1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسیحی خانقاہ میں عیسائیوں کیلئے پیغمبر اسلام ﷺ کا عہد نامہ ؟

'تاریخ اسلام' میں موضوعات آغاز کردہ از Naeem Mukhtar, ‏جنوری 23، 2018۔

  1. ‏جنوری 23، 2018 #1
    Naeem Mukhtar

    Naeem Mukhtar رکن
    جگہ:
    جدہ سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏اپریل 13، 2016
    پیغامات:
    81
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    السلام علیکم مجھے اس تحریر اور ساتھ میں لف تصویر کے بارے میں معلومات درکار ہیں ۔ رہنمائی فرما دیں


    اس خط پر آپؐ کے دست مبارک کا نشان ہے‘ عیسائی اس خط کو نبی اکرمؐ کاکووننٹ ٹسیٹامنٹ جبکہ مسلمان عہد نامہ کہتے ہیں‘ یہ دنیا میں واحد ایسی دستاویز ہے جس پررسول اللہ ﷺ کے دست مبارک کا نشان موجود ہے۔

    ایک روایت کے مطابق خانقاہ سینٹ کیتھرائن کے چند متولی مدینہ آئے‘ نبی اکرمؐ نے ان کی میزبانی فرمائی‘ متولیوں نے رخصت ہونے سے پہلے عرض کیا‘ہمیں خطرہ ہے مسلمان جب طاقتور ہو جائیں گے تو یہ ہمیں قتل اور ہماری عبادت گاہوں کو تباہ کر دیں گے‘ آپؐ نے جواب دیا‘ آپ لوگ مجھ سے اور میری امت کے ہاتھوں سے محفوظ رہیں گے‘ متولیوں نے عرض کیا‘ ہم لوگ جب بھی کسی سے معاہدہ کرتے ہیں تو ہم وہ لکھ لیتے ہیں‘ آپ بھی ہمیں اپنا عہد تحریر فرما کر عنایت کر دیں تاکہ ہم مستقبل میں آپ کے امتیوں کو آپؐ کی یہ تحریر دکھا کر امان حاصل کر سکیں‘

    آپؐ نے تحریر لکھوائی‘ تصدیق کیلئے کاغذ پر اپنے دست مبارک کا نشان لگایا اور عہدنامہ ان کے حوالے کر دیا‘ وہ لوگ واپس آئے اور یہ معاہدہ سینٹ کیتھرائن میں آویزاں کر دیا‘ مسلمان حکمرانوں نے اس کے بعد جب بھی مصر فتح کیا اور یہ سینا اور کوہ طور تک پہنچے تو خانقاہ کے متولی نبی اکرمؐ کا عہد نامہ لے کر گیٹ پر آ گئے‘ فاتحین نے عہد نامے کو بوسا دیا‘ خانقاہ اور مصر کے عیسائیوں کو پناہ دی اور واپس لوٹ گئے‘ وہ عہد نامہ کیا تھا‘ میں اس کا ترجمہ آپ کی نذر کرتا ہوں۔

    ”یہ خط رسول اللہ ﷺ ابن عبداللہ کی جانب سے تحریر کیا گیا ہے جنہیں اللہ کی طرف سے مخلوق پر نمائندہ بنا کر بھیجا گیاتاکہ خدا کی طرف کوئی حجت قائم نہ ہو‘ بے شک اللہ قادر مطلق اور دانا ہے‘ یہ خط اسلام میں داخل ہونے والوں کیلئے ہے‘ یہ معاہدہ ہمارے اوردورو نزدیک‘ عربی اور عجمی‘ شناسا اور اجنبی‘ عیسائیوں اور حضرت عیسیٰ ؑ کے پیروکاروں کے درمیان ہے‘ یہ خط ایک حلف نامہ ہے اور جو اس کی خلاف ورزی کرے گا‘ وہ کفر کرے گا‘ وہ اس حکم سے روگردانی کا راستہ اختیار کرے گا‘ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والا خدا اور اس کے حکم کا نافرمان ہو گا‘ اس (خط) حکم کی نافرمانی کرنے والا بادشاہ یا عام آدمی خدا کے قہر کا حق دار ہوگا‘

    جب کبھی عیسائی عبادت گزار اور راہب ایک جگہ جمع ہوں‘ چاہے وہ کوئی پہاڑ ہو یا وادی‘ غار ہو یا کھلا میدان‘ کلیساء ہو یا گھر میں تعمیر شدہ عبادت گاہ ہو تو بے شک ہم (مسلمان) ان کی حفاظت کیلئے ان کی پشت پر کھڑے ہوں گے‘ میں‘ میرے دوست اور میرے پیروکار ان لوگوں کی جائیدادوں اور ان کی رسوم کی حفاظت کریں گے‘ یہ (عیسائی) میری رعایا ہیں اور میری حفاظت میں ہیں‘ ان پر ہر طرح کا جزیہ ساقط ہے جو دوسرے ادا کرتے ہیں‘ انہیں کسی طرح مجبور‘ خوفزدہ‘ پریشان یا دباؤ میں نہیں لایا جائے گا‘ ان کے قاضی اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں‘ ان کے راہب اپنے مذہبی احکام اور اپنی رہبانیت کے مقامات میں آزاد ہیں‘

    کسی کو حق نہیں یہ ان کو لوٹے‘ ان کی عبادت گاہوں اور کلیساؤں کو تباہ کرے اور ان (عمارتوں) میں موجود اشیاء کو اسلام کے گھر میں لائے‘ جو ایسا کرے گا وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے حلف کی خلاف ورزی کرے گا‘ ان کے قاضی‘ راہب اور عبادت گاہوں کے رکھوالوں پر بھی جزیہ نہیں ہے‘ ان سے کسی قسم کا جرمانہ یا ناجائز ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا‘ بے شک میں ان سے وعدے کی پاسداری کروں گا‘ چاہے یہ زمین میں ہیں یا سمندر میں‘ مشرق میں ہیں یا مغرب میں‘ شمال میں ہیں یا جنوب میں‘ یہ میری حفاظت میں ہیں‘ ہم اپنے مذہبی خدا کی عبادت میں زندگی وقف کرنے والوں (راہبوں) اور اپنی مقدس زمینوں کو زرخیز کرنے والوں (چرچ کے زیر انتظام زمینوں) سے کوئی ٹیکس یا آمدن کا دسواں حصہ نہیں لیں گے‘

    کسی کو حق نہیں کہ وہ ان کے معاملات میں دخل دے یا ان کے خلاف کوئی اقدام کرے‘ ان کے زمیندار‘ تاجر اور امیر لوگوں سے لیا جانے والا ٹیکس 12 درہم(دراچما) سے (موجودہ 200 امریکی ڈالر) سے زائد نہیں ہو گا‘ ان کو کسی طرح کے سفر (نقل مکانی) یا جنگ میں حصہ لینے (فوجی بھرتی) پر بھی مجبور نہیں کیا جائے گا‘ کوئی ان سے جھگڑا یا بحث نہ کرے‘ ان سے قرآن کے احکام کے سوا کوئی بات نہ کرو ”اور اہل کتاب سے نہ جھگڑو مگر ایسے طریقے سے جو عمدہ ہو“ (سورۃ العنکبوت آیت 46)

    پس یہ مسلمانوں کی جانب سے ہر طرح کی پریشانی سے محفوظ ہیں‘ چاہے یہ عبادت گاہ میں ہیں یا کہیں اور‘کسی عیسائی عورت کی مسلمان سے اس کی مرضی کے خلاف شادی نہیں ہو سکتی‘ اس کو اس کے کلیساء جانے سے نہیں روکا جا سکتا‘ ان کے کلیساؤں کا احترام ہو گا‘ ان کی عبادت گاہوں کی تعمیر یا مرمت پر کوئی پابندی نہیں ہو گی اور انہیں ہتھیار اٹھانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ قیامت تک اور اس دنیا کے اختتام تک اس حلف کی پاسداری کرے“۔عہد نامے کے نیچے نبی اکرم ؐ کے دست مبارک کا نقش ہے‘ یہ نقش رسول اللہ ﷺ کے دستخط کی حیثیت رکھتا ہے۔
    [​IMG][​IMG]

    Sent from my SM-G570F using Tapatalk
     
  2. ‏جنوری 23، 2018 #2
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    باقی ساری باتوں سے قطع نظر یہاں جو امیج لگایا گیا ہے، اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کا نشان تو نہیں، بلکہ یہاں تو پینٹنگ یعنی مصوری کے ذریعے ہاتھ بنایا ہوا ہے۔
     
    • متفق متفق x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏جنوری 23، 2018 #3
    Naeem Mukhtar

    Naeem Mukhtar رکن
    جگہ:
    جدہ سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏اپریل 13، 2016
    پیغامات:
    81
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ
    اور جو ساتھ واقعہ منسوب ہے اس کے بارے میں آپ کیا کہیں گے
     
  4. ‏جنوری 23، 2018 #4
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    یہ بات خلاف واقعہ معلوم ہوتی ہے؛ مصر کو مسلمانوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں فتح کیا، اور اسے اسلامی ریاست کا حصہ بنایا!
    اس حوالہ سے ایک تحریر اس فورم پر موجود ہے، اسے ملاحظہ فرمائیں:
    میرے علم کے مطابق تو اس خط کی کوئی حقیقت نہیں!
    مزید تفصیل کے لئے @اسحاق سلفی ، @خضر حیات اور @اشماریہ کی خدمات کا انتظار کرتے ہیں!
     
    Last edited: ‏جنوری 23، 2018
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  5. ‏جنوری 23، 2018 #5
    Naeem Mukhtar

    Naeem Mukhtar رکن
    جگہ:
    جدہ سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏اپریل 13، 2016
    پیغامات:
    81
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    اللہ رب العزت آپ کو جزائے خیر سے نوازے۔
     
  6. ‏جنوری 23، 2018 #6
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    بالکل من گھڑت ہے ۔
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو وثیقے لکھوائے تھے وہ سارے کے سارے کتب احادیث و تاریخ میں موجود ہیں ۔
    یہ تو پھر ایک پورے مذہب کو امان کی بات ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فرد ابو شاہ کے لیے احادیث لکھنے کا حکم دیا تھا ، اس کا ذکر بھی احادیث میں موجود ہے ۔
    زکاۃ وغیرہ کی تفصیلی احادیث کا ذکر مسلمانوں کے ہاں موجود ہے ۔
    یہ ممکن نہیں کہ حضور نے اتنی اہم دستاویز لکھائی ہو ، اور کسی صحابی کے علم میں ہی نہ ہو ، اور خود کاتبین رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات آگے منتقل نہ ہو ۔
    اس وثیقے کو مستند ثابت کرنے کے لیے جو سب سے بڑا دعوی کیا گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کا نقش اس بر موجود ہے ، اس کا ثبوت سرے سے اس وثیقے میں موجود ہی نہیں ۔ جو چھاپہ لگایا گیا ، وہ بالکل واضح ہے کہ بناوٹی ہے ۔
    عیسائیوں وغیرہ کے اس قسم کے وثیقے متقدمین محدثین کے دور میں بھی پیش کرنے کی کوشش کی گئی ، لیکن محدثین نے انہیں من گھڑت ہونے کی بنا پر قبول نہیں کیا۔
     
  7. ‏جنوری 23، 2018 #7
    Naeem Mukhtar

    Naeem Mukhtar رکن
    جگہ:
    جدہ سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏اپریل 13، 2016
    پیغامات:
    81
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    رہنمائی کا شکریہ۔۔

    جزاکم اللہ خیرا
     
  8. ‏جنوری 23، 2018 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    ــــــــــــــــــــــــــــــ
    پہلے آپ Saint Catherine's Monastery )خانقاۂ مقدسہ کیتھرین (عربی: دير القدّيسة كاترين؛ سینٹ کیتھرین، محافظہ جنوبی سینا، مصر
    کا ایک بیرونی منظر دیکھئے :
    سینٹ کیتھرین مصر-Katharinenkloster_Sinai.jpg
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    مکتبہ شاملہ میں (فتاوی دار الافتاء المصریہ ) موجود ہے ، اس فتاویٰ میں اس عیسائی خانقاہ اور مذکورہ عہد نامہ کے متعلق ایک فتویٰ ملاحظہ فرمائیں :
    جس کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ :
    خانقاۂ مقدسہ کیتھرین :
    جنوبی سینا، مصر میں واقع ایک مسیحی خانقاہ جو کلیسیائے سینا کے ماتحت اور ایک عالمی ثقافتی ورثہ ہے۔ یہ خانقاہ یہاں سے دریافت شدہ بائبل کے قدیم نسخے (نسخۂ سینا) کی وجہ سے خاصی معروف ہے۔ یہ خانقاہ ایک مسیحی شہید کیتھرین اسکندری کے نام پر ہے۔
    جسٹنین اول ایک بازنطینی شہنشاہ نے (545 عیسوی ) میں بنوائی تھی۔ وہ 527ء میں قسطنطنیہ میں روما کے تخت پر بیٹھا۔ کسان کا بیٹا تھا۔ معمولی عہدے سے ترقی کرکے وزیر ہوا۔ اور شہشاہ جسٹن اول کے انتقال پر بادشاہ بن گیا۔
    اس عیسائی خانقاہ میں عیسائیوں کے دعوے کے مطابق پیغبر اسلام ﷺ سے منسوب ایک عہد نامہ پایا جاتا ہے ، جو ان کے خیال میں نبی کریم ﷺ نے ان کو " امان " کے طور پر دیا تھا ؛
    اس عہد نامہ کے متعلق مشہور ہے کہ ترکی کی عثمانی سلطنت کے سلطان سلیم نے (1517 ء) جب مصر فتح کیا تو یہ عہد نامہ ترکی لے گیا اور شاہی مکتبہ یا میوزیم واقع آستانہ میں رکھوادیا ، اس عہد نامہ کے مختلف نمونے یعنی نقول پائی جاتی ہیں ، بعض عربی میں ہیں ،اور بعض ترکی زبان میں ہیں ، اور یہ نقول ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں جس کی بناء پر بعض محققین نے ان عہد ناموں کی صحت و ثبوت کو مشکوک کہا ہے ،انہی محققین میں احمد زکی پااشا بھی ہیں جنہوں نے مستشرقین کی بین الاقوامی کانفرنس میں پیش کردہ اپنے مقالہ میں اس عہد نامہ کی صحت کی نفی کی ۔
    international conference orientalist
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عهد لرهبان سيناء

    المفتي الشیخ عطية صقر.
    مايو 1997
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــ

    لسؤال
    هل صحيح أن هناك عهدا مكتوبا من النبى صلى الله عليه وسلم للرهبان فى طور سيناء ما زال موجودا إلى الآن، وهل هناك عهد من عمر أيضا لذلك؟

    الجواب
    يقول الأستاذ حسن محمد قاسم: يوجد فى صحراء سينا دير الروم الأرثوذكسى، بناه الإمبراطور "جستنياس" سنة 545 م، وهو فى سفح قمة على أحد فروع وادى الشيخ، ويعلو عن سطح الأرض بحوالى 5012 قدما ومساحة سور85 X75 مترا ويسكن فيه الآن (1934 م) ستون راهبا يرأسهم مطران وله وكيل. توجد فيه صورة عهد قديم منسوب إلى النبى صلى الله عليه وسلم -على زعمهم- كتبه لهم فى السنة الثانية للهجرة أمانًا لهم وللنصارى كافة. وأن السلطان سليم العثمانى عند فتحه لمصر سنة 923 هـ (1517 م) أخذه منهم وحمله إلى المكتبة السلطانية بالآستانة، وترك لهم صورة مع ترجمتها باللغة التركية، وتوجد منها عدة صور بالعربية والتركية، بعضها منسوخ فى كتاب صغير، وبعضها على رق غزال، وكل صورة منها تختلف بوضوح عن الأخرى، ويلى هذا العهد عهد آخر نسب إلى سيدنا عمر، وهو كالأول فى بنايته، ولذلك أنكر بعض الباحثين صحة ذلك عن النبى صلى الله عليه وسلم، ومنهم المحقق أحمد زكى باشا، وألقى فى ذلك محاضرة فى المؤتمر الدولى العام للمستشرقين.
    ومما جاء فى فاتحة هذا العهد عن أصح صورة عندهم وأقدمها:
    هذا كتاب كتبه محمد بن عبد الله إلى كافة الناس أجمعين بشيرا ونذيرا ومؤتمنا على وديعة الله فى خلقه، لئلا يكون للناس على الله حجة بعد الرسل وكان الله عزيزا حكيما، كتبه لأهل ملته ولجميع من ينتحل دين النصرانية من مشارق الأرض ومغاربها. وجاء فى آخره: وكتب على بن أبى طالب هذا العهد بخطه فى مسجد النبى صلى الله عليه وسلم بتاريخ الثالث من المحرم ثانى سنى الهجرة، وذكر فى أسماء الصحابة الذين وقعوا على هذا العهد: غاز بن ياسينى - معظم بن قرشى - عبد العظيم ابن حسن -ثابت بن نفيس من أسماء أخرى.
    وجاء فى خاتمة العهد العمرى: تمت وسطرت هذه النسخة فى ثانى رجب المرجب سنة 968 (19 مارس 1561 م) ما تضمنته هذه العهدة تامة المنسوبة إلى أمير المؤمنين عمر بن الخطاب فى حق طائفة القسس والرهبان على وفق الشروط، والله أعلم بالصواب (الختم) طه بن محمد سعد.
    نص العهد العمرى هذا ما أعطى عبد الله عمر أمير المؤمنين أهل إيلياء من الأمان، أعطاهم أمانًا لأنفسهم وأموالهم ولكنائسهم وصلبانهم، وسقيمها وبريئها وسائر ملتها، أنه لا تسكن كنائسهم ولا تهدم ولا ينقص منها ولا خبزها ولا من صليبهم ولا من شىء من أموالهم، ولا يكرهون على دينهم ولا يضار أحد منهم، ولا يسكن بإيلياء معهم أحد من اليهود، وعلى أهل إيلياء أن يعطوا الجزية كما يعطى أهل المدائن، وعليهم أن يخرجوا منها الروم واللصوت، فمن خرج منهم فإنه آمن على نفسه وماله حتى يبلغوا مأمنهم، ومن أقام منهم فهو آمن، وعليه مثل ما على أهل إيلياء من الجزية، ومن أحب من أهل إيلياء أن يسير بنفسه وماله مع الروم ويخلِّى بيعهم وصلبهم فإنهم آمنون على أنفسهم وعلى بيعهم وصلبهم حتى يبلغوا مأمنهم، ومن كان بها من أهل الأرض قبل مقتل فلان فمن شاء منهم قعدوا عليه مثل ما على أهل إيلياء من الجزية، ومن شاء سار مع الروم، ومن شاء رجع إلى أهله، فإنه لا يؤخذ منهم شىء حتى يحصد حصادهم. وعلى ما في هذا الكتاب عهد الله وذمة رسوله وذمة الخلفاء وذمة المؤمنين إذا أعطوا الذى عليهم من الجزية، شهد على ذلك خالد بن الوليد وعمرو بن العاص وعبد الرحمن بن عوف ومعاوية بن أبى سفيان، وكتب وحفر سنة خمس عشرة "مجلة الرسالة الإِسلامية -بيروت فى 26 / 2 / 1979 م".
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  9. ‏جنوری 23، 2018 #9
    Naeem Mukhtar

    Naeem Mukhtar رکن
    جگہ:
    جدہ سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏اپریل 13، 2016
    پیغامات:
    81
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    بھائی عربی سے تو نابلد ہوں لیکن اردو کو پڑھ لیا۔

    آپ کی کاوش کا شکریہ۔

    جزاکم اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں