1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مغربی اقدار کی اندھی تقلید

'مغربی کلچر' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوحتف, ‏اپریل 11، 2012۔

  1. ‏اپریل 11، 2012 #1
    ابوحتف

    ابوحتف مبتدی
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2012
    پیغامات:
    87
    موصول شکریہ جات:
    300
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    20جنوری کومیرے دوست کے بیٹے کی سالگرہ تھی، میں اس دوران مصروف تھا، اس کے گفٹ کیلئے میں نے اپنے کلاس فیلو سے کچھ دن پہلے کہا کہ ”اگر آپ کا 19تاریخ کو بازار جانے کا موڈ ہو تو مجھے بتانا، مجھے کسی کی برتھ ڈے کیلئے گفٹ منگوانا ہے“، میں یہ کہہ کر اس کا انتظار کرتا رہا، 19تاریخ کی رات وہ میرے گھر آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک گفٹ پیک تھا، میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ ”آپ نے برتھ ڈے کیلئے جس گفٹ کی بات کی تھی وہ لے کر آیا ہوں“۔ اسی اثناء میں پیکٹ میں حرکت ہوئی تو میں چونکا، جب پیکٹ کھولا تو اس میں کتے کا بچہ (puppy) تھا، اس کے جسم پر مختلف رنگوں سے ’برتھ ڈے وش‘ لکھا تھا، میں حیران کہ ”یہ کیا؟“ کہنے لگا کہ ”آپ ہی نے تو برتھ ڈے گفٹ لانے کیلئے کہا تھا“، تو میں نے غصے سے کہا کہ ”گفٹ کی بات کی تھی،کتے کے بچے کیلئے تو نہیں کہا تھا“، وہ کہنے لگا ”آج کل کی ماڈرن لڑکیاں کتے اور بلیوں کے بچوں کو بڑا پسند کرتی ہیں، ان کو گود میں بٹھا کر پیار کرتی ہیں، سو میں نے سوچا کہ…“ میں نے غصے میں اس کی بات کاٹ کر کہا کہ ”تجھے کیسے پتہ کہ میں نے یہ گفٹ کسی لڑکی کیلئے منگوایا ہے یا کسی اور کیلئے؟“ بعد میں اس نے بتایا کہ کس طرح اس نے گلی سے ایک آوارہ کتے کے اس بچے کو اٹھایا اور اسے صابن سے صاف کرنے کے بعد اس کے جسم پر مختلف رنگ کیے۔
    یہ بات محض اتفاق نہیں بلکہ ہمارے رویوں کی نقالی اور معاشرتی روایات کا بگاڑ ہے، ہم نے مغربی روایات کی بغیر سوچے سمجھے نقالی کی روش جو اپنائی ہے اس نے ہماری اپنی قدریں بھلادی ہیں۔ ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا نے مغرب کے مقرر کردہ مخصوص دنوں کو ہمارے لئے تہوار کے طور پرمرچ مسالے کے ساتھ ایسا پیش کیا کہ ہم ذہنی اور معاشرتی قدروں کی پختگی کی بجائے جدت کے چکر میں ایسے دن بھی منانے لگے جو ہماری انا اور غیر ت کو جھٹکا دینے لگے، جیسا کہ مدرز ڈے، فادرز ڈے اورمحبتوں کا دن یعنی ویلنٹائن ڈے وغیرہ اس طرح کے دنوں کی مثالیں ہیں۔ سال میں ماں یا باپ کا ایک دن تو وہ مناتے ہیں جنہوں نے اپنے والدین کو اولڈ ہاوٴس کے حوالے کردیا، ہمارے ہاں تو آج بھی والدین اولاد کیلئے کل کائنات مانے جاتے ہیں۔ ہم بھی مغربی پیروی میں اپنے رشتوں کو مخصوص دنوں تک محدود کررہے ہیں اور ان دنوں کے جائز ہونے کی طرح طرح کی تاویلات بھی پیش کرتے ہیں۔
    کیا ہمارا معاشرہ مغرب کے نقش قدم پر چلنا چاہتا ہے، صرف ایسی فضول اور واہیات چیزوں کی نقالی سے؟ کیا ہم نے ان کی طرح تعلیم، سائنس، طب، تحقیق، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں ان کی نقل کرنیکی کوشش بھی کی؟ پانی کی خاصیت ہے کہ مٹی کے کچے مٹکے میں اسے ڈالنے سے مٹکا اپنا وجود کھو دیتا ہے اور پانی بھی ضائع ہوجاتا ہے۔ وہی مٹی کا مٹکا جسے آگ کی بھٹی میں پختہ کیا جاتا ہے، اسی پانی کو ٹھنڈ ا کردیتا ہے جونہ صرف لوگوں کی پیاس بجھاتا ہے بلکہ اپنا وجود بھی قائم رکھتا ہے۔ ہم اپنی نسل کے ذہنوں کی پختگی کیلئے تعلیم اور تربیت کا بندوبست کر نہیں سکے جبکہ فضول اور خرافات چیزیں ان کو وافر مقدار میں میسر کردیں، کیا وہ ان سے کوئی فائدہ اٹھا سکیں گے یا اندھی پیروی کرتے ہوئے تباہ ہوجائیں گے؟ ہماری نسل موبائل فون، سوشل میڈیا اور مغربی ایام کی نقالی سے کیا حاصل کر رہی ہے سوائے وقتی تسکین کے، کیا یہ جائز ہے؟ حالانکہ ہر چیز میں توازن ہونا چاہیے۔
    اسی طرح ماہ اپریل کی شروعات اپریل فول کی خرافات کے ساتھ کی جاتی ہیں۔ یکم اپریل کو اپریل فول یا جھوٹ کا تہوار، پوری دنیا میں بڑے جوش و خروش سے غیرسرکاری طور پر منایا جاتا ہے، اس کو جھوٹوں کی عید بھی کہا جاسکتا ہے، اکثر و بیشتر اس موقع پر جو مذاق کیے گئے ان کے اثرات منفی ہی ظاہر ہوئے اور لوگوں کو نقصان کا سامنا بھی ہوا۔
    اب ہمیں خود فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہمیں مغرب کی اندھی تقلید کرتے ہوئے ایسے ایام کو منانا چاہیے، یا …
    …محمد رفیق مانگٹ…
     
  2. ‏اپریل 11، 2012 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    غیرت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے
    وإنا لله وإنا إليه رجعون
    رؤوں دل کو کہ پیٹوں جگر کو میں ۔۔۔ مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

    أللهم أصلح إخواننا المسلمين في كل مكان
     
  3. ‏اپریل 11، 2012 #3
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    مغربی تہذیب کی تباہ کاریوں کے بارے میں جاننے کے لیے محمد اقبال کیلانی صاحب کی کتاب "نکاح کے مسائل" کے ابتدائی صفحات کا مطالعہ کریں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں