• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری مترجم۔’’ التجرید الصریح لاحادیث الجامع الصحیح ''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ
(( باب ))
(222) عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهَا كَانَتْ تَكُونُ حَائِضًا لاَ تُصَلِّي وَهِيَ مُفْتَرِشَةٌ بِحِذَائِ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى خُمْرَتِهِ إِذَا سَجَدَ أَصَابَنِي بَعْضُ ثَوْبِهِ *
ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ وہ حائضہ ہوتی تھیں تو نماز نہ پڑھتی تھیں اور رسول اللہ ﷺ کی نماز پڑھنے کی جگہ کے سامنے برابر لیٹی ہوتی تھیں ۔ آپ ﷺ اپنی چادر پر نماز پڑھتے، جب سجدہ کرتے تو آپ ﷺ کا کچھ کپڑا مجھ سے لگ جاتا تھا ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
کتاب التیمم
تیمم کا بیان


بَابٌ : وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى { فَلَمْ تَجِدُوا مَائً …}(المائدة :۶)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ’’پس اگر تم پانی نہ پاؤ …‘‘​

(223) عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَائِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَائٍ فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالُوا أَلاَ تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَالنَّاسِ وَلَيْسُوا عَلَى مَائٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَائٌ فَجَائَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَائٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَائٌ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَجَعَلَ يَطْعُنُنِي بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَلاَ يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلاَّ مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ عَلَى فَخِذِي فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حِينَ أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَائٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرِ مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَأَصَبْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ *
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ ہم کسی سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے، یہاں تک کہ جب ہم بیداء یا ذات الجیش میں پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ (کر گر) گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو ڈھونڈنے کے لیے قیام کیا اور لوگ بھی آپ ﷺ کے ہمراہ ٹھہر گئے اور اس مقام پر کہیں پانی نہ تھا، (اور نہ ہی لوگوں کے پاس پانی تھا) لہٰذا لوگ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہاکہ آپ نہیں دیکھتے کہ (ام المومنین )عائشہ( رضی اللہ عنہ ) نے کیاکیا کہ رسول اللہ ﷺ اور سب لوگوں کو ٹھہرا لیا اور وہ بے آب مقام پر ہیں؟ اور نہ ہی ان کے ہمراہ پانی ہے۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ پر غصہ کیا اور جوکچھ اللہ نے چاہا کہ کہیں ، وہ انھوں نے کہہ ڈالا اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کونچہ مارنے لگے، رسول اللہ ﷺ کا سرمبارک میری ران پر تھا اور آپ سو رہے تھے اس لیے میں درد کی شدت سے جنبش بھی نہ کر سکی پھر صبح کو رسول اللہ ﷺ اٹھ بیٹھے درآنحالیکہ آپ بغیر پانی والے (مقام) پر تھے چنانچہ اللہ بزرگ و برتر نے آیت تیمم نازل فرمائی۔ پس سب نے تیمم کیا تو اسی دن سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہاکہ اے آل ابوبکر! یہ تمہاری پہلی برکت نہیں ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ جس اونٹ پر میں تھی، اس کو اٹھایا تو اس کے نیچے سے ہار مل گیا ۔

(224) عَن جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ ‘’ أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ فَلْيُصَلِّ وَأُحِلَّتْ لِيَ الْمَغَانِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً ‘’
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جومجھ سے پہلے کسی کونہ دی گئی تھیں ۔(۱) مجھے ایک مہینے کی مسافت پررعب کے ذریعہ مدد دی گئی ۔ (۲) پوری زمین میرے لیے مسجد بنا دی گئی اور پاک بنا دی گئی، پس میری امت میں سے جس شخص پر(جہاں بھی) نماز کا وقت ہوجائے اسے چاہیے کہ (اسی مقام پر) نماز پڑھ لے ۔(۳) میرے لیے غنیمت کے مال حلال کر دیے گئے ہیں اورمجھ سے پہلے کسی (نبی) کے لیے حلال نہ کیے گئے تھے ۔(۴) مجھے شفاعت کی اجازت دی گئی ۔(۵) ہر نبی خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا جبکہ میں تمام انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ ‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ التَّيَمُّمِ فِي الْحَضَرِ إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمَائَ وَخَافَ فَوْتَ الصَّلاَةِ
حضر میں جب پانی نہ پائے اور نماز کے جاتے رہنے کا خوف ہو تو تیمم کرنا (ضروری ہے)​

(225) عَنْ أَبِي الْجُهَيْمِ الأَنْصَارِيِّ قَالَ أَقْبَلَ النَّبِيُّ ﷺ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ ﷺ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ *
سیدنا ابوجہیم بن حارث انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی ﷺ بئر جمل کی طرف سے آئے اور آپ ﷺ کو ایک شخص (خود ابوجہیم) مل گیا اور اس نے آپ کو سلام کیا تو نبی ﷺ نے اسے جواب نہیں دیا یہاں تک کہ آپ دیوارکی طرف آئے (اس پر ہاتھ مارا) ، اپنے منہ اور ہاتھوں پر مسح فرمایا پھر اسے سلام کا جواب دیا۔
وضاحت: اگرچہ سلام کی لیے وضو کی شرط نہیں لیکن آپ ﷺ کو یہ بات پسند (اپنے لیے ) نہیں تھی کہ بے وضو اللہ کا ذکر کریں اس لیے پہلے تیمم کیا پھر جواب دیا۔ سلام بھی اللہ کا ذکر ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَاب الْمُتَيَمِّمُ هَلْ يَنْفُخُ فِيهِمَا
تیمم میں مٹی پر دونوں ہاتھ مار کر پھر (گرد کم کرنے کے لیے ) ان کو پھونکنا​

(226) عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمَا تَذْكُرُ أَنَّا كُنَّا فِي سَفَرٍ أَنَا وَأَنْتَ فَاَجْنَبْنَا فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فَصَلَّيْتُ فَذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ (إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا) فَضَرَبَ النَّبِيُّ ﷺ بِكَفَّيْهِ الأَرْضَ وَنَفَخَ فِيهِمَا ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ -
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہاکہ کیا آپ کو یاد نہیں کہ ہم اور آپ سفر میں تھے اور جنبی ہو گئے تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی اور میں (مٹی میں) الٹ پلٹ گیا اور نماز پڑھ لی،پھر میں نے نبی ﷺ سے اس کو بیان کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’تجھے اس طرح کرنا کافی تھا۔‘‘ (یہ کہہ کر) آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کوزمین پر مارا اور ان میں پھونک دیا پھر ان سے اپنے منہ اور ہاتھوں پر مسح کر لیا ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ : الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوئُ الْمُسْلِمِ يَكْفِيهِ مِنَ الْمَائِ
پاک مٹی مسلمان کا وضو (وہ پانی جس سے وضو کیا جاتا) ہے اور اسے پانی سے کفایت کرتی ہے​

(227) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصِيْنٍ الْخَزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنـَّا فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ وَإِنَّا أَسْرَيْنَا حَتَّى كُنَّا فِي آخِرِ اللَّيْلِ وَقَعْنَا وَقْعَةً وَلاَ وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا فَمَا أَيْقَظَنَا إِلاَّ حَرُّ الشَّمْسِ وَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ فُلاَنٌ ثُمَّ فُلاَنٌ ثُمَّ فُلاَنٌ يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَائٍ فَنَسِيَ عَوْفٌ ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الرَّابِعُ وَكَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا نَامَ لَمْ يُوقَظْ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ لِأَ نَّا لاَ نَدْرِي مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي نَوْمِهِ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ وَكَانَ رَجُلاً جَلِيدًا فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ بِصَوْتِهِ النَّبِيُّ ﷺ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ شَكَوْا إِلَيْهِ الَّذِي أَصَابَهُمْ قَالَ لاَ ضَيْرَ أَوْ لاَ يَضِيرُ ارْتَحِلُوا فَارْتَحَلَ فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِالْوَضُوئِ فَتَوَضَّأَ وَنُودِيَ بِالصَّلاَةِ فَصَلَّى بِالنَّاس فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلاتِهِ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ قَالَ مَا مَنَعَكَ يَا فُلاَنُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ قَالَ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلاَ مَائَ قَالَ عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ ثُمَّ سَارَ النَّبِيُّ ﷺ فَاشْتَكَى إِلَيْهِ النَّاسُ مِنَ الْعَطَشِ فَنَزَلَ فَدَعَا فُلاَنًا كَانَ يُسَمِّيهِ أَبُو رَجَائٍ نَسِيَهُ عَوْفٌ وَدَعَا عَلِيًّا فَقَالَ اذْهَبَا فَابْتَغِيَا الْمَائَ فَانْطَلَقَا فَتَلَقَّيَا امْرَأَةً بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ أَوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَائٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا فَقَالاَ لَهَا أَيْنَ الْمَائُ قَالَتْ عَهْدِي بِالْمَائِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةَ وَنَفَرُنَا خُلُوفًا قَالاَ لَهَا انْطَلِقِي إِذًا قَالَتْ إِلَى أَيْنَ قَالاَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَتِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّابِئُ قَالاَ هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ فَانْطَلِقِي فَجَائَا بِهَا إِلَى النَّبِيِّ ﷺ وَحَدَّثَاهُ الْحَدِيثَ قَالَ فَاسْتَنْزَلُوهَا عَنْ بَعِيرِهَا وَدَعَا النَّبِيُّ ﷺ بِإِنَائٍ فَفَرَّغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ أَوْ سَطِيحَتَيْنِ وَأَوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا وَأَطْلَقَ الْعَزَالِيَ وَنُودِيَ فِي النَّاسِ اسْقُوا وَاسْتَقُوا فَسَقَى مَنْ شَائَ وَاسْتَقَى مَنْ شَائَ وَكَانَ آخِرُ ذَاكَ أَنْ أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَائً مِنْ مَائٍ قَالَ اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ إِلَى مَا يُفْعَلُ بِمَائِهَا وَ اَيْمُ اللَّهِ لَقَدْ أُقْلِعَ عَنْهَا وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مِلأَةً مِنْهَا حِينَ ابْتَدَأَ فِيهَا فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ ‘’ اجْمَعُوا لَهَا فَجَمَعُوا لَهَا مِنْ بَيْنِ عَجْوَةٍ وَدَقِيقَةٍ وَسَوِيقَةٍ حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا فَجَعَلُوهَا فِي ثَوْبٍ وَحَمَلُوهَا عَلَى بَعِيرِهَا وَوَضَعُوا الثَّوْبَ بَيْنَ يَدَيْهَا قَالَ لَهَا تَعْلَمِينَ مَا رَزِئْنَا مِنْ مَائِكِ شَيْئًا وَلَكِنَّ اللَّهَ هُوَ الَّذِي أَسْقَانَا فَأَتَتْ أَهْلَهَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَنْهُمْ قَالُوا مَا حَبَسَكِ يَا فُلاَنَةُ قَالَتِ الْعَجَبُ لَقِيَنِي رَجُلاَنِ فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّابِئُ فَفَعَلَ كَذَا وَكَذَا فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَأَسْحَرُ النَّاسِ مِنْ بَيْنِ هَذِهِ وَهَذِهِ وَقَالَتْ بِإِصْبَعَيْهَا الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةِ فَرَفَعَتْهُمَا إِلَى السَّمَائِ تَعْنِي السَّمَائَ وَالأَرْضَ أَوْ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ حَقًّا فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَ ذَلِكَ يُغِيرُونَ عَلَى مَنْ حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَلاَ يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ مِنْهُ فَقَالَتْ يَوْمًا لِقَوْمِهَا مَا أُرَى أَنَّ هَؤُلاَئِ الْقَوْمَ يَدَعُوْنَكُمْ عَمَدًا فَهَلْ لَكُمْ فِي الإِسْلاَمِ فَأَطَاعُوهَا فَدَخَلُوا فِي الإِسْلاَمِ ‘’
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک سفرمیں نبی ﷺ کے ہمراہ تھے اور ہم رات کو چلے، یہاں تک کہ جب اخیر رات (ہوئی تو اس وقت) میں ہم مقیم ہوئے اور سب سوگئے اور مسافر کے نزدیک اس سے زیادہ کوئی نیند میٹھی نہیں ہوتی ۔ پھر ہمیں آفتاب کی گرمی نے بیدار کیا، پس سب سے پہلے جو جاگا فلاں شخص تھا، پھر فلاں شخص، پھر فلاں شخص، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ چوتھے جاگنے والے ہوئے اور نبی ﷺ جب سوتے تھے تو ان کوکوئی بیدار نہ کرتا تھا یہاں تک کہ آپ خود بیدار ہو جائیں کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ آپ کے لیے آپ کے خواب میں کیا ہورہاہے مگر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور انھوں نے وہ حالت دیکھی جو لوگوں پر طاری تھی اور وہ سخت مزاج کے آدمی تھے تو انھوں نے تکبیر کہی اور تکبیر کے ساتھ اپنی آواز بلندکی اور برابر تکبیر کہتے رہے اور تکبیر کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے رہے، یہاں تک کہ ان کی آواز کے سبب سے نبی ﷺ بیدار ہوئے۔ پس جب آپ بیدار ہوئے تو جو مصیبت لوگوں پر پڑی تھی اس کی شکایت آپ سے کی۔ تو آپ نے فرمایا :’’کچھ نقصان نہیں‘‘ یا (یہ فرمایا کہ) ’’کچھ نقصان نہ کرے گا، چلو(اس لیے کہ یہ سونا عمداً نہیں تھا)۔‘‘ پھر چلے اور تھوڑی دور جا کر اتر پڑے اور وضو کاپانی منگوایا،پھر وضو کیا اور نماز کی اذان کہی گئی اور آپ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو یکایک ایک ایسے شخص پر آپ کی نظر پڑی جو گوشہ میں بیٹھا ہوا تھا، لوگوں کے ساتھ اس نے نماز نہ پڑھی تھی، تو آپ نے فرمایا: ’’اے فلاں! تجھے لوگوں کے سا تھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟‘‘ تو اس نے کہا کہ مجھے جنابت ہو گئی تھی اور پانی نہ تھا۔ آپ نے فرمایا:’’ تو لازم پکڑ مٹی کو (تیمم کر) وہ تجھے کافی ہے۔‘‘ پھر نبی ﷺ چلے تو لوگوں نے آپ ﷺ سے پیاس کی شکایت کی، تو آپ ﷺ پھر اتر پڑے اور ایک شخص کو بلایا اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا کہ دونوں جاؤ اور پانی تلاش کرو۔ پس وہ دونوں چلے تو ایک عورت ملی جو پانی کی دو مشکوں کے درمیان اپنے اونٹ پر بیٹھی جا رہی تھی، تو ان دونوں نے اس سے پوچھا کہ پانی کہاں ہے؟ اس نے کہا میں کل اسی وقت پانی پر تھی اورہمارے مرد پیچھے رہ گئے ہیں۔ ان دونوں نے اس سے کہا خیر اب تو چل۔ وہ بولی کہاں ؟ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس۔ اس نے کہا وہی شخص جسے بے دین کہاجاتا ہے؟ انھوں نے کہا ہاں! وہی ہیں جن کو (تم یہ خیال کرتی ہو)،تو چل تو سہی۔ پس وہ دونوں اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے اور آپ سے ساری کیفیت بیان کی۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر لوگوں نے اسے اس کے اونٹ سے اتارا اور نبی ﷺ نے ایک ظرف (یعنی برتن) منگوایا اور دونوں مشکوں کے منہ کھول کر اس میں سے کچھ پانی اس برتن میں نکالا۔ (اس کے بعد) ان کے اوپر والے منہ کو بند کر دیااور نچلے منہ کو کھول دیا اور لوگوں میں آواز دے دی گئی کہ پانی پیو اور (اپنے جانوروں کوبھی) پلا لو۔ جس نے چاہا خود پیا اور جس نے چاہا پلایا اور اخیرمیں یہ ہوا کہ جس شخص کو جنابت ہو گئی تھی اس کوایک برتن پانی کا دیا اور آپ نے فرمایا :’’جا اور اس کو اپنے اوپر ڈال لے۔‘‘ اور وہ عورت کھڑی ہوئی یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی کہ اس کے پانی کے ساتھ کیا کیا جا رہاہے او راللہ کی قسم (جب پانی لینا) اس کے مشکوں سے موقوف کیا گیا تو یہ حال تھا کہ ہمارے خیال میں وہ اب اس وقت سے بھی زیادہ بھری ہوئی تھیں، جب آپ ﷺ نے اس سے پانی لینا شروع کیا تھا۔ پھر نبی ﷺ نے فرمایا:’’کچھ اس کے لیے جمع کردو۔‘‘ تو لوگوں نے اس کے لیے عجوہ کھجور، آٹا اورستو وغیرہ جمع کر دیے یہاں تک کہ ایک اچھی مقدار کا کھانا اس کے لیے جمع کر دیا اور اس کو ایک کپڑے میں باندھ دیا اور اس عورت کو اس کے اونٹ پر سوارکردیا اور کپڑا اس کے سامنے رکھ دیا۔ پھر آپ ﷺ نے اس سے فرمایا :’’تم جانتی ہو کہ ہم نے تمہارے پانی میں سے کچھ کم نہیں کیا،لیکن اللہ ہی نے ہمیں پلایا۔‘‘ پھر وہ عورت اپنے گھر والوں کے پاس آئی چونکہ وہ راہ میں روک لی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ تجھے کس نے روک لیا تھا ؟ تو اس نے کہا (کہ عجیب بات ہوئی) مجھے دو آدمی ملے اور وہ مجھے اس شخص کے پاس لے گئے، جسے بے دین کہاجاتا ہے اور اس نے ایسا ایسا کام کیا۔ پس قسم اللہ کی! یقینا وہ شخص اس کے اور اس کے درمیان میں سب سے بڑا جادوگر ہے اور اس نے اپنی دو انگلیوں یعنی انگشت شہادت اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کیا پھر ان کو آسمان کی طرف اٹھایا مراد اس کی آسمان و زمین تھی یا وہ سچ مچ اللہ کا رسول ہے۔ پس مسلمان اس کے بعد ، اس کے آس پاس کے مشرکوں سے لڑتے رہے اور جس آبادی (بستی) میں وہ عورت رہتی تھی ،اسے چھوڑ دیتے تھے۔ تو اس نے ایک دن اپنی قوم سے کہا کہ میںسمجھتی ہوں کہ بے شک یہ لوگ عمداً تمہیں چھوڑ دیتے ہیں، پس کیا تمہیں اسلام میں کچھ (رغبت) ہے؟ تو انھوں نے اس کی بات مان لی اور اسلام میں داخل ہو گئے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
کتاب الصلاۃ
نماز کا بیان


بَاب كَيْفَ فُرِضَتِ الصَّلاَةُ فِي الإِسْرَائِ
شب معراج میں نماز کس طرح فرض کی گئی؟​

(228) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ ‘’ فُرِجَ عَنْ سَقْفِ بَيْتِي وَ أَنَا بِمَكَّةَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَفَرَجَ صَدْرِي ثُمَّ غَسَلَهُ بِمَائِ زَمْزَمَ ثُمَّ جَائَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَ إِيمَانًا فَأَفْرَغَهُ فِي صَدْرِي ثُمَّ أَطْبَقَهُ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَائِ الدُّنْيَا فَلَمَّا جِئْتُ إِلَى السَّمَائِ الدُّنْيَا قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ السَّمَائِ افْتَحْ قَالَ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا جِبْرِيلُ قَالَ هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ قَالَ نَعَمْ مَعِي مُحَمَّدٌ ﷺ فَقَالَ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ فَلَمَّا فَتَحَ عَلَوْنَا السَّمَائَ الدُّنْيَا فَإِذَا رَجُلٌ قَاعِدٌ عَلَى يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ وَ عَلَى يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ إِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ وَ إِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَسَارِهِ بَكَى فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَ الإِبْنِ الصَّالِحِ قُلْتُ لِجِبْرِيلَ مَنْ هَذَا قَال هَذَا آدَمُ وَ هَذِهِ الأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ وَ شِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ فَأَهْلُ الْيَمِينِ مِنْهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَ الأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ فَإِذَا نَظَرَ عَنْ يَمِينِهِ ضَحِكَ وَ إِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى حَتَّى عَرَجَ بِي إِلَى السَّمَائِ الثَّانِيَةِ فَقَالَ لِخَازِنِهَا افْتَحْ فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ الاَوَّلُ فَفَتَحَ قَالَ أَنَسٌ فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَوَاتِ آدَمَ وَ إِدْرِيسَ وَ مُوسَى وَ عِيسَى وَ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ وَ لَمْ يُثْبِتْ كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ آدَمَ فِي السَّمَائِ الدُّنْيَا وَ إِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَائِ السَّادِسَةِ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِيلُ بِالنَّبِيِّ ﷺ بِإِدْرِيسَ قَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَ الأَخِ الصَّالِحِ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا إِدْرِيسُ ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوسَى فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَ الأَخِ الصَّالِحِ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا مُوسَى ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيسَى فَقَالَ مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَ النَّبِيِّ الصَّالِحِ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا عِيسَى ثُمَّ مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَ الإِبْنِ الصَّالِحِ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ: وَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَ أَبُو حَبَّةَ الأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولاَنِ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ ثُمَّ عُرِجَ بِي حَتَّى ظَهَرْتُ لِمُسْتَوَى أَسْمَعُ فِيهِ صَرِيفَ الأَقْلاَمِ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ فَفَرَضَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلاَةً فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى فَقَالَ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَكَ عَلَى أُمَّتِكَ قُلْتُ فَرَضَ خَمْسِينَ صَلاَةً قَالَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ فَرَاجَعْتُ فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى قُلْتُ وَضَعَ شَطْرَهَا فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ فَرَاجَعْتُ فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ فَرَاجَعْتُهُ فَقَالَ هِيَ خَمْسٌ وَ هِيَ خَمْسُونَ لاَ يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ فَقُلْتُ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى انْتَهَى بِي إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَ غَشِيَهَا أَلْوَانٌ لاَ أَدْرِي مَا هِيَ ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا فِيهَا حَبَايِلُ اللُّؤْلُؤِ وَ إِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ *
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’(ایک شب) میرے گھر کی چھت کھولی گئی اور میں مکہ میں تھا، پھر جبرئیل علیہ السلام اترے اور انھوں نے میرے سینہ کو چاک کیا، پھر اسے زم زم کے پانی سے دھویا، پھر ایک طشت سونے کا حکمت و ایمان سے بھرا ہوا لائے اور اسے میرے سینے میں ڈال دیا، پھر سینے کو بند کردیا ۔اس کے بعد میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھے آسمان پر چڑھا لے گئے تو جب میں آسمان دنیا پرپہنچاتو جبرئیل علیہ السلام نے آسمان کے داروغہ سے کہا کہ (دروازہ) کھول دو تو اس نے کہایہ کون ہے؟وہ بولے کہ یہ جبرئیل ہے۔ پھر اس نے کہاکیا تمہارے ساتھ کوئی (اور بھی) ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا ہاں! میرے ہمراہ محمد ﷺ ہیں۔ پھر اس نے کہا کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا ہاں پس جب دروازہ کھول دیا گیا تو ہم آسمان دنیا کے اوپر چڑھے، پس یکایک میری ایک ایسے شخص پر (نظر پڑی) جوبیٹھا ہوا تھا، اس کی دائیں جانب کچھ لوگ تھے اور اس کی بائیں جانب (بھی) کچھ لوگ تھے۔ جب وہ اپنے دائیں جانب دیکھتے تو ہنس دیتے اور جب بائیں طرف دیکھتے تو رو دیتے۔ پھر انھوں نے (مجھے دیکھ کر) کہا ’’مرحبا (خوش آمدید) نیک پیغمبر اور نیک بیٹے‘‘ میں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ تو انھوں نے کہا کہ یہ آدم علیہ السلام ہیں اور جو لوگ ان کے داہنے اور بائیں ہیں، ان کی اولاد کی روحیں ہیں۔ دائیں جانب جنت والے ہیں اور بائیں جانب دوزخ والے۔ اسی سبب سے جب وہ اپنی دائیں جانب نظر کرتے ہیں تو ہنس دیتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں تو رونے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ مجھے دوسرے آسمان تک لے گئے اور اس کے داروغہ سے کہا کہ دروازہ کھولو تو ان سے داروغہ نے اسی قسم کی گفتگو کی جیسے پہلے نے کی تھی، پھر دروازہ کھول دیا گیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پھر سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ آپ ﷺ نے آسمانوں میں آدم ،ادریس ، موسیٰ ، عیسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو پایا اور (اور ان کے ٹھکانے بیان نہیں کیے ، صرف اتنا کہا کہ آپ ﷺ نے) آدم علیہ السلام کو آسمان دنیا پر اور ابراہیم علیہ السلام کو چھٹے آسمان پر پایا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پھرجب جبریل علیہ السلام نبی ﷺ کو لے کر ادریس علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو انھوں نے کہا ’’خوش آمدید نیک پیغمبر اور نیک بھائی۔‘‘ (آپ ﷺ نے فرمایا کہ) میں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ تو جبریل علیہ السلام نے کہایہ ادریس علیہ السلام ہیں، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انھوں نے مجھے دیکھ کر کہا ’’خوش آمدید نیک پیغمبر اور نیک بھائی‘‘ میں نے (جبریل سے) پوچھا یہ کون ہیں؟ تو جبریل علیہ السلام نے کہا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں، پھر میں عیسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انھوں نے کہا ’’خوش آمدید نیک پیغمبر اور نیک بھائی‘‘ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ تو جبریل علیہ السلام نے کہا کہ یہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں، پھر میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس گزرا تو انھوں نے کہا ’’خوش آمدید نیک پیغمبر اور نیک بیٹے ‘‘ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔
(راوی نے) کہاکہ سیدنا ابن عباس اور ابو حبہ الانصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ پھر مجھے اور اوپر لیجایا گیا یہاں تک کہ میں ایک ایسے بلند و بالا مقام پرپہنچا جہاں (فرشتوں کے) قلم (چلنے) کی آواز میں سنتا تھا ۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا پھر اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں۔ پس میں ان کے ساتھ لوٹا یہاں تک کہ جب موسیٰ علیہ السلام پر گزرا تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اللہ نے آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا کہ پچاس نمازیں فرض کی ہیں۔ انھوں نے (یہ سنکر) کہا اپنے پروردگار کے پاس لوٹ جائیے، اس لیے کہ آپ کی امت (اس قدر عبادت کی) طاقت نہیں رکھتی۔ پس میں لوٹ گیا تو اللہ نے اس کا ایک حصہ معاف کر دیا۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس لوٹ کر آیا اور کہا کہ اللہ نے اس کا ایک حصہ معاف کر دیا ہے، پھر موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اپنے پروردگار سے رجوع کیجیے، کیونکہ آپ کی امت (اس کی بھی) طاقت نہیں رکھتی۔ پھر میں نے رجوع کیا تو اللہ نے ایک حصہ اس کا (اور) معاف کر دیا پھر میں ان کے پاس لوٹ کر آیا (اور بتایا) تو وہ بولے کہ آپ اپنے پروردگار کے پاس لوٹ جائیے کیونکہ آپ کی امت (اس کی بھی) طاقت نہیں رکھتی، چنانچہ میں نے پھر اللہ تعالیٰ سے رجوع کیا تو اللہ نے فرمایا’’ (اچھا ) یہ پانچ (مقرر کی جاتی) ہیں اور یہ (درحقیقت باعتبار ثواب کے) پچاس ہیں اور میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی۔ پھر میںموسیٰ علیہ السلام کے پاس لوٹ کر آیا، تو انھوں نے کہا کہ پھر اپنے پروردگار سے رجوع کیجیے ۔ میں نے کہا (اب) مجھے اپنے پروردگار سے (بار بار کہتے ہوئے) شرم آتی ہے، (پھر جبرائیل مجھے لیکر چلے اورسدرۃ المنتہیٰ تک پہنچایا) اور اس پر بہت سے رنگ چھا رہے تھے، (میں نہیں جانتا کہ وہ کیا تھے)۔ پھر مجھے جنت میں لیجایا گیا تو (کیا دیکھتا ہوں کہ) اس میں موتیوں کے ہار ہیں اور وہاں کی مٹی مشک ہے ۔

(229) عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ فَرَضَ اللَّهُ الصَّلاةَ حِينَ فَرَضَهَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَ السَّفَرِ فَأُقِرَّتْ صَلاةُ السَّفَرِ وَ زِيدَ فِي صَلاَةِ الْحَضَرِ*
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ اللہ نے جب نماز فرض کی تھی تو دو، دو رکعتیں فرض کی تھیں، حضر میں (بھی) اور سفر میں (بھی)۔ تو سفر کی نماز (اپنی اصلی حالت پر) قائم رکھی گئی اور حضر کی نماز میں زیادتی کر دی گئی ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ وُجُوبِ الصَّلاَةِ فِي الثِّيَابِ
کپڑوں میں نماز کا وجوب​

(230) عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ *
سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک کپڑے میں نماز پڑھی اس کے دونوں سروں کے درمیان میں تفریق کر دی تھی (یعنی الٹ کر کندھوں پر ڈال لیا)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ الصَّلاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ مُلْتَحِفًا بِهِ
ایک کپڑے میں ، (یعنی) اسی کو لپیٹ کر نماز پڑھنا (درست ہے)​

(231) عَن أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَت حَدِيْثُ صَلاَةِ النَّبيِّ ﷺ يَوْمَ الْفَتْحِ تَقَدَّمَ *
سیدہ ام ہانی بنت ابو طالب رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ فتح مکہ کے دن نبی ﷺ نے ایک کپڑے میں التحاف کر کے آٹھ رکعت (چاشت کی) نماز پڑھی۔

(232) وَ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ قَالَتْ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلاً قَدْ أَجَرْتُهُ فُلانَ ابْنَ هُبَيْرَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ وَ ذَاكَ ضُحًى *
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہ اس روایت میں کہتی ہیں کہ آپ ﷺ نے (فتح مکہ کے دن) ایک کپڑے میں التحاف کر کے آٹھ رکعت نماز پڑھی، جب فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میری ماں کے بیٹے (سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ میں ایک شخص کومار ڈالوں گا حالانکہ میں نے اسے پناہ دی ہے ہبیرہ کے فلاں بیٹے کو تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ام ہانی ! جسے تم نے پناہ دی اسے ہم نے بھی پناہ دی ۔ ام ہانی کہتی ہیں کہ یہ (نماز) چاشت تھی ۔

(233) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ سَائِلاً سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنِ الصَّلاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ‘’أَوَ لِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ ‘’
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک پوچھنے والے نے رسول اللہ ﷺ سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کاپوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم میں سے ہر ایک کے پاس دو دو کپڑے ہیں ؟ ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَاب إِذَا صَلَّى فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فَلْيَجْعَلْ عَلَى عَاتِقَيْهِ
جب ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو چاہیے کہ (اس کا کچھ حصہ) اپنے شانے پر ڈال لے​

(234) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ ‘’ لاَ يُصَلِّي أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقَيْهِ شَيْئٌ ‘’
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی بھی شخص ایسے ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے جس میں اس کے شانے پر کچھ نہ ہو ۔

(235) وعَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَال أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ ‘’ مَنْ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَلْيُخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ ‘’
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو چاہیے کہ اس کے دونوں سروں کے درمیان تفریق کرلے ۔(یعنی دایاں سرا بائیں کندھے پر اور بایاں سرا دائیں کندھے پر) ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَاب إِذَا كَانَ الثَّوْبُ ضَيِّقًا
جب کپڑا تنگ ہو (تو اس میں کیسے نماز پڑھے؟)​

(236) عَن جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَجِئْتُ لَيْلَةً لِبَعْضِ أَمْرِي فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي وَعَلَيَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَاشْتَمَلْتُ بِهِ وَصَلَّيْتُ إِلَى جَانِبِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ مَا السُّرَى يَا جَابِرُ فَأَخْبَرْتُهُ بِحَاجَتِي فَلَمَّا فَرَغْتُ قَالَ مَا هَذَا الإِشْتِمَال الَّذِي رَأَيْتُ قُلْتُ كَانَ ثَوْبٌ يَعْنِي ضَاقَ قَالَ فَإِنْ كَانَ وَاسِعًا فَالْتَحِفْ بِهِ وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاتَّزِرْ بِهِ ‘’
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے ہمراہ آپ کے کسی سفر میں نکلا تو ایک رات کو اپنی کسی ضرورت سے میں (آپ کے پاس) آیا تو میں نے آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا اور میرے (جسم) کے اوپر ایک کپڑا تھا، پس میں نے اس کو (زور سے) لپیٹ لیا اور آپ ﷺ کے پہلو میں (کھڑے ہو کر) میں نے بھی نماز پڑھی۔ جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا :’’اے جابر ! رات کو کیسے آنا ہوا ؟ ‘‘میں نے آپ کو اپنی ضرورت بتا دی پھر جب میں فارغ ہوا تو آپ نے فرمایا:’’ یہ کپڑا لپیٹنا جو میں نے دیکھا ، کیسا تھا ؟‘‘ میں نے کہا ایک کپڑا تھا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’اگر کپڑا وسیع ہو تو اس سے التحاف کر لیا کرو اور اگر تنگ ہو تو اس کی ازار (یعنی تہبند) بنا لو ۔ ‘‘

(237) عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رِجَالٌ يُصَلُّونَ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ عَاقِدِي أُزْرِهِمْ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ كَهَيْئَةِ الصِّبْيَانِ وَ يُقَالُ لِلنِّسَائِ لاَتَرْفَعْنَ رُئُوسَكُنَّ حَتَّى يَسْتَوِيَ الرِّجَالُ جُلُوسًا-
سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ نبی ﷺ کے ہمراہ نماز پڑھتے تھے، بچوں کی طرح اپنی ازاروں کو اپنے شانوں پر باندھ کر اور عورتوں سے کہہ دیا جاتاتھا کہ جب تک مرد سیدھے نہ بیٹھ جائیں اپنے سروں کو نہ اٹھانا ۔ (کیونکہ مردوں کے پاس ایک ہی کپڑا ہونے کی وجہ سے بے پردگی کا ڈر ہوتا تھا) ۔
 
Top