1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مرزائیت و قادیانیت کے متعلق ایک شبہہ کا ازالہ

'عقیدہ اہل سنت والجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو حسن, ‏جولائی 21، 2019۔

  1. ‏جولائی 21، 2019 #1
    ابو حسن

    ابو حسن رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 09، 2018
    پیغامات:
    133
    موصول شکریہ جات:
    17
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    (ترتیب وتحریر ✍️ أبو حسن ،میاں سعید)


    اگر کسی کے ذہن میں یہ بات ہے کہ علماء امت نے متفقہ طور پر یا پوری امت مسلمہ نے متفقہ طور پرمرزائیت و قادیانیت کو کافر قرار دیا ہے تو ؟

    وہ اپنی اصلاح کرلے

    ہم نہ تو مرزائیت و قادیانیت کوعلماء امت کے متفقہ فیصلے کی وجہ سے کافر مانتے ہیں

    اور

    ہم نہ تو مرزائیت و قادیانیت کو پوری امت مسلمہ کے متفقہ فیصلے کی وجہ سے کافر مانتے

    ہم مرزائیت و قادیانیت کو قرآن و سنت کی روشنی اور انکے حکم سے کافر مانتے ہیں

    قوله تعالى : مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (40) سورة الاٴحزَاب

    اللہ سبحانہ و تعالی کا ارشاد مبارک ہے کہ
    محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ اللہ کے پیغمبر اور نبیوں (کی نبوت) کی مہر (یعنی اس کو ختم کردینے والے) ہیں اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے(40)


    مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ "خاتم النبیین" کے معنیٰ ہیں کہ:

    سیدالاولین و الاخرین ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کسی کو "منصب نبوت" پر فائز نہیں کیا جائے گا

    عقیدہ ختم نبوت جس طرح قرآن کریم کی نصوص قطعیہ سے ثابت ہے، اسی طرح سیدالاولین و الاخرین ﷺ کی احادیث متواترہ سے بھی ثابت ہے۔

    سیدالاولین و الاخرین ﷺ کے چند ارشادات ملاحظہ فرمائیں


    1- میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کسی قسم کا نبی نہیں (ابوداؤد )

    2- مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا اور مجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم کردیا گیا (مشکوٰة)

    3- رسالت ونبوت ختم ہوچکی ہے پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی (ترمذی)

    4- میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو (ابن ماجہ)

    5- میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں (مجمع الزوائد)

    ان ارشادات نبوی ﷺ میں اس امرکی تصریح فرمائی گئی ہے کہ آپ ﷺ آخری نبی اور رسول ہیں، آپ ﷺ کے بعد کسی کو اس عہدہ پر فائز نہیں کیا جائے گا، آپ ﷺ سے پہلے جتنے انبیاء علیہم السلام تشریف لائے ان میں سے ہر نبی نے اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت دی اور گذشتہ انبیاء علیہم السلام کی تصدیق کی۔

    اسی طرح سیدالاولین و الاخرین ﷺ نے گزشتہ انبیاء علیہم السلام کی تصدیق تو فرمائی مگر کسی نئے آنے والے نبی کی بشارت نہیں دی۔ بلکہ فرمایا:

    1- قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ 30 کے لگ بھک دجال اور کذاب پیدا نہ ہوں' جن میں سے ہرایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔

    2- قریب ہے کہ میری امت میں 30 جھوٹے پیدا ہوں' ہرایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں' حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں' میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

    ان دو ارشادات میں سیدالاولین و الاخرین ﷺ نے ایسے "مدعیان نبوت" (نبوت کا دعویٰ کرنے والے) کے لئے دجال اور کذاب کا لفظ استعمال فرمایا

    جس کا معنیٰ ہے کہ: وہ لوگ شدید دھوکے باز اور بہت زیادہ جھوٹ بولنے والے ہوں گے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرکے مسلمانوں کو اپنے دامن فریب میں پھنسائیں گے

    لہذا امت کو خبردار کردیا گیا کہ وہ ایسے عیار و مکار مدعیان نبوت اور ان کے ماننے والوں سے دور رہیں۔ آپ ﷺ کی اس پیشنگوئی کے مطابق 14 سو سالہ دورمیں بہت سے کذاب اور دجال مدعیان نبوت کھڑے ہوئے جن کا حشر تاریخ اسلام سے واقفیت رکھنے والے خوب جانتے ہیں۔

    ماضی قریب میں "قادیانی دجال" مرزا غلام قادیانی لعین نے بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا

    اس غلیظ کے ذہن کے گند نے فتنہ گری شروع کی اور اس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اسکو ذہن کے گند کا بدلہ دنیا میں ہی دیا اور اس کو اسکے پچھواڑے کی غلاظت( یعنی اپنے ہی پاخانہ ) میں منہ مارتے ہوئے موت دی اورتاریخ انسانیت میں ایسی عبرت ناک موت کسی کو نہ ملی جیسی موت مرزا غلام قادیانی لعین کو نصیب ہوئی اورجو قیامت تک کے لوگوں کیلئے عبرت کا نشان ہے

    اس لئے یہ بات یاد رکھیں کہ "ختم نبوت" امت محمدیہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عظیم رحمت اور نعمت ہے' اس کی پاسداری اور شکر پوریامت محمدیہ پر واجب ہے۔

    اللہ تعالی کی توحید کے بعد جو نعمت عظیمہ وہ ختم نبوت کی پاسداری ہے اوراسکا عملی نمونہ ہمیں ختم نبوت پر سب سے پہلے جان کا نذرانہ پیش کرنے والی ہستی سیدنا حبیب بن زید رضی اللہ عنہ دے گئے ہیں کہ

    ختم نبوت کیلئے ٹکرے ٹکرے ہونا قبول کرلینا لیکن سیدالاولین و الاخرین صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے غدار نہ بننا

    اور اس عظمت والی سیدہ ماں پر بھی قربان جاؤں جو اپنے بیٹے سیدنا حبیب بن زید رضی اللہ عنہ کی المناک شہادت عظیمہ کا سن کر صبر کا پہاڑ ثابت ہوئیں

    اور پھر ایک اور عظیم ہستی جنہوں نے سب سے پہلے غازی ختم نبوت کا اعزاز حاصل کیا سیدنا ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ جو ہمیں یہ سبق دے گئے کہ تم نے سیدالاولین و الاخرین ﷺ کی زیارت باسعادت نہیں بھی کی تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن یہ یاد رکھنا کہ جب بات ختم نبوت پر آجائے تو اس کیلئے بڑی سے بڑی سزا کو بھی اپنی لیے سعادت تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھنا اور کفر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنا کہ میں سیدالاولین و الاخرین ﷺ ختم نبوت کا غدار بننے پر اپنی شہادت کو ترجیح دینا پسند کرتا ہوں تم نے جو کرنا ہے کر گزرو

    اور وہ عظیم لشکروں کے مجاہدوں نے ہمیں یہ سکھلا دیا کہ ختم نبوت کیلئے کسی بھی حد تک جانے سے پیچھے نہیں ہٹنا اور ان لشکروں کے مجاہدین کے ناموں کی ایک لمبی فہرست ہے لیکن میں صرف تین نام ذکر کرتا ہوں جو مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے جہنم واصل کرنے میں پیش پیش تھے

    سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ

    سیدنا ابو دجانہ رضی اللہ عنہ

    اور کوئی یہ نہ عذر پیش کرسکے کہ " جھوٹے مدعیان نبوت " کے خلاف فقط مردوں نے ہی مقابلہ کیا ؟ بلکہ ہماری مائیں بھی ان غلیظوں کی سرکوبی کیلئے اپنے بیٹوں کے شانہ بشانہ تھیں

    جی ہاں یہ مبارک ہستی سیدہ ام عمارۃ نسیبۃ رضی اللہ عنہا جوکہ جنگ یمامۃ میں اپنے بیٹے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھیں اور مجاہدین سے استسفار کر رہیں تھیں کہ " اللہ کا دشمن کہاں ہے ؟ "یعنی مسیلمہ کذاب کہاں ہے؟

    اور اس خبیث پر حملہ کرنے والوں میں یہ بھی شامل تھیں ،کیوں نہ ہوتیں ؟ آخرکار ختم نبوت کے پہلے شہید سیدنا حبیب بن زید رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں

    سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ نے حربہ (برچھہ/ بھالا) دور سے تاک کر پیٹ میں مارا اور سیدنا ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے اس کا سردھڑ سے کاٹا اور اس خبیث کذاب کا قضیہ ہی تمام کردیا

    اللہ تعالی ہمیں بھی ختم نبوت کی سعادت والی عظیم راہ کیلئے قبول فرمائے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں