1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ملحدین کے 100 اعتراضات کے جوابات (تفصیلی)

'دہریت' میں موضوعات آغاز کردہ از ناصر رانا, ‏دسمبر 07، 2017۔

  1. ‏دسمبر 07، 2017 #1
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306


    ملحدین کے 100 اعتراضات کے جوابات
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ
    ضروری وضاحت :یہ فیس بک و دیگر پلیٹ فارمز پر ملحدین نے اسلام پر اعتراضات کیے جس کے مختلف دوستوں نے جوابات دیے جس کی کولیکشن وقت کے ساتھ ساتھ یہاں اس فورم پر اپڈیٹ کرنے کی پوری کوشش کرو گا ،، کوئی کاپی پیسٹ یا املا کی غلطی ہو تو ضرور بتائے گا
    اس پوسٹ کو ہر گروپ اور پیج تک پہنچانا آپ کا کام ہے ہر ساتھی اس کو کاپی اور شیئر کرے جزاک اللہ خیرا اس میں تقریبا ملحدین کے ہر مشہور سوال اعتراض کا جواب ہے ناصر رانا
    جزاک اللہ خیرا
    00.png
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اعتراض1۔ نیم سائنسدان جناب غالب کمال صاحب جیسے لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام نے ہجڑوں ( خواجہ سراوں ) کو حقوق نہیں دیئے اس کا تفصیلی جواب

    اعتراض 2۔ حجاج بن یوسف و محمد بن قاسم پر شیخ خالد کی اعتراضی پوسٹ کا جواب۔ بنیامین مہر کی طرف سے-


    اعتراض 3۔ مسلمانوں پر اعتراض کرنے والے دیسی سائنسی بندرو کا اپنا کردار

    اعتراض4۔اسلام میں شادی کی عمر کے متعلق اعتراض کا جواب۔

    اعتراض 5۔ شہربانو کی پوسٹ کا جواب

    اعتراض 6۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں کی تعداد کے متعلق اعتراض کا جواب

    اعتراض 7۔ ملحد مقیم کا قرآن پر اعتراض کا جواب

    اعتراض8۔ سور کھانا حرام کیوں ہے کا جواب ۔

    اعتراض 9۔ ملحد مقیم کا قرآن پر اعتراض کا جواب

    اعتراض 10۔ کیا آدم علیہ السلام 6 ہزار سال پہلے دنیا میں تشریف لائے دانیال تموری عرف مہوش خان جدید کو جواب


    اعتراض 11۔ کیا مسلمانوں کے نزدیک عورت ناقص العقل ہے ؟؟ جواب


    اعتراض 12۔ کیا اسلام مساوات کا دین ہے یا عدل و انصاف ؟ جواب

    اعتراض 13۔ مرد و عورت کی وراثت کے متعلق انصاف و حقیقت

    اعتراض 14۔ کیا قرآن بیوی کو مارنے کا حکم دیتا ؟

    اعتراض 15۔ اسلام میں عورت کو آزادی کیوں نہیں ! ؟؟


    اعتراض 16۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی چار سے زیادہ شادیاں کیوں؟ جواب

    اعتراض نمبر 17۔ میٹھے اور کھارے پانی کے ساتھ بہنے اور باہم نا ملنے والی آیت پر اعتراض کی اوقات


    اعتراض نمبر 18۔ ملحدین کا اللہ عزوجل کی ذات کے متعلق سوالات کے سائینسی جوابات


    اعتراض نمبر 19۔ حضرت آدم علیہ اسلام اور حضرت حوا علیہ اسلام کی اولاد اور زمین پر انسان کے وجود کی مدت کے بارے میں جواب

    اعتراض نمبر 20 ۔ اسلام میں مرد کی چار شادیوں پر اعتراض کا جواب

    اعتراض نمبر 21۔ قرآنی آیت میں پہاڑوں کو میخیں بنانے پر اعتراض کا جواب

    اعتراض نمبر 22۔ کم عمری میں نکاح پر اعتراض کا جواب

    اعتراض نمبر 23۔ لونڈی سے مباشرت کا اخلاقی جواز

    اعتراض نمبر 24۔ آدم علیہ اسلام اگر پہلے انسان تھے تو انکی پیغمبری کا محور کون لوگ تھے اور پہلے انسان ھونے کے ناطے سب انسان کی رنگت اور زبان کیوں مختلف ھے؟ جواب

    اعتراض نمبر 25۔ فلسفہ زمان و مکاں ، واجب الوجود ، کوانٹم فزکس ،ممکن الوجود ایک ملحدہ کے اعتراض کا جواب


    اعتراض نمبر 26۔ "ایک ملحد کا قرآن پاک پر اعتراض کہ دنیا کا ھر انسان اپنی زبان کا خالق خود ھے اور ثبوت دیا کہ دنیا کی ھر زبان ناقص ھے" اسکا جواب

    اعتراض نمبر 27۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگنے والے الزام کا انکا انہوں نے خود کیوں نا کیا ؟ جواب

    اعتراض نمبر 28۔ سورہ نمل اور دیگر آیات میں اللہ تعالی فرماتا ھے کہ سب چیزیں ایک روشن کتاب یا لوح محفوظ میں لکھی ھوئی ھیں
    اور پھر سورہ نساء میں فرماتا ھے کہ اللہ لکھ رھا ھے جو وہ رات بھر منصوبے بناتے ھیں تو اگر ایک چیز پہلے سے لکھی ھوئی ھے اسے دوبارہ لکھنے کا کیا مطلب ؟ جواب

    اعتراض نمبر 29۔ گا ، گی ، گے مستقبل کیلئے استعمال ھوتا ھے اور اس واقعے کی طرف منسوب ھوتا ھے جو ابھی وقوع پذیر نا ھوا ھو
    اللہ عزوجل خود فرماتا ھے کہ وہ جان لے گا اسکا مطلب کہ نعوذ باللہ وہ ابھی نہیں جانتا یا اس نے جانا نہیں
    کیا اللہ کو ان لوگوں کا پتا نہیں تھا اگر پتا تھا تو آزمانے کا مطلب ؟
    جواب

    اعتراض نمبر 30 ۔ who it is necessary to believe in God?? Answer

    اعتراض نمبر 31۔ الحاد کے عقیدہ خودبخود کی اوقات


    اعتراض نمبر 32۔ علم الجنین یا ایمبریالوجی پر ایک ملحدہ کا چیلنج اور اسکا جواب

    اعتراض نمبر 33۔ کوئی کپڑا پہننے والا انسان مسلمان کے پردے پر اعتراض کر سکتا ھے ؟؟
    جواب

    اعتراض نمبر 34۔ کیا جنت میں جا کر انسان بور ھو سکتا ھے ؟
    کیا جنت میں صرف بیویوں سے لطف اندوز ھوتا رھے گا ؟
    جنت میں مردوں کو تو بہت کچھ ملے گا عورتوں کیلئے کیا ھے ؟؟؟ جواب


    اعتراض نمبر 35۔ شہادت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ، جنگ جمل ، جنگ صفین ، کربلا کے حوالے سے ملحدوں کے اعتراضات کا جواب

    اعتراض نمبر 36۔اگر مسلمان اللہ پر ایمان بلغیب رکھتی ھیں تو کیا ملحد بھی سائینس پر ایمان بلغیب رکھتے ھیں ؟ جواب

    اعتراض نمبر 37 ۔ کیا اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ؟
    کیا دنیا کی جنگوں کی وجہ مذاھب ھیں ؟
    اگر اسلام میں غلام آزاد کرنا ثواب کا کام ھے تو غلام بنائے کیوں جاتے ھیں ؟
    کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر نکاح کئے کسی کونڈی سے ھمبستری کی؟
    ان سب اعتراضات کا جواب

    اعتراض نمبر 38۔ جنگیں اور اسلام پر اعتراضات کے جوابات

    اعتراض نمبر 39۔ غلامی پر اعتراضات اور جوابات

    اعتراض نمبر 40۔ ملحدوں کا اعتراض کہ جنت میں موبائل سینما ٹی وی وغیرہ کیوں نہیں ھوں گے کہیں ایسا تو نہیں کہ جنت کا علم دینے والے کو ان چیزوں کا علم ھی نہیں ؟ جواب

    اعتراض نمبر 41۔ ملحدوں کے سردار کے چند اعتراضات کے جوابات

    اعتراضات 42۔ کیا جدید سائینس منکر خدا ھو سکتی ھے ؟ جواب

    اعتراض نمبر 43۔ اللہ تعالی خود قسم کھاتا ھے تو لوگوں کو کیوں منع کرتا ھے ؟ جواب

    اعتراض نمبر 44۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی کم عمری میں نکاح پر اعتراض کا جواب


    اعتراض نمبر 45۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کی وجہ ؟ جواب

    اعتراض نمبر 46۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق ضعیف حدیث کا جواب

    اعتراض نمبر 47 ۔ حضرت آدم اور اماں حوا علیہ اسلام کا نکاح کس نے پڑھوایا ؟ کیا حضرت مریم رضی اللہ عنہا کا نکاح ھوا تھا ؟کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ اللہ نے پڑھوائی؟ کیا پہلی وحی کے بعد سلسلہ نزول رک جانے سے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم ن پہاڑ سے کود جانے کا فیصلہ کیا ؟


    اعتراض نمبر 48۔ توہین رسالت سے کیا مراد ھے؟

    اعتراض نمبر 49۔ تقدیر کے معاملے پر اعتراضات اور جوابات


    اعتراض نمبر 50 ۔ امراؤ قیس اور تین سال وحی بند رھنے پر اعتراضات کا جواب

    اعتراض نمبر 51۔ کیا طوفان نوح کا واقعہ جو قرآن میں بیان کیا گیا ھے بائیبل کی قدیم تہذیب اور بائبل سے لیا گیا ھے ؟؟ جواب

    اعتراض نمبر 52۔ طوفان نوح کی سائینسی وضاحت اعتراض نمبر 52۔ کیا لکڑی سے بنی کشتی اتنے بڑے طوفان میں بھی اپنے مسافروں کے لئے محفوظ تھی ؟ جواب



    اعتراض نمبر 53۔ کیا لکڑی سے بنی کشتی اتنے بڑے طوفان میں بھی محفوظ تھی ؟ جواب

    اعتراض نمبر 54۔ حضرت نوح علیہ اسلام نے پوری دنیا کے جانور ایک کشتی پر کیسے سوار کر لئے ؟جواب

    اعتراض نمبر 55 ۔ حضرت آدم علیہ اسلام کے زمانے اور نوح علیہ اسلام کی عمر پر ملحدین و منکرین حدیث کے اعتراضات اور جوابات

    اعتراض نمبر 56۔ حضرت آدم علیہ اسلام اور حضرت نوح علیہ اسلام کی طویل عمروں پر اعتراضات اور انکے جوابات

    اعتراض نمبر 57۔ حضرت آدم علیہ اسلام کے قد مبارک پر اعتراضات اور جوابات

    اعتراض نمبر 58۔ اونٹنی کا پیشاب اور دودھ ملا کر پینے والی حدیث پر اعتراض اور اسکا جواب

    اعتراض نمبر 59۔ مسلم شریف کی رضاعت کبیر والی حدیث پر اعتراض کا جواب

    اعتراض نمبر 60۔ اگر پتھر کی بنی مورتی کی پوجا پاٹ کرنا بے و قوفی ھی تو اسی پتھر کے بنے شیطان کو کنکر مارنا کہاں کی دانشوری ھے ؟

    اعتراض نمبر 61 ۔ اللہ عزوجل کے لئے مزکر کا صیغہ کیوں استعمال کیا جاتا ھے ؟ جواب

    اعتراض نمبر 62 ۔ اگر کوئی خدا ھے تو ظلم کو روکتا کیوں نہیں ؟ جواب

    اعتراض نمبر 63 ۔ کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے حالت احرام میں نکاح کیا ؟ جواب

    اعتراض نمبر 64 ۔ حوروں سے متعلق اعتراضات کے جوابات

    اعتراض نمبر 65۔ کیا تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر مسیحیت کا اثر ھے؟ جواب

    اعتراض نمبر 66۔ غزوہ بدر اور ملحدین کے مغالطے

    اعتراض نمبر 67۔ کیا اسلام زرتشت پارسیت اور مجوسیت سے کاپی شدہ ھے؟ جواب

    اعتراض نمبر 68 ۔ معجزہ شق القمر پر اعتراض اور معجزات کی سائنسی تشریح کے طور پر جواب

    اعتراض نمبر 69۔ غزوہ بنو قریظہ اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراضات کے جوابات

    اعتراض نمبر 70۔ حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہ کے گھر جا کر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سونے پر اعتراض کا جواب

    اعتراض نمبر 71 ۔ الحاد کیا ھے ؟ جواب

    اعتراض نمبر 72 ۔ ملحدین کے شیطان کے متعلق سوالات کے جوابات

    اعتراض نمبر 73۔ خدا کا عرش اور پانی کے متعلق سوال کا جواب

    اعتراض نمبر 74 ۔ حضرت عیسی علیہ اسلام کی پیدائش پر نوٹ

    اعتراض نمبر 75۔ کعبہ معظمہ کی منتقلی پر اعتراض کا جواب

    اعتراض نمبر 76۔ موجودہ قرآن پاک کے تحریف شدہ نا ھونے پر دلائل


    اعتراض نمبر 77 ۔ مسلمانوں کے فیملی سسٹم پر اعتراض کا جواب

    اعتراض نمبر 78۔ ایک ملحد کے مطابق عزت بھیک میں نہیں ملتی بلکہ کمائی جاتی ھے
    جواب

    اعتراض نمبر 79۔ ملحدین کے مطابق مغرب کے لوگ خواتین کے دلدادہ نہیں ھوتے تو مومن کیوں ھوتے ھیں ؟ جواب

    اعتراض نمبر 80۔ طویل روزوں پر اعتراضات کے جوابات

    اعتراض نمبر 81۔ کیا جنت میں مسلمانوں کا ایک گروہ ھی جائے گا اور ھٹلر نے اتنے لوگوں کو مارا وہ ھمیشہ جہنم میں رہے گا ؟؟
    جواب

    اعتراض نمبر 82۔ مشرک کون ھیں اور کیا یہ ھمیشہ جہنم میں رھیں گے
    اللہ کسی کو گناہ کرنے سے کیوں نہیں روکتا تاکہ وہ جہنم سے بچ جائے
    کیا امتحان میں ایسا پیپر دینا منطقی ھے جس میں ننانوے فیصد لوگ فیل ھوجائیں؟؟؟ جواب

    اعتراض نمبر 83۔ اللہ تعالہ نے تمام لوگوں کی روح سے وعدہ لیا اب جبکہ ھمیں وہ وعدہ یاد ھی نہیں تو ھم پر پاسداری کیوں لازم ھے ؟؟
    جن لوگوں تک اسلام کی دعوت نہیں پہنچی کیا وہ بھی جہنم میں جائے گا ؟ جواب

    اعتراض نمبر 84۔ ایک ملحد کی گول منطق کا جواب

    اعتراض نمبر 85۔ اکثر ملحدین کی طرف سے پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات

    اعتراض نمبر 86۔ خدا سے گوگل تک کی ایک پوسٹ پر ملحد کو جواب

    اعتراض نمبر 87۔ خدا نے ھم سے پوچھ کر ھمیں انسان کیوں نا بنایا؟ جواب

    اعتراض نمبر 88۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ سے خیبر کے مقام پر بغیر عدت گزروائے ان سے صحبت کیوں کر لی ؟جواب

    اعتراض نمبر 89۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت زینب سے نکاح پر اعتراض کا جواب

    اعتراض نمبر 90 ۔ اسلام پر جنگجو مذھب ھونے پر اعتراض کا جواب

    اعتراض نمبر 91۔ چھ دن زمین و آسمان کی تخلیق میں کیوں لگے جبکہ دعوی کن فیکن کا ھے؟؟ جواب

    اعتراض نمبر 92۔ شیطان کو پیدا کر کے اللہ عزوجل نے نعوذ باللہ دنیا کی سب سے بڑی برائی کو کیوں پیدا کیا ؟؟؟ جواب

    اعتراض نمبر 93۔ چند اھم اعتراضات جو ایک مسلمان کی پوسٹ سے اٹھائے گئے کے جوابات

    اعتراض نمبر 94 ۔ مسلمانوں نے غیر ممالک پر حملے کیوں کئے کیا حقائق ھیں ؟؟ جواب

    اعتراض نمبر 95۔ قرآن پاک میں تمام انبیاء کرام علیہم اسلام کا ذکر کیوں نہیں ؟ جواب

    اعتراض نمبر 96۔ کیا حضرت ذولقرنین کا واقعہ جو قرآن پاک میں ھے نعذ باللہ رومانس اف الگزینڈر سے لیا گیا ھے؟ جواب

    اعتراض نمبر 97۔ کیا قرآن کا واقعہ ذوالقرنین پہلی صدی کے یہودی مورخ جوزیفس کی کتاب سے لیا گیا ھے؟ جواب

    اعتراض نمبر 98۔ اسلامی علم ایمبریالوجی کے حوالے سے ایک ملحد کا اعتراض اور اسکا جواب

    اعتراض نمبر 99۔ کیا قرآن پاک کی دو غیر یاد آیات حضرت عائشہ کی بکری کھا گئی اور وہ ضائع ھوگئی تھیں ؟ کیا اس بات سے قرآن کو نامکمل کہنا ٹھیک ھے ؟ جواب

    اعتراض نمبر 100۔ آسمانی بارش اور اولوں پر ایک ملحد کا اعتراض کا جواب

    ہمارا پیج ! https://www.facebook.com/information.Athies/
    رد الحاد کی بڑی ویب سائٹ http://ilhaad.com/
    ...............................
    رد الحاد کے بڑے گروپس !
    https://www.facebook.com/groups/1619933924690790/
    https://www.facebook.com/groups/jawabat/
    https://www.facebook.com/groups/mantiqgroup/
    https://www.facebook.com/groups/oifd1/
    خصوصی شکریہ جن کی یہ تحریریں ہیں اللہ ہی آپ کو اس کا اجر دے گا
    اور جنہوں نے یہ سب کام کے بنانے اور پھیلانے میں ہماری مدد کی ۔ اللہ تعالی ہم سب کو اسلام پر چلنے کی توفیق دے امین ان شاء اللہ عنقریب اور بہت سوالوں کے جوابات اور مضامین آپ کی خدمت میں آئیں گے !!!
    #چھترول_براے_دیسی_لبرل_و_ملحدین
    #saleem #ahead #ilhaad #mulhid #ملحد #جواب #atheist #sawal #chhitrol #aitraz #jawab #الحاد
     
  2. ‏دسمبر 07، 2017 #2
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    خواجہ سرا اور ہمارا معاشرہ

    نیم سائنسدان جناب غالب کمال صاحب جیسے لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام نے ہجڑوں ( خواجہ سراوں ) کو حقوق نہیں دیئے وہ دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں ، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نےاپنے معاشرے میں پھیلے ہوئے اس گندے کلچر کو معاذ اللہ اسلام سمجھ لیا ہے ، ہمارے معاشرے میں کسی گھر میں اگر کوئی خواجہ سرا پیدا ہوجائے تو اس کو گھر سے نکال دیا جاتا ہے تو کیا یہ اسلامی حکم ہےیا یہ ہماری جہا...لت ہے ، کس عالم مفتی نے فتوی دیا ہے کہ کوئی نامرد پیدا ہوتو اس کو گھر سے نکال دیا جائے؟؟اسلام تو ان کو میراث میں بھی شریک کرنے کا حکم دیتا ہے ، ان بیچاروں کے لئے روزگار کے ذرائع بند کردیئے گئے تو کیا یہ اسلامی حکم سمجھ کر کیا گیا ہے ؟؟ کس مفتی اور کس عالم نے فتوی دیا کہ ان لوگوں کا کام کرنا حرام ہے؟؟ اپنی جہالتوں کو اسلام کا لیبل لگا کر اسلام پر اعتراضات یہ تمھاری جہالت ہے ، کسی کا ہیجڑا پیدا ہونا یہ اللہ کی طرف سے ہی ہے اس کے لئے بھی شریعت کے احکامات ہیں وہ بھی احکامات کا مکلف ہے ، ان بیچارے خواجہ سراوں کو ہمارے معاشرےنے بند لگی میں دھکیلا ہے جو کہ ظلم ہے ، باقی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ بعض مرد عورتوں کی مشابھت اختیار کرتے ہیں اور اپنی چال اور گفتار کو عورتوں کی طرح بناتے ہیں اور ناچ گانا کرتے ہیں یہ ہیچڑے نہیں بلکہ مخنث ہیں ان پر اللہ کے رسول نے لعنت بھیجی ہے ، یعنی وہ مرد جو عورتوں کی مشابہت اختیار کریں وہ ملعون ہیں ، ہمارے معاشرے میں اکثریت مردوں کی ہے جنھوں نے یہ پیشہ اختیار کیا ہوا ہے اور یہ غلط کاموں میں بھی ملوث ہوتے ہیں ، اس لئے ان کی معاشرے میں کوئی عزت نہیں ، لیکن اگر کوئی قدرتی طور پر اس طرح پیدا ہو اور وہ عفت اور پاکدامنی سے زندگی گزار رہا ہے تو بلاشبہ وہ اجر و ثواب کے لحاظ سے مردوں سے بھی سبقت لے جائے گا کیونکہ اس نے پوری زندگی صبر اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے کی حالات میں گزاری ہے ، یہ لوگ قابل نفرت و ملامت ہرگز نہیں ۔ بلکہ ان کے ساتھ محبت کا تعلق اور ان کی دلجوئی کرنی چاہیے کہ کہیں یہ اپنے آپ کو معاشرے سے الگ تصور کرکے اچھوتوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائیں ۔
    ایسی مخلوق کو عربی میں مخنث اور اردو میں ہیجڑا یا کھسرا کہا جاتا ہے۔ اور ایسی خلقت والے لوگ آج کی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی موجود تھے،اور شریعت میں ایسے لوگوں کے حوالے سے تفصیلی راہنمائی موجود ہے،فقہائے کرام نے اپنی کتب فقہ میں ایسے لوگوں کے حوالے سے تفصیلی مباحث بیان فرمائی ہیں۔

    اب آتے ہیں غالب کمال کے مین سوال کی طرف کہ اللہ نے مرد و عورت کا زکر تو کر دیا مگر ہیجڑے کا زکر کیوں نہیں کیا؟ مرد اور عورت کی جنس میں ہیجڑے کا بھی زکر ہونا چاہیے تھا۔ کہتے ہیں نیم حکیم خطرہ جان ، اسی طرح نیم سائنسدان خطرہ ایمان [​IMG]:) محترم غالب کمال صاحب نے ہیجڑے کو بھی جینڈر یعنی جنس میں شامل کر دیا ہے اور ان کے بقول تین جنسیں ہو گئیں مرد، عورت اور ہیجڑا۔ مگر لگتا ہے موصوف نے سائنس کو صرف دیکھا ہے پڑھا نہیں۔
    یہ کوئ نئ جنس نہیں بلکہ ایک بیماری کا نام ہے جسے Klinefelter syndrome کلِنفیلٹر سنڈروم کہا جاتا ہے۔ چونکہ اس کے نام سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک سنڈروم یعنی بیماری ہے تو اس کا الگ سے جنس کا تعین کرنا چہ معنی دارد۔ اصل میں می اوسس ١میں جب کروموسومز کا تبادلہ ہوتا ہے تو نارملی مرد کا x یا yکروموسوم عورت کے x کروموسوم کو فرٹیلائز کرتا ہے۔ اگر xx مل جائیں تو عورت اور XY ملیں تو مرد ہوتا ہے۔
    مگر اس سنڈروم میں کسی وجہ سے می اوسس کے دوران کروموسومز الگ نہیں ہو پاتے۔ اس وجہ سے مرد کا XY کروموسوم عورت کے x کو یا مرد کا y عورت کے xx کو فرٹیلائز کر سکتا ہے جس سے xxy کروموسوم والا جاندار بنے گا۔ اس بیماری کو ہیری کلِنفیلٹر نے دریافت کیا جس کی بنا پر اس کا نام رکھا گیا۔ ای میڈیکل میں اس کو ایک بیماری کے طور ہر رجسٹر کیا گیا ہے جس کا نمبر ped/1252 ہے۔ یہ صرف پانچ سو میں اسے ایک شخص یا ہزار میں سے ایک شخص کو ہوتی ہے۔ اب یہ مطالبہ کرنا کہ اس کی بنیاد پر مرد ، عورت اور ہیجڑے کی مختلف جنسیں بنا کر پیش کی جائیں سواۓ جہالت کے اور کچھ نہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے اللہ نے کسی کو اندھا پیدا کیا ، کسی کو لنگڑا۔ اب ان جیسے خود کار سائنسدان اٹھ کر یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ دیکھو نعوز باللہ اللہ سے بھول ہو گئ اور اس کو اندھا پیدا کو دیا۔ ارے بھئ یہ بھی ایک بیماری ہے جو اللہ کی طرف سے امتحان ہے بالکل اس طرح جیسے کہ مخنس ہے۔ پہلے تو سائنس میں اس کو بیماری کی کیٹگری سے ہٹا کر جنس کی کیٹگری میں لاؤ پھر آ کر اعتراض کرنا کہ اس جنس کا زکر نہیں کیا۔
    مگر شریعت اسلام نے پھر بھی ان کی ظاہری صورتحال کو مدنظر رکھ کر ان کے حقوق متعین کیے ہیں۔
    1 ـ خنثى لغت عرب ميں اس شخص كو كہتے ہيں جو نہ تو خالص مرد ہو اور نہ ہى خالص عورت، يا پھر وہ شخص جس ميں مرد و عورت دونوں كے اعضاء ہوں ، يہ خنث سے ماخوذ ہے جس كا معنىٰ نرمى اور كسر ہے، كہا جاتا ہے خنثت الشئ فتخنث، يعنى: ميں نے اسے نرم كيا تو وہ نرم ہو گئى، اور الخنث اسم ہے.

    اور اصطلاح ميں: اس شخص كو كہتے ہيں جس ميں مرد و عورت دونوں كے آلہ تناسل ہوں، يا پھر جسے اصل ميں كچھ بھى نہ ہو، اور صرف پيشاب نكلنے والا سوراخ ہو.

    2 ـ اور المخنث: نون پر زبر كے ساتھ: اس كو كہتے ہيں جو كلام اور حركات و سكنات اور نظر ميں عورت كى طرح نرمى ركھے، اس كى دو قسميں ہيں:

    پہلى قسم:

    جو پيدائشى طور پر ہى ايسا ہو، اس پر كوئى گناہ نہيں.

    دوسرى قسم:

    جو پيدائشى تو ايسا نہيں، بلكہ حركات و سكنات اور كلام ميں عورتوں سے مشابہت اختيار كرے، تو ايسے شخص كے متعلق صحيح احاديث ميں لعنت وارد ہے، خنثى كے برخلاف مخنث كے ذكر يعنى نر ہونے ميں كوئى اخفاء نہيں ہے.

    3 ـ خنثى كى دو قسميں ہيں: منثى مشكل اور خنثى غير مشكل.

    ا ـ خنثى غير مشكل:

    جس ميں مرد يا عورت كى علامات پائى جائيں، اور يہ معلوم ہو جائے كہ يہ مرد ہے يا عورت، تو يہ خنثى مشكل نہيں ہو گا، بلكہ يہ مرد ہے اور اس ميں زائد خلقت پائى جاتى ہے، يا پھر يہ عورت ہو گى جس ميں كچھ زائد اشياء ہيں، اور اس كے متعلق اس كى وراثت اور باقى سارے احكام ميں اس كا حكم اس كے مطابق ہو گا جس طرح كى علامات ظاہر ہونگى.

    ب ـ خنثى مشكل:

    يہ وہ ہے جس ميں نہ تو مرد اور نہ ہى عورت كى علامات ظاہر ہوں، اور يہ معلوم نہ ہو سكے كہ يہ مرد ہے يا عورت، يا پھر اس كى علامات ميں تعارض پايا جائے.

    تو اس سے يہ حاصل ہوا كہ خنثى مشكل كى دو قسميں ہيں:

    ايك تو وہ جس كو دونوں آلے ہوں، اور اس ميں علامات بھى برابر ہوں، اور ايك ايسى قسم جس ميں دونوں ميں سے كوئى بھى آلہ نہ ہو بلكہ صرف سوراخ ہو.

    4 ـ جمہور فقھاء كہتے ہيں كہ اگر بلوغت سے قبل خنثى ذكر سے پيشاب كرے تو يہ بچہ ہوگا، اور اگر فرج سے پيشاب كرے تو يہ بچى ہے.

    اور بلوغت كے بعد درج ذيل اسباب ميں سے كسى ايك سے واضح ہو جائيگا:

    اگر تو اس كى داڑھى آ گئى، يا پھر ذكر سے منى ٹپكى، يا پھر كى عورت كو حاملہ كر ديا، يا اس تك پہنچ گيا تو يہ مرد ہے، اور اسى طرح اس ميں بہادرى و شجاعت كا آنا، اور دشمن پر حملہ آور ہونا بھى اس كى مردانگى كى دليل ہے، جيسا كہ علامہ سيوطى نے اسنوى سے نقل كيا ہے.

    اور اگر اس كے پستان ظاہر ہو گئے، يا اس سے دودھ نكل آيا، يا پھر حيض آ گيا، يا اس سےجماع كرنا ممكن ہو تو يہ عورت ہے، اور اگر اسے ولادت بھى ہو جائے تو يہ عورت كى قطعيت پر دلالت كرتى ہے، اسے باقى سب معارض علامات پر مقدم كيا جائےگا.

    اور رہا ميلان كا مسئلہ تو اگر ان سابقہ نشانيوں سے عاجز ہو تو پھر ميلان سے استدلال كيا جائيگا، چنانچہ اگر وہ مردوں كى طرف مائل ہو تو يہ عورت ہے، اور اگر وہ عورتوں كى طرف مائل ہو تو يہ مرد ہے، اور اگر وہ كہے كہ ميں دونوں كى طرف ايك جيسا ہى مائل ہوں، يا پھر ميں دونوں ميں سے كسى كى طرف بھى مائل نہيں تو پھر يہ مشكل ہے. مگر یہ ایسا نہیں کہ جہاں اللہ تعالی مرد و عورت کا زکر کریں وہاں اس کا زکر بھی ہو۔ یہ جینیٹک سنڈروم ہے اور مخنث کو ان کیٹگریز کے حساب سے ان کے حقوق متعین کیے جائیں گے۔
    اور اگر غالب کمال صاحب اس حساب سے ہیجڑوں کی جینڈر سپیسفسٹی gender specificity کے بارے میں کچھ سیکھنا چاہتے ہیں تو ہم حاضر ہیں۔ [​IMG]:)
    #اعتراضات_جوابات #ارتقائی_مخلوق
    1.jpg
     
  3. ‏دسمبر 07، 2017 #3
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    شیخ خالد کی پوسٹ کا جواب۔ بنیامین مہر کی طرف سے-

    2.jpg
    اس پوسٹ میں حد درجے جھوٹ، دجل اور فریب سے کام لیا گیا ہے۔
    ۱۔ محمود غزنوی کا تزکرہ ہی نہیں کیا اور اسے لٹیرا چور کہ دیا جو کہ صرف تعصب اور ہٹ دھرمی کی علامت ہے۔
    ۲۔ حجاج بن یوسف کے پاس ۴۳۷ لونڈیاں تھیں یہ بات من گھڑت ہے اور تاریخ میں اس کا کوئ ثبوت نہیں ملتا۔ اس کا بھی حوالہ فراہم نہیں کیا کیونکہ اپنے منہ کی بات ہے۔ ...
    ۳۔ محمد بن قاسم کی موت کے بارے میں متعصب صاحب نے نہایت ہی بھونڈی دلیل سے استدلال کیا ہے۔ گوکہ حوالہ نہیں دیا گیا مگر اس کی جڑیں چچ نامہ کی ایک روایت سے ملتی ہیں۔ چچ نامہ کی اس روایت کا خلاصہ یہ ہے:
    محمد ابن علی عبدالحسن ہمدانی کہتے ہیں ک جب رائے داہر قتل ہوگیاتو محمد بن قاسم نے اسکی لڑکیوں کو اپنے محل میں قید کردیا اور پھراپنے حبشی غلاموں کے ہاتھ انہیں اپنے حاکم سلیمان بن عبدالملک کو بھجوا دیا۔ جب خلیفہ نے انہیں اپنے حرم میں بلایا تو راجہ داہر کی بیٹیوں نےخلیفہ سے جھوٹ بولا کہ وہ خلیفہ کے لائق نہیں کیوں کہ محمد بن قاسم نے انہیں پہلے ہی استعمال کر لیا تھا۔ اس بات پر وہ بہت ناراض ہوا اور حکم دیا کہ محمد بن قاسم کو بیل کی کھال میں بند کر کے واپس لے آؤ۔ محمد بن قاسم کو خط ادھفر میں ملا ۔اس کے حکم پر عمل کیا گیا تاہم بیل کی کھال میں دم گھُٹنے سے محمد بن قاسم کی راستے ہی میں موت واقع ہو گئی۔ بعد میں خلیفہ کو راجہ داہر کی بیٹیوں کا جھوٹ معلوم ہو گیا۔ اس نے محمد بن قاسم سے اپنے باپ کی موت کا بدلہ لینے کے لئے یہ جھوٹ بولا تھا۔ حجاج نے ان لڑکیوں کو زندہ دیوار میں چنوا دیا۔

    یہ روایت کس حد تک درست ہے:
    غور کیا جائے تو اس روایت میں بہت سے تضادات اور بترتیب تاریخی غلطیاں ہیں۔ چچنامہ کے مطابق “محمد ابن علی ابو حسن حمدانی کہتے ہیں کہ جب رائی داہر مارا گیا، (تو) اسکی دو بیٹیوں کو انکے محل میں قید کر دیا گیا اور محمد بن قاسم نے انہیں اپنے حبشی غلاموں کی حفاظت میں بغداد بھجوادیا۔”
    اس ہی کتاب (چچنامہ) میں ہمیں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں کہ محمد بن قاسم آودھافر کے اندر “ہار رائی چندر” کے خلاف اپنے فوجیوں کو تھکا دیا:
    “آج ہم اس بدبخت کافر کا قلع قمع کرنے آئے ہیں،” اور اس ہی سے تھوڑا سا آگے ہم پڑھتے ہیں،
    “اگلے دن تختِ حکومت سے ایک اونٹ سوار فرمان لیکر آتا ہے۔”
    اس سے صاف ظاہر ہے کہ محمد بن قاسم کو خلیفہ کے وہ فرمان تب موصول ہوئے جب ملتان کی فتح کے بعد جب وہ کانوج پر حملے کرنے پر غور کر رہا تھا۔ اب چچنامہ کا کاتب کہتا ہے، “ملعون داہر غروبِ آفتاب کے وقت قلع راور میں، 10 رمضان، سنہ 712 93 ہجری ، بروز جمعرات مارا گیا۔”
    ( See supra, p. 2. 4. £. & D., Vol. I, p. 208. 5. Ibid., p. 209. 6. Ibid., p. 170.)
    ہم یہ جانتے ہیں کہ محمد بن قاسم کو وہ جان لیوا فرمان آودھافر میں (96 A.H) میں ملے۔۔۔!!
    سزا کے عمل درآمد میں یہ کئی سالوں پر پھیلی بےجا تاخیر جس کے دوران بہت سے خطوط محمد بن قاسم نے حجاج کی طرف بھیجے اور موصول کئے جنکا ذکر ہی نہیں ملتا۔ جیسا کہ محمد ابن عبد الحسن حمدانی، محمد بن قاسم پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ راجا داہر کی موت کے بعد اسکی بیٹیوں کو قید کیا گیا اور بعد میں خلیفہ کی طرف بھیج دیا، تو وہ یقیناً زیادہ سے زیادہ دو ماہ کے عرصہ میں دارالحکومت پہنچ گئی ہونگی؛ اور پھر یہ بات کہ خلیفہ نے انہیں اپنے بستر پر بلایا اور “کچھ دن کے بعد” یہ خبر ملی کہ محمد قاسم نے انہیں خلیفہ کے پاس بھیجنے سے پہلے اپنے ساتھ رکھا اور (محمد بن قاسم کیلئے) سزائے موت کے فرمان جاری کئے تو یہ فرمان زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کے اندر اندر ہی محمد بن قاسم کو مل چکے ہونگے نہ کہ راجہ داہر کی موت اور راور سے اسکی بیٹیوں کے خروج کے “کئی سال بعد”۔۔!!!
    کیونکہ اسی چچ نامہ میں لکھا ہے کہ محمد بن قاسم نے برہمن آباد کے لوگوں کی بدھ مندر کے تعمیر کروائے جانے کی درخواست حجاج کو بھیج دی تھی اور اسکا جواب “کچھ دن بعد” ہی موصول ہوگیا تھا نہ کہ کئی مہینے یا سالوں کے بعد۔ ۔۔!!
    یہ سب نکات اس کہانی پر سے پردہ ہٹانے کیلئے کافی ہیں ۔ اسکے علاوہ بھی بہت سے ایسے پوائنٹس ہیں جو اسکے رد میں دلیل دیتے ہیں
    تاریخ سندھ کے مصنف اعجاز الحق قدوسی نے بھی اسے لیے لکھا کہ :
    “محمد بن قاسم کو خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کے حکم سے کچے چمڑے میں بند کر کے لے جایا جانا من گھڑت قصہ ہے، عرب مورخین نے اس کا تذکرہ نہیں کیا۔( تاریخ سندھ – اعجاز الحق قدوسی صفحہ۔ 228-229])

    عرب مورخین میں مشہور مسلمان مورخ أحمد بن يحيى بن جابر البلاذري نے مسلمانوں کے ابتدائی دور کی تاریخ کو قلم بند کیا ہے۔ البلاذري نے ایک کتاب فتوح البلدان کے نام سے ہے جس کا انگریزی ترجمہ فلپ کے ہِٹی(Philip K Hitti) نے ‘The Origins of the Islamic State’کے نام سے کیا ہے۔ البلاذري کے مطابق714ء میں حجاج کی موت کے بعد اُس کے بھائی سلیمان بن عبدالمالک نے حکومت سنبھالی۔ وہ حجاج بن یوسف کو سخت ناپسند کرتا تھا۔ اُس نے عنان حکومت سنبھالتے ہی حجاج کے رشتہ داروں اور منظورِنظر افراد کو قید کروا دیا۔ محمد بن قاسم بھی حجاج بن یوسف کے پسندیدہ افراد میں گنا جاتا تھا(یاد رہے کہ محمد بن قاسم حجاج بن یوسف کا داماد بھی تھا اور بعض مورخین کا خیال ہے کہ بھانجا یا بھتیجا بھی تھا)۔
    چنانچہ سلیمان نے یزید بن ابی کبشہ کو سندھ کا والی بناکر بھیجا اور حکم دیا کہ محمد بن قاسم کو گرفتار کرکے بھیجو۔ محمد بن قاسم کے ساتھیوں کو جب ان گرفتاری کا پتہ چلا تو انہوں نے محمد بن قاسم سے کہا کہ ہم تمہیں اپنا امیر جانتے ہیں اور اس کے لئے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں، خلیفہ کا ہاتھ ہرگز تم تک نہیں پہنچنے دیں گے لیکن محمد بن قاسم نے خلیفہ کے حکم کے سامنے اپنے آپ کو جھکادیا۔ یہ ان کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اگر وہ ایسا نہ کرتا تو ان کی امداد کے لئے سندھ کے ریگستان کا ہر ذرہ آگے آتا لیکن انہوں نے اپنے آپ کو ابی کبشہ کے سپرد کردیا۔ محمد بن قاسم کو گرفتار کرنے کے بعد دمشق بھیج دیا گیا۔ سلیمان نے انہیں واسط کے قید خانے میں قید کروادیا۔
    مورخین نے لکھا ہے جب سلیمان نے محمد بن قاسم کے قتل کے احکامات دے دئے تو حضرت عمربن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کو خبر مل گئی ۔ تو آپ خبر ملتے ہی فوراً سلیمان کے دربار میں پہنچے۔ اور سلیمان سے کہا کہ یہ کیا تم ظلم کرتے ہو۔ حجاج کے گناہوں کی سزا ایک بے قصور کو دیتے ہو۔ اور وہ بھی اس شخص کو جس نے اسلام کی بے حد خدمت کی ہے۔ سلیمان چونکہ حضرت عمربن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کی بے حد عزت کرتا تھا۔ تو آپ کے سمجھانے پر بے حد نادم ہوا۔ اور فوراً قتل کے احکامات کی واپسی کا خط لکھ کر حضرت عمربن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا۔ کہتے ہیں کہ حضرت عمربن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ خود یہ خط لے کر واسط کے قید خانے کی طرف روانہ ہوگئے۔ لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ جب آپ واسط کے قید خانے کے قریب پہنچے تو دیکھا لوگ ایک جنازہ اٹھائے آرہے ہیں۔ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ فاتح سندھ کو شہید کر دیا گیا ہے اور یہ اسی کا جنازہ ہے۔ اس عظیم شخصیت کی شہاد ت پر آپ کو بے حد دکھ ہوا اور آپ رضی اللہ عنہ کافی دیر تک روتے رہے۔
     
  4. ‏دسمبر 07، 2017 #4
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    الحاد سائنس اور ایجادات۔

    3.jpg
    بے چارے یتیم و مسکین نظریہ الحاد کو کہیں پناہ نہیں ملتی تو سہارے کے لیے سائنس اور ایجادات کی چھڑی استعمال کرتے نظر آتے ہیں کہ ہم تو ایجادات کر کے "انسانیت" کی خدمت کر رہے ہیں اور آپ نماز اور وضو کے مسائل سمجھا رہے ہیں۔ مگر یہ جھوٹ ، منافقت، ہٹ درمی اور تعصب کی حد ہے۔ جتنی بھی ایجادات ہوئیں وہ سب مزہبی لوگوں کا کارنامہ تھا۔ الحاد کا سائنس سے کوئ تعلق نہیں۔

    جتنی بھی ایجاد...ات کا زکر ہوتا ہے ان میں سے ایک بھی ملحدین کی نہیں۔ ۔
    مائکل فیراڈے
    نیوٹن
    گریگل مینڈل
    رابرٹ بوائل
    کوپرنیکس
    فرانسس بیکن
    جوہنسن کیپلر
    ولیم تھامس کیلون
    میکس پلانک
    یہ سب خدا کو ماننے والے تھے۔ سائنسی دنیا میں انقلاب الحاد نے نہیں مزہبی لوگوں نے ہی لایا۔ ملحدوں نے سواۓ پرویز ہودبائ کے کیا ایجاد کیا ہے [​IMG]:) ملحد بننے سے بندہ آٹومیٹکلی سائنسدان نہیں بن جاتا۔ اب آپ ملحد پلیز کچھ نامی گرامی الحادی سائنسدانوں کے نام تحریر کریں جنہوں نے بہت زیادہ ایجادات کر کے زندگی کو سہل بنایا ہو۔
    ۔ یہ سب سائنسدان بھی مزہبی تھے :
    ولیم سی کیمبل
    پیٹر گروینبرگ
    فرانسس کولنز
    جان لینوکس
    ایرنسٹ والٹن
    میکس بورن
    لوئس پاسچر
    مائکل فیراڈے
    وولٹا
    جوہنز کیپلر
    گلیلیو گلیلی
    فرانسس بیکن
    ملحد ان کی ایجادات اپنے سر لے کر " پرائ شادی میں عبداللہ دیوانہ" والا حساب کرتے ہیں۔ [​IMG]:)
    کہتے ہیں "مسلمانوں نے پچھلے چودہ سو سالوں میں ایک پنسل بھی ایجاد نہیں کی" اس کو میں احساس کمتری ہی کہ سکتا ہوں۔ میں سائنس پڑھتا ہوں۔ سائنس کے شعبہ میں ہر مزہب اور ہر خطہ زمین سے لوگوں کی کنٹریبیوشن ہے۔ امریکہ اور برطانیہ پاکستانی ڈاکٹر اور انجینئیر ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ریسرچ کے مواقعے نہیں صرف ایک یہی وجہ ہے ورنہ مسلمان دوسرے ملکوں میں سائنسدان بنتے ہیں اور سائنس میں کام بھی کرتے ہیں۔ سائنسی کمیونٹی میں ان کا نام ہے اور سب یہ جانتے ہیں۔ مگر ہمارے دوست احباب مسلمانوں کو بالکل کی وائپ آؤٹ کر جاتے ہیں۔ ان کو یہ تو پتا ہو گا کہ مسلمان سائنسدانوں نے ہی سائنس کی بنیاد رکھی اور اہل یورپ کو سائنس کی الف ب سے روشناس کروایا۔ مگر ان کا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ آج تم کیا کر رہے ہو؟ تو کچھ بیسویں صدی کے نامی سائنسدانوں کے نام عرض ہیں۔
    احمد زویل۔ بینجامین فرینکلن ایوارڈ
    پروفیسر عطا الرحمن۔ سائنٹسٹ آف دا ائیر نیدرلینڈز۔ ۵۲ سے زیادہ کتب
    ڈاکٹر محبوب الحق۔ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس کا آغاز۔ سپیشل ایڈوائزر یو این ڈی پی۔
    محمد یونس
    ڈاکٹر اختر حمید خان۔ نوبل پرائز نومنی
    مصطفی السيد.
    ڈاکٹر فاروق الباز۔ اپالو پروگرام کنٹریبیوٹر اینڈ سپروائزر آف لیونر سائنس
    ڈاکٹر ہو لوُسی باشیٹ
    لیفٹینینٹ جرنل کریم کیریموو
    فضل الرحمن خان
    پروفیسر ریاض الدین
    غرض یہ کہ سائنس کسی ایک شخص کا مزہب کا خاصہ نہیں ہر ایک کی اس میں خدمات ہیں۔ مگر ہماری سوچ صرف مغرب والوں کو ہائلائٹ کرتی ہے۔ اور ملحدوں کے سر اس کا سہرا سجانہ تو انتہائ احمقانہ بات ہو گی۔
     
  5. ‏دسمبر 07، 2017 #5
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    اسلام میں شادی کی عمر کے متعلق اعتراض کا جواب

    4.jpg
    ملحدین کہیں سے بھی کوئ بھی تصویر اٹھا کر بغیر کوئ ثبوت دیے اس پر اپنی خود ساختہ کہانی جڑ کر اسلام پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ زیر نظر تصویر بھی اسی دلیلِ بال لاں کا ایک حصہ ہے جس کا مقصد پس پردہ ام المومنین حضرات عائشہ رض کی کم عمری میں شادی کرنا ہے۔ میرا سوال ان دیسی لبرلز یعنی لنڈے کے انگریزوں سے یہ ہے کہ آپ کے پاس وہ کونسا سٹینڈرڈ ہے جس سے آپ کسی کی شادی کو روک سکتے ہیں؟ ابھی پچاس سالہ شاہ رخ خان ی...ا سلمان خان ان کی بیٹی کا رشتہ مانگ لیں تو یہ ایک کے ساتھ ایک فری دے دیں گے۔ اگر لڑکی نابالغ ہے تو اس سے شادی تو یقیناً ایک جرم ہو گا۔ مگر ایک عاقل بالغ خاتون سے شادی سے روکنا نہایت گھٹیا زہنیت ہے اور حضرت عائشہ کے بارے میں یہ ثابت ہے کہ وہ غیر معمولی جسامت ،زہانت اور بلوغت کو پہنچ چکی تھیں۔
    مستشرقین اور ملحدین نے حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے نکاح کے سلسلہ میں جس مفروضہ کی بنیاد پر ناروا اور بیجاطریقہ پر لب کو حرکت اور قلم کوجنبش دی ہے’ اگر عرب کے اس وقت کے جغرافیائی ماحول اور آب و ہوا کا تاریخی مطالعہ کریں تو اس کا کھوکھلا پن ثابت ہوجاتا ہے۔
    ہر ملک وعلاقے کے ماحول کے مطابق لوگوں کے رنگ وروپ ،جسمانی وجنسی بناوٹ اورعادت واطوار جس طرح باہم مختلف ہوتے ہیں اسی طرح سن بلوغت میں بھی کافی تفاوت و فرق ہوتا ہے ۔ جن ممالک میں موسم سرد ہوتا ہے وہاں بلوغت کی عمر زیادہ ہوتی ہے اور جہاں موسم گرم ہوتا ہے وہاں بلوغت جلد وقوع پذیر ہوجاتی ہے ۔ مثلاً عرب ایک گرم ملک ہے ۔وہاں کی خوراک بھی گرم ہوتی ہے جوکہ عموماً کھجور اور اونٹ کے گوشت پر مبنی ہوتی ہے۔ اس لئے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا 9سال کی عمر میں بالغ ہوجانا بعید از عقل نہیں ۔
    حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی نسبت قابل وثوق روایات سے بھی یہ معلوم ہے کہ ان کے جسمانی قوی بہت بہتر تھے اور ان میں قوت نشو و نما بہت زیادہ تھی۔ ایک تو خود عرب کی گرم آب و ہوا میں عورتوں کے غیرمعمولی نشوونماکی صلاحیت ہےدوسرے عام طورپر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جس طرح ممتاز اشخاص کے دماغی اور ذہنی قویٰ میں ترقی کی غیرمعمولی استعداد ہوتی ہے، اسی طرح قدوقامت میں بھی بالیدگی کی خاص صلاحیت ہوتی ہے۔ اس لیے بہت تھوڑی عمر میں وہ قوت حضرت عائشہ رضی الله عنہا میں پیدا ہوگئی تھی جو شوہر کے پاس جانے کے لیے ایک عورت میں ضروری ہوتی ہے۔
    یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا کو خود ان کی والدہ نے بدون اس کے کہ آنحضرت صلى الله علیه وسلم کی طرف سے رخصتی کا تقاضا کیاگیاہو، خدمتِ نبوی میں بھیجا تھا اور دنیا جانتی ہے کہ کوئی ماں اپنی بیٹی کی دشمن نہیں ہوتی؛ بلکہ لڑکی سب سے زیادہ اپنی ماں ہی کی عزیز اور محبوب ہوتی ہے۔ اس لیے ناممکن اور محال ہے کہ انھوں نے ازدواجی تعلقات قائم کرنے کی صلاحیت واہلیت سے پہلے ان کی رخصتی کردیا ہو ۔
    اسلامی تاریخ سے مثالیں:
    اسلامی کتابوں میں ایسے بہت واقعات نقل کیے گئے ہیں ، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ عرب کے معاشرے میں نو (9) سال کی عمر میں بچہ جنم دینا عام بات اور اس عمر میں نکاح کرنارواج تھا۔ ان لوگوں کے لئے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں تھی۔چند واقعات ،
    (1) ابوعاصم النبیل کہتے ہیں کہ میری والدہ ایک سو دس (110) ہجری میں پیدا ہوئیں اور میں ایک سو بائیس( 122) ہجری میں پیدا ہوا۔ (سیر اعلاالنبلاء جلد7رقم1627) یعنی بارہ سال کی عمر میں ان کا بیٹا پیدا ہوا تو ظاہر ہے کہ ان کی والدہ کی شادی دس سے گیارہ سال کی عمر میں ہوئی ہوگی۔
    (2) عبداللہ بن عمر و اپنے باپ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے صرف گیارہ سال چھوٹے تھے ۔
    ( تذکرة الحفاظ جلد1ص93)
    (3) ہشام بن عروہ نے فاطمہ بنت منذر سے شادی کی اور بوقت زواج فاطمہ کی عمر نو سال تھی ۔ (الضعفاء للعقیلی جلد4رقم 1583، تاریخ بغداد 222/1)
    (4) عبداللہ بن صالح کہتے ہیں کہ ان کے پڑوس میں ایک عورت نو سال کی عمر میں حاملہ ہوئی اور اس روایت میں یہ بھی درج ہے کہ ایک آدمی نے ان کو بتایاکہ اس کی بیٹی دس سال کی عمر میں حاملہ ہوئی ۔ (کامل لابن عدی جلد5ر قم 1015)
    حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی کی شادی نو سال کی عمر میں عبداللہ بن عامر سے کرائی (تاریخ ابن عساکر جلد70) ۔
    امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ایک واقعہ نقل فرمایا ہے کہ عباد بن عباد المہلبی فرماتے ہیں میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ اٹھارہ سال کی عمر میں نانی بن گئی نو سال کی عمر میں اس نے بیٹی کو جنم دیا اور اس کی بیٹی نے بھی نو سال کی عمر میں بچہ جنم دیا ۔(سنن دارقطنی جلد3کتاب النکاح رقم 3836) ان

    ماضی قریبب اور حال کی مثالیں:
    اس طرح کے کئی حوالے اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ کوئی انوکھا معاملہ نہیں تھا ، آج کل بھی اخباروں میں اس قسم کی خبریں چھپتی رہتی ہیں ۔
    ماضی قریب میں اسی طرح کا ایک واقعہ رونما ہواکہ 8سال کی بچی حاملہ ہوئی اور 9سال کی عمر میں بچہ جنا ۔ (روزنامہ DAWN 29 مارچ1966)
    ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ایک دفعہ اپنے ایک انٹر ویو بتاتے ہیں کہ : ”حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں میرے ذہن میں بھی کافی شکوک وشبہات تھے۔بطور پیشہ میں ایک میڈیکل ڈاکٹر ہوں۔ ایک دن میرے پاس ایک مریضہ آئی جس کی عمر تقریباً 9سال تھی اور اسے حیض آرہے تھے۔ تو مجھے اس روایت کی سچائی اور حقانیت پر یقین آگیا ‘۔
    علاوہ ازیں روزنامہ جنگ کراچی میں 16اپریل 1986ء کوایک خبر مع تصویرکے شائع ہوئی تھی جس میں ایک نو سال کی بچی جس کا نام (ایلینس) تھا اور جو برازیل کی رہنے والی تھی بیس دن کی بچی کی ماں تھی۔
    اس طرح روزنامہ آغاز میں یکم اکتوبر 1997کوایک خبر چھپی کہ (ملتان کے قریب ایک گاؤں میں)ایک آٹھ سالہ لڑکی حاملہ ہوگئی ہے اور ڈاکٹروں نے اس خدشہ کا اعلان کیا ہے کہ وہ زچکی کے دوران ہلاک ہوجائے.پھر 9دسمبر 1997کو اسی اخبار میں دوسری خبر چھپی کہ ”ملتان (آغاز نیوز) ایک آٹھ سالہ پاکستانی لڑکی نے ایک بچہ کو جنم دیا ہے. ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچہ صحت مند ہے ۔
    جب پاکستان جیسے جیسے معتدل اور متوسط ماحول وآب و ہوا والے ملک میں آٹھ برس کی لڑکی میں یہ استعداد پیدا ہوسکتی ہے تو عرب کے گرم آب و ہوا والے ملک میں ۹/ سال کی لڑکی میں اس صلاحیت کا پیدا ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔
    انٹرنیٹ پر بھی اس عمر کی لڑکیوں کے ہاں بچوں کی پیدائش کی بیسوں خبریں موجود ہیں، دو تین ماہ پہلے ایک خبر نظر سے گزری تھی جس میں یورپ کی ایک لڑکی کا بتایا گیا تھا کہ وہ بارہ سال کی عمر میں ماں بن گئی، اورحضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے نکاح پر اعتراض کرنے والے انہی ملحدین نے اسے ورلڈ ریکارڈ قرار دیا تھا..
    ، جب آپ غورکریں گے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کے علاوہ کسی اورکنواری عورت سے شادی نہيں کی بلکہ ان کے علاوہ باقی سب بیویاں ایسی تھیں جن کی پہلے شادی ہوچکی تھی اب یا تو وہ مطلقہ تھیں یا بیوہ ، اس طرح وہ طعن جوکچھ لوگ پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا شادی کرنے کا مقصد صرف عورتوں کی شھوت اوران سے نفع اٹھانا تھا زائل ہوجاتا ہے ۔

    کیونکہ جس شخص کا یہ مقصد ہو تووہ اپنی ساری بیویاں یا اکثر ایسی اختیار کرتا ہے جوانہتائي خوبصورت ہوں اوران میں رغبت کی ساری صفات پائي جائيں ، اوراسی طرح اورحسی اورزائل ہونے والے معیار بھی ۔

    کفار اوران کے پیروکاروں کا اس طرح نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم میں طعن کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ دین اورشریعت میں طعن کرنے سے بالکل عاجز آچکے ہیں اب انہيں کچھ نہيں ملا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں طعن کرنا شروع کردیا اورکوشش کرتے ہيں کہ خارجی امور میں طعن کیا جائے ، لیکن اللہ تعالی تواپنے نور اوردین کو مکمل کرکے رہے گا اگرچہ کافر برا مناتے رہیں ۔

    اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے ۔
    کچھ اضافہ۔
    اور مزید آپ اس لسٹ میں دیکھ سکتے ہیں کہ کتنے عمر والے والدین ہیں یہاں ملحدین کو بس اسلام سے تکلیف ہے باقی ان کو کچھ نہیں آتا ۔
    https://en.m.wikipedia.org/wiki/List_of_youngest_birth_mothers
     
  6. ‏دسمبر 12، 2017 #6
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    شہر کی بانو کا اعتراض
    کہ مساجد میں ریپ بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔۔


    ______

    اسلام دشمنی میں یا الحادی پاگل پن میں محترمہ نے اعتراض تو کر دیا مگر سوچا ہی نہیں کہ
    دنیا میں اس وقت وقت سب سے زیادہ ریپ کہاں کہاں ہو رہے ہیں...
    2010 سے پہلے کی رپورٹ کے مطابق

    Country amount year
    1 South Africa 132.4 2010
    2 Botswana 92.9 2010
    3 Lesotho 82.7 2009
    4 Swaziland 77.5 2004
    5 Bermuda 67.3 2004
    6 Sweden 63.5 2010
    7 Suriname 45.2 2004
    8 Costa Rica 36.7 2009
    9 Nicaragua 31.6 2010
    10 Grenada 30.6 2010
    =11 Australia 28.6 2010
    =11 St Kitts+ 28.6 2010
    13 Belgium 27.9 2010
    14 United States 27.3 2010
    15 Bolivia 26.1 2010
    16 New Zealand 25.8 2010
    =17 Zimbabwe 25.6 2008
    =17 St Vincent+ 25.6 2010
    19 Barbados 24.9 2009
    20 Iceland 24.7 2009
    یہ صرف 20 ملکوں کی لسٹ ہے ۔۔ باقی مزید یہاں دیکھ سکتی
    http://www.nationmaster.com/country-info/stats/Crime/Rape-rate
    ا
    ور تو ایک ویب سائٹ کی 2013 تا 2015 لسٹ کے مطابق

    10 Denmark and sweden
    9 Zimbabwe
    8 Australia
    7 canada
    6 New Zealand
    5 india
    4 England
    3 USA
    2 Sweden
    1 south africa
    http://www.wonderslist.com/top-10-countries-with-maximum-rape-crimes/
    ایک ویب سائٹ insided moneky
    http://www.insidermonkey.com/blog/11-countries-with-the-highest-rape-crime-rates-in-the-world-350732/?singlepage=1
    کی رپورٹ جون 1 ۔2015 کے مطابق 11 ملکوں کی فہرست جاری ہوئی جس کے مطابق
    11 Australia
    10 Grenada
    9 Nicaragua
    8 cosra Rica
    7 Suriname
    6 sweden
    5 bermuda
    4 Swaziland
    3 lesotho
    2 Botswana
    1 south africa
    آ جا کر تقریبا یہی ملک ٹاپ 10 میں آتے ہیں
    تو شہر کی بانو کو چاہیے ایسے ملکوں میں تو اس جیسی ہزاروں بانوں کی عزت پر ہاتھ پھیرا جاتا ہے اور تو اور مردوں پر بھی ہاتھ کم نہیں رکھا اگر موقع ملے ان ویب سائٹس کو غور سے پڑھنا
    مگر اس کو صرف اسلام دشمنی کی وجہ سے مساجد ہی نظر آتی ہیں
    میرا شہر بانو سے سوال کس بنا پر ایسے اعتراض کر ہی ہیں
    کیا اس کے ساتھ کچھ ایسا ہوا یا اس کے کسی فیملی ممبر کے ساتھ بات کھل کرتی تو شاید کچھ سمجھ بھی آتی
    اگر تو الحاد نے آپ کو فتنے پھیلانا ہی سکھایا ہے
    ہم ان شاء اللہ اس کے فتنوں کو کچل کر رکھ دیں گے اور
    اور مساجد کو بدنام کرنے کے جتنے بھی طریقے ڈھونڈ لو مگر مسلمان اتنا ہی اس کے قریب ہوتا جاے گا
    آپ اس بیماری کو اسلام یا مساجد پر تھوپنے سے پہلے سکولز و کالجز کے بارے میں بھی سرچ کیجئیے

    بھائی یا بہن شہر کی بانو سے گزارش ہے ایسے اعتراض پرانے ہوتے جا ہے ہیں کوئی نیا جھوٹ بولیں
    یا تحقیق کریں میری یہی دعا ہے کہ اللہ سب ملحدین کو ھدایت دے آمین۔
    اور امید ہے اگر دماغ میں کچھ عقل ہوئی تو آئندہ تحقیق کرکے پوسٹ کریں گی ۔
    ناصر رانا۔
     

    منسلک کردہ فائلیں:

  7. ‏دسمبر 12، 2017 #7
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    اہل تشیع اور بعض دھریوں کی جانب سے اکثر حضورؐ کی صاحبزادیوں کی بابت اعتراض اُٹھایا جاتا ہے۔کہ سیدہ فاطمہ الزہرا کے علاوہ حضورؐ کی کوئی اور بیٹی نہ تھی۔
    ذیل میں نبی پاکؐ کی دیگر تین بیٹیوں کا مفصل احوال پیش خدمت ہے۔
    6.png
    حضرت سیدہ زینب رضی اللہ تعالی عنھا
    ...
    حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی بیٹی ہیں۔ بعثت نبوت سے دس سال پہلے پیدا مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمراس وقت تیس برس تھی ۔ ان کی ولدہ کا نام حضرت سیدہ خدیجتہ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا ہے۔ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی ہیں

    ابتدائی حالات

    جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو جس طر ح سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے پہلے ہی اعلان پر اسلام قبول فرمالیا ۔ اسی طرح اپ کی اولاد بھی مشرف با اسلام ہوئی ۔ اس وقت سیدہ زینب کی عمر دس سال تھی :البدایہ وانھایہ ج ۳ ص۱۱۳

    نکاح

    حضرت زینب کا نکاح حضرت ابوالعاص بن ربیع بن عبد العزی بن عبد شمس بن عبد مناف سے ہوا ۔ حضرت ابوالعاص کا نسب چہارم پشت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مل جاتا ہے ۔ حضرت ابوالعاص مکہ کے صا حب ثروت شریف اور امانت دار انسان تھے۔ حضرت ابوالعاص حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے خواہرزادہ ہیں۔ ان کی والدہ کانام ہالہ بنت خویلد بن یاسد ہے جو حضرت خدیجہ کی حقیقی بہن ہیں اور حضرت خدیجہ حضرت ابوالعاص کی خالہ ہیں۔ ابوالعاص حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے خا لہ زاد بھائی ہیں ۔ حضرت فاطمہ اور حضرت زینب حقیقی بہنیں ہیں اس بنا پر حضرت علی اور حضرت ابوالعاص آپس میں ہم زلف ٹھرے ۔

    مشرکین مکہ کے نا پاک عزائم

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین مکہ ہر طرح کی تکالیف پہنچائیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لا الٰہ الا اللہ کی صدا سے پورے مکہ میں انقلاب برپا کر دیا مشرکین مکہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مزید تکلیف پہنچانے کے لیے حضرت ابوالعاص کو اس بات اکسایا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت زینب کوطلاق دے دو اور قبیلہ قریش میں سے تم جس عورت سے نکاح کرنا چاہو ہم وہ عورت پیش کر سکتے ہیں۔ جواب میں حضرت ابوالعاص نے فرمایا قال لاوللہاذن لاافارق صا حبتی اللہ کی قسم میں اپنی بیوی سے ہر گز جدا نہیں ہوسکتا ؛ذخائرالعقبی ص۷۵۱۔ البدایہ لابن کثیر ج۳ ص۱۱۳
    شعب ابی طالب میں محصوری کے ایام میں بھی ابوالعاص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے محصورین کے لیے خوراک کی فراہمی کا بندوبست کرتے رہے ۔البدایہ ج۳ص۲۱۳ ۔
    اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ابوالعاص نےہماری دامادی کی بہترین رعایت کی اور اس کا حق ادا کر دیا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت ابوالعاص نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا.
    نبوت کے تیرھویں سال جب حضور صلی اللہ علیہوسلم نے مکہ سے ہجرت فرمائی۔ اس وقت حضرت زینب رضی اللہ عنہا مکہ میں اپنے سسرال کے ہاں تھیں۔ ہجرت کے بعد اسلام کا ایک دوسرا دور شروع ہوتا ہے مدنی زندگی میں اسلام اور کفر کے درمیان بڑی بڑی جنگیں لڑی گئی ان میں ایک مشہور جنگ غزوہ بدر کے نام سے معروف ہے اور اس جنگ بدر میں حضرت ابوالعاص رضی اللہ تعالی عنہ کفار کی طرف سے جنگ میں شریک ہو کر آئے ۔

    جنگ بدر میں جب اہل اسلام کو فتح ھو گئی تو جنگی قاعدہ کے مطابق شکست خوردہ کفار کو اہل اسلام نے قید کر لیا اور ان قیدیوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کے داماد حضرت ابوالعاص بھی شامل تھے ۔مسلمانوں کی طرف سے یہ فیصلہ ہوا ۔جو قیدی لائے گئے ہیں ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جاے ۔اہل مکہ نے اپنے اپنے قیدیوں کو چھوڈانے کے لیے فدیے اور معاوضے بھیجنے شروع کیے ۔ اس ضمن میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند حضرت ابوالعاص کی رہای کے لیے اپنا وہ ہار جو ان کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے دیا تھا بھیجا مدینہ شریف میں یہ فدیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کیے گے ۔ اور حضت ابوالعاص کا فدیہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی طرف سے ہار کی شکل میں پیش ہوا ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نظر فرمائی تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بلا اختیار رقت کی کیفیت طاری ہو گئی ۔اوراس کو دیکھ کر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی یاد تازہ ہو گئی ۔نبی کریم صلی اللہ ؑ علیہ وسلم کی اس کیفیت کے اثر میں تمام صحابہ متاثر ہوے۔

    اس وقت اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا اگر تم ابوالعاص کو رہا کر دو اور زینب کا ہارواہس کر دو تو تم ایسا کر سکتے ہو ۔اس وقت صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپ کا ارشاد درست ہے ہم ابوالعاص کو بلا فدیہ رہا کرتے ہیں ۔اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا ہار واپس کرتے ہیں ۔
    اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت ابوالعاص سے وعدہ لیا ۔کہ جب مکہ واپس پہنچیں تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو ہمارے ہاں مدینہ بھیج دینا ۔چناچہ حضرت ابوالعاص نے وعدہ کر لیا ۔تو انہیں بلا معاو ضہ رہا کر دیا گیا :دلائلانبوہ للبیہقی ص۳۲۴ ج۲ :مسنداحمدبن حنبل ص۳۲۴ ؛
    ابوداودشریف ج۲ ص۳۶۷ مشکوہ شریف ص۶۴۳ ؛البدایہ وانھایہص۲۱۳ج۳
    حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ رہا ہو کر مکہ اے اور حضرت زینب رضی اللہ عنہاکوتمام احوال ذکر کیے اور مدینہ جانے کی اجازت دے دی ۔اور جو وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا تھا وہ ایام بھی اگے تو حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے اپنے چھوٹے بھائی کنانہ کے ساتھ روانہ کیا ۔کنانہ نے اپنی قوس اورترکش کو بھی ساتھ لیا ۔
    حضرت زینب رضی اللہ عنہاسواری کے اوپر کجاوہ میں تشریف فرما تھی ۔اورکنانہ اگے اگے ساتھ چل رہا تھا ۔ اس دوران اہل مکہ کواطلاع ہو گئی جب وادی ذطوی کے پاس پہنچے تو مکہ والے پیچھے سے پہنچ گے ہبار بن اسود نے ظلم کرتے ہوے نیزہ مار کر سیدہ کو اونٹ سے گرا دیا جس سے اپ زخمی ہوگئی اور حمل ساقطہو گیا ۔کنانہ نے اپنا ترکش کھول دیا اور اندازی شروع کر دی اور کہا جو بھی قریب اے گا اس کو تیروں سے پرو دیا جائے گا ۔کفار نے کہا کہ اپنے دشمن کی بیٹی کوعلانیہ جانے تو لوگ ہمیں کزور سمجھیں گے ۔اس لیے انہیں چند یوم بود رات کی تاریکی میں لے جانا ۔کنانہ نے راے تسلیم کر لی اور چند دنوں کے بعد رات کے وقت مکہ سے باہر مدینہ سے اے ہوے صحابہ حضرت زید بن حارثہ اور ان کے پاس پہنچایا پس وہ دونوں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو لیکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گے؛البدایہ وانھایہ ص۳۳۰ ج۳۔زرقانی ج۳ص۲۲۳

    ابوالعاص رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

    مکہ مکرمہ سے قریش کا ایک قافلہ جمادی الاول ۶ ہجری میں شام کے لیے عازم سفر ہوا اور ابوالعاص بھی اس قافلہ میں شریک تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مے حضرت زید بن حارثہ کو ۰۷۱سواروں کے ہمراہقافلہ کے تعاقب کے لیے روانہ کیا ۔ اور مقام عیص میں قافلہ ملا کچھ لوگ گرفتار ہوے اور باقی بھاگنے میں کامیاب ہوگے ۔حضرت ابوالعاص حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لاے تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے ان کو پناہ دے دی ۔اس کے بعد حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی سفارش پر تمام مال و اسباب ان کے حوالے کر دیا ۔حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے مکہ جاکر جس جس کا مال تھا اس کے حوالہ کیا اور پوچھا کسی کا مال تو میرے ذمہ باقی نہیں ۔تو تمام لوگوں نے کہا ۔فجزاک اللہ خیرا فقدوجدناک وقیاکریما ۔ اللہ تمہیں جزائے خیر دیہم نے تمہیں بڑا شریف اور وفادار پایا ہے صاس کے بعد قریش مکہ کے سامنے اسلام کا اعلان کیا اور مکہ سے مدینہ منورہ تشریف لے اے ۔ تو حضورنے حضرت زینب کو ان کے حوالے کردیا.

    حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی فضیلت

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس لخت جگر نے اسلام کے لیے پجرت کی اور تمام مصائب والام دین کے لیے برداشت کئے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر جب دربار رسالت میں ائیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہوسلم فرماتے ہیں ۔ھی خیربناتی ا صیبت فی ھی افضل بناتی اصیبت فی ۔ میری بیٹیوں میں زینب بہترین بیٹی ہے جس کو میری وجہ سے ستایا گیا ۔یہ افضل بیٹی ہے جس کو میری وجہ سے روکا گیا ۔ :مجمع الزوائدللہیثمی ج۹ ص۲۱۳:دلائل النبوہ للبیہقی ج۲ ص۴۲۶:
    حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی اولا

    حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی تمام اولاد حضرت ابوالعاص بن الربیع سے ہوئی ۔ان میں ایک صاحبزادہ جس کا نام علی تھا۔اور ایک صاحبزادی جس کا نام امامہ بنت ابوالعاص تھا اور ایک صاحبزادہ صغر سنی میں ہی فوت ہو گیا ،

    حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے بیٹے حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں پرورش پاتے رہے ۔ اور جب مکہ فتح ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی سواری کے پیچھے بٹھایا تھا ۔اور یرموک کے معرکہ میں شہید ہوے ۔اور بعض کے نزدیک یہ قریب البلوغ ہو کر فوت ہوے۔ :اسدالغابہ لابن کثیر ج۴ ص۴۱۔الاصابہ لابن حجر عسقلانی ج۲ ص۵۰۳ :

    حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حضرت ا بوالعاص رضی اللہ عنہ اور حضرت امامہ رضی اللہ عنہا بنت حضرت ابو العاص رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑی محبت فرمایا کرتے ۔ ایک دفعہ نبی کریم نماز کے لیے تشریف لائے کہ حضرت امامہ رضی اللہ عنہا حضور کے دوش پر سوار ہیں ۔اپ نے ایسی حالت میں نماز ادا فرمائی ۔جب رکوع جاتے تو اتار دیتے جب کھڑے ہوتے تو اٹھا لیتے :بخاری شریف ج ۱ ص۷۴ ۔مسلم شریف ج ۱ ص۲۰۵ ۔ مسند ابو داود ظیالسی ص۸۵ ۔ابو داود شریف ج۱ ص ۱۳۲۔ صحیح ابن حبان ج۲ ص۳۱۳ :

    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم کی خدمت میں بیش قیمت ہار بطور ہدیہ ایا ۔اس وقت اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن تشریف فرما تھیں اور یہی حضرت امامہ صحن میں کھیل رہی تھیں ۔اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات سے پوچھا یہ ہار کیسا ہے ۔سب نے کہا کہ ایسا خوبصوت ہار تو ہم نے کبھی دیکھا ہی نہیں ۔تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔لادفعتھا الی احب اھلی الی۔ یہ ہار میں اس کو دوں گا جو میرے اہل بیت میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے
    ۔پھر اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قیمتی ہار خود اپنے دست مبارک سے حضرت امامہ رضی اللہ عنہا کے گلے میں پہنادیا اسدالغابہ ج۵ ص۴۰۰۔مجمع الزوائد للھیثمی ج۹ ص۲۵۴ ۔الفتح ربانی ج۲۲ ص۴۲۰ الاصابہ ج ۴ ص۲۳۰ :

    امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہما سے حضرت علی بن ابی طالب ر ضی اللہ عنہ کانکاح

    حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے انتقال سے قبل حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصیت فرمائی تھی کہ اگر میرے بعد شادی کریں تو میری بڑی بہن کی بیٹی امامہ کے ساتھ کرنا ۔ وہ میری اولاد کے حق میں میری قائمقام ہو گی
    چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس وصیت کے مطابق ۱۲ ھ میں حضرت امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا اور حضرت زبیر بن عوامؓ نے اپنی نگرانی میں ان کی شادی حضرت علی سے کر دی ۔ یہ نکاح مسلّم بین الفریقین ہے ۔ اہلسنت اور شیعہ حضرات اپنے اپنے مقام میں اس کو ذکر کیا کرتے ہیں
    مزید تفصیل کے لئے رجوع فرمائیں : الاصابۃ ج ۳ ص ۴۳۳
    انواالنعمانیہ ج ۱ ص ۳۶۷

    سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال پرملال

    حضرت زینب رضی اللہ عنہا مکہ سے مدینہ تشریف لاتے ہوئیں تو دوران حجرت ہبار بن اسود کے نیزہ سے زخمی ہوئی تھیں ۔ کچھ عرصہ کے بعد آپ رضی اللہ عنہاکا وہی زخم دوبارہ تازہ ہو گیا جو ان کی وفات کا سبب بنا ۔اسی وجہ سے بڑے بڑے اکابرین ، صاحب قلم حضرات نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’ فکانوا یرونھا ماتت شھیدہ ‘‘
    حافظ ابن کثیر نے لکھا کہ ان کو شہیدہ کے نام سے تعبیر کیا جانا چاہیئے ۔

    حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی وفات پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غمزدہ ہوئے اور تمام بہنیں اس حادثہ فاجعہ سے اور تمام عورتیں شدت جذبات سے رو دیں۔
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ سیدہ کی وفات کا سن کر حاضر ہوئے عورتوں کو روتا دیکھ کر آپ نے منع فرمایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ اے عمر سختی سے ٹھر جائیں ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : شیطانی آ وازیں نکالنے سے پرہیز کریں ۔ پھر فرمایا : جو آنسو آ نکھوں سے بہتے ہیں اور دل غمگین ہوتا ہے تو یہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے اور اس کی رحمت سے ہے
    ( مشکوٰۃ شریف ص ۱۵۲ )

    سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا اعزاز

    سیدہ کے غسل کا اہتمام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں ہوا ۔ حضرت ام ایمن، حضرت سودہ ، حضرت ام سلمہ ، حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنھن نے غسل دیا
    حضرت ام عطیہ فرماتیں ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد تشریف لائے اور فرمایا کہ زینب کے نہلانے کا انتظام کرو پانی میں بیری کے پتے ڈال کر ابالا جائے اور اس پانی کے ساتھ غسل دیاجائے ۔ اور غسل کے بعد کافور کی خوشبو لگائی جائے جب فارغ ہو جائیں تو مجھے اطلاع کرنا پس ہم نے اطلاع کر دی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند اتارکر جسم اطہر سے عنایت فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ میرے اس تہبند کو کفن کے ساتھ رکھ دو ( بخاری ج ۱ ص ۱۸۷ ۔ مسلم ج ۱ ص ۳۰۴)

    سیدہ کا جنازہ

    جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا جنازہ تیار ہو گیا تو بڑے اعزا ز و اکرام کے ساتھ پردہ داری سے میت کو تدفین کے لئیے لے جایا گیا

    سیدہ کا ایک اور اعزاز

    خالق ار ض و سمٰوات نے حضرت زینب کو یہ اعزاز بھی دیا کہ ان کا جنازہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا اور روایات میں آتا ہے ’’ وصلی علیہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ حوالہ انساب الاشراف ج ۱ ص ۴۰۰

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی قبر میں خود اترے

    حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کا انتقال ہوا تو صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں سیدہ کو دفنانے کے لئے حاضر ہوئے ۔ ہم قبر پر پنہچے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت مغموم تھے ۔ ہم میں سے کسی کو بات کرنے کی ہمت نہ ہوئی ۔ قبر کی لحد بنانے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے پاس تشریف فرما ہوئے اور ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس بیٹھ گئے ۔ اسی اثناء میں آپ کو اطلاع کی گئی کہ قبر تیار ہو گئی ہے ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود قبر کے اندر تشریف لے گئے اور تھوڑی دیر کے بعد باہر تشریف لائے تو آپ کا چہرہ انور کھلا ہوا تھا اور غم کے آثار کچھ کم تھے ۔ اب عشاق عرض کرتے ہیں : یا رسول اللہ اس سے پہلے آپ کی طبیعت بہت مغموم نظر آرہی تھی اب آپ کی طبیعت میں بشاشت ہے اس کی کیا وجہ ہے؟
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔ قبر کی تنگی اور خوف ناکی میرے سامنے تھی اور سیدہ زینب کی کمزوری اور ضعف بھی میرے سامنے تھا اس بات نے مجھے رنجیدہ خاطر کیا پس میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ زینب کے لئے اس حالت کو آسان فرما دیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے منظور فرما لیا اور زینب کے لئے آسانی فرما دی
    ( مجمع الزوائد للہیثمی ج ۳ ص ۴۷ ۔ کنزالعمال ج ۸ ص ۱۲۰)
    میں نے بڑے اختصار کے ساتھ سیدہ زینب بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات پیدائش تا وفات لھ دیئے ہیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی بڑی لخت جگر کے ساتھ کیسا مشفقانہ معاملہ تھا کہ زندگی میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت حاصل رہی اور وفات کے بعد تمام معاملات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں ہوئے ۔ ۔ ۔

    رضی اللہ تعالٰی عنہا_________

    حضرت سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

    حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صاحبزادی ہیں ۔اور یہ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے چھوٹی ہیں۔حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی والدہ کا نام حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت خویلد بن اسد ہے۔یہ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تین برس بعد پیدا ہوئیں ۔اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک تقریبا تینتیس برس تھی۔

    ابتدائی حالات

    حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آغوش میں پرورش پائی۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو اس وقت حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر سات سال تھی۔جب حضر ت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے اسلام قبول کیا ۔تو ان کے ساتھ آ پکی صاحبزادیوں نے بھی اسلام قبول کیا۔
    ( طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۲۴ ۔ الاصابہ لابن حجر )

    قبل از اسلام سیدہ کا نکاح

    نبی کریم نے اپنی بیٹی حضرت رقیہ کا نکاح اپنے چچا ابولہب کے بیٹے عتبہ سے کیا تھا ابھی رخصتی ہونا باقی تھی ۔ جب نبی کریم خاتم النبین کے عظیم منصب پر فائز ہوئے پیغمبر اسلام کے راستہ میں رکاوٹ ڈالنے اور پیغام حق کے مقابلہ میں کفر اور شرک کی اشاعت کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے و حی کا نزول کر کے ابولہب اور اس کی بیوی کی مذمت فرمائی تو ابولہب نے اپنے بیٹوں کو بلا کر کہا اگر تم محمد کی بیٹیوں کو طلاق دے کر ان سے علیحدگی اختیار نہیں کی تو تمہارا میرے ساتھ اٹھنا بیٹھنا حرام ہے ۔ دونوں بیٹوں نے حکم کی تعمیل کی اور دختران رسول سیدہ رقیہ اور سیدہ ام کلثوم کو طلاق دے دی ۔
    ( طبقات ابن سعد ج۔ الاصابہ الابن حجر ص ۲۹۷)

    سیدہ رقیہ کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما سے نکاح

    جب ابولہب کے لڑکوں نے حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا اور ام کلثوم رضی اللہ عنہاکو طلاق دے دی
    تو اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح مکہ مکرمہ میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کردیا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی ہے کہ میں اپنی بیٹی رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کردوں ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دیا اور ساتھ ہی رخصتی کردی
    ( کنزالعمال ج ۶ ص ۳۷۵)
    سیدہ رقیہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کی ہجرت حبشہ

    جب کفار کے مظالم حد برداشت سے بڑھ گئے تو نبوت کے پانچویں سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور ان کے ساتھ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں ۔ راہ خدا میں ہجرت کرنے والوں کا یہ پہلا قافلہ تھا اس موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جوڑا خوبصورت ہے ۔ البدایہ والنہایہ ج ۳ ص ۶۶
    ایک عورت حبشہ سے مکہ پنہچی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ہجرت کرنے والوں کے حال احوال دریافت فرمائے تو اس نے بتایا کہ اے محمد میں نے آپ کے داماد اور آپ کی بیٹی کو دیکھا ہے آپ نے فرمایا کیسی حالت میں دیکھا تھا ؟
    اس نے عرض کیا :۔ عثمان اپنی بیوی کو سواری پر سوار کیے ہوئے جا رہے تھے اور خود سواری کو پیچھے سے چلا رہے تھے ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ان دونوں کا مصاحب اور ساتھی ہو حضرت عثمان ان لوگوں میں سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے لوط علیہ السلام کے بعد اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہجرت کی ۔
    البدایہ لابن کثیر ج ۳ ص ۶۶

    مدینہ کی طرف ہجرت

    جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا کہ نبہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف ہجرت فرمانے والے ہیں تو حضرت عثمان چند صحابہ کرام کے ساتھ مکہ آئے اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے جا چکے تھے ۔ ہجرت حبشہ کے بعد حضرت عثمان ہجرت مدینہ کے لئے تیار ہو گئے اور اپنی بیوی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سمیت مدینہ کی طرف دوسری ہجرت فرمائی ۔ الاصابہ لابن حجر ج ۴ ص ۲۹۸ ۔

    سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی اولاد

    حبشہ کے زمانہ قیام میں ان کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام عبداللہ رکھا گیا جس کی وجہ سے حضرت عثمان کی کنیت ابو عبد اللہ مشہور ہوئی ۔ عبداللہ کا ۶ سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں انتقال ہوا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ خود پڑھی حضرت عثمان نے قبر میں اتارا ۔ اسد الغابہ ج ۵ ص ۴۵۶

    سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی بیماری

    ۲ ہجری غزہ بدر کا سال تھا حضرت رقیہ کو خسرہ کے دانے نکلے اور سخت تکلیف ہوئی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی تیاری میں مصروف تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام غزوہ میں شرکت کے لئے روانہ ہونے لگے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی تیار ہو گئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خطاب کر کے فرمایا : رقیہ بیمار ہے آپ ان کی تیمار داری کے لئے مدینہ میں ہی مقیم رہیں آپ کے لئے بدر میں شرکت کرنے والوں کے برابر اجر ہے اور غزائم میں بھی ان کے برابر حصہ ہے ۔ ۔ بخاری ج ۱ ص ۵۲۳

    سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات

    جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر میں شریک تھے ۔ حضور کی عدم موجودگی میں سیدہ رقیہ کا انتقال پرملال ہوا پھر ان کے کفن دفن کی تیاری کی گئی یہ تمام امور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سر انجام دئیے
    غزوہ بدر کی فتح کی بشارت لے کر جب زید بن حارثہ مدینہ شریف پہنچے تو اس وقت حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کو دفن کرنے کے بعد دفن کرنے والے حضرات اپنے ہاتھوں سے مٹی جھاڑ رہے تھے ۔ طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۲۵
    چند ایام کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو جنت البقیع میں قبر رقیہ پر تشریف لے گئے اور حضرت رقیہ کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ۔

    ایک روایت میں ہے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت رقیہ کی تعزیت پیش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : الحمد للہ ! اللہ تعالیٰ کا شکر شریف بیٹیوں کا دفن ہونا بھی عزت کی بات ہے ۔ ۔

    رضی اللہ تعالٰی عنہا__________

    حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا

    حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری بیٹی ہیں یہ حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے چھوٹی ہیں ۔یہ بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
    کے بطن سے پیدا ہوئیں ۔

    قبول اسلام

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نگرانی میں ہوش سنبھالا۔اور آغوش رسات میں پرورش پائی ۔جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو یہ تمام بہنیں اپنی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہمراہ اسلا م لائیں۔اسدالغابہ ج۵ ص۲۱۶ ۔طبقات ابن سعد ص۵۲ ۔

    نکاح اوّل اور طلاق

    اعلان نبوت سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح اپنے چچا ابو لہب کے بیٹے عتیبہ کے ساتھ کر دیا تھا ۔لیکن جب اسلام کا دور آیا ۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا ۔ اورقرآن مجید کا نزول شروع ہوا ۔اور قرآن کریم میں سورہ لہب نازل ہوئی جس میں ابو لہب اور اس کی بیوی کی مزمت کی گئی ۔تو ابو لہب نے اپنے بیٹے عتیبہ سے کہا کہا ۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو طلاق دے دو ۔ تو عتیبہ نے طلاق دے دی ۔

    مدینہ طیّبہ کی طرف ہجرت

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ طیّبہ کی طرف ہجرت فرمائی ۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے کچھ افراد مکہ میں رہ گئے تھی۔ جن میں ام المومنین حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور آپ کی بیٹی حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا شامل تھیں ۔آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو رافع اور حضرت زید بن حارثہ کو روانہ کیا ۔اور خرچ کے لیے ۰۰۵درہم حضرت ابوبکر صدیق نے پیش کیے ۔چناچہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورحضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ مکرمہ پہنچے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں یعنی ام المؤمنین حضر ت سو دہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو لے کر مدینہ طیّبہ جا پہنچے ۔طبقات ابن سعد ج۸ ص۸۱۱ ۔البدایہ لابن کثیر ج۳ ۲۰۲ ۔

    سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔مااناازواجّ بناتی ولکن اللہ تعالی ٰیزوجھن ۔
    میں اپنی بیٹیوں کو اپنی مرضی سی کسی کی تزویج میں نہیں دیتا ۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے نکاحوں کے فیصلے ہوتے ہیں ۔المستدرک للحاکم ج۴ ص۹۴ ۔
    جب حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال ہوا ۔ تو حضر ت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سخت صدمہ پہنچا ۔وہ ہر وقت غم میں ڈوبے رہتے تھے ۔چناچہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غمگین دیکھا تو فرمایا
    ۔مالی اراک مھموما ؟ عثمان تمیں کیوں غمزدہ دیکھ رہا ہوں ؟
    سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ عرض کرتے ہیں ۔آقا مصیبت کا جوپہاڑ مجھ پر گرا ہے کسی اور پر نہیں گرا ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی جو میرے نکاح میں تھی ۔انتقال کر فرما گئیں ۔جس سے میری کمر ٹوٹ گئی ۔اور وہ رشتہ مصاحبت بھی ختم ہو گیا جو میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان تھا ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلی دی اورفرمایا کہ یہ جبرائیل میرے پاس آے ہیں اور مجھے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آپ کے نکاح میں دوں اور جو مہر رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لیے مقرر ہوا تھااُسی کے موافق ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہر ہو ۔ابن ماجہ ۔اسدالغابہ ج۵ ص۳۱۶ ۔کنزالعمال ج۶ص۵۷۳ ۔
    چناچہ حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ربیع ا لاوّل ۲ہجری میں ہوا ۔ اور جمادی الاخریٰ میں رخصتی ہوئی ۔طبقات ابن سعد ج ۸ ص۵۲ ۔اسد الاغابہ لابن اثیر الجزری ج۵ ص۳۱۶ ۔

    حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک منفرد اعزاز

    حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو لخت جگر آئیں ۔جس کی وجہ سے ان کو ذوالنورین کہا جاتا ہے ۔اسی طرح انہیں دوہجرتیں کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ۔ایک حبشہ ایک مدینہ کی طرف تو ذوالہجرتین کا لقب حاصل ہوا ۔ابن عساکرمیں ہے ہے
    حضرت آدم علیہ وسلم سے لیکر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک کوئی ا نسان ایسا نہیں گزرا جس کے نکاح میںکسی نبی کی دو بیٹیا ںآئی ہوں سوائے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ۔

    عدم اولاد

    روایات کے مطابق حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کوئی اولاد نہیں ہوئی ۔

    سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے مثال شوہر

    ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا : بیٹی : عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہاں ہیں ۔حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ کسی کام سے گئے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم نے اپنے شوہر کو کیسا پایا ؟ حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا ۔اباجان وہ بہت اچھے اور بلند مرتبہ شوہر ثابت ہوے ہیں ۔ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا .ْبیٹی کیوں نہ ہوں ۔وہ دنیا میں تمہارے دادا حضرت ابراہیم علیہ اسلام اور تمہارے باپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت مشابہ ہیں ۔ایک حدیث میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے صحابہ میں سب سے زیادہ میر ے اخلاق اور عادات سے مشابہ ہیں ۔ سیرت حلبیہ ج۴ ص۴۴۔

    حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال

    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تیسری بیٹی حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہابھی شعبان ۹ہجری کو انتقال فرما گئیں ۔حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا
    چھ سال تک حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں رہیں ۔طبقات ابن سعد ج۸ ص۵۲ ۔
    سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے انتقال پر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک د فعہ پھر غموں کے سمندر کے میں ڈوب گئے ۔ان حالات میں بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تسلی دیتے ہوے ارشاد فرمایا :
    لو کن عشرا لزوجّتھن عثمان ِ،،

    یعنی میرے پاس دس بیٹیاں بھی ہوتی تو میں یکے بعد دیگری عثمان کے نکاح میں دے دیتا ،، طبقات ابن سعدج۸ص۵۲ ،مجمع الزوائدللھیثمی ج۹ ص۷۱۲ ۔
    بعض روایات میں اس سے زیادہ تعداد بھی منقول ہے ۔

    -حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا غسل اور نماز جنازہ

    حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے انتقال کے بعد اُن کے غُسل وکفن کے انتظامات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمائے ۔سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو غسل حضرت اسما بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا ،سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلبرضی اللہ تعالیٰ عنہا،لیلیُ بنت قانف رضی اللہ تعالیٰ عنہا،اور ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دیا ۔طبقات ابن سعد ج۸ ص۶۲،اسد الغابہ ج۵ ص۲۱۶۔
    جب حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا غسل اور کفن ہو چکا تو ان کے جنازہ کے لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی تھے ۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی اور ان کے لیے دعائے مغفرت فرمائی ۔ : طبقات ابن سعد ج۸ ص۶۲ ،شرح مواھب اللدنیہ للزرقانی ج۳ص۰۰۲ ۔

    حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا دفن

    نماز جنازہ کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دفن کرنے کے لیے جنت البقیع میں لایا گیا ۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لائے ۔حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ قبر میں اترے ،اور بعض روایات میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضر ت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان کے ساتھ قبر میں اترے اور دفن میں معاونت کی ۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو

    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ۔کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے دفن کے موقع پرقبر کے پاس تشریف فر ما تھے ۔میں نے دیکھا کہ ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے فرط غم کی وجہ سی آنسو جاری تھے.

    رضی اللہ تعالیٰ عنہا

    آخر میں ایک اور ناقبل تردید ثبوت
    بشکریہ Syed Waqas Ali Shah

    Sura Ahzaab ayat 59
    َـٰٓأَيُّہَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّأَزۡوَٲجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡہِنَّ مِن جَلَـٰبِيبِهِنَّۚ ذَٲلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَن يُعۡرَفۡنَ فَلَا يُؤۡذَيۡنَۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورً۬ا رَّحِيمً۬ا
    ے پیغمبر اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے (مونہوں) پر چادر لٹکا (کر گھونگھٹ نکال) لیا کریں۔یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی ان کو ایذا نہ دے گا۔ اور خدا بخشنےوالامہربان ہے

    محمد. سلمان شیخ.
    ------------------------------------------------------------
    Join us [​IMG] Dr Zakir Naik Videos
    Islam اسلام [​IMG]
    چھترول برائے دیسی لبرل و ملحدین [​IMG]
    #اعتراض #ارتقائی_مخلوق See More
     
  8. ‏دسمبر 12، 2017 #8
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    اہل تشیع اور بعض دھریوں کی جانب سے اکثر حضورؐ کی صاحبزادیوں کی بابت اعتراض اُٹھایا جاتا ہے۔کہ سیدہ فاطمہ الزہرا کے علاوہ حضورؐ کی کوئی اور بیٹی نہ تھی۔
    ذیل میں نبی پاکؐ کی دیگر تین بیٹیوں کا مفصل احوال پیش خدمت ہے۔
    7.jpg
    حضرت سیدہ زینب رضی اللہ تعالی عنھا
    ...
    حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی بیٹی ہیں۔ بعثت نبوت سے دس سال پہلے پیدا مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمراس وقت تیس برس تھی ۔ ان کی ولدہ کا نام حضرت سیدہ خدیجتہ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا ہے۔ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی ہیں

    ابتدائی حالات

    جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو جس طر ح سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے پہلے ہی اعلان پر اسلام قبول فرمالیا ۔ اسی طرح اپ کی اولاد بھی مشرف با اسلام ہوئی ۔ اس وقت سیدہ زینب کی عمر دس سال تھی :البدایہ وانھایہ ج ۳ ص۱۱۳

    نکاح

    حضرت زینب کا نکاح حضرت ابوالعاص بن ربیع بن عبد العزی بن عبد شمس بن عبد مناف سے ہوا ۔ حضرت ابوالعاص کا نسب چہارم پشت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مل جاتا ہے ۔ حضرت ابوالعاص مکہ کے صا حب ثروت شریف اور امانت دار انسان تھے۔ حضرت ابوالعاص حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے خواہرزادہ ہیں۔ ان کی والدہ کانام ہالہ بنت خویلد بن یاسد ہے جو حضرت خدیجہ کی حقیقی بہن ہیں اور حضرت خدیجہ حضرت ابوالعاص کی خالہ ہیں۔ ابوالعاص حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے خا لہ زاد بھائی ہیں ۔ حضرت فاطمہ اور حضرت زینب حقیقی بہنیں ہیں اس بنا پر حضرت علی اور حضرت ابوالعاص آپس میں ہم زلف ٹھرے ۔

    مشرکین مکہ کے نا پاک عزائم

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین مکہ ہر طرح کی تکالیف پہنچائیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لا الٰہ الا اللہ کی صدا سے پورے مکہ میں انقلاب برپا کر دیا مشرکین مکہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مزید تکلیف پہنچانے کے لیے حضرت ابوالعاص کو اس بات اکسایا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت زینب کوطلاق دے دو اور قبیلہ قریش میں سے تم جس عورت سے نکاح کرنا چاہو ہم وہ عورت پیش کر سکتے ہیں۔ جواب میں حضرت ابوالعاص نے فرمایا قال لاوللہاذن لاافارق صا حبتی اللہ کی قسم میں اپنی بیوی سے ہر گز جدا نہیں ہوسکتا ؛ذخائرالعقبی ص۷۵۱۔ البدایہ لابن کثیر ج۳ ص۱۱۳
    شعب ابی طالب میں محصوری کے ایام میں بھی ابوالعاص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے محصورین کے لیے خوراک کی فراہمی کا بندوبست کرتے رہے ۔البدایہ ج۳ص۲۱۳ ۔
    اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ابوالعاص نےہماری دامادی کی بہترین رعایت کی اور اس کا حق ادا کر دیا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت ابوالعاص نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا.
    نبوت کے تیرھویں سال جب حضور صلی اللہ علیہوسلم نے مکہ سے ہجرت فرمائی۔ اس وقت حضرت زینب رضی اللہ عنہا مکہ میں اپنے سسرال کے ہاں تھیں۔ ہجرت کے بعد اسلام کا ایک دوسرا دور شروع ہوتا ہے مدنی زندگی میں اسلام اور کفر کے درمیان بڑی بڑی جنگیں لڑی گئی ان میں ایک مشہور جنگ غزوہ بدر کے نام سے معروف ہے اور اس جنگ بدر میں حضرت ابوالعاص رضی اللہ تعالی عنہ کفار کی طرف سے جنگ میں شریک ہو کر آئے ۔

    جنگ بدر میں جب اہل اسلام کو فتح ھو گئی تو جنگی قاعدہ کے مطابق شکست خوردہ کفار کو اہل اسلام نے قید کر لیا اور ان قیدیوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کے داماد حضرت ابوالعاص بھی شامل تھے ۔مسلمانوں کی طرف سے یہ فیصلہ ہوا ۔جو قیدی لائے گئے ہیں ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جاے ۔اہل مکہ نے اپنے اپنے قیدیوں کو چھوڈانے کے لیے فدیے اور معاوضے بھیجنے شروع کیے ۔ اس ضمن میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند حضرت ابوالعاص کی رہای کے لیے اپنا وہ ہار جو ان کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے دیا تھا بھیجا مدینہ شریف میں یہ فدیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کیے گے ۔ اور حضت ابوالعاص کا فدیہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی طرف سے ہار کی شکل میں پیش ہوا ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نظر فرمائی تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بلا اختیار رقت کی کیفیت طاری ہو گئی ۔اوراس کو دیکھ کر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی یاد تازہ ہو گئی ۔نبی کریم صلی اللہ ؑ علیہ وسلم کی اس کیفیت کے اثر میں تمام صحابہ متاثر ہوے۔

    اس وقت اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا اگر تم ابوالعاص کو رہا کر دو اور زینب کا ہارواہس کر دو تو تم ایسا کر سکتے ہو ۔اس وقت صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپ کا ارشاد درست ہے ہم ابوالعاص کو بلا فدیہ رہا کرتے ہیں ۔اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا ہار واپس کرتے ہیں ۔
    اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت ابوالعاص سے وعدہ لیا ۔کہ جب مکہ واپس پہنچیں تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو ہمارے ہاں مدینہ بھیج دینا ۔چناچہ حضرت ابوالعاص نے وعدہ کر لیا ۔تو انہیں بلا معاو ضہ رہا کر دیا گیا :دلائلانبوہ للبیہقی ص۳۲۴ ج۲ :مسنداحمدبن حنبل ص۳۲۴ ؛
    ابوداودشریف ج۲ ص۳۶۷ مشکوہ شریف ص۶۴۳ ؛البدایہ وانھایہص۲۱۳ج۳
    حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ رہا ہو کر مکہ اے اور حضرت زینب رضی اللہ عنہاکوتمام احوال ذکر کیے اور مدینہ جانے کی اجازت دے دی ۔اور جو وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا تھا وہ ایام بھی اگے تو حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے اپنے چھوٹے بھائی کنانہ کے ساتھ روانہ کیا ۔کنانہ نے اپنی قوس اورترکش کو بھی ساتھ لیا ۔
    حضرت زینب رضی اللہ عنہاسواری کے اوپر کجاوہ میں تشریف فرما تھی ۔اورکنانہ اگے اگے ساتھ چل رہا تھا ۔ اس دوران اہل مکہ کواطلاع ہو گئی جب وادی ذطوی کے پاس پہنچے تو مکہ والے پیچھے سے پہنچ گے ہبار بن اسود نے ظلم کرتے ہوے نیزہ مار کر سیدہ کو اونٹ سے گرا دیا جس سے اپ زخمی ہوگئی اور حمل ساقطہو گیا ۔کنانہ نے اپنا ترکش کھول دیا اور اندازی شروع کر دی اور کہا جو بھی قریب اے گا اس کو تیروں سے پرو دیا جائے گا ۔کفار نے کہا کہ اپنے دشمن کی بیٹی کوعلانیہ جانے تو لوگ ہمیں کزور سمجھیں گے ۔اس لیے انہیں چند یوم بود رات کی تاریکی میں لے جانا ۔کنانہ نے راے تسلیم کر لی اور چند دنوں کے بعد رات کے وقت مکہ سے باہر مدینہ سے اے ہوے صحابہ حضرت زید بن حارثہ اور ان کے پاس پہنچایا پس وہ دونوں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو لیکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گے؛البدایہ وانھایہ ص۳۳۰ ج۳۔زرقانی ج۳ص۲۲۳

    ابوالعاص رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

    مکہ مکرمہ سے قریش کا ایک قافلہ جمادی الاول ۶ ہجری میں شام کے لیے عازم سفر ہوا اور ابوالعاص بھی اس قافلہ میں شریک تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مے حضرت زید بن حارثہ کو ۰۷۱سواروں کے ہمراہقافلہ کے تعاقب کے لیے روانہ کیا ۔ اور مقام عیص میں قافلہ ملا کچھ لوگ گرفتار ہوے اور باقی بھاگنے میں کامیاب ہوگے ۔حضرت ابوالعاص حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لاے تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے ان کو پناہ دے دی ۔اس کے بعد حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی سفارش پر تمام مال و اسباب ان کے حوالے کر دیا ۔حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے مکہ جاکر جس جس کا مال تھا اس کے حوالہ کیا اور پوچھا کسی کا مال تو میرے ذمہ باقی نہیں ۔تو تمام لوگوں نے کہا ۔فجزاک اللہ خیرا فقدوجدناک وقیاکریما ۔ اللہ تمہیں جزائے خیر دیہم نے تمہیں بڑا شریف اور وفادار پایا ہے صاس کے بعد قریش مکہ کے سامنے اسلام کا اعلان کیا اور مکہ سے مدینہ منورہ تشریف لے اے ۔ تو حضورنے حضرت زینب کو ان کے حوالے کردیا.

    حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی فضیلت

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس لخت جگر نے اسلام کے لیے پجرت کی اور تمام مصائب والام دین کے لیے برداشت کئے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر جب دربار رسالت میں ائیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہوسلم فرماتے ہیں ۔ھی خیربناتی ا صیبت فی ھی افضل بناتی اصیبت فی ۔ میری بیٹیوں میں زینب بہترین بیٹی ہے جس کو میری وجہ سے ستایا گیا ۔یہ افضل بیٹی ہے جس کو میری وجہ سے روکا گیا ۔ :مجمع الزوائدللہیثمی ج۹ ص۲۱۳:دلائل النبوہ للبیہقی ج۲ ص۴۲۶:
    حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی اولا

    حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی تمام اولاد حضرت ابوالعاص بن الربیع سے ہوئی ۔ان میں ایک صاحبزادہ جس کا نام علی تھا۔اور ایک صاحبزادی جس کا نام امامہ بنت ابوالعاص تھا اور ایک صاحبزادہ صغر سنی میں ہی فوت ہو گیا ،

    حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے بیٹے حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں پرورش پاتے رہے ۔ اور جب مکہ فتح ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی سواری کے پیچھے بٹھایا تھا ۔اور یرموک کے معرکہ میں شہید ہوے ۔اور بعض کے نزدیک یہ قریب البلوغ ہو کر فوت ہوے۔ :اسدالغابہ لابن کثیر ج۴ ص۴۱۔الاصابہ لابن حجر عسقلانی ج۲ ص۵۰۳ :

    حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حضرت ا بوالعاص رضی اللہ عنہ اور حضرت امامہ رضی اللہ عنہا بنت حضرت ابو العاص رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑی محبت فرمایا کرتے ۔ ایک دفعہ نبی کریم نماز کے لیے تشریف لائے کہ حضرت امامہ رضی اللہ عنہا حضور کے دوش پر سوار ہیں ۔اپ نے ایسی حالت میں نماز ادا فرمائی ۔جب رکوع جاتے تو اتار دیتے جب کھڑے ہوتے تو اٹھا لیتے :بخاری شریف ج ۱ ص۷۴ ۔مسلم شریف ج ۱ ص۲۰۵ ۔ مسند ابو داود ظیالسی ص۸۵ ۔ابو داود شریف ج۱ ص ۱۳۲۔ صحیح ابن حبان ج۲ ص۳۱۳ :

    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم کی خدمت میں بیش قیمت ہار بطور ہدیہ ایا ۔اس وقت اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن تشریف فرما تھیں اور یہی حضرت امامہ صحن میں کھیل رہی تھیں ۔اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات سے پوچھا یہ ہار کیسا ہے ۔سب نے کہا کہ ایسا خوبصوت ہار تو ہم نے کبھی دیکھا ہی نہیں ۔تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔لادفعتھا الی احب اھلی الی۔ یہ ہار میں اس کو دوں گا جو میرے اہل بیت میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے
    ۔پھر اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قیمتی ہار خود اپنے دست مبارک سے حضرت امامہ رضی اللہ عنہا کے گلے میں پہنادیا اسدالغابہ ج۵ ص۴۰۰۔مجمع الزوائد للھیثمی ج۹ ص۲۵۴ ۔الفتح ربانی ج۲۲ ص۴۲۰ الاصابہ ج ۴ ص۲۳۰ :

    امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہما سے حضرت علی بن ابی طالب ر ضی اللہ عنہ کانکاح

    حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے انتقال سے قبل حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصیت فرمائی تھی کہ اگر میرے بعد شادی کریں تو میری بڑی بہن کی بیٹی امامہ کے ساتھ کرنا ۔ وہ میری اولاد کے حق میں میری قائمقام ہو گی
    چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس وصیت کے مطابق ۱۲ ھ میں حضرت امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا اور حضرت زبیر بن عوامؓ نے اپنی نگرانی میں ان کی شادی حضرت علی سے کر دی ۔ یہ نکاح مسلّم بین الفریقین ہے ۔ اہلسنت اور شیعہ حضرات اپنے اپنے مقام میں اس کو ذکر کیا کرتے ہیں
    مزید تفصیل کے لئے رجوع فرمائیں : الاصابۃ ج ۳ ص ۴۳۳
    انواالنعمانیہ ج ۱ ص ۳۶۷

    سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال پرملال

    حضرت زینب رضی اللہ عنہا مکہ سے مدینہ تشریف لاتے ہوئیں تو دوران حجرت ہبار بن اسود کے نیزہ سے زخمی ہوئی تھیں ۔ کچھ عرصہ کے بعد آپ رضی اللہ عنہاکا وہی زخم دوبارہ تازہ ہو گیا جو ان کی وفات کا سبب بنا ۔اسی وجہ سے بڑے بڑے اکابرین ، صاحب قلم حضرات نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’ فکانوا یرونھا ماتت شھیدہ ‘‘
    حافظ ابن کثیر نے لکھا کہ ان کو شہیدہ کے نام سے تعبیر کیا جانا چاہیئے ۔

    حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی وفات پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غمزدہ ہوئے اور تمام بہنیں اس حادثہ فاجعہ سے اور تمام عورتیں شدت جذبات سے رو دیں۔
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ سیدہ کی وفات کا سن کر حاضر ہوئے عورتوں کو روتا دیکھ کر آپ نے منع فرمایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ اے عمر سختی سے ٹھر جائیں ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : شیطانی آ وازیں نکالنے سے پرہیز کریں ۔ پھر فرمایا : جو آنسو آ نکھوں سے بہتے ہیں اور دل غمگین ہوتا ہے تو یہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے اور اس کی رحمت سے ہے
    ( مشکوٰۃ شریف ص ۱۵۲ )

    سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا اعزاز

    سیدہ کے غسل کا اہتمام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں ہوا ۔ حضرت ام ایمن، حضرت سودہ ، حضرت ام سلمہ ، حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنھن نے غسل دیا
    حضرت ام عطیہ فرماتیں ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد تشریف لائے اور فرمایا کہ زینب کے نہلانے کا انتظام کرو پانی میں بیری کے پتے ڈال کر ابالا جائے اور اس پانی کے ساتھ غسل دیاجائے ۔ اور غسل کے بعد کافور کی خوشبو لگائی جائے جب فارغ ہو جائیں تو مجھے اطلاع کرنا پس ہم نے اطلاع کر دی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند اتارکر جسم اطہر سے عنایت فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ میرے اس تہبند کو کفن کے ساتھ رکھ دو ( بخاری ج ۱ ص ۱۸۷ ۔ مسلم ج ۱ ص ۳۰۴)

    سیدہ کا جنازہ

    جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا جنازہ تیار ہو گیا تو بڑے اعزا ز و اکرام کے ساتھ پردہ داری سے میت کو تدفین کے لئیے لے جایا گیا

    سیدہ کا ایک اور اعزاز

    خالق ار ض و سمٰوات نے حضرت زینب کو یہ اعزاز بھی دیا کہ ان کا جنازہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا اور روایات میں آتا ہے ’’ وصلی علیہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ حوالہ انساب الاشراف ج ۱ ص ۴۰۰

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی قبر میں خود اترے

    حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کا انتقال ہوا تو صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں سیدہ کو دفنانے کے لئے حاضر ہوئے ۔ ہم قبر پر پنہچے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت مغموم تھے ۔ ہم میں سے کسی کو بات کرنے کی ہمت نہ ہوئی ۔ قبر کی لحد بنانے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے پاس تشریف فرما ہوئے اور ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس بیٹھ گئے ۔ اسی اثناء میں آپ کو اطلاع کی گئی کہ قبر تیار ہو گئی ہے ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود قبر کے اندر تشریف لے گئے اور تھوڑی دیر کے بعد باہر تشریف لائے تو آپ کا چہرہ انور کھلا ہوا تھا اور غم کے آثار کچھ کم تھے ۔ اب عشاق عرض کرتے ہیں : یا رسول اللہ اس سے پہلے آپ کی طبیعت بہت مغموم نظر آرہی تھی اب آپ کی طبیعت میں بشاشت ہے اس کی کیا وجہ ہے؟
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔ قبر کی تنگی اور خوف ناکی میرے سامنے تھی اور سیدہ زینب کی کمزوری اور ضعف بھی میرے سامنے تھا اس بات نے مجھے رنجیدہ خاطر کیا پس میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ زینب کے لئے اس حالت کو آسان فرما دیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے منظور فرما لیا اور زینب کے لئے آسانی فرما دی
    ( مجمع الزوائد للہیثمی ج ۳ ص ۴۷ ۔ کنزالعمال ج ۸ ص ۱۲۰)
    میں نے بڑے اختصار کے ساتھ سیدہ زینب بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات پیدائش تا وفات لھ دیئے ہیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی بڑی لخت جگر کے ساتھ کیسا مشفقانہ معاملہ تھا کہ زندگی میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت حاصل رہی اور وفات کے بعد تمام معاملات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں ہوئے ۔ ۔ ۔

    رضی اللہ تعالٰی عنہا_________

    حضرت سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

    حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صاحبزادی ہیں ۔اور یہ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے چھوٹی ہیں۔حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی والدہ کا نام حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت خویلد بن اسد ہے۔یہ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تین برس بعد پیدا ہوئیں ۔اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک تقریبا تینتیس برس تھی۔

    ابتدائی حالات

    حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آغوش میں پرورش پائی۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو اس وقت حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر سات سال تھی۔جب حضر ت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے اسلام قبول کیا ۔تو ان کے ساتھ آ پکی صاحبزادیوں نے بھی اسلام قبول کیا۔
    ( طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۲۴ ۔ الاصابہ لابن حجر )

    قبل از اسلام سیدہ کا نکاح

    نبی کریم نے اپنی بیٹی حضرت رقیہ کا نکاح اپنے چچا ابولہب کے بیٹے عتبہ سے کیا تھا ابھی رخصتی ہونا باقی تھی ۔ جب نبی کریم خاتم النبین کے عظیم منصب پر فائز ہوئے پیغمبر اسلام کے راستہ میں رکاوٹ ڈالنے اور پیغام حق کے مقابلہ میں کفر اور شرک کی اشاعت کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے و حی کا نزول کر کے ابولہب اور اس کی بیوی کی مذمت فرمائی تو ابولہب نے اپنے بیٹوں کو بلا کر کہا اگر تم محمد کی بیٹیوں کو طلاق دے کر ان سے علیحدگی اختیار نہیں کی تو تمہارا میرے ساتھ اٹھنا بیٹھنا حرام ہے ۔ دونوں بیٹوں نے حکم کی تعمیل کی اور دختران رسول سیدہ رقیہ اور سیدہ ام کلثوم کو طلاق دے دی ۔
    ( طبقات ابن سعد ج۔ الاصابہ الابن حجر ص ۲۹۷)

    سیدہ رقیہ کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما سے نکاح

    جب ابولہب کے لڑکوں نے حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا اور ام کلثوم رضی اللہ عنہاکو طلاق دے دی
    تو اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح مکہ مکرمہ میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کردیا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی ہے کہ میں اپنی بیٹی رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کردوں ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دیا اور ساتھ ہی رخصتی کردی
    ( کنزالعمال ج ۶ ص ۳۷۵)
    سیدہ رقیہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کی ہجرت حبشہ

    جب کفار کے مظالم حد برداشت سے بڑھ گئے تو نبوت کے پانچویں سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور ان کے ساتھ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں ۔ راہ خدا میں ہجرت کرنے والوں کا یہ پہلا قافلہ تھا اس موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جوڑا خوبصورت ہے ۔ البدایہ والنہایہ ج ۳ ص ۶۶
    ایک عورت حبشہ سے مکہ پنہچی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ہجرت کرنے والوں کے حال احوال دریافت فرمائے تو اس نے بتایا کہ اے محمد میں نے آپ کے داماد اور آپ کی بیٹی کو دیکھا ہے آپ نے فرمایا کیسی حالت میں دیکھا تھا ؟
    اس نے عرض کیا :۔ عثمان اپنی بیوی کو سواری پر سوار کیے ہوئے جا رہے تھے اور خود سواری کو پیچھے سے چلا رہے تھے ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ان دونوں کا مصاحب اور ساتھی ہو حضرت عثمان ان لوگوں میں سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے لوط علیہ السلام کے بعد اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہجرت کی ۔
    البدایہ لابن کثیر ج ۳ ص ۶۶

    مدینہ کی طرف ہجرت

    جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا کہ نبہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف ہجرت فرمانے والے ہیں تو حضرت عثمان چند صحابہ کرام کے ساتھ مکہ آئے اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے جا چکے تھے ۔ ہجرت حبشہ کے بعد حضرت عثمان ہجرت مدینہ کے لئے تیار ہو گئے اور اپنی بیوی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سمیت مدینہ کی طرف دوسری ہجرت فرمائی ۔ الاصابہ لابن حجر ج ۴ ص ۲۹۸ ۔

    سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی اولاد

    حبشہ کے زمانہ قیام میں ان کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام عبداللہ رکھا گیا جس کی وجہ سے حضرت عثمان کی کنیت ابو عبد اللہ مشہور ہوئی ۔ عبداللہ کا ۶ سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں انتقال ہوا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ خود پڑھی حضرت عثمان نے قبر میں اتارا ۔ اسد الغابہ ج ۵ ص ۴۵۶

    سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی بیماری

    ۲ ہجری غزہ بدر کا سال تھا حضرت رقیہ کو خسرہ کے دانے نکلے اور سخت تکلیف ہوئی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی تیاری میں مصروف تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام غزوہ میں شرکت کے لئے روانہ ہونے لگے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی تیار ہو گئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خطاب کر کے فرمایا : رقیہ بیمار ہے آپ ان کی تیمار داری کے لئے مدینہ میں ہی مقیم رہیں آپ کے لئے بدر میں شرکت کرنے والوں کے برابر اجر ہے اور غزائم میں بھی ان کے برابر حصہ ہے ۔ ۔ بخاری ج ۱ ص ۵۲۳

    سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات

    جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر میں شریک تھے ۔ حضور کی عدم موجودگی میں سیدہ رقیہ کا انتقال پرملال ہوا پھر ان کے کفن دفن کی تیاری کی گئی یہ تمام امور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سر انجام دئیے
    غزوہ بدر کی فتح کی بشارت لے کر جب زید بن حارثہ مدینہ شریف پہنچے تو اس وقت حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کو دفن کرنے کے بعد دفن کرنے والے حضرات اپنے ہاتھوں سے مٹی جھاڑ رہے تھے ۔ طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۲۵
    چند ایام کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو جنت البقیع میں قبر رقیہ پر تشریف لے گئے اور حضرت رقیہ کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ۔

    ایک روایت میں ہے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت رقیہ کی تعزیت پیش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : الحمد للہ ! اللہ تعالیٰ کا شکر شریف بیٹیوں کا دفن ہونا بھی عزت کی بات ہے ۔ ۔

    رضی اللہ تعالٰی عنہا__________

    حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا

    حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری بیٹی ہیں یہ حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے چھوٹی ہیں ۔یہ بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
    کے بطن سے پیدا ہوئیں ۔

    قبول اسلام

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نگرانی میں ہوش سنبھالا۔اور آغوش رسات میں پرورش پائی ۔جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو یہ تمام بہنیں اپنی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہمراہ اسلا م لائیں۔اسدالغابہ ج۵ ص۲۱۶ ۔طبقات ابن سعد ص۵۲ ۔

    نکاح اوّل اور طلاق

    اعلان نبوت سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح اپنے چچا ابو لہب کے بیٹے عتیبہ کے ساتھ کر دیا تھا ۔لیکن جب اسلام کا دور آیا ۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا ۔ اورقرآن مجید کا نزول شروع ہوا ۔اور قرآن کریم میں سورہ لہب نازل ہوئی جس میں ابو لہب اور اس کی بیوی کی مزمت کی گئی ۔تو ابو لہب نے اپنے بیٹے عتیبہ سے کہا کہا ۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو طلاق دے دو ۔ تو عتیبہ نے طلاق دے دی ۔

    مدینہ طیّبہ کی طرف ہجرت

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ طیّبہ کی طرف ہجرت فرمائی ۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے کچھ افراد مکہ میں رہ گئے تھی۔ جن میں ام المومنین حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور آپ کی بیٹی حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا شامل تھیں ۔آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو رافع اور حضرت زید بن حارثہ کو روانہ کیا ۔اور خرچ کے لیے ۰۰۵درہم حضرت ابوبکر صدیق نے پیش کیے ۔چناچہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورحضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ مکرمہ پہنچے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں یعنی ام المؤمنین حضر ت سو دہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو لے کر مدینہ طیّبہ جا پہنچے ۔طبقات ابن سعد ج۸ ص۸۱۱ ۔البدایہ لابن کثیر ج۳ ۲۰۲ ۔

    سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔مااناازواجّ بناتی ولکن اللہ تعالی ٰیزوجھن ۔
    میں اپنی بیٹیوں کو اپنی مرضی سی کسی کی تزویج میں نہیں دیتا ۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے نکاحوں کے فیصلے ہوتے ہیں ۔المستدرک للحاکم ج۴ ص۹۴ ۔
    جب حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال ہوا ۔ تو حضر ت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سخت صدمہ پہنچا ۔وہ ہر وقت غم میں ڈوبے رہتے تھے ۔چناچہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غمگین دیکھا تو فرمایا
    ۔مالی اراک مھموما ؟ عثمان تمیں کیوں غمزدہ دیکھ رہا ہوں ؟
    سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ عرض کرتے ہیں ۔آقا مصیبت کا جوپہاڑ مجھ پر گرا ہے کسی اور پر نہیں گرا ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی جو میرے نکاح میں تھی ۔انتقال کر فرما گئیں ۔جس سے میری کمر ٹوٹ گئی ۔اور وہ رشتہ مصاحبت بھی ختم ہو گیا جو میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان تھا ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلی دی اورفرمایا کہ یہ جبرائیل میرے پاس آے ہیں اور مجھے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آپ کے نکاح میں دوں اور جو مہر رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لیے مقرر ہوا تھااُسی کے موافق ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہر ہو ۔ابن ماجہ ۔اسدالغابہ ج۵ ص۳۱۶ ۔کنزالعمال ج۶ص۵۷۳ ۔
    چناچہ حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ربیع ا لاوّل ۲ہجری میں ہوا ۔ اور جمادی الاخریٰ میں رخصتی ہوئی ۔طبقات ابن سعد ج ۸ ص۵۲ ۔اسد الاغابہ لابن اثیر الجزری ج۵ ص۳۱۶ ۔

    حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک منفرد اعزاز

    حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو لخت جگر آئیں ۔جس کی وجہ سے ان کو ذوالنورین کہا جاتا ہے ۔اسی طرح انہیں دوہجرتیں کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ۔ایک حبشہ ایک مدینہ کی طرف تو ذوالہجرتین کا لقب حاصل ہوا ۔ابن عساکرمیں ہے ہے
    حضرت آدم علیہ وسلم سے لیکر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک کوئی ا نسان ایسا نہیں گزرا جس کے نکاح میںکسی نبی کی دو بیٹیا ںآئی ہوں سوائے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ۔

    عدم اولاد

    روایات کے مطابق حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کوئی اولاد نہیں ہوئی ۔

    سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے مثال شوہر

    ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا : بیٹی : عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہاں ہیں ۔حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ کسی کام سے گئے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم نے اپنے شوہر کو کیسا پایا ؟ حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا ۔اباجان وہ بہت اچھے اور بلند مرتبہ شوہر ثابت ہوے ہیں ۔ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا .ْبیٹی کیوں نہ ہوں ۔وہ دنیا میں تمہارے دادا حضرت ابراہیم علیہ اسلام اور تمہارے باپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت مشابہ ہیں ۔ایک حدیث میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے صحابہ میں سب سے زیادہ میر ے اخلاق اور عادات سے مشابہ ہیں ۔ سیرت حلبیہ ج۴ ص۴۴۔

    حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال

    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تیسری بیٹی حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہابھی شعبان ۹ہجری کو انتقال فرما گئیں ۔حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا
    چھ سال تک حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں رہیں ۔طبقات ابن سعد ج۸ ص۵۲ ۔
    سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے انتقال پر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک د فعہ پھر غموں کے سمندر کے میں ڈوب گئے ۔ان حالات میں بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تسلی دیتے ہوے ارشاد فرمایا :
    لو کن عشرا لزوجّتھن عثمان ِ،،

    یعنی میرے پاس دس بیٹیاں بھی ہوتی تو میں یکے بعد دیگری عثمان کے نکاح میں دے دیتا ،، طبقات ابن سعدج۸ص۵۲ ،مجمع الزوائدللھیثمی ج۹ ص۷۱۲ ۔
    بعض روایات میں اس سے زیادہ تعداد بھی منقول ہے ۔

    -حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا غسل اور نماز جنازہ

    حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے انتقال کے بعد اُن کے غُسل وکفن کے انتظامات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمائے ۔سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو غسل حضرت اسما بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا ،سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلبرضی اللہ تعالیٰ عنہا،لیلیُ بنت قانف رضی اللہ تعالیٰ عنہا،اور ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دیا ۔طبقات ابن سعد ج۸ ص۶۲،اسد الغابہ ج۵ ص۲۱۶۔
    جب حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا غسل اور کفن ہو چکا تو ان کے جنازہ کے لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی تھے ۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی اور ان کے لیے دعائے مغفرت فرمائی ۔ : طبقات ابن سعد ج۸ ص۶۲ ،شرح مواھب اللدنیہ للزرقانی ج۳ص۰۰۲ ۔

    حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا دفن

    نماز جنازہ کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دفن کرنے کے لیے جنت البقیع میں لایا گیا ۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لائے ۔حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ قبر میں اترے ،اور بعض روایات میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضر ت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان کے ساتھ قبر میں اترے اور دفن میں معاونت کی ۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو

    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ۔کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے دفن کے موقع پرقبر کے پاس تشریف فر ما تھے ۔میں نے دیکھا کہ ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے فرط غم کی وجہ سی آنسو جاری تھے.

    رضی اللہ تعالیٰ عنہا

    آخر میں ایک اور ناقبل تردید ثبوت
    بشکریہ Syed Waqas Ali Shah

    Sura Ahzaab ayat 59
    َـٰٓأَيُّہَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّأَزۡوَٲجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡہِنَّ مِن جَلَـٰبِيبِهِنَّۚ ذَٲلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَن يُعۡرَفۡنَ فَلَا يُؤۡذَيۡنَۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورً۬ا رَّحِيمً۬ا
    ے پیغمبر اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے (مونہوں) پر چادر لٹکا (کر گھونگھٹ نکال) لیا کریں۔یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی ان کو ایذا نہ دے گا۔ اور خدا بخشنےوالامہربان ہے

    محمد. سلمان شیخ.
    ------------------------------------------------------------
    Join us [​IMG] Dr Zakir Naik Videos
    Islam اسلام [​IMG]
    چھترول برائے دیسی لبرل و ملحدین [​IMG]
    #اعتراض #ارتقائی_مخلوق See More
     
  9. ‏دسمبر 12، 2017 #9
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    سور کھانا حرام کیوں ہے؟

    8.png
    اللہ پاک کا ارشاد ہے :

    إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَۃ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُھلَّ بِہ لِغَيْرِ اللّہ...
    اس نے تم پر مرا ہوا جانور اور لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کردیا ہے

    دوسری جگہ ارشاد ہے:

    حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَۃ وَالْدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُھلَّ لِغَيْرِ اللّہ بِہ وَالْمُنْخَنِقَۃ وَالْمَوْقُوذَۃ وَالْمُتَرَدِّيَۃ وَالنَّطِيحَۃ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلاَّ مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُواْ بِالأَزْلاَمِ ذَلِكُمْ فِسْقٌ الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن دِينِكُمْ فَلاَ تَخْشَوْہمْ وَاخْشَوْنِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَۃ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ فَإِنَّ اللّہ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
    تم پر مرا ہوا جانور اور (بہتا) لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلا گھٹ کر مر جائے اور جو چوٹ لگ کر مر جائے اور جو گر کر مر جائے اور جو سینگ لگ کر مر جائے یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کھائیں۔ مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کرلو اور وہ جانور بھی جو تھان پر ذبح کیا جائے اور یہ بھی کہ پاسوں سے قسمت معلوم کرو یہ سب گناہ (کے کام) ہیں آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہو گئے ہیں تو ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرتے رہو (اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ہاں جو شخص بھوک میں ناچار ہو جائے (بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

    ایک اور جگہ ارشاد ہے :

    قُل لاَّ أَجِدُ فِي مَا أُوْحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَی طَاعِمٍ يَطْعَمُہ إِلاَّ أَن يَكُونَ مَيْتَۃ أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَانَّہ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُھلَّ لِغَيْرِ اللّہ بِہ
    کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو
    تو سور کھانا اس لیے حرام ہے کیونکہ اللہ نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ اس پر کلام کی گنجائش ہی نہیں۔ ہاں ہم اس کی کچھ حکمتوں اور وجوہات کا زکر کر سکتے ہیں۔
    سور کے گوشت کی ممانعت نہ صرف قرآن پاک میں بلکہ بائبل میں بھی اسے ممنوع قرار دیا گیا ہے دیکھیے۔leviticus. chp 11, verse8
    اگر ہم سور کا کیمیائی تجزیہ کرتے ہیں تو معلوم ہوگا کہ ان کا گوشت چاہے کسی بھی شکل میں ہو انسانی صحت کے لئے انتہائی مضر ہے۔
    ۔ میڈیکل سائنس کے مطابق سور کے گوشت کے استعمال سے انسانی جسم میں مختلف بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ سور کا جسم بہت سے parasites کے لئے host کا کام بھی انجام بھی انجام دیتا ہے۔
    ۔ اس کے علاوہ سور کے گوشت میں کولیسٹرول، لپڈ اور یورک ایسڈ کی مقدار خطرناک حد تک موجود ہوتی ہے۔
    ۔ سور کے خون کی بائیو کیمسٹری کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ سور کے جسم میں یورک ایسڈ کی کل مقدار کا صرف %2 ہی فضلاء بن کر جسم سے خارج ہوتا ہے جب کہ %98 فیصد خون کا ایک اہم حصہ بن کر موجود رہتا ہے۔
    ۔ اسلام میں نہ صرف سور کے گوشت بلکہ ایسے تمام جانور جو اپنا یا کسی اور جانور کا فضلاء کھاتے ہیں کے گوشت کے استعمال کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

    سائسنی حقیقت

    سائنس نے اسلامی شریعت میں ممنوعہ چیزوں کے بعض اسباب جاننے کی کوشش کی جس کو متبعین شریعت نے خورد بینوں کے انکشاف سے پہلے صدیوں تک عمل کیا ھے۔ ترتیب کے ساتھ مردار، اس سے بکتیریا (کٹاڑو) پروان چڑھتے ھیں ، خون اسکے کٹاڑو تیزی اور کثرت کےساتھ بڑھتے ھیں اور اخیر میں خنزیر (سوّر) جسکے بدن میں تمام جہاں کی بیماریاں اور گندگیاں جمع ھیں ، اور کسی بھی طرح کی صفائی ستھرائی ان کو دور نھیں کر سکتی جیسے کہ ایک پودا (حلوف) نامی ھے جس کے اندر کیڑے بیکتیریا اور ایسے وائرس ھوتے ھیں جن کو وہ انسان اور جانوروں میں منتقل کرتا ھے ۔ اور بعض خنزیرکے ساتھ خاص ھے جیسے
    (TRCHINELLA) اور (Balantidium Dysentery) اور (Taenia Solium) اور (Spiralis)
    ۔ اور بعض کے اندر ایسے بہت سےامراض ھوتے ھیں جو انسان کے درمیان مشترک ھوتے ھیں ۔ اور (فاشیولا)کیڑے کے اندر انفلونزا کے جراثیم ھوتے ھیں ۔ اور
    (ASCARIS) اور پیٹ کے سانپ
    (Fasciolopsis Buski)
    (Pacific Ocean) کا مرض وبائی شکل میں ظاھر ھوتا ھے۔ جیسا کہ محیط ھادی (Balantidiasis) ۔ چین میں بہت زیادہ ھوتے ھیں ۔ اور خنزیر پالنے والوں اور ان سے میل جول رکھنے والوں کے اندر کےایک جزیرے میں خنزیر کے پائخانے کے پھیلانے کےنتیجہ میں ھوا۔ اور یہ مرض مصنوعی طور پر ترقی یافتہ ملکوں میں جہاں جہاں خنزیر پاۓ جاتے ھیں ۔ جبکہ وہ لوگ اس کا دعوی کرتے ھیں کہ اس کی گندگیوں پر جدید ٹکنیک کےذریعہ وہ قابو پانے کی کوشش کرتے ھیں ، اور خاص طور سے جرمنی، فرانس ، فلپائن اور وینژویلامیں بغیر سرٹیفیکیٹ کے اسکے گوشت کو حرام قرار دیتے ھیں اور خنزیر کے پٹھوں کی گوشت کھانے کی صورت میں
    Trichinellosis)
    کا مرض لگ جاتا ھے ۔ جس کی وجہ سے عورت کے معدوں سے آواز نکلنے لگتی ھے اور کیڑے پیدا ھو جاتے ھیں جن کی تعداد دس ھزار ھوتی ھے پھر یہ کیڑے خون کے راستہ سےانسان کےپٹھوں مین منتقل ھوجاتے ھیں اور پھر لگنے والے امراض کی شکل اختبار کر لیتے ھیں البتہ
    (Spiralis)
    کا مرض بیمارخنزیر کے پٹھے کھانے سے لگتا ھے ۔ اور انسان کی آنتوں کے اندر کيڑا پروان چڑھنے لگتا ھے جس کی لمبائی کبھی کبھی سات میٹر ھوتی ھے۔ جس کا کانٹے وار سر آنٹوں کی دیواروں کےاندر اور خون کے دوران کیلئے بڑی دشواری کا سبب بنتا ھے ۔ اور اسکی چار چو سنے والی چونچیں اور ایک گردن ھوتی، ھے جس سے چونچ دار کیڑے وجود میں آتے ھیں جن کا ایک مستقل وجود ھوتا ھے ، جنکی تعداد ھزار تک ھوتی ھے ، اور ھر بار ھزار انڈے پیدا ھوتے ھیں اور انڈوں سے ملوث کھانا کھانے کی صورت میں (Taenia Solium)
    کا مرض لگ جاتا بیں جس سے کیڑے پیدا ھو کر خون میں منتقل ھو جاتے ھیں اور خطرے کا باعث بن جاتے ھیں۔

    سؤر یا خنزیر کے گوشت میں سائنسی و طبی اعتبار سے بےشمار خرابیاں ہیں ۔ جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔------------------------------------1۔سؤر دنیا کے چند غلیظ ترین جانوروں میں سے ایک جانور ہے جو کہ پیشاب و پاخانہ سمیت ہر گندی چیز کھاتا ہے۔ سائنسی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ خوراک کا براہ راست اثر جسم پر ہوتا ہے ۔

    2۔ خنزیر کے گوشت اور چکنائی میں زہریلے مادے جذب کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے اسکے گوشت و چکنائی میں زہریلے مادے عام جانوروں کے گوشت کے مقابلے میں 30 گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ گویا یہ گوشت بقیہ عام گوشت سے 30 گنا زیادہ زہریلا Toxinہوتا ہے۔

    3۔ سور اس قدر زہریلا ہوتا ہے کہ اژ دہے کے ڈسنے سے بھی نہیں مرتا۔ چنانچہ بعض اوقات سؤر فارم کے رکھوالے سؤروں کو اژدھوں کے بلوں کے پاس بھی چھوڑدیتے ہیں تاکہ اژدھے اس علاقے سے نکل جائیں۔

    4۔ عام گوشت کے مقابلے میں خنزیر کے گوشت کے گلنے سڑنے کی رفتار 30 گنا زیادہ ہوتی ہے ۔ یعنی عام گوشت سے بہت جلدی خنزیر سے گوشت میں کیڑے پڑتے ہیں۔ تجربہ کے طور پرچکن یا گائے کے گوشت کا ٹکڑا اور خنزیر کا ٹکڑا کھلی جگہ پر رکھ کر دیکھ لیں کونسے گوشت میں جلد بدبواور کیڑے پڑتے ہیں۔

    5۔ سؤر گندگی و غلاظت میں ساری زندگی گذارتا ہے یعنی اسے غلاظت سے کراہت نہیں ہوتی۔ اسکا گوشت کھانے والے کے اندر بھی یہی خرابی پیدا ہوجاتی ہےسؤر کا گوشت کھانے سے جنسی اشتہا تیزی سے بڑھتی ہے۔ انسان حرام حلال کی تمیز کیے بغیر اس جذبے کی تسکین چاہتا ہے

    6۔ سؤر انتہا درجے کا بے غیرت جانور ہے۔ جنسی تسکین کے لیے نر و مادہ کوئی تمیز نہیں رکھتے۔ اسے کھانے والے معاشرے میں یہ خصوصیت باآسانی دیکھی جاسکتی ہے۔

    امید ہے اگر ہم جدید سائنسی سوچ و فکر کے حامل ذہنوں کو مندرجہ بالا حقائق بتا کر پھر قرآن مجید میں خنزیر کی حرمت کے احکامات بتائیں گے تو یقینا اطمینان قلب و ذہن اور شرح صدر سے ان احکامات کی تعمیل پر آمادگی ہوجائے گی۔ان شاء اللہ العزیز۔
    تحریر :بنیامین مہر See More
     
  10. ‏دسمبر 12، 2017 #10
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    ملحد مقیم علی کے فراڈ در فراڈ در فراڈ در فراڈ۔۔۔ کا جواب !!!

    ________________________________ 9.jpg ___________________

    نئے پڑھنے والے بہن بھائی ظاہر ہے واقف نہیں ہوں گے کہ یہ پوسٹ ملحد مقیم علی کی کس پوسٹ کا جواب ہے ___ یہ جواب در جواب کا سلسلہ کب اور کیسے شروع ہوا ___ میں نے ملحد مقیم علی صاحب کے کون کون سے فریبوں کا پردہ کسی وضاحت سے فاش کیا ___ اور اس کے باوجود ملحد مقیم علی بھائی کس ڈھٹائی سے اب تک... خود کو فاتح عالم ظاہر کرنے کی کوشش میں سرگرداں ہیں ___

    اس سے پہلے کہ نئے پڑھنے والوں کے لیے میں ان پہلوؤں پر روشنی ڈالوں، ملحد مقیم علی بھائی آپ کو ایک compliment دینا چاہوں گی کہ دنیا میں اگر کہیں بے شرمی کا عالمی مقابلہ منعقد ہوا تو آپ گھر بیٹھے ہی اس میں اول آئیں گے۔ پہلی پوسٹ جو آپ "اسلام اور قرآن کی قلابازیاں" کے عنوان سے لے کر آئے، اس کے کمنٹس میں اپنے ساتھ ساتھ ماریہ حیدر اور افضال ثاقب جیسے نامی گرامی ملحدوں کو بھی رسوا کروایا، کیونکہ آپ کے فراڈ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔ تب ماریہ حیدر بناء بتائے اور آپ پیپر کا بہانہ کرکے کھسک لیے اور بے چارے افضال ثاقب کو فرار ہونے سے پہلے اگلے پانچ دس منٹ اکیلے رسوا ہونا پڑا۔ حالانکہ آپ کو بتایا بھی گیا کہ پیپر کی رات کوئی ایسی پوسٹ نہیں لگاتا۔ مسلمان اتنے بھولے بھی نہیں ہیں۔ یہ تو لفافہ دیکھ کر خط کا عنوان سمجھ لیتے ہیں، لیکن آپ نے تو جوتیاں اٹھانے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی اور دوڑ لگا دی۔ دیکھ لیں اس کا نتیجہ۔ ثاقب افضال اور ماریہ حیدر تب سے نایاب ہیں۔

    خیر قارئین، ملحد مقیم علی صاحب کی مذکورہ پوسٹ کے جواب میں، میں نے "ملحدوں کی آزمودہ پھکی سے، خود ملحدوں کے پیٹ خراب۔۔۔" کے عنوان سے ایک جوابی پوسٹ اس لیے لکھ ڈالی، کیونکہ یہ کوئی معمولی پوسٹ نہیں تھی، ملحدوں کے سپہ سالار اعظم ملحد امجد حسین کی کاپی پیسٹ کی ہوئی وہ تحریر تھی، جسے ایک لمبے عرصے سے مختلف فورمز پہ کاپی پیسٹ کرکے عوام الناس کو گمراہ کیا جا رہا تھا۔ جبکہ درحقیقت وہ پوری پوسٹ ہی جھوٹ اور فریب کا مکسچر تھی۔ مکی آیات کو مدنی اور مدنی کو مکی بناکر علمی بددیانتی کے ناقابل تسخیر ریکارڈ قائم کیے گئے تھے۔ میری جوابی پوسٹ کو بددیانتی کے مخالف ہر انسان نے بے حد سراہا، بلکہ اب تک اس پہ likes آنا جاری ہیں۔

    مگر میری توقع کے عین مطابق یوں رنگے ہاتھ پکڑے جانے اور ذلیل و رسوا ہونے کا بھی ملحدین پر چنداں اثر نہ ہوا۔ اور بس کچھ ہی دن منہ چھپا کر بیٹھے رہنے کے بعد ملحد مقیم علی ڈھیٹ بنے "سارہ خان کی پوسٹ کا جواب" کے عنوان سے ایک پوسٹ لے کر تشریف لے آئے۔ ہم علمی لوگ ٹھہرے۔ اوپر سے تنقید کے عاشق اور حسن ظن کے بھی مارے۔ ایک لفظ طنز یا مزاح کا جو کہا ہو۔ تہہ دل سے ملحد مقیم علی بھائی کو ویلکم کیا۔ اور ان کی پوسٹ اپروو ہوتے ہی دوڑ کر پہنچے۔ لیکن یہ کیا؟ ساری خوش فہمیاں، سارا حسن ظن دھڑام سے ٹوٹ کر کرچی کرچی ہوگیا۔ ملحد امجد حسین نے ملحد مقیم علی بھائی کے ہاتھ اس سے بھی بڑے فریب بھیج دیئے تھے، جو اندھے کو بھی صاف نظر آجائیں، ہم آنکھیں بند بھی کرلیتے تو کیا فرق پڑ جاتا۔ موصوف نے اپنا گزشتہ فراڈ یہ کہہ کر cover کرنے کی کوشش کی تھی کہ مکی سورتوں سے مراد مکی سورتیں نہیں۔ اور مدنی سورتوں سے مراد مدنی سورتیں نہیں۔

    کوئی معمولی سا فہم رکھنے والا بھی یہ بات اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ ملحدوں کے علامہ کہلانے والے ملحد امجد حسین اتنی بنیادی بات سے ناواقف ہو ہی نہیں سکتے کہ مکی مدنی سورتوں سے صرف اور صرف ایک ہی مراد لی جاتی ہے۔ امجد حسین نے مذکورہ پوسٹ میں فریب کا ایک جال بچھا رکھا تھا، جس نے آخر ان کے گلے کو آنا ہی تھا، سو آگیا۔ اب قلابازی نہ کھاتے تو اپنے ڈونرز سے جوتے ہی کھاتے۔

    خیر۔ مذکورہ پوسٹ میں میرے کسی سوال کا بھی جواب دینے میں صاحب تحریر مکمل طور پر عاجز نظر آئے۔ ہاں البتہ میری باتوں کو miscode بڑی مہارت سے کیا گیا تھا۔ مجھے لگا کہ ہوسکتا ہے مجھ ہی سے سمجھانے میں کوئی کمی رہ گئی ہوگی جو مانگا آلو تھا اور بن کے آلو کا پراٹھا آگیا ہے، اس لیے نسبتاً اور آسان الفاظ میں "پھکی در پھکی برائے ملحدین۔۔۔" کے عنوان سے جوابی پوسٹ لکھ دی۔ اس عنوان کے ذریعے درپردہ ملحدین کو یہ پیغام دینا بھی مقصود تھا کہ علامہ امجد صاحب ملحدین کو جو پھکی پہ پھکی دیتے جا رہے ہیں، اس سے ملحدین کو ہی جلاب ہو جانے ہیں، علامہ صاحب سے کہو کوئی ڈھنگ کا جواب دے دیں۔ مگر نہ جناب اس بار تو سوال مشرق اور جواب مغرب والا حساب کردیا ملحد مقیم علی صاحب نے۔ اور "سارہ خان کے دوسرے مضمون کا جواب" کے نام سے جو پوسٹ لے کر آئے ہیں اسے بددیانتی کی عظیم ترین مثال کہنا شاید لفظ بددیانتی کے سے ساتھ بھی بددیانتی ہو۔

    موصوف پوسٹ کی ابتداء میں لکھتے ہیں:
    **
    "سارہ کا مکی و مدنی آیات پر ڈٹے رہنا
    اسے کہتے ہیں بھینس کے آگے بین بجانا۔ سارہ کے لیے بات صاف کی تھی کہ اصل ایشو آیات کے مکی مدنی ہونے کا نہیں تھا، بلکہ اصل ایشو پیغمبر کے اس رویے کا تھا کہ جب تک ابتدائی دور میں مسلمان کمزور تھے، اس وقت تک پیغمبر مصالحت اور لااکراہ فی الدین جیسی آیات نازل کرواتے رہے۔ اور جب آخری دور میں طاقت حاصل ہو گئی تو لب و لہجہ بدل گیا اور دھمکیاں اور جبر شروع ہو گیا۔"

    ** **
    جواب: جی ہاں بالکل مقدمہ یہی ہے، جو جھوٹ اور فریب کے سارے ہتھیار استعمال کرکے بھی آپ اب تک سرے سے ثابت ہی نہیں کر پائے۔ جس کا ثبوت ابھی چند لمحوں میں آپ کے سامنے ہوگا۔

    اس سے آگے میری باتوں کو out of context کوڈ کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں:

    ** ** **
    آیت 2:194 :
    سارہ خان پکی بہتان تراشی پر اتری ہوئی ہے اور خامخواہ میں ہم پر 2:194 کے حوالے سے بددیانتی کا الزام لگا رہی ہے۔ یہ ہم نہیں ہیں، بلکہ ابن کثیر ہی ہے جس نے اس آیت کے ذیل میں سب سے پہلے کھل کر لکھا ہے کہ یہ بیعت رضوان کے بعد نازل ہوئی۔ پھر ابن کثیر نے ایک لمبی تفصیل اسکی درج کی ہے۔
    اور پھر بالکل آخر میں اس نے ابن عباس کا قول نقل کیا ہے، لیکن یہ اس قول کی تائید کرنے کے لیے نہیں تھا بلکہ ایک طرح سے ابن عباس کے اس قول کا رد کرنے کے لیے تھا، چنانچہ ابن عباس کا قول نقل کرتے ہیں اس نے ابن جریر اور مجاہد کے ذریعے اس قول کی تردید کر دی۔
    چنانچہ ابن کثیر کی اپنی رائے بہت صاف ہے کہ یہ آیت بیت رضوان کے بعد نازل ہوئی، اور ہم نے ابن کثیر کے اس فیصلے کو ہی ابن کثیر کے نام سے نقل کیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آیت 2:193 :
    پھر سارہ لکھتی ہیں:
    //
    سورہ بقرہ سن 1 یا 2 ہجری میں نازل ہوئی، جس کی آیت 193 کی بناء پر میں نے یہ قیاس کیا تھا جب اس آیت میں پہلی بار جہاد کا حکم نازل ہوا تو مسلمانوں کی تعداد 100 بھی نہ رہی ہو شاید۔
    //
    کیا کمال کی چیز ہیں سارہ بھی۔
    ہم ابن کثیر کا فیصلہ بالکل صحیح نقل کریں تو یہ ہماری بددیانتی ٹہرے، مگر خود سارہ اپنا "قیاس" پیش کریں تو سب حلال۔ تعجب ہے ایسے دوغلے رویوں پر۔
    محترمہ، ہم یہاں آپ کے قیاس سننے نہیں آئے، بلکہ آپ ٹھوس دلیل اور ثبوت سے بات کرنا سیکھیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آیت 2:190 :
    آگے سارہ چیلنج کر رہی ہیں کہ ہم نے آیت 194 کو پچھلی آیات پر منطبق کر کے انہیں بھی صلح حدیبیہ کے بعد کا وقت بنا دیا۔
    پھر وہ آیت 2:190 کے حوالے سے چیلنج کرتی ہیں کہ اس کا وقت ہم ثآبت کریں۔
    ہمیں چیلنج کرنے کی بجائے انہیں چاہیے تھا کہ پہلے خود اپنے قیاسات کی جگہ ٹھوس ثبوت پیش کرتیں کہ آیت 193 اور 190 وغیرہ جنگ بدر سے پہلے 1 یا 2 ہجری میں نازل ہوئی ہیں۔ لیکن اپنی حالت تو یہ ہے کہ خود پر یہ سب کچھ معاف رکھتی ہیں، جبکہ دوسرے لوگ صحیح طریقے سے ریفرنسز سے بات کرنے کے باوجود انکی نظر میں بددیانت ہیں۔
    آیت 190 کے ذیل میں قرطبی کی رائے پڑھ لیجئے جس نے صاف صاف لکھا ہے کہ یہ آیت عمرۃ القضا کے وقت نازل ہوئی۔
    //
    تفسیر قرطبی، آیت (2:190)؛
    نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ کی طرف عمرہ کے لئے نکلے تھے جب مکہ کے قریب حدیبیہ میں اترے ۔ ۔ ۔ حدیبہ ایک کنویں کا نام ہے ، اس کنویں کے نام کی وجہ سے اس جگہ کو بھی حدیبیہ کہا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مشرکوں نے آپ کو بیت اللہ کی طرف سے روکا ۔ آپ ایک مہینہ حدیبیہ میں ٹھہرے رہے پھر مشرکوں نے آپ سے صلح کی کہ آپ اس سال واپس لوٹ جائیں جس طرح آئے ہیں آئندہ سال ان کے لئے تین دن مکہ خالی کردیا جائے کردیا جائے گا اور اس شرط پر صلح کی کہ دس سال ان کے درمیان قتال نہ ہوگا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ طیبہ واپس آگئے ۔ جب اگلا سال آیا تو آپ نے عمرہ القصناء کی تیاری کی ۔ مسلمانوں کو کفار کے دھوکا کا خوف ہوا ۔ مسلمانوں نے حرم میں اور حرمت والے مہینہ میں لڑنا ناپسند کیا تو یہ آیت نازل ہوئی ۔ یعنی تمہارے لئے قتال حلال ہے اگر کفار تم سے قتال کریں ۔ یہ آیت حج کے ذکر اور گھروں کے پیچھے سے آنے کے گزشتہ ذکر کے ساتھ متصل ہے ۔

    ** ** ** **
    جواب: اسے ہی کہتے ہیں کہ "آج اپنے دام میں ہی صیاد آگئے۔" یہ جو اتنا لمبا اقتباس میں نے ملحد مقیم علی کی زیربحث پوسٹ سے کاپی کیا سب سے پہلے اس کا "شان نزول" ملاحظہ کیجیے۔

    میں نے اپنی سب سے پہلی پوسٹ اور اس کے بعد دوسری پوسٹ میں ملحد مقیم علی کے پیش کردہ مقدمے کا رد سورہ الانفال و دیگر سورتوں کے علاوہ سورہ البقرہ کی 190تا193 آیات کے ذریعے کیا تھا۔ میرا دعویٰ یہ تھا کہ جہاد سے متعلق یہ آیات 1 یا 2 ہجری میں نازل ہوئیں، کیونکہ سورہ البقرہ کے نزول کا زمانہ یہی تھا۔ اور اس زمانے میں اسلامی لشکر کی تعداد شاید 100 بھی نہ ہو۔ لہٰذا مقیم علی کا پیش کردہ مقدمہ سراسر خلاف واقعہ ہے کہ جب مسلمان قلیل تھے تو قتال کی آیات نازل نہیں کروائیں۔ اس کے جواب میں ملحد مقیم علی نے البقرہ:194 جو بیعت رضوان کے وقت نازل ہوئی تھیں، اس کا شان نزول بیان کیا اور ایک بار پھر علمی بددیانتی کا ارتکاب کرتے ہوئے البقرہ 190تا194 سبھی کو اس کے ساتھ لپیٹنے کی کوشش کی۔ جوابی پوسٹ میں جب میں نے ثابت کر دیا کہ وہ شان نزول صرف البقرہ:194 کا تھا اور چیلنج کیا کہ البقرہ:190تا193 کا زمانہ 2 ہجری کی بجائے حدیبیہ کا زمانہ ثابت کرکے دکھائیں تو اب اس پوسٹ میں بات کو گول گول گھما کر مقیم علی نے صرف 190 کا زمانہ نزول حدیبیہ کے بعد کا ثابت کرنے کے لیے تفسیر قرطبی کا ایک اقتباس پیش کیا ہے۔ لیکن اس میں بھی ابتدائی حصہ حذف کرکے انہوں نے کتنی بڑی بددیانتی کی ہے، یہ جاننے کے لیے ملاحظہ ہو البقرہ 190 کی تفسیر قرطبی کا عربی متن اور ساتھ ہی ساتھ اس کا ترجمہ:

    وَقَاتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلاَ تَعْتَدُوۤاْ إِنَّ ٱللَّهَ لاَ يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ o
    ترجمہ: اور اللہ کی راہ میں ان سے قتال کرو جو تم سے قتال کرتے ہیں لیکن زیادتی نہ کرنا کیونکہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

    فيه ثلاث مسائل:
    یعنی: اس میں تین مسائل ہیں۔

    الأولى: قوله تعالى: { وَقَاتِلُواْ } هذه الآية أوّل آية نزلت في الأمر بالقتال؛ ولا خلاف في أن القتال كان محظوراً قبل الهجرة
    یعنی:
    پہلا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: { وَقَاتِلُواْ } : اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ ہجرت سے پہلے ان (درج ذیل) ارشادات کی وجہ سے قتال ممنوع تھا۔
    بقوله:
    { ٱدْفَعْ بِٱلَّتِي هِيَ أَحْسَنُ o ترجمہ: دور رہو اس چیز سے جو بہت بہتر ہے } [فصلت: 34]
    وقوله:
    { فَٱعْفُ عَنْهُمْ وَٱصْفَحْ o ترجمہ: معاف کرتے رہو اور درگزر کرو } [المائدة: 13]
    وقوله:
    { وَٱهْجُرْهُمْ هَجْراً جَمِيلاً o ترجمہ: اور ان سے الگ ہوجایئے بڑی خوبصورتی سے } [المزمل: 10]
    وقولِه:
    { لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمصَيْطِرٍ o ترجمہ: آپ ان کو جبر سے منوانے والے تو نہیں ہیں } [الغاسية: 22]

    وما كان مثله مما نزل بمكة. فلما هاجر إلى المدينة أُمِر بالقتال فنزل:
    یعنی:
    اور اس قسم کے دوسرے ارشادات جو مکہ میں نازل ہوئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو آپ کو قتال کا حکم دیا گیا۔ یہ ارشاد نازل ہوا: { وَقَاتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ o ترجمہ: اور اللہ کی راہ میں ان سے قتال کرو جو تم سےقتال کرتے ہیں }

    قاله الربيع بن أنس وغيره. وروي عن أبي بكر الصدّيق أن أوّل آية نزلت في القتال:
    یعنی:
    یہ ربیع بن انس وغیرہ کا قول ہے، جبکہ ابوبکر صدیق سے مروی ہے کہ قتال کے بارے میں پہلی آیت یہ نازل ہوئی: { أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُواْ o ترجمہ: قتال کی اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن سے قتال جاری ہے، کیونکہ وہ مظلوم ہیں } [الحج: 39].

    والأوّل أكثر، وأن آية الإذن إنما نزلت في القتال عامّةً لمن قاتل ولمن لم يقاتل من المشركين؛
    یعنی:
    اور پہلا قول (ربیع بن انس والا) زیادہ ہے۔ اذن والی آیت (الحج39) عام مثال کے بارے میں نازل ہوئی کہ مشرکین سے جو قتال کرے اور جو نہ کرے سب سے قتال کا اذن ہوا۔

    ((((( تفسیر کے اب تک کے ترجمے سے یہ پتا چلتا ہے کہ قرطبی کے نزدیک البقرہ 190 حدیبیہ کے بعد نہیں، بلکہ تب نازل جب حضور علیہ السلام نے مدینے کی طرف ہجرت کی، یعنی ہجرت کے دوران۔ ربیع بن انس وغیرہ کا بھی یہی قول ہے، جو زیادہ لیا گیا ہے۔ جبکہ صدیق اکبر کا قول یہ ہے کہ پہلے الحج 39 نازل ہوئی۔ تو طے یہ ہوا کہ تفسیر کا درج بالا حصہ ملحد مقیم علی نے اسی لیے حذف کیا تھا تاکہ دال آسانی سے گل جائے، مگر یہ بکریاں ہم نے چرائی ہوئی ہیں [​IMG]:) اب آیئے تفسیر میں آگے دیکھیے کیا لکھا ہے)))))

    وذلك أن النبيّ صلى الله عليه وسلم خرج مع أصحابه إلى مكة للعُمْرة، فلما نزل الحُدَيْبِيَة بقُرب مكة ـ والحُدَيْبِيَةُ ٱسم بئر، فسُميَ ذلك الموضع بٱسم تلك البئر ـ فصدّه المشركون عن البيت، وأقام بالحُدَيْبِيَة شهراً، فصالحوه على أن يرجع من عامه ذلك كما جاء؛ على أن تُخْلَى له مكة في العام المستقبل ثلاثة أيام، وصالحوه على ألا يكون بينهم قتال عشر سنين، ورجع إلى المدينة. فلما كان من قابل تجهّز لعُمْرة القضاء، وخاف المسلمون غدر الكفار وكرهوا القتال في الحَرَم وفي الشهر الحرام، فنزلت هذه الآية:

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ کی طرف عمرہ کے لئے نکلے تھے جب مکہ کے قریب حدیبیہ میں اترے۔ حدیبہ ایک کنویں کا نام ہے، اس کنویں کے نام کی وجہ سے اس جگہ کو بھی حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ مشرکوں نے آپ کو بیت اللہ کی طرف سے روکا۔ آپ ایک مہینہ حدیبیہ میں ٹھہرے رہے پھر مشرکوں نے آپ سے صلح کی کہ آپ اس سال واپس لوٹ جائیں جس طرح آئے ہیں آئندہ سال ان کے لیے تین دن مکہ خالی کردیا جائے گا اور اس شرط پر صلح کی کہ دس سال ان کے درمیان قتال نہ ہوگا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ واپس آگئے۔ جب اگلا سال آیا تو آپ نے عمرہ القصناء کی تیاری کی۔ مسلمانوں کو کفار کے غدر کا خوف ہوا۔ مسلمانوں نے حرم میں اور حرمت والے مہینہ میں لڑنا ناپسند کیا تو یہ آیت نازل ہوئی: { أي يحلّ لكم القتال إن قاتلكم الكفار o ترجمہ: یعنی تمہارے لیے قتال حلال ہے اگر کفار تم سے قتال کریں }

    ((((( اب اصل بات سمجھ آئی آپ کو کہ تفسیر کا ابتدائی حصہ حذف کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی مقیم علی کی پوسٹ لکھنے والے کو؟؟ مفسر نے ہجرت کے دوران جس آیت کے نزول کی بات کی، وہ آیت تھی البقرہ 190، جبکہ عمرہ قضا کے موقع پر جو آیت نازل ہوئی اس سے مراد البقرہ 194 تھی۔ ابن کثیر نے البقرہ 194 کا شان نزول یہی لکھا ہے کہ جب حضور علیہ السلام حدیبیہ سے لوٹ آئے، تب یہ آیت نازل ہوئی، یعنی صلح حدیبیہ اور عمرہ قضا کے درمیان، کیونکہ اس کا نسخ سورہ التوبہ:5 اور سورہ التوبہ:36 کو بتایا گیا ہے، جن میں پھر سے حرمت کے مہینوں میں لڑنے کی ممانعت نازل ہوگئی۔ ملاحظہ ہو اسی تفسیر کی اگلی ہی سطر میں اس کا ثبوت )))))

    فالآية متصلة بما سبق من ذكر الحج وإتيان البيوت من ظهورها، فكان عليه السلام يقاتل من قاتله ويَكُفّ عمن كَفّ عنه، حتى نزل { فَٱقْتُلُواْ ٱلْمُشْرِكِينَ } [التوبة: 5] فنسخت هذه الآية؛ قاله جماعة من العلماء. وقال ٱبن زيد والربيع: نسخها
    { وَقَاتِلُواْ ٱلْمُشْرِكِينَ كَآفَّةً } [التوبة: 36]
    یعنی:
    یہ آیت حج کے ذکر اور گھروں کے پیچھے سے آنے کے گزشتہ ذکر کے ساتھ متصلہ ہے۔ (یاد رہے کہ گزشتہ سے پیوستہ نہیں، متصلہ ہے۔) نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے جنگ کرتے تھے جو آپ سے جنگ کرتا تھا اور اس سے جنگ نہیں کرتے تھے جو آپ سے جنگ نہیں کرتا تھا۔ حتیٰ کہ التوبہ: 5 نازل ہوئی۔ پس یہ آیت منسوخ ہوگئی۔ یہ علماء کی جماعت کا قول ہے۔ اور ابن زید و ربیع کہتے ہیں اسے التوبہ: 36 نے منسوخ کیا۔

    اور دلچسپ بات یہ کہ ابن کثیر کی جو تفسیر ملحد مقیم علی بھائی نے اوپر پیش کی، وہ بھی یہی کہتی ہے کہ البقرہ:190 مدینے میں نازل ہوئی: "حضرت ابو العالیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مدینہ شریف میں جہاد کا پہلا حکم یہی نازل ہوا ہے۔"

    امام قرطبی علیہ رحمہ ملحد نہیں تھے مقیم علی صاحب جو البقرہ:190 کی تفسیر کی ابتداء میں خود ہی لکھنے کے بعد کہ یہ آیت ہجرت کے وقت نازل ہوئی، یہ بھی لکھ دیتے کہ یہ حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی۔ لیکن الحمد اللہ میں بھی ایک مسلمان ہوں، اس لیے تفسیر قرطبی و ابن کثیر سے آپ کا رد کرنے کے باوجود بھی یہ دعویٰ نہیں کروں گی کہ سبھی مفسرین نے البقرہ:190 کا زمانہ نزول ہجرت ہی لکھا ہے۔ بعض نے سیدنا صدیق اکبر کا قول بھی لیا ہے، جیسے مفتی تقی عثمانی، لیکن انہوں نے پھر الحج:39 کو مکی لکھا ہے، جو آپ کے مقدمے کے لیے اس سے بھی سنگین موت ہے۔

    بے شک ہر دو طرح کی تفاسیر آپ کے مقدمے کا رد ہیں، لیکن بہرحال ہمارے سامنے آراء بھی چونکہ 2 ہی ہیں، اس لیے انصاف کا تقاضا یہی بنتا ہے کہ کسی ایسی دلیل سے فیصلہ کیا جائے جو ہر لحاظ سے ناقابل تردید ہو۔ اور وہ دلیل ہے غزوہ بدر !!!

    جی ہاں ہم سب جانتے ہیں کہ مکی زندگی میں جہاد کی اجازت نہیں تھی، بلکہ چھوڑ دینے، درگزر کر دینے جیسی تعلیمات موجود تھیں۔ اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ہجرت کے دوسرے سال ہی غزوہ بدر واقع ہوئی۔ اور اس سے پہلے کے سریات کا ذکر بھی ہمارے سامنے ہے۔ لہٰذا اس 1 یا 2 کے عرصے کے اندر اندر ہی جہاد کا حکم کہیں نہ کہیں نازل ہونا ضروری ہے، ورنہ مسلمان قتال پہ آمادہ کیسے ہوتے؟ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ 1 یا 2 ہجری سورہ البقرہ کا ہی سن نزول ہے تو لامحالہ سورہ البقرہ:190 اگر ہجرت کے وقت نازل نہ بھی ہوئی ہوئی تو کم سے کم اس کا سریہ اول سے پہلے ہی نازل ہونا لازم اور صرف لازم ہی ہے۔ اس لیے جیسا کہ ربیع بن انس نے فرمایا، ہمیں بھی مان لینا چاہیے کہ البقرہ:190 ہی وہ آیت ہے۔ امام قرطبی بھی اسے ہی زیادہ کہتے ہیں۔ اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا، اب بھی کہہ رہی ہوں کہ اس وقت اسلامی لشکر کی تعداد 100 بھی نہیں ہوگی شاید۔

    پس ان ناقابل تردید عقلی و نقلی شہادتوں کے سامنے آجانے کے بعد آپ کا قائم کردہ یہ مقدمہ (کہ ابتدائی دور میں مسلمان کمزور تھے، اس وقت تک پیغمبر مصالحت اور لااکراہ فی الدین جیسی آیات نازل کرواتے رہے۔ اور جب آخری دور میں طاقت حاصل ہو گئی تو لب و لہجہ بدل گیا اور دھمکیاں اور جبر شروع ہو گیا) ایک بار پھر سراسر جھوٹ ثابت ہوتا ہے۔ دنیا کی کسی بھی عدالت میں اس قدر فریب پر مبنی دعویٰ اس سے آگے نہیں ٹھہر سکتا۔ امید ہے اب آپ گٹر گروپ میں جاکر ایسی کوئی پوسٹ نہیں لگائیں گے کہ پیپرز کے بعد کوئی مسلمان آپ کے سامنے ٹک نہیں سکا۔ اس پوسٹ میں جو کچھ میں نے لکھا، یہ وہی سب ہے جو میں آپ کی جوابی پوسٹ کے کمنٹس میں آپ سے ہزار بار کہتی رہی اور آپ ٹرولنگ کرتے رہے۔

    باقی مقیم علی کی تمام پوسٹس پہ مسلمانوں نے جو ان کی درگت بنائی اور جس طرح یہ ٹرولنگ کرتے رہے، مقیم علی بھائی کی تمام پوسٹس کے درج ذیل لنکس پر جاکر کمنٹس میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر لنک کام نہ کرے تو سمجھ لیجیے گا کہ آپ آپریشن ارتقائے فہم و دانش کے ممبر نہیں ہیں۔ گروپ جوائن کرلیجیے گا۔ لنک کام کرنے لگیں گے:

    https://m.facebook.com/groups/186560831534965?view=permalink&id=598624796995231&ref=bookmarks
    https://m.facebook.com/groups/186560831534965?view=permalink&id=600082256849485
    https://m.facebook.com/groups/186560831534965?view=permalink&id=600567406800970&ref=bookmarks
    علاوہ ازیں میری گزشتہ جوابی پوسٹ کا ملحد مقیم علی بھائی کی ان سطور میں زیربحث پوسٹ میں کہیں کوئی جواب موجود نہیں۔ ہمیشہ کی طرح میری باتوں کو out of context کوڈ کرکے اپنا الو سیدھا کیا گیا ہے۔ بطور ثبوت اس سلسلے میں میری لکھی ہوئی تمام پوسٹس درج ذیل لنکس پر دیکھی جاسکتی ہیں:

    https://m.facebook.com/groups/186560831534965?view=permalink&id=598968800294164&ref=content_filter
    https://m.facebook.com/groups/186560831534965?view=permalink&id=600447766812934&ref=bookmarks
    و آخر دعونا ان الحمد اللہ رب العالمین !!!
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں