- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
بَابُ وُضُوئِ الصِّبْيَانِ
بچوں کا وضو کرنا (ثابت ہے)
بچوں کا وضو کرنا (ثابت ہے)
(488) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَرَّ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَأَمَّهُمْ وَصَفُّوا عَلَيْهِ *
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک بالکل الگ تھلگ(لاوارث بچے کی) قبر کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے لوگوں کی امامت کی اور لوگوں نے آپ ﷺ کے پیچھے صف باندھی اور اس کی نماز (جنازہ) پڑھی ۔
(فائدہ) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی نمازِجنازہ پڑھی جو ابھی کم عمر تھے اور ظاہر ہے نماز کے لیے انہوں نے وضو کیا، جو اس حدیث سے ثابت کرنا مقصود ہے۔(محمود الحسن اسد)
(489) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ *
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’جمعہ کے دن ہر بالغ پر غسل واجب ہے ۔ ‘‘
(490) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَهُ رَجُلٌ شَهِدْتَ الْخُرُوجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ نَعَمْ وَ لَوْ لاَ مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ يَعْنِي مِنْ صِغَرِهِ أَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَى النِّسَائَ فَوَعَظَهُنَّ وَ ذَكَّرَهُنَّ وَ أَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُهْوِي بِيَدِهَا إِلَى حَلْقِهَا تُلْقِي فِي ثَوْبِ بِلاَلٍ ثُمَّ أَتَى هُوَ وَ بِلاَلٌ الْبَيْتَ *
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے کہا کہ کیا تم نبی ﷺ کے ہمراہ (عید گاہ) جانے کے لیے حاضر ہوئے ہو؟ تو انھوں نے کہا ہاں! اگرمیری قرابت آپ ﷺ سے نہ ہوتی تو میں حاضر نہ ہو سکتا (یعنی کمسنی کے سبب سے) آپ ﷺ اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے مکان کے پاس ہے پھر آپ ﷺ نے خطبہ پڑھا ،اس کے بعد عورتوں کے پاس آئے اور انھیں نصیحت کی اور ان کو (اللہ کے احکام کی) یاد دلائی اور انھیں حکم دیا کہ صدقہ دیں پس کوئی عورت اپنا ہاتھ اپنی انگوٹھی کی طرف بڑھانے لگی اور کوئی اپنی بالی کی طرف اور کوئی کسی زیور کی طرف اور اس کو اتار اتار کر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی چادر میں ڈالنے لگیں، پھر آپ ﷺ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ گھر تشریف لے آئے۔