• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری مترجم۔’’ التجرید الصریح لاحادیث الجامع الصحیح ''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ مَا قِيلَ فِي أَوْلاَدِ الْمُشْرِكِينَ
مشرکوں کے بچوں کی بابت (جو قبل بلوغ کے مر جائیں) کیا کہا گیا ہے؟​

(696) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ أَوْلادِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ اللَّهُ إِذْ خَلَقَهُمْ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ *
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے مشرکوں کے بچوں کی بابت پوچھا گیا (کہ اگر وہ بلوغ سے پہلے مر جائیں تو جنت میں جائیں گے یا دوزخ میں؟) تو آپ ﷺ نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ نے جس وقت ان کو پیدا کیا ہے اسی وقت سے خوب جانتا ہے کہ یہ (بچے زندہ رہتے تو) کیسے عمل کرتے۔ (جنت کے لا ئق ہیں یا دوزخ کے )۔”
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ
((باب))​

(697) عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا صَلَّى صَلاَةً أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ مَنْ رَأَى مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيًا ؟ قَالَ فَإِنْ رَأَى أَحَدٌ قَصَّهَا فَيَقُولُ مَا شَائَ اللَّهُ فَسَأَلَنَا يَوْمًا فَقَالَ هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيًا قُلْنَا لاَ قَالَ لَكِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي فَأَخَذَا بِيَدِي فَأَخْرَجَانِي إِلَى الأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ وَ رَجُلٌ قَائِمٌ بِيَدِهِ كَلُّوبٌ مِنْ حَدِيدٍ قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ مُوسَى إِنَّهُ يُدْخِلُ ذَلِكَ الْكَلُّوبَ فِي شِدْقِهِ حَتَّى يَبْلُغَ قَفَاهُ ثُمَّ يَفْعَلُ بِشِدْقِهِ الآخَرِ مِثْلَ ذَلِكَ وَ يَلْتَئِمُ شِدْقُهُ هَذَا فَيَعُودُ فَيَصْنَعُ مِثْلَهُ قُلْتُ مَا هَذَا قَالاَ انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ عَلَى قَفَاهُ وَ رَجُلٌ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِهِ بِفِهْرٍ أَوْ صَخْرَةٍ فَيَشْدَخُ بِهِ رَأْسَهُ فَإِذَا ضَرَبَهُ تَدَهْدَهَ الْحَجَرُ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ لِيَأْخُذَهُ فَلاَ يَرْجِعُ إِلَى هَذَا حَتَّى يَلْتَئِمَ رَأْسُهُ وَ عَادَ رَأْسُهُ كَمَا هُوَ فَعَادَ إِلَيْهِ فَضَرَبَهُ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالاَ انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا إِلَى ثَقْبٍ مِثْلِ التَّنُّورِ أَعْلاَهُ ضَيِّقٌ وَأَسْفَلُهُ وَاسِعٌ يَتَوَقَّدُ تَحْتَهُ نَارًا فَإِذَا اقْتَرَبَ ارْتَفَعُوا حَتَّى كَادَ أَنْ يَخْرُجُوا فَإِذَا خَمَدَتْ رَجَعُوا فِيهَا وَ فِيهَا رِجَالٌ وَ نِسَائٌ عُرَاةٌ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالاَ انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ مِنْ دَمٍ فِيهِ رَجُلٌ قَائِمٌ عَلَى وَسَطِ النَّهَرِ قَالَ يَزِيدُ وَ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ وَ عَلَى شَطِّ النَّهَرِ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةٌ فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهَرِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ رَمَى الرَّجُلُ بِحَجَرٍ فِي فِيهِ فَرَدَّهُ حَيْثُ كَانَ فَجَعَلَ كُلَّمَا جَائَ لِيَخْرُجَ رَمَى فِي فِيهِ بِحَجَرٍ فَيَرْجِعُ كَمَا كَانَ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالاَ انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَوْضَةٍ خَضْرَائَ فِيهَا شَجَرَةٌ عَظِيمَةٌ وَ فِي أَصْلِهَا شَيْخٌ وَصِبْيَانٌ وَ إِذَا رَجُلٌ قَرِيبٌ مِنَ الشَّجَرَةِ بَيْنَ يَدَيْهِ نَارٌ يُوقِدُهَا فَصَعِدَا بِي فِي الشَّجَرَةِ وَ أَدْخَلاَنِي دَارًا لَمْ أَرَ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهَا فِيهَا رِجَالٌ شُيُوخٌ وَ شَبَابٌ وَ نِسَائٌ وَ صِبْيَانٌ ثُمَّ أَخْرَجَانِي مِنْهَا فَصَعِدَا بِي الشَّجَرَةَ فَأَدْخَلاَنِي دَارًا هِيَ أَحْسَنُ وَ أَفْضَلُ فِيهَا شُيُوخٌ وَ شَبَابٌ قُلْتُ طَوَّفْتُمَانِي اللَّيْلَةَ فَأَخْبِرَانِي عَمَّا رَأَيْتُ قَالاَ نَعَمْ أَمَّا الَّذِي رَأَيْتَهُ يُشَقُّ شِدْقُهُ فَكَذَّابٌ يُحَدِّثُ بِالْكَذْبَةِ فَتُحْمَلُ عَنْهُ حَتَّى تَبْلُغَ الآفَاقَ فَيُصْنَعُ بِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَالَّذِي رَأَيْتَهُ يُشْدَخُ رَأْسُهُ فَرَجُلٌ عَلَّمَهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَنَامَ عَنْهُ بِاللَّيْلِ وَ لَمْ يَعْمَلْ فِيهِ بِالنَّهَارِ يُفْعَلُ بِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي الثَّقْبِ فَهُمُ الزُّنَاةُ وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي النَّهَرِ آكِلُوا الرِّبَا وَالشَّيْخُ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهُ فَأَوْلادُ النَّاسِ وَالَّذِي يُوقِدُ النَّارَ مَالِكٌ خَازِنُ النَّارِ وَالدَّارُ الأُولَى الَّتِي دَخَلْتَ دَارُ عَامَّةِ الْمُؤْمِنِينَ وَ أَمَّا هَذِهِ الدَّارُ فَدَارُ الشُّهَدَائِ وَ أَنَا جِبْرِيلُ وَ هَذَا مِيكَائِيلُ فَارْفَعْ رَأْسَكَ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا فَوْقِي مِثْلُ السَّحَابِ قَالاَ ذَاكَ مَنْزِلُكَ قُلْتُ دَعَانِي أَدْخُلْ مَنْزِلِي قَالاَ إِنَّهُ بَقِيَ لَكَ عُمُرٌ لَمْ تَسْتَكْمِلْهُ فَلَوِ اسْتَكْمَلْتَ أَتَيْتَ مَنْزِلَكَ *
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو ہماری طرف منہ کر کے فرماتے : “تم میں سے کسی نے اگرآج شب کو کوئی خواب دیکھا ہے تو بیان کرے ۔”سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو وہ اسے بیان کر دیتا پھر جو کچھ اللہ چاہتا ،آپ ﷺ اس کی تعبیر بیان فرماتے پس اسی دستور کے موافق ایک دن آپ ﷺ نے ہم سے دریافت فرمایا :”تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟” ہم نے عرض کی کہ نہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا :”مگر میں نے آج شب دو اشخاص کو خواب میں دیکھا کہ وہ میرے پاس آئے اور میرے ہاتھ کو پکڑ لیا اور مجھے ایک مقدس زمین میں لے گئے۔ یکایک میں وہاں پہنچ کر کیا دیکھتا ہوں کہ ایک آدمی بیٹھا ہے اور دوسرا آدمی ہاتھ میں لوہے کا ایک آنکڑا لیے کھڑا ہے وہ اسے اس بیٹھے ہوئے آدمی کے منہ میں داخل کرتا ہے یہاں تک کہ اس کی گدی تک پہنچ جاتا ہے تو اس سے ایک طرف کا جبڑا پھاڑ دیتا ہے۔ اس کے بعد دوسرے جبڑے کے ساتھ بھی ایسا ہی کرتا ہے اور اس دوران اس کا پہلا جبڑا مندمل ہو جاتا ہے۔ پھر دوبارہ وہ ایسا ہی کرتاہے تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے تو ان دونوں نے مجھے جواب دیا کہ آگے چلیے۔ یہاں تک کہ ہم ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے کہ وہ چت لیٹا ہوا تھا اور ایک شخص اس کے سرہانے ایک چھوٹا یا بڑا پتھر لیے ہوئے کھڑا تھا پس وہ اس پتھر سے اس لیٹے ہوئے آدمی کا سرکچل دیتا ہیتھا ۔ جب اسے مارتا اور پتھر لڑھک جاتا تو جا کر اس کو اٹھا لیتا اور جب تک اس لیٹے ہوئےآدمی کے پاس واپس آتا اس وقت تک اس کا سر ٹھیک ہو چکا ہوتاتھا اور جو حالت اس کی پہلے تھی وہی ہو جاتی تھی پس وہ دوبارہ اسے مارتا تھا ۔ میں نے پوچھا یہ کیا ہے؟ توان دونوں نے مجھ سے کہا کہ آگے چلیے چنانچہ ہم چلے تو ایک گڑھے کے پاس سے ہمارا گزر ہوا، وہ مثل تنور کی طرح تھا، منہ اس کا تنگ تھا اور پیندا اس کا چوڑا تھا۔ اس گڑھے میں آگ جل رہی تھی اس کے اندر کچھ برہنہ مرد اور عورتیں تھیں جب آگ بہت بھڑک اٹھتی تو وہ لوگ بھی اوپر کو اٹھ جاتے یہاں تک کہ نکلنے کے قریب ہو جاتے تو میں نے پوچھا یہ کیا ہے؟ تو ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ آگے چلیے چنانچہ ہم چلے یہاں تک کہ خون کی ایک نہر پر پہنچے جس کے درمیان ایک آدمی تھا اور نہر کے کنارے پر بھی ایک آدمی تھا جس کے سامنے کچھ پتھر تھے اور وہ نہر والے شخص کے سامنے کھڑا ہوا تھا پس جب وہ اس نہر سے باہر نکلنا چاہتا تو یہ شخص ایک پتھر اس کے منہ پرکھینچ کر مارتا تو وہ جہاں تھا وہیں واپس ہو جاتا تھا ۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے توان دونوں نے مجھ سے کہا کہ آگے چلیے چنانچہ ہم چلے یہاں تک کہ ایک نہایت شاداب اور سر سبز باغ میں پہنچے، اس میں ایک بڑا سا درخت لگا ہوا تھا اس کی جڑ کے پاس ایک بوڑھا آدمی اور کچھ بچے بیٹھے ہوئے تھے۔ یکایک میں کیا دیکھتا ہوں کہ درخت کے قریب ایک اور آدمی ہے جس کے سامنے کچھ آگ ہے، وہ اسے روشن کر رہا ہے۔ پھر وہ دونوں مجھے اس درخت پر چڑھا لے گئے ۔ اس درخت کے اندر ایک گھر تھا ، اس میں مجھے داخل کیا۔ میں نے کبھی اس سے عمدہ اور شاندار مکان نہیں دیکھا ، اس گھر میں کچھ بوڑھے ، کچھ جوان ، کچھ عورتیں اور کچھ بچے تھے پھر وہ دونوں آدمی مجھے اس گھر سے نکال لائے اور درخت کی دوسری شاخ پر مجھے چڑھایا۔ اس میں بھی ایک گھر تھا ، اس میں مجھے داخل کیا گیا یہ گھر بھی نہایت عمدہ اور شاندار تھا۔ اس میں بھی کچھ بوڑھے اور جوان مرد تھے ۔ جب میں یہ سب کچھ دیکھ چکا تو میں نے ان دونوں سے پوچھا کہ تم نے مجھے رات بھر گشت کرایا ، اب بتاؤ کہ میں نے جو کچھ دیکھا ہے اس کی حقیقت کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں ہم بتاتے ہیں ۔ وہ شخص جس کو آپ ﷺ نے دیکھا کہ اس کا جبڑا پھاڑا جا رہا ہے تو وہ جھوٹ بولنے والا ہے، دنیا میں جھوٹی باتیں کیا کرتا تھا اور وہ اس سے آگے نقل کی جاتی تھیں یہاں تک کہ تمام اطراف عالم میں پہنچ جاتی تھیں۔ لہٰذا اس کے ساتھ روز قیامت تک ایسا ہی معاملہ کیا جائے گا اور وہ شخص جس کو آپ ﷺ نے دیکھا کہ اس کا سر کچلا جا رہا ہے تو یہ وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم دیاتھا مگر وہ رات کو بھی اس سے غافل ہوکر سو جاتا اوردن میں بھی اس پر عمل نہ کرتا۔ لہٰذا روز قیامت تک اس کے ساتھ اسی طرح کیا جائے گا اور وہ لوگ جنہیں آپ ﷺ نے گڑھے میں دیکھا تو وہ زناکار لوگ ہیں اور وہ شخص جس کو آپ ﷺ نے نہر میں دیکھا سود خور ہے اور وہ بوڑھے صاحب جو درخت کی جڑ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ابراہیم علیہ السلام تھے اور چھوٹے بچے جو ان کے گرد تھے وہ لوگوں کے وہ بچے ہیں جو قبل ازبلوغت فوت ہو گئے تھے اور وہ شخص جو آگ روشن کر رہا تھا، مالک فرشتہ تھا جو دوزخ کا داروغہ ہے اور وہ پہلا مکان جس میں آپ ﷺ تشریف لے گئے تھے عام مسلمانوں کا گھر ہے اور دوسرا گھر شہیدوں کا ہے اور میں جبرائیل ہوں اور یہ میکائیل ہے ۔اب آپ اپنا سر اٹھائیے۔ میں نے سر اٹھایا تو یکایک کیادیکھتا ہوں کہ میرے اوپر بادل کی مانند کوئی چیز ہے ۔انہوں نے بتایا کہ یہ آپ کا مقام ہے ۔میں نے کہا کہ مجھے اپنے مقام میں داخل ہونے دو تو ان دونوں نے کہا کہ ابھی کچھ عمر آپ کی باقی ہے جسے آپ نے پورا نہیں کیا۔ اگر آپ اسے پورا کر چکے ہوتے تو اپنے مقام میں جا سکتے تھے ۔ “
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ مَوْتِ الْفَجْأَةِ الْبَغْتَةِ
یکایک ناگہانی موت (نیک آدمی کے لیے بری نہیں)​

(698) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِلنَّبِيِّ ﷺ إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَ أَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ *
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص (سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ) نے نبی ﷺ سے عرض کی کہ میری والدہ اچانک انتقال کر گئی ہیں او رمیں ان کی نسبت ایسا خیال کرتا ہوں کہ اگر وہ بول سکتیں تو ضرور صدقہ کرنے کا حکم دیتیں ۔ پس کیا اگر میں ان کی طرف سے صدقہ دوں تو ان کو کچھ ثواب ملے گا آپ ﷺ نے فرمایا :”ہاں ۔ “
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ مَا جَائَ فِي قَبْرِ النَّبِيِّ ﷺ وَ أَبِي بَكْرٍ وَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
نبی ﷺ اور سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی قبروں کے بارے میں کیا کہا گیا ہے ؟​

(699) عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَيَتَعَذَّرُ فِي مَرَضِهِ أَيْنَ أَنَا الْيَوْمَ أَيْنَ أَنَا غَدًا اسْتِبْطَائً لِيَوْمِ عَائِشَةَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي قَبَضَهُ اللَّهُ بَيْنَ سَحْرِي وَ نَحْرِي وَ دُفِنَ فِي بَيْتِي *
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے مرض وفات میں بار بار دریافت کرتے تھے کہ میں آج کہاں رہوں گا، میں کل کہاں رہوں گا یعنی ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا انتظار کرتے تھے۔ پھر جب میری باری کا دن آیا تو اللہ نے آپ ﷺ کو میرے پہلو اور سینہ کے درمیان میں قبض فرمایا اور میرے ہی گھر میں دفن کیے گئے ۔

(700) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَ هُوَ رَاضٍ عَنْ هَؤُلآئِ النَّفَرِ السِّـتَّـةِ فَسَمَّى السِّـتَّـةَ فَسَمَّى: عُثْمَانَ وَ عَلِيًّا وَ طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرَ وَ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ *
امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ چھ لوگ جن سے رسول اللہ ﷺ وفات تک راضی رہے (ان سے زیادہ خلافت کا حقدار اور کوئی نہیں تو ان ہی میں سے کسی ایک خلیفہ کو چن لینا) پس ان چھ لوگوں کے نام یہ بتائے عثمان، علی ، طلحہ ، زبیر ، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص( رضی اللہ عنہم )۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ مَا يُنْهَى مِنْ سَبِّ الأَمْوَاتِ
(مسلمان) مردوں کو بر ا کہنے کی ممانعت ہے​

(701) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ لاَ تَسُبُّوا الأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا *
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:”(مسلمان) مردوں کو برا نہ کہو کیونکہ وہ جو کچھ کر چکے ہیں اس سے ہمکنار و ہم آغوش بھی ہو چکے ہیں۔ “
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
کتاب الزکوۃ
زکوۃ کے بیان میں

بَابُ وُجُوبِ الزَّكَاةِ
زکوٰۃ کا واجب ہونا شریعت سے ثابت ہے​

(702) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ بَعَثَ مُعَاذًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ ادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَ لَيْلَةٍ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَ تُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ *
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو قاضی بنا کر یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا : “اے معاذ! تم وہاں کے لوگوں کو اس امر کے اقرار پر رغبت دلانا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں پس اگر وہ اس بات کو مان لیں تو انہیں بتا دینا کہ اللہ نے ہر رات اور دن میں پانچ نمازیں ان پر فرض کی ہیں پھر اگر وہ اس بات کو بھی مان لیں تو انہیں بتا دینا کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں صدقہ(زکوٰۃ) فرض کیا ہے جو ان کے مالداروں سے لیا جائے گا اور ان کے فقیروں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ “

(703) عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِلنَّبِيِّ ﷺ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ مَا لَهُ مَا لَهُ وَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ أَرَبٌ مَا لَهُ تَعْبُدُ اللَّهَ وَ لاَ تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَ تُقِيمُ الصَّلاَةَ وَ تُؤْتِي الزَّكَاةَ وَ تَصِلُ الرَّحِمَ *
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے عرض کی کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتایے جو مجھے جنت میں داخل کردے۔ لوگوں نے کہا کہ اسے کیا ہو گیا ہے ،کیوں اس طرح کی بات کر رہا ہے ؟تو نبی ﷺ نے فرمایا:”صاحب ضرورت ہے اور اسے کیا ہو گیا ہے (اچھا سن میں تجھے ایسا عمل بتا دیتا ہوں) تو اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر اور نماز پڑھا کر اور زکوٰۃ دیا کر اور صلہ رحمی کیا کر ۔”

(704) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَالَ تَعْبُدُ اللَّهَ لاَ تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَ تُقِيمُ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ وَ تُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَ تَصُومُ رَمَضَانَ قَالَ وَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ أَزِيدُ عَلَى هَذَا فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ ﷺ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا *
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کی کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے کہ اگر میں اس کو کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں تو آپ ﷺ نے فرمایا:”تو اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر اور فرض نماز پڑھا کر اور فرض زکوٰۃ دیاکر اور رمضان کے روزے رکھا کر ۔”وہ اعرابی بولا کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اس سے زیادہ (عبادت) نہ کروں گا پھر جب وہ چل دیا تو نبی ﷺ نے فرمایا:”جس شخص کو یہ بات اچھی معلوم ہوتی ہو کہ وہ اہل جنت میں سے کسی شخص کو دیکھے تو اس کو چاہیے کہ اس شخص کو دیکھ لے ۔ “

(705) عَن أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَ كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَ كَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَهَا فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَ نَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَ حِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ فَقَالَ وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ قَدْ شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ *
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اور ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو بعض عرب قبائل مرتد ہو گئے ۔سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان مرتدین سے لڑنے کا ارادہ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ ان لوگوں سے کیونکر لڑ سکتے ہیں جب کہ رسول اللہ ﷺ فرما چکے ہیں کہ “مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اﷲ کہہ دیں پس جو شخص لا الہ الا اﷲ کہہ دے تو بے شک اس نے اپنا مال اور اپنی جان مجھ سے محفوظ کر لیامگر بحق اسلام اور اس کا حساب اللہ پر ہے۔ “سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم! میں اس شخص سے ضرور جنگ کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں تفریق کرے گا اس لیے کہ زکوٰۃ حق ہے مال میں ۔ اللہ کی قسم اگر وہ ایک بھیڑ کا بچہ جو زکوٰۃ میں رسول اللہ ﷺ کے دورمیں دیتے تھے مجھے نہ دیں گے تو میں اس کو روک لینے پر ضرور ان سے جنگ کروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! وہ (اصابت رائے اور پختگیٔ ارادہ) صرف اس وجہ سے تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سینہ کو (مصلحت اندیشی کے لیے ) کھول دیا تھا ،لہٰذا میں سمجھ گیا کہ یہی حق ہے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ إِثْمِ مَانِعِ الزَّكَاةِ
زکوٰۃ نہ دینا گناہ کبیرہ ہے​

(706) عَن أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ تَأْتِي الإِبِلُ عَلَى صَاحِبِهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ إِذَا هُوَ لَمْ يُعْطِ فِيهَا حَقَّهَا تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَأْتِي الْغَنَمُ عَلَى صَاحِبِهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ إِذَا لَمْ يُعْطِ فِيهَا حَقَّهَا تَطَؤُهُ بِأَظْلافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَ قَالَ وَ مِنْ حَقِّهَا أَنْ تُحْلَبَ عَلَى الْمَائِ قَالَ وَ لاَ يَأْتِي أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِشَاةٍ يَحْمِلُهَا عَلَى رَقَبَتِهِ لَهَا يُعَارٌ فَيَقُولُ يَا مُحَمَّدُ فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُ وَ لاَ يَأْتِي بِبَعِيرٍ يَحْمِلُهُ عَلَى رَقَبَتِهِ لَهُ رُغَائٌ فَيَقُولُ يَا مُحَمَّدُ فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُ *
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :”قیامت کے دن اونٹ کہ جن کی زکوٰۃ نہ دی گئی ہو گی، خوب موٹے تازے اچھی حالت میں اپنے مالک پر سوار ہوکر آئیں گے اور اپنے مالک کو پاؤں تلے روندیں گے اور بکری کہ جس کی زکوٰۃ نہ دی گئی ہو گی، خوب موٹی تازی اچھی حالت میں اپنے مالک پر سوار ہو کر آئے گی اور اپنے مالک کو اپنے پاؤں تلے روندے گی اور اپنے سینگوں سے مارے گی۔” آپ ﷺ نے فرمایا:”اس کا ایک حق یہ بھی ہے کہ پانی پلانے کے گھاٹ پر وہ دوہی جائے (اور اس کا دودھ ان محتاجوں کو جو وہاں کھڑے رہتے ہیں دیا جائے)۔” اور فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن بکری کو اپنی گردن پر لاد کر میرے سامنے نہ آئے کہ وہ بکری چلاتی ہو، پھر مجھ سے وہ شخص کہے کہ اے محمد! (میری شفاعت کیجیے) اور میں کہہ دوں کہ میں تیرے لیے کسی بات کا اختیار نہیں رکھتا ۔ میں تو (حکم الٰہی) پہنچا چکا اور نہ کوئی شخص اونٹ کو اپنی گردن پر لادے ہوئے میرے سامنے آئے کہ وہ اونٹ بول رہا ہو پھر وہ شخص مجھ سے کہے کہ اے محمد! (میری شفاعت کیجیے )اور میں کہہ دوں میں تیرے لیے کسی بات کا اختیار نہیں رکھتا، میں تو حکم الٰہی پہنچا چکا۔”

(707) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ مُثِّلَ لَهُ مَالُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَعْنِي بِشِدْقَيْهِ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا مَالُكَ أَنَا كَنْزُكَ ثُمَّ تَلاَ { لاَ يَحْسَـبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ } الْآيَةَ *
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”اللہ جسے مال دے اور وہ اس مال کی زکوٰۃ نہ دے تو اس کا مال قیامت کے دن اس کے لیے گنجے سانپ کے ہم شکل کر دیا جائے گا جس کے منہ کے دونوں کناروں پر زہریلاجھاگ ہو گا۔وہ سانپ قیامت کے دن اس کے گلے کا طوق بنایا جائے گا پھر اس کے دو جبڑوں کو ڈسے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں ۔” پھر آپ ﷺ نے (سورۂ آل عمران کی) یہ آیت نمبر ۱۸۰کی تلاوت فرمائی: “جو لوگ ان چیزوں میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے دی ہیں، وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ روش ان کے لیے بہتر ہے۔نہیں بلکہ یہ ان کے لیے بہت ہی بری ہے ۔ (اور) جس چیز میں انہوں نے بخل کیا ، اس کا انہیں قیامت کے دن طوق پہنایا جائے گا۔”
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ مَا أُدِّيَ زَكَاتُهُ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ
جس مال کی زکوٰۃ ادا کر دی جائے وہ کنز(وہ خزانہ جس کی مذمت کی گئی ہے )نہیں ہے​

(708) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ *
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:”پانچ اوقیہ (ساڑھے باون تولے چاندی) سے کم پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے اور پانچ اونٹ سے کم پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم (کھجور) پر بھی زکوٰۃ فرض نہیں ہے ۔ “
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَاب الصَّدَقَةِ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ
صدقہ پاک کمائی سے دینا چاہیے​

(709) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ وَ لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ إِلاَّ الطَّيِّبَ وَ إِنَّ اللَّهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهِ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ *
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جو شخص اپنی پاک کمائی سے ایک کھجور کے برابر بھی صدقہ دیتا ہے اور اللہ تو پاک ہی چیز کو قبول فرماتا ہے تو اللہ اس کو اپنے داہنے ہاتھ میں لے لیتا ہے پھر اس کو صدقہ دینے والے کے لیے بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچے کو بڑھائے یہاں تک کہ وہ (کھجور کے برابر والا صدقہ احد) پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے ۔ “
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ الصَّدَقَةِ قَبْلَ الرَّدِّ
اس سے پہلے کہ لوگ انکار کر یں صدقہ کردو​

(710) عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ تَصَدَّقُوا فَإِنَّهُ يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ فَلاَ يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا يَقُولُ الرَّجُلُ لَوْ جِئْتَ بِهَا بِالأَمْسِ لَقَبِلْتُهَا فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلا حَاجَةَ لِي بِهَا *
سیدنا حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے :”اے لوگو! صدقہ دو، اس لیے کہ تمہارے اوپر ایک دور ایسا آئے گا کہ آدمی اپنا صدقہ لیے پھرے گا مگر کسی ایسے شخص کو نہ پائے گا جو اسے قبول کر لے (جس) شخص (سے وہ کہے گا کہ اسے لے لو وہ) کہے گا کہ کاش !تو کل لایا ہوتا تو میں لے لیتا لیکن آج تو مجھے اس کی ضرورت نہیں ۔”

(711) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضَ حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُ صَدَقَتَهُ وَ حَتَّى يَعْرِضَهُ فَيَقُولُ الَّذِي يَعْرِضُهُ عَلَيْهِ لاَ أَرَبَ لِي *
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:”قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ تم میں دولت کی ریل پیل ہوکر(مال) ابل نہ پڑے۔ یہاں تک کہ صاحب مال ا س شخص کو تلاش کرے گا جو اس کا صدقہ لے لے اور اسے جب کسی کے سامنے پیش کرے گا تو وہ کہے گا کہ آج مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ۔”

(712) عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَجَائَهُ رَجُلانِ أَحَدُهُمَا يَشْكُو الْعَيْلَةَ وَالآخَرُ يَشْكُو قَطْعَ السَّبِيلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَمَّا قَطْعُ السَّبِيلِ فَإِنَّهُ لاَ يَأْتِي عَلَيْكَ إِلاَّ قَلِيلٌ حَتَّى تَخْرُجَ الْعِيرُ إِلَى مَكَّةَ بِغَيْرِ خَفِيرٍ وَ أَمَّا الْعَيْلَةُ فَإِنَّ السَّاعَةَ لاَ تَقُومُ حَتَّى يَطُوفَ أَحَدُكُمْ بِصَدَقَتِهِ لاَ يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا مِنْهُ ثُمَّ لَيَقِفَنَّ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ لَيْسَ بَيْنَهُ وَ بَيْنَهُ حِجَابٌ وَ لاَ تَرْجُمَانٌ يُتَرْجِمُ لَهُ ثُمَّ لَيَقُولَنَّ لَهُ أَلَمْ أُوتِكَ مَالاً فَلَيَقُولَنَّ بَلَى ثُمَّ لَيَقُولَنَّ أَلَمْ أُرْسِلْ إِلَيْكَ رَسُولاً فَلَيَقُولَنَّ بَلَى فَيَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ فَلاَ يَرَى إِلاَّ النَّارَ ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ شِمَالِهِ فَلاَ يَرَى إِلاَّ النَّارَ فَلْيَتَّقِيَنَّ أَحَدُكُمُ النَّارَ وَ لَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ *
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس تھا کہ دو آدمی آئے ، ایک تو اپنے فقر و فاقہکی شکایت کرتا تھا اور دوسرا راستوں کے غیر محفوظ ہونے کی شکایت کرتا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:” جہاں تک راستوں کے غیر محفوظ ہونے کا تعلق ہے توتھوڑے ہی عرصے کے بعد (ایسا امن ہو جائے گاکہ) قافلہ (مدینہ سے) مکہ تک بغیر کسی محافظ اور ضامن کے چلا جائے گا (اور کوئی اس سے مزاحمت نہ کر سکے گا) اور فقیر، تو (اس کی بھی یہ کیفیت ہے کہ) قیامت نہ آئے گی یہاں تک کہ (لوگوں کے پاس مال کی ایسی کثرت ہو جائے گی کہ) تم میں سے کوئی شخص اپنا صدقہ لے کر پھرے گا مگر کسی کو نہ پائے گا جو اسے لے لے پھر (یہ یاد رکھو کہ) بے شک یقینا ہر شخص تم میں سے (قیامت کے دن) اللہ کے سامنے کھڑا ہو گا۔ اس کے اور اللہ کے درمیان نہ کوئی حجاب ہو گا اور نہ کوئی ترجمان جو اس کی گفتگو نقل کرے ۔پھر اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ کیا میں نے تجھے مال نہ دیا تھا؟ وہ عرض کرے گا کہ ہاں (دیا تھا) پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا میں نے تیرے پاس پیغمبر کو نہ بھیجا تھا؟ (جو تجھے زکوٰۃ کی فرضیت سے آگاہ کرتا) وہ عرض کرے گا کہ ہاں (بھیجاتھا) پس وہ شخص اپنی دائیں جانب نظر کرے گا تو بجز آگ کے کچھ نہ دیکھے گا اور بائیں جانب نظر کرے گا تو سوائے آگ کے کچھ نہ پائے گا۔ لہٰذا تم میں سے ہرشخص کو چاہیے کہ آگ سے بچے ، اگرچہ کھجور کے ٹکڑے ہی (کے صدقہ دینے) سے سہی۔ پھر اگر کھجور کا ٹکڑا بھی میسر نہ ہو تو عمدہ بات کہہ کر۔” (کیونکہ یہ بھی صدقہ ہے)

(713) عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَطُوفُ الرَّجُلُ فِيهِ بِالصَّدَقَةِ مِنَ الذَّهَبِ ثُمَّ لاَ يَجِدُ أَحَدًا يَأْخُذُهَا مِنْهُ وَ يُرَى الرَّجُلُ الْوَاحِدُ يَتْبَعُهُ أَرْبَعُونَ امْرَأَةً يَلُذْنَ بِهِ مِنْ قِلَّةِ الرِّجَالِ وَ كَثْرَةِ النِّسَائِ *
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:”لوگوں پر ایک دور آئے گا جس میں آدمی صدقہ کا سونا لے کر گشت کرے گا مگر کسی کو نہ پائے گا جو اس سے لے لے اور مردوں کی قلت ا ور عورتوں کی کثرت کے سبب سے ایک مرد کے پیچھے چالیس عورتیں دیکھی جائیں گی جو اس کے ساتھ چمٹی رہیں گی۔”
 
Top