• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری مترجم۔’’ التجرید الصریح لاحادیث الجامع الصحیح ''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ إِقْبَالِ الإِمَامِ عَلَى النَّاسِ عِنْدَ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ
صفوں کو برابر کرتے وقت امام کا لوگوں کی طرف متوجہ ہونا (ثابت ہے)​

(422) عَن أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَائِ ظَهْرِي *
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ تم لوگ اپنی صفوں کو درست کر لو اور مل کر کھڑے ہوجاؤ ، میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے (بھی) دیکھتا ہوں ۔‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ إِذَا كَانَ بَيْنَ الإِمَامِ وَ بَيْنَ الْقَوْمِ حَائِطٌ أَوْ سُتْرَةٌ
جب امام اور لوگوں کے درمیان کوئی دیوار یا سترہ ہو (تو نماز ہو جائے گی)​

(423) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فِي حُجْرَتِهِ وَ جِدَارُ الْحُجْرَةِ قَصِيرٌ فَرَأَى النَّاسُ شَخْصَ النَّبِيِّ ﷺ فَقَامَ أُنَاسٌ يُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ فَأَصْبَحُوا فَتَحَدَّثُوا بِذَلِكَ فَقَامَ اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ فَقَامَ مَعَهُ أُنَاسٌ يُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ صَنَعُوا ذَلِكَ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَلَمْ يَخْرُجْ فَلَمَّا أَصْبَحَ ذَكَرَ ذَلِكَ النَّاسُ فَقَالَ إِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُكْتَبَ عَلَيْكُمْ صَلاَةُ اللَّيْلِ*
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز تہجداپنے حجرے میں پڑھا کرتے تھے اور حجرے کی دیوار چھوٹی تھی تو لوگوں نے نبی ﷺ کا جسم دیکھ لیا اور کچھ لوگ آپ ﷺ کی نماز کی اقتداء کرنے کھڑے ہو گئے پھر صبح ہوئی تو انھوں نے اس کا چرچا کیا پھر دوسری رات کو آپ ﷺ کھڑے ہو ئے تو کچھ لوگ آپ ﷺ کی اقتداء میں اس رات بھی کھڑے ہو گئے۔ دو رات یا تین رات لوگوں نے یہی کیا یہاں تک کہ جب اس کے بعد رات ہوئی تو رسول اللہ ﷺ گھرمیں بیٹھ رہے اور نماز پڑھنے نہیں نکلے۔ صبح کو لوگوں نے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے اس بات کا خوف کیا کہ (اس التزام کی وجہ سے کہیں) نماز (تہجد)تم پر فرض (نہ) کر دی جائے ۔ ‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ صَلاَةِ اللَّيْلِ
نماز تہجد(رات کی نماز کا بیان)​

(424) وَ فِي هَذَا الْحَدِيْثِ مِنْ رِوَايَةِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ زِيَادَةٌ أَنَّهُ قَالَ : قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلاَةِ صَلاَةُ الْمَرْئِ فِي بَيْتِهِ إِلاَّ الْمَكْتُوبَةَ *
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں (حدیث :۴۲۳سے اتنا زیادہ) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (صبح کو تشریف لائے اور) فرمایا :’’میں نے جو تمہارا فعل دیکھا اسے سمجھ لیا (یعنی تم کو عبادت کا شوق ہے) تو اے لوگو ! اپنے گھروں میں نماز پڑھو کیونکہ آدمی کی نمازوں میں افضل نماز وہ ہے جو اس کے گھر میں ہو سوائے فرض نماز کے ۔ ‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
کتاب ابواب صفۃ الصلاۃ
نماز کے مسائل


بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي التَّكْبِيرَةِ الأُولَى مَعَ الإِفْتِتَاحِ سَوَائً
پہلی تکبیر میں نماز شروع کرنے کے ساتھ دونوں ہاتھوں کا کندھوں تک اٹھانا​

(425) عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْن عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ وَ إِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ وَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا وَ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَ لَكَ الْحَمْدُ وَ كَانَ لاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ *
سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں شانوں یعنی کندھوں کے برابر اٹھاتے اور جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تب بھی دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے اور سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّـنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہتے اور (دونوں) سجدوں میں یہ (عمل ) نہ کرتے تھے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ وَضْعِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلاَةِ
نماز میں داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ کے اوپر رکھنا​

(426) عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلاَةِ *
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو (نبی ﷺ کی طرف سے) یہ حکم دیا جاتا تھا کہ نماز میں داہنا ہاتھ بائیں کلائی پر رکھیں ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ مَا يَقُولُ بَعْدَ التَّكْبِيرِ
ا س کا بیان کہ تکبیر (تحریمہ) کے بعد کیا پڑھے​

(427) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ وَ أَبَا بَكْرٍ وَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الصَّلاَةَ بِ { الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ } *
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اور ابو بکرصدیق و عمرفاروق رضی اللہ عنہما نماز کی ابتداء { اَلْحَمْدُ ﷲِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ } سے کیا کرتے تھے ۔

(428) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَسْكُتُ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَ بَيْنَ الْقِرَائَةِ إِسْكَاتَةً قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ هُنَيَّةً فَقُلْتُ بِأَبِي وَ أُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِسْكَاتُكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَائَةِ مَا تَقُولُ قَالَ أَقُولُ اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَ بَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَائِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ *
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تکبیر اور قرأت کے درمیان میں کچھ سکوت فرماتے تھے۔ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں تکبیر اور قرأت کے مابین سکوت کرنے میں آپ ﷺ کیا پڑھتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا :’’میں (یہ دعا)پڑھتا ہوں ’’اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان ایسا فاصلہ کر دے جیسا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان کر دیا ہے ، اے اللہ! مجھے گناہوں سے پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے ، اے اللہ! میرے گناہوں کو پانی اور بَرف اور اولوں سے دھو ڈال ۔ ‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ
((باب))​

(429) عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : حَدِيْثُ الْكَسُوْفِ وَ قَدْ تَقَدَّمَ وَ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ قَالَتْ : قَدْ دَنَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّى لَوِ اجْتَرَأْتُ عَلَيْهَا لَجِئْتُكُمْ بِقِطَافٍ مِنْ قِطَافِهَا وَ دَنَتْ مِنِّي النَّارُ حَتَّى قُلْتُ أَيْ رَبِّ وَ أَنَا مَعَهُمْ فَإِذَا امْرَأَةٌ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ تَخْدِشُهَا هِرَّةٌ قُلْتُ مَا شَأْنُ هَذِهِ قَالُوا حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا لاَ أَطْعَمَتْهَا وَ لاَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ قَالَ نَافِعٌ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ مِنْ خَشِيشِ أَوْ خَشَاشِ الأَرْضِ *
سیدہ اسماء بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہما سے مروی ، نماز کسوف کے بارے میں حدیث گزر چکی ہے۔ (دیکھیے حدیث: ۷۶) ۔ اس روایت میں کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’اس وقت جنت میرے قریب ہو گئی تھی حتیٰ کہ اگر میں اس پر جرأت کرتا تو اس کے خوشوں میں سے کوئی خوشہ تمہارے پاس لے آتا اور دوزخ بھی میرے قریب ہو گئی تھی یہاں تک کہ میں کہنے لگا کہ اے میرے پروردگار! کیا میں ان لوگوں کے ہمراہ (رکھا جاؤں گا ؟) پس یکا یک ایک عورت پر میری نظر پڑی ۔‘‘ مجھے خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’اس کو ایک بلی پنجہ مار رہی تھی، میں نے کہا اس کو کیا ہوا ؟ تو لوگوں نے کہا کہ اس نے بلی کو باندھ رکھا تھا یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی۔ یہ (عورت) نہ اس کو کھلاتی تھی اور نہ اس کو چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے (جیسے چوہے وغیرہ کھا لیتی ) (نافع کو شک ہے کہ خَشِیْشِ یا خَشَاشِ الْاَرْضِ کہا )۔

(430) اصل نسخہ کی ۴۲۹اور ۴۳۰احادیث اکٹھی کر دی گئی ہیں۔ (ابن ابراہیم)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ رَفْعِ الْبَصَرِ إِلَى الإِمَامِ فِي الصَّلاَةِ
نماز میں امام کی طرف نظر اٹھانا (جائز ہے)​

(431) عَنْ خَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قِيْلَ لَهُ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَالَ نَعَمْ قُلْنَا بِمَ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَاكَ قَالَ بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ *
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر (کی نماز) میں (کچھ) پڑھتے تھے؟ خباب رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں۔ پوچھا گیا کہ آپ کس بات سے اس کی تمیز کرتے تھے ؟ تو خباب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ ﷺ کی ڈاڑھی مبارک کے ہلنے سے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ رَفْعِ الْبَصَرِ إِلَى السَّمَائِ فِي الصَّلاَةِ
نماز میں آسمان کی طرف نظر اٹھانا (جائز نہیں)​

(432) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَائِ فِي صَلاَتِهِمْ فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ *
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’لوگوں کو کیاہواہے کہ اپنی نماز میں اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں ؟ پس اس کے بارے میں آپ ﷺ کی گفتگو بہت سخت ہو گئی یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اس سے باز آئیں ورنہ ان کی بینائیاں لے لی جائیں گی ۔ ‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ الإِلْتِفَاتِ فِي الصَّلاَةِ
نماز میں ادھر ادھر دیکھنا کیسا ہے ؟​

(433) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنِ الإِلْتِفَاتِ فِي الصَّلاَةِ فَقَالَ هُوَ اخْتِلاَسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلاَةِ الْعَبْدِ *
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ نماز میں ادھر ادھر دیکھنا کیسا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’یہ شیطان کی جھپٹ ہے وہ آدمی کی نماز پر ایک جھپٹ مارتا ہے ۔ ‘‘
 
Top