1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسجد نبوی میں ایک نماز ایک ہزار کے برابر یا پچاس ہزار کے برابر ؟

'تحقیق حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏فروری 06، 2019۔

  1. ‏فروری 06، 2019 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    860
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    مسجد نبوی میں ایک نماز ایک ہزار کے برابر یا پچاس ہزار کے برابر؟
    تحریر: نسیم سعید تیمی

    عبادت کی غرض سے اللہ تعالی نے صرف ان تین مسجدوں کے لئے رخت سفر باندھنے کی اجازت دی ہے جن کی تعمیر انبیاء کے مبارک ہاتھوں سے ہوئی ہے:
    ((لا تشد الرحال الا الی ثلاثة مساجد: المسجد الحرام، ومسجد الرسول ﷺ۔ ومسجد الاقصی))
    (صحيح البخاري 2/ 60،حدیث نمبر:1189)، صحيح مسلم 2/ 1014، حدیث نمبر: 1397، عن ابی ہرہرۃ)۔
    ترجمہ: صرف تین مسجدوں کا ہی سفر کیا جا سکتا ہے: مسجد حرام، مسجد رسول اللہ ﷺ اور مسجد اقصی۔
    مسجد حرام خلیل اللہ ابو الانبیاء سید الموحدین ابراہیم اور ان کے وارث رسالت فرزند ارجمند اسماعیل کے اخلاص وللہیت اور توحید وفداکاری کی یادگار ہے، مسجد نبوی سید الانبیاء خاتم النبیین محمد بن عبد اللہ کی عظمت اورعبودیت کی نشانی ہے اور مسجد اقصی حضرت سلیمان علیہم السلام کی نبوت اور بے مثال خداداد سلطنت کی گواہ ہے۔
    اللہ رب العالمین نے اپنے حبیب کی زبان مبارک سے ان تینوں مسجدوں کی اہمیت وفضیلت بتلا کر ان کی عظمت مسلمانوں کے دلوں کے نہاں خانوں میں بیٹھا دی، آپ ﷺ کا ارشاد ہے :
    ((صلاة في المسجد الحرام مئة ألف صلاة، وصلاة في مسجدي ألف صلاة، وفي بيت المقدس خمس مئة صلاة))، (شعب الإيمان 6/ 41، حدیث نمبر :3848 ،عن جابر بن عبد اللہ، و 6/ 39، حدیث نمبر:3845 عن ابی الدرداء، حسن بمجموع طرقہ)۔
    ترجمہ: مسجد حرام میں ایک نماز ایک لاکھ نماز کے برابر، میری مسجد میں ایک ہزار کے برابر اور مسجد اقصی میں پانچ سو کے برابر ہے۔

    *مسجد نبوی میں نماز کی جو فضیلت صحیح حدیث سے ثابت ہے وہ یہ ہےکہ یہاں ایک نماز ایک ہزار کے برابر یا اس سے افضل ہے، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے صحیحین میں روایت ہےآپ ﷺ نے فرمایا: ((صلاة في مسجدي هذا خير من ألف صلاة فيما سواه، إلا المسجد الحرام))۔* (صحیح البخاری 2/60، حدیث نمبر: 1190، مسلم 2/1012، نمبر: 1394))۔
    ترجمہ: میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں میں ادا کی گئی ایک ہزار نماز سے بہتر ہے سوائے مسجد حرام کے۔

    *لیکن مسلمانوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو بخاری ومسلم کی اس صحیح تریں روایت کو چھوڑ کر بعض ضعیف روایات پر اعتماد کرتے ہوئے سمجھتے اور سمجھاتے ہیں کہ مسجد نبوی میں ادا کی گئی ایک نماز پچاس ہزار نماز کے برابر ہے، ہم ایسے لوگوں کی اس لا علمی یا غلط فہمی یا مشایخ کی اندھی تقلید سے پردہ اٹھاتے ہوئے ان روایات کی تخریج اور ان کا دراسہ اس تحریر میں پیش کر رہے ہیں،
    * وما توفیقی الا باللہ وان ارید الا الاصلاح۔

    امام ابن ماجہ نے بیان کیا:
    حدثنا هشام بن عمار قال: حدثنا أبو الخطاب الدمشقي قال: حدثنا رُزَيق أبو عبد الله الألهاني، عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((صلاة الرجل في بيته بصلاة، وصلاته في مسجد القبائل بخمس وعشرين صلاة، وصلاته في المسجد الذي يجمع فيه بخمس مائة صلاة، وصلاته في المسجد الأقصى بخمسين ألف صلاة، وصلاته في مسجدي بخمسين ألف صلاة، وصلاة في المسجد الحرام بمائة ألف صلاة)). سنن ابن ماجہ: 1/453، حدیث نمبر(1413)۔
    ترجمہ: امام ابن ماجہ نے کہا کہ ہشام بن عمار نے مجھ سے، انھوں نے ابو الخطاب دمشقی سے، انھوں نے رزیق ابو عبد اللہ الہانی سے، انھوں نے انس بن مالک سے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا ((آدمی کی نماز اس کے اپنے گھر میں ایک نماز ہے، محلے اورقبیلے کی مسجد میں پچیس نماز کے برابر ہے، جامع مسجد میں پانچ سو کے برابر ہے، مسجد اقصی میں پچاس ہزار کے برابر ہے،میری مسجد (مسجد نبوی) میں پچاس ہزار کے برابر ہے اور مسجد حرام میں ایک لاکھ نماز کے برابر ہے))۔
    اس حدیث کو امام طبرانی نے بھی«المعجم الاوسط » (7/112، حدیث نمبر: 7008) میں اور ابن عساکر نے «تاریخ دمشق»(15/ 159) میں ابن ماجہ کے استاد ہشام بن عمار کے طریق سے روایت کیا ہے۔
    طبرانی نے کہا: " انس کی یہ حدیث صرف اسی سند سے مروی ہے، ہشام بن عمار نے تفرد اختیار کیا ہے"۔
    *سند حدیث کا دراسہ:*
    یہ سند ضعیف ہے، اس میں دو علتیں ہیں:
    • ابو الخطاب دمشقی جس کا نام حماد ہے، یہ مجہول روای ہے۔دیکھئے: تقریب التہذیب (ص: 636)، ترجمہ: (8079)۔
    • رْزَیق ابو عبد اللہ الالہانی، اس کے بارے ابو زرعہ نے کہا: "لا با س بہ"۔ الجرح والتعديل لابن أبي حاتم (3/ 505، ترجمہ:2288)۔
    حافظ ابن حجر کہا: "صدوق لہ اوہام"، کہ یہ صدوق تو ہے لیکن اس کے اوہام ہیں۔ تقریب التہذیب (ص: 209، ترجمہ: 1938)۔
    اورابن حبان نے اسے «الثقات» (4/239، ترجمہ نمبر: 2698) میں ذکر کیا، اسی طرح «المجروحین» (1/301، ترجمہ نمبر: 351) میں بھی ذکر کیا اور کہا: "ينفرد بالأشياء التي لا تشبه حديث الأثبات التي لا يجوز الاحتجاج به إلا عند الوفاق"۔ کہ وہ ایسی چیزیں روایت کر جاتے ہیں جو ثقہ راویوں کی حدیث سے میل نہیں کھاتیں۔ اس لئے اس سے احتجاج کرنا درست نہیں الا یہ کہ دوسرے راوی اس کی موافقت کرے۔
    معلوم ہوا کہ جب یہ راوی کسی حدیث کی روایت میں متفرد ہو تو وہ حدیث قابل احتجاج نہیں ہوتی جب تک دوسرے راوی اس کی موافقت اور متابعت نہ کرے؛ کیونکہ یہ وہم کا شکار ہوجایا کرتا ہے اور یہاں زیر بحث حدیث کی روایت میں یہ متفرد ہے اس کی کسی نے متابعت نہیں کی ہے۔
    ان دو علتوں کی وجہ سے علماء نے اسے ضعیف قرار دیا ہے:
    • ابن الجوزی نے کہا: "ہذا حدیث لا یصح"۔ العلل المتناہیۃ فی الاحادیث الواہیۃ(2/86)۔
    • امام ذہبی کہا: "ہذا منکر جدا"۔ ميزان الاعتدال (4/ 520)۔
    • ابن الملقن، ابن حجر اور ناصر الدین الالبانی نے اس پر ضعف کا حکم لگایا ۔ دیکھئے: البدر المنیر (9/ 514) والتلخیص الحبیر (4/ 330) والثمر المستطاب فی فقہ السنۃ والکتاب (2/ 580)۔
    *یہ حدیث اور ایک طریق سے مروی ہے جسے خطیب بغدادی نے «تلخیص المتشابہ فی الرسم» (1/ 488) میں
    روایت کیا ہے، انھوں بیان کیا:
    أخبرني الحسن بن أبي طالب، نا محمد بن عبد الله الكوفي، نا الوليد بن عزوز السنجاري بسنجار، نا محمد بن عامر الأنطاكي، قال: نا الربيع بن نافع، نا سلمة بن علي أبو الخطاب كان يسكن باللاذقية، عن رزيق بن عبد الله أنه سمع أنس بن مالك يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الصلاة في المسجد الحرام بمائة ألف صلاة، والصلاة في مسجدي بخمسين ألف صلاة، والصلاة في المسجد الذي يجمع فيه الجمعة بخمس وعشرين ألف صلاة، والصلاة في مسجد القبايل بخمس وعشرين ألف صلاة».*
    ترجمہ حدیث: آپ ﷺ نے فرمایا: مسجد حرام میں ایک نماز ایک لاکھ نماز کے برابر ہے، میری مسجد میں پچاس ہزار کے برابر ہے، جامع مسجد اور محلے کی مسجد میں پچیس ہزار کے برابر ہے۔
    *سند کا دراسہ* :
    یہ سند موضوع ہے، اس میں کئی علتیں ہیں۔
    • رْزَیق بن عبد اللہ مجہول ہے جیسا کہ ابھی پچھلی سند میں گزرا۔
    • سلمۃ بن علی ابو الخطاب بھی مجہول ہے، اس کے بارے خطیب بغدادی نے «تلخیص المتشابہ فی الرسم» (1/ 488) میں کہا: "هو في عداد المجهولين" کہ اس کا شمار مجہول روات میں ہوتا ہے۔
    • الولید بن عَزور اس راوی کے بارے تلاش بسیار کے باوجود کوئی معلومات دستیاب نہیں ہو سکی۔
    • محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ابو المفضل الکوفی، یہ کذاب راوی ہے، یہ سارق حدیث تھا دوسرے راوی کی حدیث کو اپنی طرف منسوب کر لیتا تھا ،اسی طرح سے ایک حدیث کی سند دوسری سند سے جوڑ دیتا تھا، اس کے بارے خطیب بغدادی نے کہا: "فكتب الناس عنه بانتخاب الدارقطني، ثم بان كذبه فمزقوا حديثه، وأبطلوا روايته، وكان بعد يضع الأحاديث للرافضة". کہ لوگوں نے اس سے «انتخاب دارقطنی» لکھی، پھر جب اس کی کذب بیانی واضح ہوگئی تو لوگوں نے اپنی ان کاپیوں کو پھاڑ دیا جن میں اس کی حدیثیں تھیں، اس کی روایت کو باطل قرار دیا اور بعد میں وہ رافضیوں کے لئے حدیثیں گھڑنے لگا۔
    خطیب نے ازہری سے نقل کیا کہ ابو المفضل دجال وکذاب تھا۔ دیکھئے: تاریخ بغداد (3/499، ترجمہ نمبر: 1030) ولسان المیزان (5/ 231، ترجمہ: (811)۔
    معلوم ہوا کہ اس سند کے تمام روات مجروح ہیں سوائے الربیع بن نافع اور محمد بن عامر الانطاکی کے۔
    ابن ماکولا نے «الإكمال في رفع الارتياب عن المؤتلف والمختلف في الأسماء والكنى والأنساب» (2/ 464) میں کہا: "والحديث منكر ورجالہ مجہولون ما عدا الربیع بن نافع"۔ کہ یہ حدیث منکر ہے، اس کے تمام رجال مجہول ہیں سوائے الربیع بن نافع کے۔
    ابن ماکولا نے صرف ربیع بن نافع کو مجروح روات سے مستثنی کیا ہے جبکہ محمد بن عامر بھی ثقہ ہیں۔
    *حضرت انس کی حدیث کے دونوں طریق کے دراسے کے بعد یہ بات ہر انصاف پسند کےلئے دو دو چار کی طرح عیاں ہو گئی کہ اس کا پہلا طریق دو علتوں کی وجہ سے ضعیف ہے جس سے احتجاج کرنا درست نہیں اور دوسرا طریق چار علتوں کی وجہ سے موضوع کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔*
    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مسجد نبوی میں ایک نماز دس ہزار نماز کے برابرہے، چنانچہ ابن منده نے «مسند ابراہیم بن ادہم الزاہد» (ص: 39،حديث نمبر: 30)میں اورابو نعیم نے «حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء» (8/46) میں العباس بن حمزۃ کے طریق سے روایت کیا۔ عباس بن حمزۃنے کہا: حدثنا عبد الرحيم بن حبيب , ثنا داود بن عجلان , ثنا إبراهيم بن أدهم , عن مقاتل بن حيان، عن أنس بن مالك , قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الصلاة في المسجد الحرام مائة ألف صلاة والصلاة في مسجدي عشرة آلاف صلاة , والصلاة في مسجد الرباطات ألف صلاة».
    ترجمہ حدیث: آپ ﷺ نے فرمایا: مسجد حرام میں ایک نماز ایک لاکھ نماز کے برابر ہے، میری مسجد میں دس ہزار کے برابر ہے اور سرحد کی مسجدوں میں ایک ہزار کے برابر ہے۔
    ابو نعیم نے اس کے بطلان کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا: "لم نكتبه إلا من حديث عبد الرحيم عن داود". کہ ہمیں یہ حدیث صرف عبد الرحیم عن داود کے طریق ہی سے ملی ہے۔
    اس حدیث کی سند بھی گزشتہ حدیث کی طرح موضوع ہے اس میں دو علتیں ہیں:
    • داود بن عجلان ضعیف ہے تقریب التہذیب (ص: 199، ترجمہ: 1800)۔
    • عبد الرحیم بن حبیب، اس کے بارے یحیی بن معین نے کہا: " ليس بشيء"۔ کہ وہ کچھ بھی نہیں ہے، یعنی وہ حد درجہ ضعیف ہے، اورابن حبان نے کہا: "وكان يضع الحديث على الثقات... ولعله قد وضع أكثر من خمسمائة على رسول الله صلى الله عليه وسلم"۔ کہ وہ ثقہ راویوں کے مقابلے میں حدیثیں گھڑتا تھا اور شاید اس نے آپ ﷺ پر پانچ سو سے زائد حدیثیں گھڑی ہیں۔ دیکھئے: لسان المیزان للذہبی (5/ 158)،المجروحين (2/ 163) (785).
    *گزشتہ سطور سے یہ بات اظہر من الشمس ہو گئی کہ مسجد نبوی میں ادا کی گئی ایک نماز ایک ہزار نماز سے افضل ہے ، یہ فضیلت حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آئی ہے جسے امام بخاری ومسلم نے صحیحین میں روایت کیا ہے، ایک ہزار کے بر خلاف دس ہزار یا پچاس ہزار والی روایات یا تو ضعیف ہیں یا موضوع اور من گھڑت ہیں؛ اس لئے صحیح حدیث کو اپنائیں اور اسے دوست واحباب کے درمیان عام کریں اور ضعیف وموضوع روایات سے خود بھی دور رہیں اور دوسروں کو بھی دور رکھیں۔* وما علینا الا البلاغ وصلی اللہ علی نبینا محمدوعلی آلہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا۔
     
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 21، 2019
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں