے تعلقات بڑھایا۔ آپ نے اس سے اپنے پاس اشرفیاں ہونے کا ذکر کر دیا۔ ایک دن اس شخص نے شور مچانا شروع کر دیا کہ میری ایک ہزار اشرفیاں غائب ہو گئی ہیں۔ کشتی والوں نے تلاشی لینا شروع کردی۔ امام بخاری نے خاموشی سے اپنی اشرفیوں کی تھیلی دریا میں ڈال دی۔ تلاشی کے بعد جب اشرفیاں نہ ملیں تو لوگوں نے اس شخص کو برا بھلا کہنا شروع کردیا۔ جب سفر مکمل ہوا تو وہ شخص امام سے تنہائی میں ملا اور اشرفیوں کے متعلق دریافت کیا۔ آپ نے نہایت اطمینان سے جواب دیا کہ میں نے دریا میں پھینک دی۔ وہ شخص تعجب سے آپ کو دیکھنے لگا اور اس کا سبب دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا میں اپنا سارا وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں جمع کرنے میں صرف کرتا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ میرے کردار پر چوری کے شبہ کا داغ رہے۔

    (۱۰) اخیر وقت میں آپ بخارا میں مقیم ہوئے۔ ایک دن حاکم بخارا خالد بن احمد کا قاصد آیا اور حاکم بخارا کی یہ درخواست پیش کی کہ آپ ہمیں اپنی کتاب صحیح بخاری اور کتاب التاریخ آکر سنایا کریں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ علم دین کی توہین ہے، اگر اسے حصول علم دین کی خواہش ہے تو خود ہمارے یہاں آئے اور عام مسلمانوں کی طرح سنے۔ حاکم کو یہ بات ناگوار گزری لیکن وہ براہ راست امام کے خلاف کوئی کاروائی کرنے کی ہمت نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے حریث بن ورثاء کو آمدہ کیا کہ عوام کو آپ کے خلاف اکسائے۔ حریث بن ورثاء نے آپ کے خلاف مشہور کردیا کہ امام الفاظ قرآن کے مخلوق ہونے کے قائل ہیں۔ اس الزام سے شہر میں ہنگامہ برپا ہو گیا اور بالآخر حاکم نے آپ کو شہر چھوڑنے کا حکم جاری کر دیا۔ اس سے آپ کو کافی تکلیف ہوئی۔ آپ نے فرمایا ا ے اللہ جس نے میرے ساتھ برا سلوک کیا اسے تو ہی بدلہ دے۔ آپ وہاں سے خرتنگ چلے گئے جہاں آپ کے کچھ رشتہ دار رہتے تھے۔ اس واقعہ کے ایک ہی مہینہ بعد حاکم بخارا معزول کرکے قید کردیا گیا اور قید ہی میں موت سے دو چار ہوا۔

    آپ جلا وطنی کے کرب کے شکار تھے۔ اہل سمرقند کو معلوم ہوا تو آپ کو اپنے یہاں چلنے کے لئے ضد کرنے لگے لیکن آپ ضعف کی وجہ سے سمرقند نہ جا سکے اور ۲۵۶ ھ میں مالک حقیقی سے جا ملے۔ آپ کے انتقال کی خبر جب سمرقند پہنچی تو کہرام مچ گیا۔ بعد نماز ظہر علم و فضل کا یہ آفتاب سپرد خاک کیا گیا۔

    انا للہ و انا الیہ راجعون
     
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 30، 2014 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,961
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    1461531_697635566941496_599890302795243728_n.jpg
    امام بخاری کے شاگرد امام مسلم رحمہ اللہ نے آپ کے سر کا بوسہ لیا اور فرمایا:
    "لا یبغضك إلا حاسد و أشھد أن لیس فی الدنیا مثلک"
    آپ سے صرف حسد کرنے والا شخص ہی بغض رکھتا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ دنیا میں آپ جیسا کوئی نہیں ہے۔
    (الارشاد للخلیلی: 961/3 و سندہ صحیح)



    امام الائمہ شیخ الاسلام محمد بن اسحاق بن خزیمہ النیسابوری رحمہ اللہ (متوفی 311ھ) نے فرمایا:

    "ما رأیت تحت أدیم السماء أعلم بالحدیث من محمد بن إسماعیل البخاري"

    میں نے آسمان کے نیچے محمد بن اسماعیل البخاری (رحمہ اللہ) سے بڑا حدیث کا عالم کوئی نہیں دیکھا۔

    (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم: ص 74 ح 155 و سندہ صحیح)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 30، 2014 #3
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بھائی! کیا اس قسم کی باتیں کرنا شریعت کی رو سے جائز ہے؟ صرف معلومات کی خاطر پوچھ رہا ہوں، کیا اس طرح کسی بھی نیک انسان کی تعریف غلو میں شمار ہو گی یا نہیں؟
    خضر حیات بھائی
    انس بھائی
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏اپریل 30، 2014 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,755
    موصول شکریہ جات:
    8,330
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ارسلان بھائی مجھےتوان باتوں میں کہیں غلو نظرنہیں آرہا ۔ امام مسلم اور ابن خزیمہ نے اپنے مشاہدےکی بنیادپرایک بات کہی ہے۔انکے ہاں واقعتا امام بخاری اس مرتبے پر فائزہوں گے۔
    اور ایساہونا کوئی ناممکن بھی نہیں۔
    یہ باتیں شاید اپنے ارد گرد کے ماحول کے حوالے سے ’’ غلو ‘‘ محسوس ہوتی ہیں ، لیکن اگر ان اقوال کےقائلین کی علمی قدر و منزلت ذرا ذہن میں رکھیں گےتو ایسا نہیں ہوگا۔
    یہ بات ضرور ہے کہ کسی کے کسی کے حق میں کوئی شہادت دے دینے سے ، دوسروں سے اختلاف کاحق ختم نہیں ہوسکتا ۔مثلا امام مسلم کے مطابق بخاری سے کوئی حاسدہی بغض رکھ سکتاہے ،یہ امام مسلم کامشاہدہ تھا ضروری نہیں کہ دیگرلوگ(علماء) بھی اس سے متفق ہوں ۔
     
    • پسند پسند x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏اپریل 30، 2014 #5
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    شکریہ بھائی، میں نے یہ معلومات کی غرض سے پوچھا ہے، میرے خیال میں آپ نے مناسب وضاحت کی ہے۔ جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں