1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مرزا حیرت دہلوی کی کتاب ، شہادت حسین، فرمائش

'فرمائشِ کتاب' میں موضوعات آغاز کردہ از بلال الراعی, ‏دسمبر 31، 2011۔

  1. ‏دسمبر 31، 2011 #1
    بلال الراعی

    بلال الراعی مبتدی
    جگہ:
    Gujrat
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    2
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    مرزا حیرت دہلوی کی کتاب ، شہادت حسین، اگر اپلوڈ کر دی جائے تو عین نوازش ہو گی۔بہت تلاش کیا مگر نہیں ملی۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 09، 2017 #2
    وجاہت

    وجاہت رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2016
    پیغامات:
    421
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    @ابن داود بھائی یہ مرزا حیرت دہلوی کون ہیں اور اس کتاب کی کیا اہمیت ہے -
     
  3. ‏فروری 09، 2017 #3
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,105
    موصول شکریہ جات:
    320
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    اگر مرزا حیرت دہلویؒ کی ”کتاب شہادت “ جو چھ ضخیم” جلدوں“ پر مشتمل ہے ،مل جائے تو میں سو فیصد ”یقین“ سے کہتا ہوں کہ” شیعت و رافضیت و سبائیت“ اور ان سے ”متاثرہ لوگوں “ میں ایک ”تہلکہ“ مچ جائے گا ۔
     
  4. ‏اکتوبر 11، 2018 #4
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,988
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    جزاک الله -

    میں نے بھی اس کتاب کے بارے میں سنا ہے - لیکن بہت کوشش کے باوجود یہ کتاب نیٹ پر نہ مل سکی -
    اگر کوئی صاحب اس میں help out کردیں تو بہت مشکور ہونگا -
     
  5. ‏اکتوبر 12، 2018 #5
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,105
    موصول شکریہ جات:
    320
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    میں بھی اس کتاب کی تلاش میں ہوں لیکن ابھی تک کامیابی نصیب نہ ہوسکی ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ واقعہ کربلاء محض ایک افسانہ تھا جسے بنو امیہ خصوصاً امیر یزید ؒ کو بدنام کرنے کے لیے گھڑا گیا اور حضرت حسین ؓ کربلاء میں نہیں بلکہ غزوہ ٔ قسطنطنیہ میں ہی شہید ہو گئے تھے ۔ ویسے حتمی بات تو کتاب تفصیلی طور پر پڑھ کر ہی کہی جا سکتی ہے ۔ ویسے بھی ہمارا رفض نما معاشرہ ایسی کتابیں جس میں بنو امیہ کی تعریف کی گئی ہو اورفتوحات کا ذکر ہو ” شجر ِ ممنوعہ“ قرار دے دی جاتی ہیں اور ان پر ”حکومتی پابندی “ لگا دی جاتی ہے ۔مزید برآں ،بنو امیہ کا دفاع کرنے والوں کو یا تو شہید کر دیا جاتا ہے یا پھر قید کر دیا جاتا ہے ۔ جب رافضی و سبائی ہماری احادیث کی کتابوں میں گھس کر اپنی کاروائی کر سکتے ہیں تو ” تاریخ“ تو ان کے گھر کی ”لونڈی “ہے ، اس میں کیا کچھ نہ کیا ہو گا۔
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 2
    • لسٹ
  6. ‏اکتوبر 13، 2018 #6
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,988
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    جزاک الله -

    جی صحیح فرمایا آپ نے -

    اصل میں محبّت حسین رضی الله عنہ تو ایک ڈھونگ ہے- ورنہ یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ ہر گروہ اس کے زریے اپنے باطل نظریات کو دوام بخشنے کے لئے ایک آلہ کار کے طور پر استمال کرتا ہے - افسوس تو اس بات کا ہے کہ اہل سنّت کے بعض علماء و مشائخ بھی اس رافضی افکار کا شکار ہو رہے ہیں جو کبھی صرف شیعہ برادری کا خاصا تھا -

    (69) ہجری میں اسلام کو کمزور کرنے کے لئے مختار بن ابی عبید سقفی نے توابون کے نام سے جو تحریک شروع کی وہ حضرت حسین کی مبینہ شہادت کو لے کر شروع کی تاہم اس کہانی کو موصل کے قریب نینوا کے ارد گرد بنایا گیا اور حضرت امام حسین کو "شہید نینوا" کے طور پر مشہور کیا گیا. شہید نینوا کی کہانی کیونکہ صرف حضرت امام حسین کی ذاتی شہادت سے متعلق تھی اور اس میں عورتوں اور بچوں کا ذکر نہیں تھا - اس لئے وہ عوامی پذیرائی اور جذباتیت کا وہ سیلاب پیدا کرنے میں ناکام رہی جس مقصد کے لئے اس کہانی کو گھڑا گیا تھا- اسی لئے قدیم مورخ ابو مخنف نے جذباتیت اور فتنہ گری کے لئے کہانی میں عورتوں اور بچوں کے کردار بڑھائے اور کہانی کا مرکز نینوا سے کربلا (جس کا اصل نام کربغا تھا) منتقل کیا- تاہم شہید نینوا سے وہ بھی جان نہیں چھڑا سکا اور نینوا کو کربلا(کربغا) کا ہی دوسرا نام بتا دیا.-جبکہ درحقیقت نینوا اور کربلا (کربغا) میں ٦٠٠ کلومیٹر سے بھی زیادہ کا فاصلہ ہے.

    حقیقت کیا ہے یہ الله ہی جانتا ہے - البتہ محقق محمود احمد عباسی کی تحقیق نے دور حاضر میں بلاشبہ رافضیت کے اعوانوں میں اپنی کتب کے ذریے ارتعاش پیدا کردیا - ہمارے رافضی معاشرے کے زیر اثر ان کی کتب پر بھی ایک زمانے میں پاکستان میں پابندی تھی - مرزا دہلوی کی کتاب میں کیا ہے یہ تو پڑھنے کے بعد ہی پتا چلے گا - لیکن لگتا یہی ہے کہ یہ کتاب بھی اس واقعہ سے متعلق کچھ اہم راز افشاء کرے گی - بشرط ہے کہ اس کو پڑھنے کے لئے نیٹ پر عام کردیا جائے -
     
  7. ‏اکتوبر 13، 2018 #7
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,656
    موصول شکریہ جات:
    418
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    مجھے بھی یہ کتابیں بڑی مشکل سے ملی ہیں۔

    WhatsApp Image 2018-10-12 at 2.30.06 PM.jpeg WhatsApp Image 2018-10-13 at 1.15.36 PM.jpeg WhatsApp Image 2018-10-13 at 7.36.57 PM.jpeg WhatsApp Image 2018-10-13 at 7.36.58 PM.jpeg
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  8. ‏اکتوبر 13، 2018 #8
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,988
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

  9. ‏اکتوبر 14، 2018 #9
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,656
    موصول شکریہ جات:
    418
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  10. ‏اکتوبر 18، 2018 #10
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,656
    موصول شکریہ جات:
    418
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں