1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مرزا قادیانی کی موت مرزےکے بیٹے کی زبانی

'قادیانیت' میں موضوعات آغاز کردہ از مبشر شاہ, ‏جون 08، 2014۔

  1. ‏جون 08، 2014 #1
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن
    شمولیت:
    ‏جون 28، 2013
    پیغامات:
    173
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    70

    مرزا قادیانی کی موت مرزےکے بیٹے کی زبانی
    آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ مرزا قادیانی لٹرین میں گر کا مرا تھا حقیقت تو یہ کہ کہ مرزا کی موت پیچس کرتے کرتے ہوئی تھی اور پیچس کرنے کی وجہ سے مرزا چارپائی سے اٹھ بھی نہیں سکتا تھا جس کی وجہ سے اس کے پاخانہ کرنے کا انتظام اس کی چارپائی کے قریب ہی کر دیا گیا تھا یہ ہم نہیں کہہ رہے بلکہ مرزا بشیر جو کہ مرزا قادیانی کا بیٹا تھا وہ کہہ رہا ہے اور یہ تمام کہانی اس کی کتاب سیرت المھدی میں موجود ہے آئیے مفصل قصہ سنتے ہیں کہ ماجرہ کیا ہوا تھا ؟

     
  2. ‏جولائی 28، 2016 #2
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    668
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    کیا مرزا کی موت بستر پر پوٹیاں کرتے نہیں ہوئی؟؟؟؟؟؟؟؟

    سب سے پہلے تو یہ ذہن نشین رہے کہ مرزا صاحب کو بوقت مرگ اسہال تھا اس بات کو قادیانی حضرات بخوشی تسلیم کرتے ہیں

    اب ہمارے سامنے کتاب تاریخ احمدیت ہے جس میں دوست محمد شاہد صاحب لکھتے ہیں

    اتنے میں صبح ہو گی کہ اور حضرت مسیح کی چارپایی کو باہر صحن سے اٹھا کر اندر لے آیے ۔جب ذارا روشنہ ہوگیی تو حضور نے پوچھا کیا نماز کا وقت ہوگیا ہے ؟عرض کیا گی اکہ حضور ہو گیا ہے ۔اس پر حضور نے بستر پر ہی ہاتھ مار تیمم کیا اور لیٹے لیٹے ہی نماز شروع کر دی

    اب اس عبارت کو غور سے قادیانی حضرات پڑھیں کہ مرزا کی حالت اتنی خراب ہوگی کہ تھی کہ وضو بھی نہ کر سکتے تھے بلکہ لیٹے لیٹے تیمم کیا تو اس سےثابت ہوا کہ مرزا صاحب اٹھنے سے قاصر تھے اور بستر پر ہی لیٹے رہے ۔آگے چلیے مزید لکھتے ہیں

    غالبا آٹھ یا ساڑھے آٹھ بجے ڈاکٹر نے پوچھا کہ حضور کو خاص طور پر کیا تکلیف محسوس ہوتی ہے مگر حضور زبان سے جواب نہیں دے سکتے اس لیے کاغذ قلم و دوات منگوایی گیی اور حضور نے باییں ہاتھ پر سہارا لیکر بستر سے کچھ اٹھ کر لکھنا چاہامگر چند الفاظ بمشکل لکھ سکے اور پھر بوجہ ضعف کے کاغذ کے اوپر قلم گھسٹا ہوا چلا گیا اور حضور پھر لیٹ گیے

    تاریخ احمدیت ج ۲ص ١۵۴

    اب غور سے پڑھیں یہ حوالہ کہ مرزا صاحب بستر سے اٹھ نہیں سکتے تھے اب آگے سنیےاس کے آگے کیا ہوا سلسلہ احمدیہ کا مصنف لکھتا ہے

    ضعف لحظہ بہ لحظہ بڑھتا جاتا تھا

    سلسلہ احمدیہ ص ۷۷١

    اب ساتھ ساتھ یہ بھی پڑھ کر مکمل تسلی کر لیں کہ ضعف کیوں ہو رہا تھا اس کی وجہ بیان کرتے ہویے مرزا بشیر لکھتا ہے

    کمزوری لحظہ بہ لحظہ بڑھتی گئی اور اس کے بعد ایک اور دست آیا جس کی وجہ سے کمزوری اتنی بڑھ گئی کہ نبض محسوس ہونے سے رک گئی

    سلسلہ احمدیہ ص ۷۷١

    اور یہ بھی یاد رہے اس دست سے پہلے ہی مرزا صاحب بستر پر گر چکے تھے چنانچہ سیرت المہدی کا مصنف لکھتا ہے

    جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپایی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپایی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگر گوں ہوگیی

    سیرت المہدی ج١ ص ١١

    یہ بھی یاد رہے یہ حالت نور الدین وغیرہ کو بلانے سے پہلے کی ہے ۔

    اب توجہ کریں کہ مرزا صاحب کی حالت دگر گوں ہوگئی اور وہ بستر پر گر گے اس کے بعد زبان تک بند ہوگئی اور حتی کے آٹھ بجے کے قریب مرزا صاحب کے ہاتھ بھی حرکت نہیں کر سکتے تھےٹانگوں نے کیا حرکت کرنی اور اگلی بات اس کے بعد بھی ضعف بڑھا یعنی دست آیے جیسا کہ اوپر سلسلہ احمدیہ کا حوالہ ہو چکا اور مرزا صاحب کا انتقال ساڑھے دس بجے ہوا اب اگر پہلے دست سے بات شروع کی جاے تو مرزا صاحب کی حالت ١١ بجے خراب ہونا شروع ہویی اگر اندازہ بھی لگایا جائے تو کم ازکم ۲ بجے یہ سب آئے اور مرزا صاحب اس سے پہلے ہی بستر پر گر چکے تھے اور ان کے آنے کے بعد بھی مرزا صاحب نے دست کیا اور یہ دست بستر پر ہی تھا اس کے بعد تقریبا ساڑھے دس بجے ہوا تو مرزا صاحب نے کم ازکم سات آٹھ گھنٹے بستر پر دست کے ساتھ گزارے اور نماز کے بعد تو ان کی حالت بالکل ہی خراب تھی اور اس کے بعد بھی ضعف بڑھا اور اس کی وجہ بیان ہوگی کہ دست تھے تو نماز کے بعد تقریبا ساٹھے پانچ گھنٹے مرزا صاحب نے بستر پر ہی دست کیے اور اس حالت میں وفات پائی۔۔۔لہذا ان حقائق سے قادیانی حضرات انکار تو نہیں کر سکتے مگر تاویلات کریں گے ہم تمام حضرات سے کہتے ہیں اگر اس کو غیر جانبدار ہو کر پڑھا جائے تو ہر بندہ یقین کر لے گاکہ مرزا صاحب نے بستر پر دست کرتے ہویے موت پائی اور مزے کی بات خود مرزا صاحب نے لکھا کہ

    اگر خدا کا فضل و رحمت مجھ پر نہ ہوتی تو میرا سر اسی پاخانے میں ڈالا جاتا

    تذکرہ ص ۹١۵الہام نمبر ۸۹۹١ﺍ۷ﺍ٦
    اس لئے تو ہم کہتے ہیں
    مرزا گر ہوتا گر اللہ کا نبی
    تو ٹٹی میں گر نہ مرتا کبھی
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 01، 2017
  3. ‏جولائی 28، 2016 #3
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    668
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    upload_2016-7-28_4-5-26.png
    upload_2016-7-28_4-5-45.png
    upload_2016-7-28_4-6-2.png
     
  4. ‏جولائی 28، 2016 #4
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    668
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    upload_2016-7-28_4-16-15.png
    upload_2016-7-28_4-14-28.png
    upload_2016-7-28_4-14-39.png
    اچانک موت ہیضہ کی علامت ہے
    upload_2016-7-28_4-15-2.png
     
  5. ‏جولائی 28، 2016 #5
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    668
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    upload_2016-7-28_4-16-40.png
    upload_2016-7-28_4-16-55.png
     
  6. ‏جولائی 28، 2016 #6
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    668
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    upload_2016-7-28_4-21-42.png
    upload_2016-7-28_4-22-1.png
    upload_2016-7-28_4-22-24.png
     
  7. ‏اکتوبر 09، 2016 #7
    Danish Ahmed

    Danish Ahmed مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2016
    پیغامات:
    2
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    5

    جزاک اللہ خیراً کثیراً
     
  8. ‏نومبر 08، 2016 #8
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    668
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

     
  9. ‏نومبر 08، 2016 #9
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    668
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

     
  10. ‏جولائی 02، 2017 #10
    ابو عبدالله

    ابو عبدالله مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 28، 2011
    پیغامات:
    720
    موصول شکریہ جات:
    447
    تمغے کے پوائنٹ:
    135

    مرزے علیہ لعنت کی لیٹرین بردگی کا ثبوت ان کی اپنی کتابوں سے.
    WhatsApp Image 2017-07-02 at 08.35.35.jpeg WhatsApp Image 2017-07-02 at 08.35.37.jpeg
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 02، 2017
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں