1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ملحد ضدی کیوں ہوتا ہے؟

'تازہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو طلحہ سندھی, ‏اکتوبر 18، 2018۔

  1. ‏اکتوبر 18، 2018 #1
    ابو طلحہ سندھی

    ابو طلحہ سندھی مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2018
    پیغامات:
    4
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    ملحد ضدی کیوں ہوتا ہے
    تحریر........... ابو طلحہ سندھی
    ملحدین سے بحث و مباحثہ کرنے والے اکثر مسلمان بھائیوں کا تجربہ ہوگا کہ ملحد کے سامنے چاھے کتنے ہی دلائل پیش کئے جائیں سارے بے سود ہو جاتے ہیں اور کبھی بھی حق بات کو تسلیم نہیں کرتا جب وہ دلائل کے سامنے عاجز ہو جاتا ہے تو گستاخیاں شروع کر دیتا ہے
    آخر اسکی وجہ کیا ہے؟
    اسکو جاننے سے پہلے ھدایت کی اقسام سماعت فرمائیے
    بنیادی طور پر ھدایت کی چار قسمیں بنتی ہیں
    1.الہامی: جو بغیر کسی کے بتائے خود بخود حاصل ہو
    جیسے چھوٹے بچے کا پستان چوسنا اور رورو کر ماں کو اپنی طرف مائل کرنا
    2.احساسی: جو حواس درست ہونے کے بعد حاصل ہو
    جیسے بچے کا ہوش سنبھالنے کے بعد اچھی اور بری چیزوں میں فرق کرنا
    3.عقلی: جو عقل کی مدد سے حاصل ہو اسے ہدایت نظری بھی کہتے ہیں
    یہ عقلی دلائل اور تجربات سے حاصل ہوتی ہے
    4:الٰہیہ: جو اللہ تعالیٰ کے خاص کرم اور پیغمبروں کی مدد سے حاصل ہو
    یعنی جن چیزوں کو ہم عقل سے معلوم نہیں کرسکتے یہ صرف انبیاء کرام کی رھبری سے حاصل ہوتی ہیں
    جیسے وجود باری تعالیٰ،قبر وحشر،جنت و دوزخ وغیرہ کے معاملات
    ان چار قسموں میں سے یہ چوتھی قسم قطعی اور یقینی ہے اس میں غلطی کا احتمال نہیں ہے
    ملحدین صرف تیسری قسم یعنی عقل کے ذریعے حق بات تک پہنچنے کی کوشش کرتےہیں جو کہ حق بات تک پہنچنے کا ذریعہ تو ضرور ہےلیکن حق بات تک پنہنچے کو مستلزم نہیں
    کیونکہ عقل بعض اوقات انسان کو درست نتیجے تک پہنچا دیتی ہے اور بعض اوقات بندہ اسکے ذریعے غلط نظریے تک پہنچتا ہے اگر اسکے ذریعے حاصل ہونے والا ہر نتیجہ قطعی اور یقینی ہوتا تو کبھی بھی اسکے ذریعے غلط نتیجہ اخذ نہ ہوتا جبکہ معاملہ ایسا نہیں ہے اسکے ذریعے بہت سی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں اسکی صرف ایک مثال آپکے سامنے پیش کرتا ہوں
    قدیم زمانہ سے لوگوں کا ابتدائی نظریہ یہی تھا کہ زمین ساکن ہے اور سورج چاند وغیرہ سب زمین کے گرد گردش کرتے ہیں جیساکہ عموماً نظر آتاہے۔چناچہ تقریباً 350 سال قبل مسیح میں یونان کے فلاسفر ارسطو نے یہی نظریہ پیش کیاتھا کہ زمین ساکن ہے اور سورج سمیت تمام سیارے اس کے گرد حرکت کرتے ہیں ۔ پھر 250 سال قبل مسیح میں یونان کے ایک اور فلاسفر اور ہیئت دان فیثاغورث نے ارسطو کے نظریے کی مخالفت کرتے ہوئے یہ نظریہ پیش کیا کہ سورج ساکن ہے اور ہماری زمین اس کے گرد گھوم رہی ہے اور یہی پہلاشخص تھا کہ جس نے سورج کے ساکن ہونے کا نظریہ پیش کیا تھامگر یہ نظریہ زیادہ مقبول نہ ہوا اور لوگوں کے ذہنوں پر ارسطو کا نظریہ چھایارہا۔
    بعد ازں140 ء میں یونان کے فلاسفر بطلیموس نے علم ہیئت کے متعلق وہی پہلانظریہ پیش کیا کہ حقیقت میں ہماری زمین ساکن ہے اور سورج اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ یہی وہی نظریہ تھا جو ارسطو نے پیش کیا تھا۔ ارسطو اور بطلیموس کا پیش کردہ یہ نظریہ 1800 سال تک دنیا بھر میں مشہور ومقبول رہا۔ بالآخر یورپ کے ایک ہیئت دان کوپرنیکس نے سولہویں صدی میں یہ نظریہ پیش کیا کہ سورج متحرک نہیں بلکہ ساکن ہے اور ہماری زمین اپنے محور کے گرد بھی گھومتی ہے اور سورج کے گرد بھی سال بھر میں ایک چکر لگاتی ہے لیکن کوپر نیکس کے بعد ڈنمارک کے ہیئت دان ٹیکو براہی (1601۔ 1546ء)نے کوپر نیکس کے نظریے کو رد کر دیا اور تھوڑی سی ترمیم کے بعد اسی پہلے بطلیموسی نظریے کو ہی صحیح قرار دیا۔ جس کے مطابق زمین ساکن اور سورج نیز دوسرے تمام سیارے اس کے گرد حرکت کر رہے ہیں۔
    بعد ازں کئی ہیئت دانوں نے اس نظریہ کی تائیدجاری رکھی تاآنکہ 1915 ء میں مشہور سائنسدان البرٹ آئن سٹائن نے نظریہ اضافیت پیش کیا۔اس تھیوری کی رو سے تمام اجرام ِسماوی خواہ وہ ستارے ہوں یا سیارے وہ گردش میں ہیں۔چناچہ آج جدید نظریہ یہی ہے کہ سورج متحرک ہے اور آٹھ سیارے اس کے گرد محو گردش ہیں اور ہمارا سورج اپنے پورے خاندان (نظام شمسی )سمیت ملکی کہکشاں کے مرکزکے گرد گھوم رہاہے ..
    غور کیجئے صرف ایک نظریے میں کتنا اختلاف واقع ہوا،
    اس سے پتہ چلا کہ عقل کے ذریعے حاصل ہونے والا نظریہ قطعی، یقینی اور ھمیشہ درست نہیں ہوتا کبھی درست ہوتا ہے کبھی غلط..
    سب سے پہلے شیطان نے عقل کے استدلال کو قطعی اور یقینی سمجھا اور اس پر ضد کی تو مردود ہوگیا
    چناچہ اسے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو کہنے لگا
    قَالَ اَنَا خَیۡرٌ مِّنْہُ ؕ خَلَقْتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ.
    ترجمہ:بولا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آ گ سے بنایا اور اسے (یعنی آدم کو)مٹی سے پیدا کیا،
    اس نے عقل کے ذریعے یہ استدلال کیا کہ میں آگ سے بنا ہوں اور حضرت آدم مٹی سے اس لئے میں افضل ہوں
    یعنی اس نے آگ کو مٹی سے افضل جانا حالانکہ اسکا یہ استدلال بہت سی وجوہات کی بناء پر غلط تھا
    مثلاً
    ١۔مٹی کی طبیعت میں سکون اور ٹھہراؤہے جبکہ آگ کی طبیعت میں حرکت اور اشتعال ہے۔
    ٢۔ آگ کا مزاج فساداور تباہی وہلاکت ہے جبکہ مٹی کا مزاج ایسا نہیں۔
    ٣۔ مٹی میں اور مٹی سے انسانوں اور حیوانوں کی خوراک وپوشاک کا انتظام ہوتا ہے۔ان کے مکانات اور ضرورت کے سامان اسی سے تیار ہوتے ہیں جبکہ آگ سے ایسا کچھ نہیں ہوتا۔
    ٤۔ مٹی انسان وحیوان کے لئے ضروری ہے، کوئی اس سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔ جبکہ آگ کی ضرورت حیوانات کو تو بالکل نہیں اور انسان بھی کئی مہینوں اور کئی دنوں تک اس سے بے نیاز رہ سکتا ہے۔
    ٥۔ مٹی میں کوئی دانہ ڈالا جائے تو مٹی کی بر کت یہ ہے کہ وہ دانہ کئی گنا ہو کر واپس ملتا ہے۔ جبکہ آگ میں جتنے دانے ڈالے جائیں آگ سب کو کھالیتی ہے۔ بڑھانا تو دور کی بات ہے خوداس میں سے کچھ باقی نہیں چھوڑتی۔
    ٦۔ مٹی از خود قائم ہے۔ وہ اپنے قیام کے لئے کسی دو سری چیز کی محتاج نہیں۔ جبکہ آگ کو قائم رہنے کے لئے کو ئی جگہ چا ہئے۔
    ٧۔ آگ مٹی کی محتاج ہے اور مٹی آگ کی محتاج نہیں کیونکہ آگ جس جگہ رکھی جا ئے گی وہ یا تو مٹی ہو گی یا مٹی سے بنی ہوئی کوئی چیز ہو گی۔
    ۸۔ مٹی میں خیر وبرکت پوشیدہ ہے جتنا اسے الٹ پلٹ کریں گے اور اس کی کھدائی کریں گی اس کی خیر وبرکت ظاہر ہو گی۔اس کے بر خلاف آگ میں اگرچہ تھو ڑاسا نفع ہے لیکن اس میں شر ومصیبت پوشیدہ ہے۔
    ۹۔ اللہ تعالی نے زمین میں بہت سے منافع رکھے ہیں۔نہریں، چشمے، باغات، وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ ایسی کو ئی چیز آگ میں نہیں۔
    ۱۰۔ مٹی آگ پر غالب آتی ہے اور اسے بجھادیتی ہے لیکن آگ مٹی پر غالب نہیں ہے۔
    اتنا بڑا فرق ہونے کے باوجود بھی ابلیس نے عقل کے ذریعے یہ فیصلہ کر لیا کہ آگ مٹی سے افضل ہے حالانکہ اس کا یہ قیاس فاسد ،اس کی یہ رائے باطل اور اس کی یہ سوچ غلط تھی کیو نکہ یہ قیاس اللہ کے حکم کے مقابلہ میں تھا۔جب اللہ کا صریح حکم موجود ہو اس وقت قیاس کرنا اور اللہ کے حکم کے آگے اپنی عقل کے گھوڑے دوڑانا انتہائی حماقت اور نادانی کی بات ہے۔
    بھرحال ابلیس اس برے انجام تک اپنے فاسد قیاس اور عقل کی وجہ سے پہنچا۔
    آجکل کے ملحدین کا حال بھی یہی ہے کہ وہ اپنے عقلی قیاس اور عقلی استدلال کو قطعی اور یقینی اور سو فیصد درست سمجھتے ہیں جسکی وجہ سے وہ ضدی ہوتے ہیں اور کوئی بات ماننے کو تیار نہیں ہوتے.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں