1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسلمانوں کو قتل کرنے پر پرویز مشرف کا فخر۔۔۔لعنت ہے ایسی سوچ پر

'مغرب کے ہمنوا مسلمان' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏مئی 01، 2013۔

  1. ‏مئی 02، 2013 #11
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    مشرف کی عزت وہ کرے گا جو منافقین میں سے ہوگا۔اور جو مشرف کو اپنا شرعی امیر تسلیم کرے وہ مشرف کے تمام جرائم میں شریک کار ہوگا۔اس کے ساتھ مشرف جیسا ہی سلوک ہوگا۔ہم خائن صلیبی افواج کے بدکرداروں سے کہتے ہیں کہ مجاہدین کے غلبہ پانے سے پہلے توبہ کرلو اور مشرف سے براءت کرلو ورنہ تمہارا بھی انجام مشرف سے مختلف نہ ہوگا ان شاء اللہ
     
  2. ‏مئی 03، 2013 #12
    ابراہیم بھائی

    ابراہیم بھائی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 03، 2012
    پیغامات:
    214
    موصول شکریہ جات:
    814
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    یہ مذاق نہیں کررہا بھائی جان
    دراسل یہ لوگ بوکھلاہٹ کا شکار ہے ۔۔۔۔۔
    القول السدید اور عبداللہ عبدل بھائی نے جب سے یہاں خوارجیوں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تب سے ہی ان لوگوں کی نیند حرام ہوگئی ہے اسی لئے یہ لوگ انہی کا تزکرہ کرتے رہتے ہے پتا نہیں یہ لوگ رات کو بھی القول السدید اور عبداللہ عبدل کا نام لئے بغیر سوتےہے یا نہیں ۔۔۔
     
  3. ‏مئی 03، 2013 #13
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    السلام علیکم ،
    فیض بھائی یہ سچ ہے کہ جماعت دعوۃ مشرف کو امیر شرعی مانتی ہے ، اگر ایسا ہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟
     
  4. ‏مئی 04، 2013 #14
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211


    ایسا الزام لگانے والوں کے متعلق ہم فقط یہی کہتے ہیں کہ لعنت اللہ علی الکاذبین۔
    کسی قوم یا جماعت کی دشمنی میں جو لوگ معمولی سی بات میں انصاف کو مدنظر نہ رکھ سکیں انہیں کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ دوسرے مسلمان کہلانے والوں کو کافر قرار دے کر ان کی جانیں لیتے پھریں اور مجاہد، غازی، شہید سے الفاظ خود کے لئے استعمال کریں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏مئی 04، 2013 #15
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

  6. ‏مئی 04، 2013 #16
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    اپنے منہ میاں مٹھو بننے والی بات ہے یہ۔انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر کو استعمال کرنے والے افراد اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں اور کون خوارج اور مرجئوں سے تعلق رکھتا ہے۔خوارج تو وہ ہوتے ہیں جو بت پرستوں کی مدح سرائی کرتے ہیں ان کی تعریف و توصیف میں ہر وقت رطب اللسان رہتے ہیں۔ اسی فورم پر خوارج و مرجئہ کی جانب سے پیش کی جانے والی ویڈیو جو کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے بارے میں القول السدید نامی شخص نے جو پوسٹ کی ہے وہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ خوارج اور مرجئوں کے زمرے میں کون لوگ آتے ہیں۔دراصل خوارج اور مرجئوں کا لفظ ان لوگوں کے لئے اس لئے بولا جاتا ہے کہ یہ لوگ ذوالوجہین ہیں دو چہروں والے ہیں۔ان کا ایک چہرہ تو خوارج کا ہے جس میں وہ بت پرستوں کے ساتھ ہیں اور مجاہدین کے خلاف ہیں ۔ سوشل میڈیا پر مجاہدین کے خلاف کیا جانے والا جھوٹا پروپیگنڈہ انہی لوگوں کا ہے جو اپنے آقاؤں آئی ایس آئی اور ملک کی دیگر خفیہ ایجنسیوں اور نام نہاد ان مذہبی جماعتوں جو کہ آئی ایس آئی جیسی ایجنسیوں کی مرہون منت ہیں۔ یہ لوگ سوشل میڈیا پر مجاہدین کے خلاف انہی ایجنسیوں اور اس ملک کی فوج جو کہ صلیبی اتحاد کا حصہ ہے اس کی حمایت میں ہیں اور صلیبی افواج کی تعریف وتوصیف اور مدح سرائی میں مصروف عمل ہیں اور مجاہدین کو دہشت گرد اور تکفیری قرار دینے میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔دہشت گرد تنظیم حزب اللہ جو کہ دراصل اسرائیل کی حمایت یافتہ تنظیم ہے اس کا بھی یہی وطیرہ ہے جو کہ دور حاضر کے ایجنسیوں کے پروردہ خوارج کا وطیرہ ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ حزب الشیطان کا رہنما حسن نصراللہ نے ابھی حال ہی میں یہ بیان دیا ہے کہ ہم بشار الاسد کی حمایت میں سنی تکفیریوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔یہاں کے خوارج کا بھی یہی نظریہ ہے کہ وہ اہل السنۃ والجماعۃ سے تعلق رکھنے والی جہادی تنظیموں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ تکفیری ہیں اور پاکستانی فوج جو کہ ناٹو اتحاد میں فرنٹ لائن کی اتحادی ہے جس نے مجاہدین کے قتل وعام کے لئے اپنے معسکرات اور اپنی افواج کو ڈالروں کے عوض صلیبیوں کے ہاتھوں میں فروخت کیا ہوا ہے اسی بے غیرتی کے سودے کی بنیاد پر کرائے کے یہ ٹٹو مجاہدین اسلام سے قتال میں مصروف ہیں۔انہی کو عصر حاضر کے خوارج حق پر اور مجاہدین اسلام جو کہ دین کی سربلندی کے لئے ان صلیبیوں سے قتال میں مصروف ہیں ان کو یہ عصر حاضر کے خوارج تکفیری اور دہشت گرد کے القابات سے نوازتے ہیں۔اصل میں یہ خوارج اس حدیث کا مصداق ہیں جس میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ خوارج بت پرستوں کے کو چھوڑے رکھیں گے اور مسلمانوں کےقتل عام میں مصروف عمل ہوں گے ۔ قاری خود ہی فیصلہ کرسکتا ہے کہ یہ خوارج پاکستانی فوج جس کا مکروہ چہرہ ہر پاکستانی بلکہ دنیا کے ہر اس شخص کے سامنے عیاں ہوچکا ہے جو تھوڑی بہت بھی سمجھ بوجھ رکھتا ہے۔کہ پاکستانی فوجی کرائے کے ٹٹو ہیں جو کہ ڈالروں کے عوض اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے قتل عام میں مصروف ہیں۔اب تو آنکھوں والے تو آنکھوں والے نابینا افراد تک اس حقیقت سے باخبر ہوچکے ہیں کہ پاکستانی فوج کس کردار کی مالک ہے۔ چنانچہ یہ خوارج بجائے اس کے کہ پاکستانی فوج کے اس گھناؤنے اور مکروہ کردار سے لوگوں کو باخبر کرتے الٹا ان خوارج نے اپنیہ اپنی جماعتوں کے لئے چند رعایتوں کے عوض مجاہدین کے خلاف اس بات کا پروپیگنڈہ شروع کردیا کہ یہ مجاہدین تو تکفیری ہیں۔دہشت گرد ہیں۔ لیکن آج تک یہ خوارج اس بات کا ثبوت مہیا نہ کرسکے کہ مجاہدین نے عامۃ المسلمین کی کبھی تکفیر کی ہو۔مجاہدین نے صرف اور صرف طاغوتی حکمرانوں کی تکفیر کی ہے۔ اور اس سلسلے میں انہوں نے اپنی باقاعدہ نشریات میں قرآن و سنت سے دلائل بھی پیش کئے ہیں جن کا توڑ آج تک دور حاضر کے خوارج کے پاس نہیں ہے اور نہ ہوگا ان شاء اللہ۔
    ان خوارج کا دوسرا مکروہ چہرہ ارجاء کی منحوس غلاظت میں لتھڑا ہوا ہے۔ان خوارج نما مرجئوں نے طاغوتی حکمرانوں کو شرعی حکمران تسلیم کیا ہوا ہے۔ان کے حکمرانی کو جائز قرار دینے کے لئے انہوں نے قرآن وسنت کے مخالف خودساختہ علماء سوء کے فتاویٰ سوشل میڈیا پر نشر کیے ہوئے ہیں۔جب ان خوارج نما مرجئوں کی گرفت کی گئی تو ان میں سے کسی ایک علماء سوء نے آج تک مجاہدین میڈیا کے جواب میں کوئی دلیل پیش نہیں کی۔ ان خوارج نما مرجئوں کے اس گھناؤنے کردار کی بدولت کچھ سادہ لوح مسلمان ان کے گھناؤنے جال میں پھنس گئے ۔ لیکن الحمد للہ جب انہوں نے مجاہدین کی ویب سائٹس پر پائے جانے والے قرآن وسنت سے لبریز مستحکم دلائل کا مشاہدہ کیا تو ان کی آنکھیں کھل گئیں اور انہوں نے ان خوارج نما مرجئوں جماعتوں سے براءت کا اعلان کردیا۔الحمد للہ علی ذلک
    اس فورم پر موجود افرا جانتے ہیں کہ اسی فورم پر القول السدید اور عبداللہ عبدل جیسے افراد روزانہ درجنوں دلائل سے عاری پوسٹیں عام مسلمانوں کو مجاہدین سے متنفر کرنے کے لئے کیا کرتے تھے ۔ لیکن جب مجاہدین سے محبت کرنے والوں نے ان دونوں افراد کے جھوٹے دلائل کو آڑے ہاتھ لیا تو یہ دونوں مذکورہ افراد کہاں فرار ہوگئے یہ سب کو پتہ ہے۔فیس بک پر ان کا فرار سب کو معلوم ہے کہ جب مجاہدین کے حمایتیوں کی طرف سے ان سے سوالات پوچھے گئے تو یہ لوگ کس طرح وہاں سے فرار ہوگئے۔تو یہ ہے ان خوارج نما مرجئوں کے عقائد کی ہلکی سی جھلک جب کہ بیان کرنے کے لئے تو ہمارے پاس بہت کچھ ہے ۔ اور جب وہ بیان کیا جاتا ہے تو ان خوارج نما مرجئوں کی طرف سے ایک ہی صدا آتی کہ :ایڈمن ، ایڈمین، ایڈمن ہمیں سہارا دو مخالف کی پوسٹوں پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے فورم کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے وغیرہ وغیرہ۔
    تو اس قدر لکھنے کی وجہ یہ ہوئی کہ اپنے منہ میاں مٹھو بننے سے کوئی فائدہ نہیں ہر مقام پر سوشل میڈیا پر ان خوارج نما مرجئوں کو شکست فاش کا سامنہ کرنا پڑا ہے ۔ چاہے وہ مجاہدین کے خلاف جھوٹی دستاویز کا معاملہ ہو ، یا ملالہ کا ایشو ہو ،وغیرہ وغیرہ۔ابھی تک تو خوارج نما مرجئہ الموحدین ویب سائٹ کی کتاب جو کہ ان خوارج نما مرجئوں کے بارے میں ہے اس کا جواب تک نہیں دے سکے۔تو یہ بیچارے ایجنسیوں کے خیر خواہ مجاہدین کے دشمن مجاہدین کے بارے میں کیسے کامیاب ہوسکتے ہیں ۔ ان شاء اللہ شکست ہی ان کا مقدر رہے گی اور ان کا انجام ان کے اپنے آقاؤں سے مختلف نہ ہوگا۔ ان شاء اللہ
     
  7. ‏نومبر 13، 2015 #17
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    434
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    يہ امريکی اور نيٹو افواج نہيں ہيں جو مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہيں۔ خود کو بہترين مسلمان ظاہر کرنے والے دہشت گردوں کی جانب سے کيے جانے والے حملوں کے سرسری تجزيے سے ہی يہ حقيقت واضح ہو جاتی ہے کہ عام شہريوں بشمول مسلمانوں کی حفاظت اور ان کی بہتری ان کے ايجنڈے اور ترجيحات ميں شامل نہيں ہے۔ بلکہ اس کے برعکس تشدد پسند دہشت گرد گروپوں کی تمام تر کاوشوں کا بنيادی مقصد بغیر کسی تفريق کے زيادہ سے زيادہ شہريوں کا قتل ہے اور اسی مقصد کے ليے اپنے حملوں کو زيادہ "موثر" بنانے کے ليے وہ عوامی مقامات کا انتخاب کرتے ہیں۔

    ہمارا اصل مقصد اور ايجنڈا عام شہريوں کی حفاظت کو يقینی بنانا اور مقامی عہديداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون اور سپورٹ سے دہشت گردوں کو کيفر کردار تک پہنچانا ہے۔ چونکہ ہم صرف ان گروپوں اور افراد کے خلاف ہيں جو کہ خطے میں تمام فريقين کے ليے يکساں خطرہ ہيں، يہی وجہ ہے کہ ہمیں پاکستان اور افغانستان کی جمہوری حکومتوں سميت اپنے تمام اتحاديوں کا تعاون حاصل ہے۔

    کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ ہميں اقوام متحدہ اور سعودی عرب سميت تمام اہم اسلامی ممالک کی حمايت حاصل ہوتی اگر ہمارا واحد مقصد اور ارادہ محض مسلمانوں کو ختم کرنا ہوتا؟ کوئ بھی دہشت گرد گروہ جو مذہبی نعروں کا سہارا لے کر اپنے جرائم سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے وہ اس قسم کی حمايت کا دعوی ہرگز نہيں کر سکتا۔

    گزشتہ چند برسوں کے دوران مسجدوں اور جنازوں پر بے شمار حملوں سے يہ واضح ہے کہ کہ دہشت گرد "شريعت" اور "جہاد" جيسے پرجوش نعرے محض نوجوانوں کے ذہنوں کو ايک خاص رخ دے کر اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتے ہيں۔ درحقيقت انکی نام نہاد "جدوجہد" کا مذہب سے کوئ تعلق نہيں ہے۔

    يہ بات حيران کن ہے کہ وہی افراد جو اہم ترين مذہبی رسومات اور اجتماعات کا بھی احترام نہيں کرتے، وہ اپنے "مقصد" کی عظمت کے حوالے سے بيان داغتے ہيں۔ پرامن مذہبی اجتماعات پر حملوں کو کسی بھی صورت ميں قابل قبول قرار نہيں ديا جا سکتا۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں