1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

((ملکی ترقی میں رکاوٹ (رشوت اور قانون شکنی‘ ذمہ دار کون؟؟))(ظفر اقبال ظفر)

'نفسیاتی و اجتماعی مشکلات' میں موضوعات آغاز کردہ از ظفر اقبال, ‏فروری 04، 2016۔

  1. ‏فروری 04، 2016 #1
    ظفر اقبال

    ظفر اقبال رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 22، 2015
    پیغامات:
    238
    موصول شکریہ جات:
    18
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    (((ظفر اقبال ظفر)))
    (((ملکی ترقی میں رکاوٹ (رشوت اور قانون شکنی‘ ذمہ دار کون؟؟)))
    معزز قارئین کرام:راقم کو ایک سفرپہ جانے کا اتفاق ہوا سفر تقریباً دو گھنٹوں پہ مشتمل تھا آلہ باد سے لاہور تک ’راقم اے سی کوچ میں بیٹھا کہ کوچ اپنی منزل کی طرف دوڑتی ہوئی جا رہی تھی سفر کچھ اس طرح تھا کہ کوچ قصور شہر میں داخل ہونے کی بجائے بائی پاس سے ہوتی ہوئی جب ریلوے پھاٹک پر پہنچی تو وہاں ٹریفک پولیس والی گاڑی کھڑی تھی کہ اچانک ایک پولیس والے نے بس رکوائی اور چلان کاپی نکال کر چلان کاٹنے لگا ڈرائیور اور کنڈیکٹر نے منت سماجت کی مگر وہ نہ مانا کنڈیکٹر نے ایک سو(100) روپیہ نکالا اور پولیس والے کو دے دیا اتنی دیر تھی کہ وہ سائیڈ پہ ہوا اور بس پھر اپنی منزل کی طرف چل نکلی ۔راقم نے کہا کہ کیا مسئلہ بغیر کسی وجہ کے انہوں نے 100 روپیہ کیوں لیا..؟قریب بیٹھے ایک (محمد اقبال نامی )شخص جو مسافر تھا اس نے بتایا ’’کہ بھائی قصور کا (ٹریفک لا ء)ہے کہ مہینے کا 100 روپہ دو اور پورا مہینہ کوئی چلان نہیں ۔یہ سن کر فوری راقم کے ذہن میں یہ بات گردش کرنے لگی کہ جس ملک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی یہ صورت حال ہو کہ وہاں قانون کے رکھوالوں کے ہاتھوں ہی قانون شکنی اس طرح ہو کہ 100 روپیہ دے کر پورہ مہینہ چاہیے قانون کی دہجیاں ہی کیوں نہ بکھیر دیں ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہو گا تو وہا ملک کیا ترقی کرے گا اور عام پبلک وہاں قانون شکنی کس طرح نہ کرے گی ۔یہ اس محکمے کی ذلت نہیں تو اور کیا ہے کہ اوپرآفیسر سے لے کرعام سپاہی تک سرعام رشوت لینے میں کوئی عار محسوس نہیں کی جاتی اور اسی طرح حرام کما کر بچوں کی پرورش کی جاتی ہو جو قوم اور ملک حرام پہ لگا ہو تو اللہ تعالیٰ کا عذاب نہیں آئے گا تو اور کیا ہوگا وہاں زلزلے نہ آئیں تو اور کیا ہوگا ؟خدا راہ کچھ تو شرم کرو اپنے اور لوگوں کے حال پر ترس کھاؤں اور مل جھل کر ملک کی رہی سہی بسات کو یوں نیلام نہ کرو اور ملکی ترقی کی حالیہ جدو جہد میں حکومت کا ساتھ دو ورنہ زوال اور ذلت و رسوائی تمہارا مقدر بن جائے گی ۔
    قارئین کرام ذرا آگے چلیے :اسی طرح دوران سفر کوچ والے نے دو سٹوڈنٹ جو کہ قصور ( میں سٹوڈنٹ گردی )کے قانون کے مطابق ہر بس والے کے لیے فری بیٹھانا فرض ہیں بیٹھا لیے اور آگے چل کر غالباً’’ بگیانہ‘‘گاؤں کے سٹوڈنٹ نے بس کو رکنے کا اشارہ دیا تو بس رکی اور سٹوڈنٹ نے زبردستی سوار ہونا چاہاں مگر کنڈیکٹر اور ڈرائیور نے نیچے اتر کر سمجھانے کی کوشش کی ’’کہ تین سٹوڈنٹ ہم نے پہلے بیٹھائے ہیں‘ مگر سٹوڈنٹ نے ایک نہ سنی اور دو سٹوڈنٹ اور بس میں داخل ہو گے ۔باقیوں نے کہا ہم سے کمپرو مائز کرو گے تو ٹھیک ورنہ کل سے گاڑی نہیں گزرنے دیں گے ۔اس طرح یہ سٹوڈنٹ گردی لاریوں والوں کے لیے درد سر بنی ہوئی ہے اور حد یہ ہے کہ ان لوگوں کو قانون سے بالا تر سمجھا جاتا ہے ’’کہ ان کا جب دل کرے جس مرضی بس والے کو آگے جانے سے روک دیں اور ان کی پٹائی کریں قانون سے یہ لوگ مستثنی ٰ ہیں جس ملک کے تعلیم یافتہ اور تعلیم حاصل کرنے والے لوگوں کا یہ کریکٹر ہو وہاں ان سے مستقبل میں خیر کی کیا توقع کی جا سکتی ہے ؟ یہ تو صرف دو محکموں کے حاملین کا سرسری سا جائزہ لیا ہے باقیوں کا اندازہ لگائیں اور قانون کے رکھوالوں کی بے حسی کا جائزہ لیں اور بتلائیں جس ملک کے قانون کے رکھوالوں کی یہ حالت ہو کہ بغیر وجہ کے ٹریفک والے بس کو روکیں رشوت لینے کے لیے اور بس والا بس دوڑا دے اور ٹریفک پولیس والے 5 سے 6 کلو میٹر پیچھے گاڑی دوڑائیں اور بس روک کر چلان گاٹنے لگیں مگر کافی بحث و مباحثہ کے بعد 100 روپیہ لے کر واپس چلے جائیں وہاں ملک کیا خاک ترقی کرے گا اور یہ سب کچھ آفیسرو کی سرپرستی میں ہو تو اس محکمے کی کیا وقعت اور کیا عزت رہ جاتی ہے یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے اور ان کو روکنے والا کون ہے؟؟ وزیر اعلیٰ میا ںمحمد شہباز شریف صاحب زرا غور کر یں آپ اپنی ترقی پسندانہ کارویوں کو دیکھیں اور آپ بتلائیں تمہاری کاوش اور سہانے خوابوں کو کس طرح کرچی کرچی کیا جا رہا ہے اور اس سارے بیگاڑ کا ذمہ دار کون ہے .....؟؟؟
    ظفر اقبال ظفر ( )
     
    Last edited: ‏جنوری 25، 2017
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں