بَابٌ : الصَّلاَةُ كَفَّارَةٌ
نماز (گناہوں) کا کفارہ ہے
(326) عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي الْفِتْنَةِ قُلْتُ أَنَا كَمَا قَالَهُ قَالَ إِنَّكَ عَلَيْهِ أَوْ عَلَيْهَا لَجَرِيئٌ قُلْتُ فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَ مَالِهِ وَ وَلَدِهِ وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلاَةُ وَالصَّوْمُ وَالصَّدَقَةُ وَالأَمْرُ وَالنَّهْيُ قَالَ لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ وَ لَكِنِ الْفِتْنَةُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُ قَالَ لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْهَا بَأْسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ بَيْنَكَ وَ بَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا قَالَ أَيُكْسَرُ أَمْ يُفْتَحُ قَالَ يُكْسَرُ قَالَ إِذًا لاَ يُغْلَقُ أَبَدًا قُلْنَا أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ الْبَابَ قَالَ نَعَمْ كَمَا أَنَّ دُونَ الْغَدِ اللَّيْلَةَ إِنِّي حَدَّثْتُهُ بِحَدِيثٍ لَيْسَ بِالأَغَالِيْطِ فَسُئِلَ مَنِ الْبَابُ فَقَالَ عُمَرُ *
سیدناحذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ لوگ امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو انھوں نے کہا کہ فتنہ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی حدیث تم میں سے کسے یاد ہے؟ میں نے کہا کہ مجھے (بالکل اسی طرح) یاد ہے جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا ۔ امیرالمومنین عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر بیان کیجیے تو میں نے کہا کہ آدمی کا وہ فتنہ جو اس کی بیوی اور اس کے مال اور اولاد میں ہوتا ہے نماز ، روزہ ، صدقہ اور امر (بالمعروف) اور نہی (عن المنکر) اس کو مٹا دیتا ہے۔ امیرالمومنین عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں یہ نہیں (پوچھنا) چاہتا بلکہ وہ فتنہ جو دریا کی طرح موج زن ہو گا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے امیر المومنین! اس فتنہ سے آپ کو کچھ خوف نہیں کیونکہ آپ ( رضی اللہ عنہ ) کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے ۔ امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اچھا : وہ دروازہ توڑ ڈالا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ توڑ ڈالا جائے گا۔ پھر امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تو پھر(وہ دروازہ) کبھی بند نہ ہو گا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا عمر رضی اللہ عنہ اس دروازے کو جانتے تھے ؟ انھوں نے کہا ہاں (اس طرح جانتے تھے) جیسے (تم جانتے ہو) کہ دن کے بعد رات ہو گی۔ (سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ) نے وہ حدیث بیان کی جو غلط نہ تھی۔ پس ان سے (دروازے کا) پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ دروازہ ’’ امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے ۔ ‘‘
(327) عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلاً أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً فَأَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَأَخْبَرَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ { أَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ } فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! أَلِي هَذَا قَالَ لِجَمِيعِ أُمَّتِي كُلِّهِمْ *
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کسی (اجنبی) عورت کو بوسہ دے دیا پھر وہ نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے بیان کیا تو اللہ بزرگ و برتر نے یہ آیت نازل فرما دی:’’نماز کو دن کے سروں میں اور کچھ رات گئے قائم کرو بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں۔‘‘ تو وہ شخص بولا کہ اللہ کے رسول! کیا یہ میرے ہی لیے ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’میری تمام امت کے لیے ہے ۔‘‘
(328) وَ عَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رِوَايَةٍ لِمَن عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي *
ایک اور روایت میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : ’’میری امت میں سے ہر ایک (صغیرہ گناہ کا) کام کرنے والے کے لیے (یہ کفارہ) ہے۔‘‘