کتاب الزکوۃ
زکوۃ کے بیان میں
بَابُ وُجُوبِ الزَّكَاةِ
زکوٰۃ کا واجب ہونا شریعت سے ثابت ہے
(702) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ بَعَثَ مُعَاذًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ ادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَ لَيْلَةٍ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَ تُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ *
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو قاضی بنا کر یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا : “اے معاذ! تم وہاں کے لوگوں کو اس امر کے اقرار پر رغبت دلانا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں پس اگر وہ اس بات کو مان لیں تو انہیں بتا دینا کہ اللہ نے ہر رات اور دن میں پانچ نمازیں ان پر فرض کی ہیں پھر اگر وہ اس بات کو بھی مان لیں تو انہیں بتا دینا کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں صدقہ(زکوٰۃ) فرض کیا ہے جو ان کے مالداروں سے لیا جائے گا اور ان کے فقیروں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ “
(703) عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِلنَّبِيِّ ﷺ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ مَا لَهُ مَا لَهُ وَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ أَرَبٌ مَا لَهُ تَعْبُدُ اللَّهَ وَ لاَ تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَ تُقِيمُ الصَّلاَةَ وَ تُؤْتِي الزَّكَاةَ وَ تَصِلُ الرَّحِمَ *
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے عرض کی کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتایے جو مجھے جنت میں داخل کردے۔ لوگوں نے کہا کہ اسے کیا ہو گیا ہے ،کیوں اس طرح کی بات کر رہا ہے ؟تو نبی ﷺ نے فرمایا:”صاحب ضرورت ہے اور اسے کیا ہو گیا ہے (اچھا سن میں تجھے ایسا عمل بتا دیتا ہوں) تو اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر اور نماز پڑھا کر اور زکوٰۃ دیا کر اور صلہ رحمی کیا کر ۔”
(704) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَالَ تَعْبُدُ اللَّهَ لاَ تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَ تُقِيمُ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ وَ تُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَ تَصُومُ رَمَضَانَ قَالَ وَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ أَزِيدُ عَلَى هَذَا فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ ﷺ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا *
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کی کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے کہ اگر میں اس کو کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں تو آپ ﷺ نے فرمایا:”تو اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر اور فرض نماز پڑھا کر اور فرض زکوٰۃ دیاکر اور رمضان کے روزے رکھا کر ۔”وہ اعرابی بولا کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اس سے زیادہ (عبادت) نہ کروں گا پھر جب وہ چل دیا تو نبی ﷺ نے فرمایا:”جس شخص کو یہ بات اچھی معلوم ہوتی ہو کہ وہ اہل جنت میں سے کسی شخص کو دیکھے تو اس کو چاہیے کہ اس شخص کو دیکھ لے ۔ “
(705) عَن أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَ كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَ كَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَهَا فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَ نَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَ حِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ فَقَالَ وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ قَدْ شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ *
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اور ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو بعض عرب قبائل مرتد ہو گئے ۔سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان مرتدین سے لڑنے کا ارادہ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ ان لوگوں سے کیونکر لڑ سکتے ہیں جب کہ رسول اللہ ﷺ فرما چکے ہیں کہ “مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اﷲ کہہ دیں پس جو شخص لا الہ الا اﷲ کہہ دے تو بے شک اس نے اپنا مال اور اپنی جان مجھ سے محفوظ کر لیامگر بحق اسلام اور اس کا حساب اللہ پر ہے۔ “سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم! میں اس شخص سے ضرور جنگ کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں تفریق کرے گا اس لیے کہ زکوٰۃ حق ہے مال میں ۔ اللہ کی قسم اگر وہ ایک بھیڑ کا بچہ جو زکوٰۃ میں رسول اللہ ﷺ کے دورمیں دیتے تھے مجھے نہ دیں گے تو میں اس کو روک لینے پر ضرور ان سے جنگ کروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! وہ (اصابت رائے اور پختگیٔ ارادہ) صرف اس وجہ سے تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سینہ کو (مصلحت اندیشی کے لیے ) کھول دیا تھا ،لہٰذا میں سمجھ گیا کہ یہی حق ہے ۔