1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختلف موبائل کمپنیوں نے صارفین کو ایڈوانس بیلنس کی سہولت ! کیا یہ سود ہیں ؟

'مامورات وممنوعات شرعیہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏فروری 13، 2014۔

  1. ‏فروری 13، 2014 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,989
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    مختلف موبائل کمپنیوں نے صارفین کو ایڈوانس بیلنس کی سہولت ! کیا یہ سود ہیں ؟

    سوال:

    مختلف موبائل کمپنیوں نے صارفین کو ایڈوانس بیلنس کی سہولت دے رکھی ہے کہ اگر کبھی بیلنس ختم ہو جائے تو مخصوص نمبر ملانے سے بیلنس آجاتا ہے لیکن وہ دئیے ہوئے بیلنس سے زیادہ وصول کرتے ہیں، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

    جواب:
    
    آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاید ایسے حالات کے متعلق پشین گوئی فرمائی تھی۔ آپ کا ارشاد گرامی ہے: ’’لوگوں پر ایسا وقت آئے گا کہ انسان اپنی روزی کے متعلق حلال و حرام کی پروا نہیں کرے گا۔‘‘ (بخاری، البیوع: ۲۰۵۹)

    حرام کی کمائی میں سودی کاروبار بھی شامل ہے، جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگوں پر وہ وقت آنے والا ہے کہ وہ بلا دریغ سود کا استعمال کریں گے، دریافت کیا گیا کہ آیا سب لوگ اس وباء میں مبتلا ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: جو سود نہیں کھائے گا اسے سود کا دھواں یا غبار ضرور اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ (مسند امام احمد ص ۴۹۴، ج ۲)
    صورت مسئولہ میں اسی قسم کا کاروبار ہے، مختلف موبائل کمپنیاں اپنا کاروبار چمکانے کیلئے اس طرح کی سہولیات صارفین کو دیتی ہیں۔ مثلاً:

    ٭ جاز کمپنی 10 روپے کا بیلنس دے کر 13.20 روپے کاٹتی ہے۔
    ٭ یوفون کمپنی 30 روپے دے کر 34 روپے واپس لیتی ہے۔
    ٭ ٹیلی نار والے 40 روپے دے کر 45.12 روپے وصول کرتے ہیں۔اور اسے سروس چارجز کا نام دیا جاتا ہے۔

    ہمارے رجحان کے مطابق یہ سود ہے جس کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اگر تم اس سود سے باز نہیں آئو گے تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ لڑنے کیلئے تیار ہو جائو۔‘‘ (البقرۃ: ۲۷۹)

    اس بناء پر ہمارا صارفین کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ اس طرح کے ایڈوانس بیلنس کو ہمیشہ کیلئے خیر باد کہہ دیں جو ہمیں اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے پر آمادہ کرتا ہے۔

    http://www.ahlehadith.org/advance-balance/
     
    • پسند پسند x 5
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 13، 2014 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏فروری 13، 2014 #3
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    بہت مفید۔۔۔جزاک اللہ خیرا کثیرا بھائی۔
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏فروری 14، 2014 #4
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,510
    موصول شکریہ جات:
    6,013
    تمغے کے پوائنٹ:
    447

    ﺟﺰﺍﮎ ﺍﻟﻠﮧ ﺧﯿﺮﺍ
     
  5. ‏فروری 14، 2014 #5
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    آپ اسے کیسے سود کہتے ہیں اس پر اگر کوئی معلومات ھے تو ضرور فراہم کریں۔

    والسلام
     
  6. ‏فروری 14، 2014 #6
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,989
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    بھائی اس حدیث کے ساتھ لنک بھی دیا ہیں آپ اس کا بھی مطالعہ کر سکتے ہے۔

    كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا ہے:

    " ہر وہ قرض جو نفع لائے وہ سود ہے"

     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏فروری 14، 2014 #7
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    بھائی کوئی بھی حدیث مبارکہ یا قرآنی آیت کے ساتھ اپنی تقریر لکھنے سے مدعا ثابت نہیں کیا جا سکتا، فون والے سوال اور اس لنک والے سوال میں بہت فرق ھے۔ براہ مہربانی مزید لنک پیش نہ کریں، اگر لکھ کر بات کریں گے تو بہت کچھ سیکھنے سکھانے کو ملے گا۔

    والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏فروری 14، 2014 #8
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,989
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    بھائی میں نے آپ کے سامنے حدیث پیش کی ہے ایڈوانس بیلنس بھی ایک قرضہ کی شکل ہیں جو ادھار لیا جاتا ہیں - کیا یہ جو لون موبائل کمپنی سے لیا جاتا ہیں کیا وہ قرض نہیں ہوتا بھائی - آپ دوبارہ حدیث پر غور کریں - اگر میں نے غلط سمجھا ہے تو اہل علم اس پر ضرور روشنی ڈالے -

    انس بھائی

    كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا ہے:
    " ہر وہ قرض جو نفع لائے وہ سود ہے"
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏مئی 21، 2014 #9
    قاری مصطفی راسخ

    قاری مصطفی راسخ علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    lahore
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2012
    پیغامات:
    664
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    301

    اس سلسلے میں میرا رجحان یہ ہے کہ یہ سود کے زمرے میں نہیں آتا ہے ،جس کے دو بنیادی سبب ہیں۔
    1۔پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ اضافی رقم کمپنی کے سروس چارجز اور حکومتی ٹیکس ہوتا ہے جو وہ ایزی لوڈ اور کارڈ لوڈ پر بھی کاٹ لیتے ہیں۔آج کل اگر 100 روپے کا کارڈ لوڈ کریں تو 75 روپے آتے ہیں،اب کیا ہم یہاں بھی یہ کہیں گے کہ کمپنی نے 75 دے کر ہم سے 100 روپے لئے ہیں۔یہاں ایسا کوئی بھی نہیں کہتا ہے،ہر کوئی یہی سمجھتا ہے کہ یہ حکومتی ٹیکس اور سروس چارجز ہیں جو ہر کارڈ کے ساتھ ساتھ ہر کال پر بھی کٹتے رہتے ہیں اور یہ ایسے اصول ہیں جو سم لیتے وقت ہی کمپنی آپ کو بتا دیتی ہے کہ ہم ان ان شرائط پر آپ کو اپنی کمپنی کی سروس مہیا کریں گے،اور ہم کمپنی کی ان شرائط کو نہ صرف قبول کرتے ہیں بلکہ تحریری معاہدہ بھی کرتے ہیں کہ ہم کمپنی کی تمام شرائط سے متفق ہیں۔
    2۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم نے کمپنی سے نقد رقم نہیں لی ہوتی بلکہ ایک سروس اور خدمت لی ہوتی ہے ،جس کے چارجز ہم خدمت کے حصول کے بعد ادا کرتے ہیں۔(جبکہ کارڈ یا ایزی لوڈ میں پہلے ہی ادا کر دیتے ہیں۔)اب اس کو سود کیسے کہا جا سکتا ہے۔سود تو یہ ہے کہ نقدی رقم کے بدلے میں ہم زیادہ رقم ادا کر یں،یہاں تو ہم نے نقدی رقم لی ہی نہیں ہے۔اور پھر یہ بھی یاد رہے کہ یہ سروس چارجز ایزی لوڈ اور کارڈ پر کاٹے گئے چارجز سے کم ہیں۔فرق صرف تقدیم وتاخیر کا ہے۔
    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  10. ‏مئی 21، 2014 #10
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,989
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    کفایت اللہ بھائی آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہیں-
    کیا یہ سود ہیں ؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں