- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
بَابُ مَا يُسْتَخْرَجُ مِنَ الْبَحْرِ
جو چیز سمندر سے نکالی جائے اس میں زکوٰۃ ہے یا نہیں؟
جو چیز سمندر سے نکالی جائے اس میں زکوٰۃ ہے یا نہیں؟
(762) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سَأَلَ بَعْضَ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِأَنْ يُسْلِفَهُ أَلْفَ دِينَارٍ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ فَخَرَجَ فِي الْبَحْرِ فَلَمْ يَجِدْ مَرْكَبًا فَأَخَذَ خَشَبَةً فَنَقَرَهَا فَأَدْخَلَ فِيهَا أَلْفَ دِينَارٍ فَرَمَى بِهَا فِي الْبَحْرِ فَخَرَجَ الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ أَسْلَفَهُ فَإِذَا بِالْخَشَبَةِ فَأَخَذَهَا لِأَهْلِهِ حَطَبًا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَلَمَّا نَشَرَهَا وَجَدَ الْمَالَ *
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں :”بنی اسرائیل میں سے کسی نے کسی سے ایک ہزار دینار قرض مانگے تھے چنانچہ اس نے اس کودے دیے (اتفاق سے) وہ قرض دار سفر میں چلا گیا اور مدت ادائے قرض کی آپہنچی (درمیان میں ایک سمندر حائل تھا) پس وہ سمندر کی طرف گیا مگر اس نے کوئی سواری نہ پائی (جس پر سوارہو کر قرض خواہ کے پاس آئے اور اس کا قرض ادا کرے) لہٰذا اس نے ایک لکڑی لی اور اس میں سوراخ کیا اور اس کے اندر ایک ہزار دینار ڈال کر اس کو سمندر میں ڈال دیا اور اللہ سے دعا کی کہ اس کو قرض خواہ تک پہنچا دے چنانچہ وہ شخص جس نے قرض دیا تھا (اتفاق سے ایک دن سمندر کی طرف) گزرا تواس کو وہ لکڑی دکھائی دی اس نے اپنے گھر والوں کے ایندھن کے لیے اس کو اٹھا لیا (پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی جس کے آخر میں یہ مضمون تھا) پھر جب اس نے اس لکڑی کو چیرا تو اس میں اپنا مال پایا ۔”