1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسائل قربانى

'یونیکوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏اکتوبر 16، 2011۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏اکتوبر 16، 2011 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    نام كتاب
    مسائل قربانى

    قربانی كے مسائل كا علمی وتحقيقی جائزه
    مؤلف :
    محمد رفيق طاهرحفظہ اللہ

    ناشر:
    مكتبه أهل الأثر للنشر والتوزیع

     
  2. ‏اکتوبر 16، 2011 #2
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    فہرست مضامین

    1. قربانی کی فرضیت
    2. قربانی کے جانور کی عمر
    3. ’ مسنۃ ‘ کیا ہے؟
    4. ’ جذعہ ‘ کی وضاحت
    5. ’معز‘ (بکری) کا جذعہ
    6. کچھ دیگر اشکالات
    7. جن جانوروں کی قربانی جائز نہیں
    8. اعتراض
    9. جواب
    10. قربانی کے جانور
    11. قربانی کے جانور میں شرکت
    12. میت کی طرف سے قربانی
    13. قربانی کرنے والوں کے لیے ضروری بات
    14. جوقربانی کی استطاعت نہ رکھے
    15. قربانی کا وقت
    16. فضیلت والا دن
    17. قربانی کا جانور خود ذبح کرنا
    18. عورت کاذبیحہ
    19. قصاب سے قربانی کروانا
    20. قربانی کے گوشت کا مصرف
    21. قربانی کی کھالوں کا مصرف
     
  3. ‏اکتوبر 16، 2011 #3
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    مسائل قربانى
    جو قربانیاں گھروں میں کی جاتی ہیں ان کو أضحية کہتے ہیں اس کی جمع أضاحی ہے۔ جس طرح حج کرنے والے کے لیے قربانی کرناضروری ہے ایسے ہی صاحب استطاعت کے لیے گھر میں قربانی کرنی بھی ضروری ہے۔
     
  4. ‏اکتوبر 16، 2011 #4
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    قربانی کی فرضیت
    جندب بن سفیان بَجلی فرماتےہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک مرتبہ عیدالأضحی کی نماز پڑھی تو کچھ لوگوں نے نماز عید سے قبل ہی قربانی کر لی تھی، جب رسول اللہ ﷺ نے نماز عید ادا فرمانے کے بعد دیکھا تو ارشاد فرمایا:
    سیدنا ابو ہریرہ فرماتے ہیں:
     
  5. ‏اکتوبر 16، 2011 #5
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    قربانی کے جانور کی عمر
    جابربن عبداللہ فرماتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    "لا تذبحوا إلا مسنة ، إلا أن يعسر عليكم ، فتذبحوا جذعة من الضأن" (صحيح مسلم - كتاب الأضاحي، باب سن الأضحية - حديث:1963‏ )
    تم صرف اور صرف "مسنۃ" ہی ذبح کرو لیکن اگر تمھیں دشواری پیش آئے تو ضأن (بھیڑ، چھترا، دنبہ) ایک سالہ ذبح کرلو۔
     
  6. ‏اکتوبر 16، 2011 #6
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    صحیح مسلم کی اس حدیث پر اعتراض
    بعض لوگوں نے اس صحیح حدیث پر اعتراض کیا ہے کہ یہ روایت صحیح نہیں ہے کیونکہ ابو زبیر مدلس راوی ہے اور وہ اس حدیث کو "عن"سے روایت کررہا ہے۔ جبکہ لیث بن سعد کے علاوہ جو کوئی بھی ابو زبیر کی معنعن روایت نقل کرے وہ قابل احتجاج نہیں ہوتی۔ لہذا مدلس کا عنعنہ مردود ہونے کی وجہ سے یہ حدیث بھی ساقط الاعتبار ہے۔ یہی بات علامہ البانی ﷫نے سلسلہ ضعیفہ 157/1 میں اور ارواء الغلیل 258/4 میں کہی ہے۔
     
  7. ‏اکتوبر 16، 2011 #7
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    جواب
    اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ امام مسلم ﷫نے مدلسین کی جو معنعن روایات اپنی صحیح میں نقل کی ہیں وہ سماع پر محمول ہیں اور یہ حدیث جابر بن عبداللہ سے ابو زبیر نے سنی ہے۔
    امام ابو عوانہ یعقوب بن اسحاق الأسفرائینی نے اس سماع کو بایں الفاظ اپنی مسند میں نقل کیا ہے۔
    "حدثنا ابن المنادي ، قال : ثنا يونس بن محمد ، قال : ثنا أبو خيثمة ، وحدثنا الصغاني ، قال : ثنا حسن بن موسى الأشيب ، قال : ثنا زهير ، بإسناده مثله ، رواه محمد بن بكر عن ابن جريج ، حدثني أبو الزبير ، أنه سمع جابرا ، يقول وذكر الحديث " ( مستخرج أبي عوانة - مبتدأ كتاب الأضاحي، باب بيان وجوب الأضحية - حديث:
    6316)
    لہٰذا اس صحیح حدیث سے ثابت ہوا کہ قربانی "مسنۃ" جانور ہی کی کرنی چاہیے اور اگر دشواری ہو تو پھر بھیڑ کی جنس سے " جذعہ " کرنے کی اجازت ہے۔
     
  8. ‏اکتوبر 16، 2011 #8
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    "مسنۃ" کیا ہے؟
    جب جانور کے دودھ کے دانت دوسرے نئے دانت نکلنے کی وجہ سے گر جائیں تو وہ ""مسنۃ" " کہلاتا ہے۔ (المصباح المنیر 292/1، لسان العرب 222/13)
    عموماً منڈیوں میں دھوکا دینے کے لیے بعض لوگ جانور کے دانت خود توڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ دودانتا ہوگیا ہے لیکن یہ بات یاد رہے کہ
    امام شوکانی ﷫نے بھی یہی بات نیل الأوطار میں بایں الفاظ تحریر فرمائی ہے:
     
  9. ‏اکتوبر 16، 2011 #9
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    جذعہ کی وضاحت
    بھیڑ کی جنس (دنبہ ، بھیڑ، چھترا) صحیح ترین قول کے مطابق جب ایک سال مکمل کر لے تو جذعہ کہلاتی ہے۔ ( لسان العرب 44,45/8، القاموس المحیط 915/1)
    مندرجہ بالا بحث سے معلوم ہوا کہ قربانی کا جانور دودانتا ("مسنۃ") ہونا ضروری ہے اور اگر "مسنۃ" کے حصول میں دشواری ہو تو پھر صرف بھیڑ کی جنس سے جذعہ کرنے کی رخصت ہے جو کہ دیگر جنسوں میں نہیں۔
     
  10. ‏اکتوبر 16، 2011 #10
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    "معز" (بکری) کا جذعہ
    براء بن عازب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    یہ حدیث صحیح بخاری میں مختلف الفاظ کے ساتھ دس جگہوں پر آئی ہے ۔ اس حدیث سے بعض لوگ یہ مسئلہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ بکری کا جذعہ بھی بوقت دشواری کفایت کرجاتا ہے ، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے حالت عسر میں اس کو قربانی دینے کی اجازت دی۔
    کچھ دوسرے ایسے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ صرف بکری کا جذعہ کفایت نہیں کرتا باقی سب جانوروں کا جذعہ کفایت کرجاتا ہے۔ کیونکہ یہاں تذکرہ بکری کا ہورہاہے اور اس کے جذعہ کی کفایت نہ کرنے کا حکم دیا جارہاہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں