• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری مترجم۔’’ التجرید الصریح لاحادیث الجامع الصحیح ''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ وُضُوئِ الصِّبْيَانِ
بچوں کا وضو کرنا (ثابت ہے)​

(488) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَرَّ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَأَمَّهُمْ وَصَفُّوا عَلَيْهِ *
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک بالکل الگ تھلگ(لاوارث بچے کی) قبر کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے لوگوں کی امامت کی اور لوگوں نے آپ ﷺ کے پیچھے صف باندھی اور اس کی نماز (جنازہ) پڑھی ۔
(فائدہ) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی نمازِجنازہ پڑھی جو ابھی کم عمر تھے اور ظاہر ہے نماز کے لیے انہوں نے وضو کیا، جو اس حدیث سے ثابت کرنا مقصود ہے۔(محمود الحسن اسد)

(489) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ *
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’جمعہ کے دن ہر بالغ پر غسل واجب ہے ۔ ‘‘

(490) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَهُ رَجُلٌ شَهِدْتَ الْخُرُوجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ نَعَمْ وَ لَوْ لاَ مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ يَعْنِي مِنْ صِغَرِهِ أَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَى النِّسَائَ فَوَعَظَهُنَّ وَ ذَكَّرَهُنَّ وَ أَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُهْوِي بِيَدِهَا إِلَى حَلْقِهَا تُلْقِي فِي ثَوْبِ بِلاَلٍ ثُمَّ أَتَى هُوَ وَ بِلاَلٌ الْبَيْتَ *
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے کہا کہ کیا تم نبی ﷺ کے ہمراہ (عید گاہ) جانے کے لیے حاضر ہوئے ہو؟ تو انھوں نے کہا ہاں! اگرمیری قرابت آپ ﷺ سے نہ ہوتی تو میں حاضر نہ ہو سکتا (یعنی کمسنی کے سبب سے) آپ ﷺ اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے مکان کے پاس ہے پھر آپ ﷺ نے خطبہ پڑھا ،اس کے بعد عورتوں کے پاس آئے اور انھیں نصیحت کی اور ان کو (اللہ کے احکام کی) یاد دلائی اور انھیں حکم دیا کہ صدقہ دیں پس کوئی عورت اپنا ہاتھ اپنی انگوٹھی کی طرف بڑھانے لگی اور کوئی اپنی بالی کی طرف اور کوئی کسی زیور کی طرف اور اس کو اتار اتار کر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی چادر میں ڈالنے لگیں، پھر آپ ﷺ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ گھر تشریف لے آئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ خُرُوجِ النِّسَائِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِاللَّيْلِ وَالْغَلَسِ
رات کے وقت اور اندھیرے میں عورتوں کا مسجدوں کی طرف جانا (منع نہیں ہے)​

(491) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ بِاللَّيْلِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأْذَنُوا لَهُنَّ *
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’جب رات کے وقت تم سے تمہاری عورتیں مسجد میں (نماز پڑھنے کے لیے ) جانے کی اجازت مانگیں تو انھیں اجازت دے دو۔ ‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
کتاب الجمعہ
جمعہ کا بیان


بَابُ فَرْضِ الْجُمُعَةِ
جمعہ کی فرضیت​

(492) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ “ نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا ثُمَّ هَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللَّهُ فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ الْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ “
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’ہم باعتبار ترتیب امم،سب امتوں کے بعد آئے ہیں لیکن قیامت کے دن حساب وکتاب اور جنت میں جانے کے لحاظ سے سب سے آگے ہوں گے۔ ہاں یہود و نصاریٰ کو ہم سے پہلے کتاب ضرور دی گئی تھی پس جمعہ کے دن عبادت کرنا ان پر فرض کیا گیا تھا مگر انھوں نے اختلاف کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی ہدایت کر دی ۔ پس سب لوگ اس بات میں ہم سے پیچھے ہیں۔یہود کا دن کل (ہفتہ ) اور نصاریٰ کا دن پرسوں (یعنی اتوار) ہے۔‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَاب الطِّيبِ لِلْجُمُعَةِ
جمعہ کے دن خوشبو لگانا (مسنون ہے)​

(493) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ وَ أَنْ يَسْتَنَّ وَ أَنْ يَمَسَّ طِيبًا إِنْ وَجَدَ *
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ہر بالغ پر جمعہ کے دن نہانا ضروری ہے اور یہ کہ مسواک کرے اور اگر میسر ہو تو خوشبو لگائے ۔ ‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَاب فَضْلِ الْجُمُعَةِ
نماز جمعہ کی فضیلت​

(494) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً وَ مَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً وَ مَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ وَ مَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً وَ مَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ *
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’جو شخص جمعہ کے دن مثل غسل جنابت کے (خوب اچھی طرح) غسل کرے، اس کے بعد (نماز کے لیے ) چلے تو گویا اس نے ایک اونٹ کا صدقہ کیا اور جو دوسری گھڑی میں چلے توگویا اس نے ایک گائے صدقہ کی اور جو تیسری گھڑی میں چلے تو گویا اس نے ایک سینگوں والا مینڈھا صدقہ کیا اور جو چوتھی گھڑی میں چلے تو گویا اس نے ایک مرغی صدقہ میں دی اور جو پانچویں گھڑی میں چلے تو اس نے گویا ایک انڈا صدقہ میں دیا پس جس وقت امام (خطبہ دینے ) نکل آتا ہے تو فرشتے خطبہ سننے کے لیے اندر آجاتے ہیں (اور ثواب کا سلسلہ موقوف ہو جاتا ہے)۔ ‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ الدُّهْنِ لِلْجُمُعَةِ
جمعہ کی نماز کے لیے تیل لگا (کر جانا) مسنون ہے​

(495) عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ لاَ يَغْتَسِلُ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَ يَتَطَهَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ وَ يَدَّهِنُ مِنْ دُهْنِهِ أَوْ يَمَسُّ مِنْ طِيبِ بَيْتِهِ ثُمَّ يَخْرُجُ فَلاَ يُفَرِّقُ بَيْنَ اثْنَيْنِ ثُمَّ يُصَلِّي مَا كُتِبَ لَهُ ثُمَّ يُنْصِتُ إِذَا تَكَلَّمَ الإِمَامُ إِلاَّ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَ بَيْنَ الْجُمُعَةِ الأُخْرَى *
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے :’’جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور جس قدر ممکن ہو طہارت کرے پھر (بالوں کو) تیل لگائے یا اپنے گھرکی خوشبو استعمال کرے پھر اس کے بعد (جمعہ کی نماز کے لیے ) نکلے اور دو آدمیوں کے درمیان (جو مسجد کے اندر بیٹھے ہوئے ہوں)تفریق نہ کرے پھر جس قدر اس کی قسمت میں ہو نماز پڑھے اس کے بعدجس وقت امام خطبہ دینے لگے توچپ رہے تو اس کے وہ گناہ جو اس جمعہ اور گزشتہ جمعہ کے درمیان (ہو گئے) ہیں ،معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘

(497) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّه قِيلَ لَهُ : ذَكَرُوا أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْسِلُوا رُئُوسَكُمْ وَ إِنْ لَمْ تَكُونُوا جُنُبًا وَ أَصِيبُوا مِنَ الطِّيبِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَمَّا الْغُسْلُ فَنَعَمْ وَ أَمَّا الطِّيبُ فَلاَ أَدْرِي *
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے :’’جمعہ کے دن غسل کرو اور اپنے سروں کو اچھی طرح دھو ڈالو، اگرچہ تم جنبی نہ ہو اور خوشبو کا استعمال کرو ۔‘‘ ابن عباس رضی اللہ عنہما بولے کہ غسل تو ہاں (میں بھی جانتا ہوں کہ اس کا آ پ ﷺ نے حکم دیا ہے) لیکن خوشبو کو میں نہیں جانتا ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ يَلْبَسُ أَحْسَنَ مَا يَجِدُ
(جمعہ کے دن) عمدہ سے عمدہ لباس جو میسر ہو پہنے​

(497) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّه، وَجَدَ حُلَّةً سِيَرَآئَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ ثُمَّ جَائَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مِنْهَا حُلَلٌ فَأَعْطَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْهَا حُلَّةً فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَسَوْتَنِيهَا وَ قَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا فَكَسَاهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخًا لَهُ بِمَكَّةَ مُشْرِكًا *
امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک مسجد کے پاس دروازے کے پاس ایک ریشمی جوڑا فروخت ہوتے دیکھا تو انھوں نے عرض کی کہ یارسول اللہ! کاش آپ اس کو مول لے لیتے اور اس کو جمعہ کے دن اور قاصدوں کے سامنے جب وہ آپ ﷺ کے پاس آتے ہیں،پہن لیا کریں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے تو وہی شخص پہنے گا جس کا آخرت میں کچھ حصہ نہ ہو ۔‘‘اس کے بعد(کہیں سے) اسی قسم کے کئی ریشمی جوڑے رسول اللہ ﷺ کے پاس آگئے تو آپ ﷺ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس میں سے ایک حلہ (ریشمی جوڑا) دے دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ! آپ نے مجھے یہ دیدیا حالانکہ آپ حلہ ٔعطارد کے بارے میں کچھ ارشاد فرماچکے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’میں نے آپ کو اس لیے نہیں دیا کہ تم خود اس کو پہنو ۔‘‘پس عمر رضی اللہ عنہ نے وہ حلہ اپنے ایک مشرک بھائی کو جو مکہ میں تھا پہنا دیا ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ السِّوَاكِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
جمعہ کے دن مسواک کرنا (مسنون ہے)​

(498) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي أَوْ عَلَى النَّاسِ لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ صَلاَةٍ *
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’مجھے اپنی امت کے لوگوں کی تکلیف و مشقت کا خیال نہ ہوتاتو بے شک انھیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا ۔ ‘‘

(499) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاكِ *
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ ہم لوگوں سے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’میں نے تمہیں مسواک (کی فضیلتوں) کے بارے میں بہت کچھ سکھایا ہے ۔ ‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ مَا يُقْرَأُ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
جمعہ کے دن فجرکی نماز میں کیا پڑھا جائے ؟​

(500) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ { الٓمٓ تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ }وَ { هَلْ أَتَى عَلَى الإِنْسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ } *
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن فجر (کی نماز) میں الٓم السجدۃ (سورہ ٔ سجدہ) اور ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّہْرِ (سورۂ الدھر ) پڑھا کرتے تھے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ الْجُمُعَةِ فِي الْقُرَى وَالْمُدُنِ
جمعہ گاؤں اور شہروں ، دونوں میں جائز ہے​

(501) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَ كُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ الإِمَامُ رَاعٍ وَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَ هُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَ مَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا وَالْخَادِمُ رَاعٍ فِي مَالِ سَيِّدِهِ وَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ قَالَ وَ حَسِبْتُ أَنْ قَدْ قَالَ وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي مَالِ أَبِيهِ وَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ *
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:’’ تم سب لوگ مسئول (یعنی حاکم و ذمہ دار) ہو اور تم سب لوگوں سے تمہاری رعیت کے بارے میںباز پرس ہو گی ۔ امام (بھی) مسئول ہے اور اس سے اس کی رعیت کی بابت باز پرس ہو گی اور مرد اپنے گھر میں مسئول ہے اور اس سے اس کی رعیت کی باز پرس ہو گی اور عورت اپنے شوہر کے گھر میں مسئولہ ہے اور اس سے اس کی رعیت کی بابت باز پرس ہو گی اور خادم اپنے آقا کے مال میں مسئول ہے اور اس سے اس کی اور رعیت کی بابت باز پرس ہو گی۔‘‘ (راوی ابن شہاب) کہتے ہیں مجھے خیال ہے کہ انھوں نے یہ بھی کہا:’’آدمی اپنے باپ کے مال میں مسئول ہے اور اس سے اس کی رعیت کی بابت باز پرس ہو گی اور تم سب کے سب مسئول (یعنی حاکم) ہو اور تم سب سے تمہاری رعیت کی بابت باز پرس ہو گی ۔ ‘‘
(فائدہ) امام بخاری رحمہ اللہ اس سے پہلی روایت میں بحرین کی بستی جوانی کا ذکر کرچکے ہیں جس میں نبی ﷺ کی مسجد کے بعد سب سے پہلے خطبہ جمعہ ہوا۔ اور یہ روایت بھی امام زہری نے رذیق ابن حکیم کے اس سوال کے جواب میں بیان کی کہ کیا میں اپنے حبشی غلاموں کو جو میری زمینوں پر کھیتی باڑی کرتے ہیں، جمعہ پڑھاؤں تو انہوں نے کہا کہ ہاں پڑھاؤ اور پھر یہ حدیث بیان کی ۔‘‘( محمود الحسن اسد)
 
Top