1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے (حدیث المسلم أخو المسلم) کی تشریح اور تخریج

'شرح وفوائد' میں موضوعات آغاز کردہ از islaimc student, ‏جولائی 26، 2018۔

  1. ‏جولائی 26، 2018 #1
    islaimc student

    islaimc student مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 10، 2018
    پیغامات:
    8
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے

    عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ” الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ ؛ لا یَظْلِمُہُ ، وَلا یَخْذُلُہُ ، وَلا یَحْقِرُہُ ، بِحَسْبِ امْرِءٍ مِنْ الشَّرِّ أَنْ یَحْقِرَ أَخَاہُ الْمُسْلِمَ ، رَواہُ مُسلِمٌ

    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور رسالت ِمآب ﷺنے ارشادفرمایا : مسلمان ، مسلمان کابھائی ہے۔نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اس کو ظلم میں سونپتا ہے ، نہ اس کو رسوا کرتا ہے ،نہ اس کوحقیر جانتا ہے ۔ کسی شخص کے بدبخت ہونے کے لیے اتنا ہے کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔

    ( اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)

    :تخریج الحدیث

    (صحیح مسلم: رقم ٢٥٦٤۔ طبع مؤسسۃ الرسالۃ)

    (مسند امام احمد: رقم ٧٧٢٧۔ طبع مؤسسۃ الرسالۃ)

    (السنن الکبرٰی للبیہقی : ج٦ص٩٢۔ طبع دارالنوادر بےروت)

    :شرح الحدیث

    :ارشاد باری تعالیٰ ہے

    وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلاَ تَفَرَّقُوْا وَاذْکُرُوْا بِنِعْمَتِ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖ اِخْوَانًا

    (آل عمران:١٠٣)

    اوراللہ کی رسی مضبوط تھام لو سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا (فرقوں میں نہ بٹ جانا)اور اللہ کااحسان اپنے اوپر یاد کروجب تم میں دشمنی تھی اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ کردیا تو اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی ہوگئے۔

    : نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے

    اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ

    (الحجرات : ١٠)

    مسلمان مسلمان بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرواور اللہ سے ڈرو کہ تم پہ رحمت ہو
     
  2. ‏جولائی 27، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,365
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    مسلمانوں کے حقوق

    شیخ ابو کلیم فیضی

    عن أبي هريرة رضي الله عنه قال :
    قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : حق المسلم على المسلم ست : إذا لقيته فسلم عليه و إذا دعاك فأجبه و إذا استنصحك فانصح له ، وإذا عطس فحمد الله فشمته و إذا مرض فعده وإذا مات فاتبعه .


    ( صحيح البخاري : 240 ، الجنائز / صحيح مسلم : 2162 ،السلام ، الفاظ صحیح مسلم کے ہیں )

    ترجمہ : سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں ، جب تیری اس سے ملاقات ہو تو اسے سلام کر ، جب وہ تجھے دعوت دے تو اسے قبول کر ، جب وہ تجھ سے خیر خواہی و نصیحت طلب کرے تو اس سے خیر خواہی کر ، جب اسے چھینک آئے اور الحمد للہ کہے تو اسے یرحمک اللہ کہکر جواب دے ، جب وہ بیمار ہو تو اسکی مزاج پرسی کر اور جب وہ مرجائے تو اسکے جنازے میں شریک ہو ۔

    تشریح : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، وہ نہ اسکی خیانت کرتا ہے ، نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے ، نہ اسے بے سہارا چھوڑتا ہے ، ایک مسلمان کی عزت اسکا مال اور اسکا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۔۔۔۔۔ کسی آدمی کے برا ہونے کیلئے یہی کافی ہیکہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر خیال کرے ۔ [ مسلم ، ترمذی بروایت ابو ہریرہ ]

    ایک مسلمان ، بحیثیت مسلمان کے اپنے بھائی پر کچھ حقوق رکھتا ہے ، جنکی ادائیگی واجب ہے ، ان حقوق کی تعداد بہت زیادہ ہے ، البتہ ان میں سے بعض حقوق کا ذکر ہم یہاں کرتے ہیں ۔

    [ 1 ] سلام کرنا : سب سے پہلا اسلامی حق یہ ہیکہ ایک مسلمان جب اپنے بھائی سے ملے تو اسے اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے سلامتی کا تحفہ پیش کرے اور یہ واضح کردے کہ میں اپنے بھائی کا خیرخواہ اور اسکے لئے دعا گو ہوں ۔ ارشاد نبوی ہے : سلام پھیلاو [ بغض و نفرت اور عداوت و دشمنی سے ] بچے رہوگے [ الادب المفرد بروایت براء ] نیز فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے ملے تو اسے سلام کہے پس اگر انکے درمیان میں کوئی درخت یا پودا یا پتھر حائل ہوجائے پھر اسے ملے تو چاہئے کہ سلام کرے ۔ [ ابوداود بروایت ابو ہریرہ ]

    [ 2 ] دعوت قبول کرنا : مسلمانوں کا باہمی دوسرا حق یہ ہیکہ اگر کوئی مسلمان بھائی کسی کو شادی یا کسی اور مناسبت سے کھانے پر بلاتا ہے تو اسکی دعوت قبول کرنا اسکا حق ہے ، کیونکہ اسمیں اسکی دل جوئی اور عزت افزائی ہے ، نیز کسی کے یہاں آنے جانے سے آپسی تعلقات اور دلی محبت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ۔۔۔۔۔ علماء کہتے ہیں کہ اگر یہ دعوت ، دعوت ولیمہ ہوتو اسمیں حاضری ضروری ورنہ سنت موکدہ ہے ، بلکہ یہ امر اس قدر موکد ہے کہ اگر کوئی شخص روزہ سے ہے تو بھی دعوت قبول کرے اور وہاں حاضر ہو ۔

    ارشاد نبو ی ہیکہ جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو اسے چاہئے کہ وہ قبول کرے ، اگر وہ روزہ دار ہو تو دعوت دینے والے کیلئے دعا کرے اور اگر روزے سے نہ ہو تو دعوت کھالے ۔ [ صحیح مسلم ، بروایت ابو ہریرہ ]

    [ 3 ] نصیحت و خیرخواہی : چونکہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ایک بھائی کا حق ہیکہ وہ ہمیشہ اپنے بھائی کا خیر خواہ رہے ، لہذا اگر کوئی بھائی کسی سے مشورہ طلب کررہا ہے یا کسی کام سے متعلق رائے لے رہا ہے تو اسے وہی مشورہ دیا جائے جو وہ خود اپنے لئے بہتر سمجھ رہا ہو ۔ ارشاد نبوی ہیکہ : دین خیرخواہی و نصیحت کا نام ہے ۔ [ صحیح مسلم بروایت تمیم داری ] نیز فرمایا : جس سے مشورہ لیا جائے اسے امانتدار ہونا چاہئے ۔ [ سنن الترمذی ، و احمد ]

    [ 4 ] چھینک کا جواب : چھینک کا آنا جسمانی صحت کی دلیل اور دماغ کے فضلات کا اخراج ہے لہذا جب کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے ” الحمد للہ ” کہنا چاہئے ، جب وہ الحمدللہ کہے تو سننے والے بھائی کے اوپر واجب ہیکہ وہ ” یرحمک اللہ ” کہکر اسے دعا دے ۔

    [ 5 ] مریض کی عیادت و زیارت : بیمار شخص تسلی ، صبر و احتساب کی تلقین کا محتاج ہوتا ہے ، بسا اوقات وہ اپنی عیادت کیلئے کسی خدمتگار کا ضرورتمند ہوتا ہے ، اسلئے ایسے وقت میں دوسرے مسلمانوں پر اسکا ایک حق واجب یہ بھی ہیکہ اسکی عیادت و زیارت کی جائے ۔

    اس امر کی اہمیت اس قدر ہیکہ اللہ تعالی قیامت کے دن بندے سے اسکی باز پرس کریگا اور اسے اپنا حق قرار دیگا ۔ [ صحیح مسلم ، بروایت ابوہریرہ ]

    [ 6 ] جنازے میں شرکت : جب انسان کی روح اسکے جسم سے جدا ہوجائے تو اسے زمین کے حوالے کردینا ہی اسکی اصل تعظیم و تکریم ہے ، اس وقت وہ لاش بے جان اپنے لئے کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ہوتی ، اسلئے اسکے بھائیوں پر اسکا حق ہیکہ اسے زمین کے سپرد کر دیں ، اور آگے کی منزل کی آسانی کیلئے دعا کریں ، ارشاد نبوی ہے : تین چیزیں ہرمسلمان پر حق واجب ہیں ،

    ۱ – مریض کی عیادت ۔ ۲- جنازہ میں شرکت ۔ ۳- اور چھینک آنے پر الحمدللہ کہے تو اسکا جواب ۔

    [ الادب المفرد ، بروایت : ابوہریرہ ]

    اسی طرح مسلمانوں کے حقوق میں یہ چیزیں بھی داخل ہیں :

    7 – مظلوم کی مدد ۔

    8- قسم اٹھانے والے کی قسم پورا کرنا ۔

    9 – عیوب کو چھپانا ۔

    10- قیدی کو آزاد کرانا ۔ وغیرہ ۔

    http://www.islamidawah.com/?p=1161
     
  3. ‏جولائی 27، 2018 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,365
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ، وَلَا يَخْذُلُهُ، وَلَا يَحْقِرُهُ التَّقْوَى هَاهُنَا، وَيُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ، حَرَامٌ دَمُهُ، وَمَالُهُ، وَعِرْضُهُ "
    (صحیح مسلم ،کتاب البر والصلۃ ،باب تحریم ظلم المسلم (2564 )
    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت حسد کرو، مت دھوکے بازی کرو، مت بغض رکھو، مت دشمنی کرو، کوئی تم میں سے دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے اور ہو جاؤ اللہ کے بندو بھائی بھائی۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے، نہ اس کو ذلیل کرے، نہ اس کو حقیر جانے، تقویٰ اور پرہیزگاری یہاں ہے۔“ اور اشارہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف تین بار (یعنی ظاہر میں عمدہ اعمال کر نے سے آدمی متقی نہیں ہوتا جب تک سینہ اس کا صاف نہ ہو) ”کافی ہے آدمی کو یہ برائی کہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، مسلمان کی سب چیزیں دوسرے مسلمان پر حرام ہیں اس کا خون، مال، عزت اور آبرو۔“
    https://archive.org/stream/samusamu/samu#page/n1192
    دوسرا نسخہ : صحيح مسلم (ط. الأوقاف السعودية)
    https://archive.org/stream/FP121852/121852#page/n1124
     
    Last edited: ‏جولائی 27، 2018
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں