1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مندرجہ بالا نصوص کے نتائج۔ سابق شیعہ مجتہد کی زبانی۔ للہ ثم للتاریخ

'سلفیت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد آصف مغل, ‏ستمبر 18، 2013۔

  1. ‏ستمبر 18، 2013 #1
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    بہرام
    متلاشی
    ہم نے جو بہت زیادہ نصوص میں سے چند نقل کی ہیں ان سے درج ذیل نتائج نکلتے ہیں۔


    :1 امیر المؤمنین اور ان کی اولاد نے کوفہ کے شیعوں کو ان کے دھوکے، فریب اور ان کو تنہا چھوڑ دینے پر خوب ڈانٹا اور ملامت کی ہے۔

    :2 اہل کوفہ کا اہل بیت کی مدد نہ کرنا اور ان کو دھوکہ دینا ہی ان کے خون بہانے اور ان کی حرمتوں کو پامال کرنے کا سبب بنا۔

    :3 اہل بیت اپنے شیعوں کو ہی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے قاتل سمجھتے تھے۔ اور
    ان میں سے ایک نے سیدہ فاطمہ صغرٰی کو جواب دیتے ہوئے
    اس بات کا اعترا ف بھی کیا کہ: ہاں، ہم نے ہی علی اور ان کے بیٹوں کو قتل کیا اور ان کی عورتوں کو اسیر کیا ہے۔

    :4 اہل بیت نے اپنے شیعہ کو بد دعائیں دی ہیں
    اور ان کو
    اس امت کے طواغیت،
    مسلم مجاہدوں سے پیچھے رہنے والے
    اور کتاب کو پھینکنے والوں سے متصف کیا ہے۔
    اس پر مزید یہ بھی کہا کہ:
    ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔

    اسی لئے وہ ابو عبد اللہ رحمہ اللہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ :
    ہمیں ایسے برے القاب دیئے گئے ہیں کہ انہوں نے ہماری پیٹھوں کو بوجھل کر دیا ہے، ان سے ہمارے دل مردہ ہو چکے ہیں اور اس کی بنا پر حکمرانوں نے ہمارے خون حلال قرار دے رکھے ہیں، جیسا کہ فقہاء نے یہ حدیث بیان کی ہے۔
    تو
    ابوعبداللہ رحمہ اللہ نے کہا کہ: کیا تمہاری مراد رافضی کے لقب سے ہے؟
    میں نے کہا کہ :جی ہاں۔
    آپ نے فرمایا: نہیں،
    اللہ کی قسم! تمہارا یہ نام انہوں نے نہیں رکھا
    بلکہ تمہارا یہ نام تو اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔

    (روضۃ الکافی،34/5)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں