1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

موجودہ مقلدین من مرضی کے مسلمان ہیں !!!!

'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ کشمیری, ‏اکتوبر 21، 2012۔

  1. ‏اکتوبر 21، 2012 #1
    عبداللہ کشمیری

    عبداللہ کشمیری مشہور رکن
    جگہ:
    سرینگر کشمیر
    شمولیت:
    ‏جولائی 08، 2012
    پیغامات:
    567
    موصول شکریہ جات:
    1,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    186

    موجودہ مختلف رخی مسلمان ! اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو موجودہ مقلدین میلاد نبی ﷺ کی مناتے ہے یہی لوگ میلاد عیسی علیہ السلام جس کا تذکرہ قرآن میں بھی موجود ہیں ۔ لیکن پھر بھی میلاد عیسی علیہ السلام نہیں مناتے کیوں ؟ اسی طرح کہتے ہے ہم یہ عرس اللہ کے ولیوں کا کار خیر سمجھ کر مناتے ہیں اگر واقعی عرس کوئی کار خیر عمل ہیں تو یہ لوگ نبیوں اور صحابہ اور ائمہ اربعہ کا عرس کیوں نہیں مناتے ؟
    ثابت ہوا مذکورہ اعمال شرعی نہیں بلکہ من گھڈت ہے اسی طرح ائمہ میں سے کسی کی بھی تقلید نہیں کی جاتی ہے۔ بلکہ برائے نام ائمہ کو درمان میں لاکر ان کی تقلید کا دم بھرتے ہے یعنی اعتقادا مقلد ہیں اور عملا غیر مقلد ۔
    نیز یہ مقلدین ایک طرف ائمہ اربعہ کو برحق کہتے ہیں اور تقلید صرف امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی کرتے ہیں تقلید کو فرض اور نجات کا ضریعہ بتاتے ہیں ۔ اور گیارہویں شریف شیخ عبدالقادر رحمہ اللہ کی کرتے ہیں اور دستگیر بھی کہتے ہیں لیکن پیر کے عملی طور طریقہ کے منکر ہے ۔ مثلا نماز میں رکوع وغیرہ کا رفع یدین کا یہ کہہ کر انکار کردیتے ہے کی پیر صاحب حنبلی طریقہ پر نماز پڈھتے تھے تو ہم حنفی ہیں ۔
    تو پھر گیارہویں بھی حنبلیوں کو دینی چاہئے حنفی کیوں دیتے ہے ؟ اسی طرح مقلد بنتے امام ابو حنیفہ کے اور مسلک رائج کرتے ہے مولوی احمد رضا بریلوی کا مسجدوں میں مولوی احمد رضا پر درود و سلام بھیجے جا رہے ہیں ۔
    اسی طرح موجودہ دیوبندیہ حکیم الامت اشرف علی تھانوی کو لکھتے ہے یہاں بھی کئی سوال پیدا ہوتے ہیں اب سوال یہ ہے کہ اشرف علی تھانوی کس امت کے حکیم تھے اگر کہا جائے کہ امت محمدیہ کے حکیم تھے تو پھر آیا پوری امت محدیہ کے حکیم تھے یا بعض کے ؟ اگر پوری امت محمدیہ کے حکیم تھے تو یہ ہو نہیں سکتا کیونکہ امت محمدیہ کے بیشمار لوگ اشرف علی تھانوی کے پیدا ہونے سے پہلے گزر گئے ۔ اگر کہا جائے اشرف علی تھانوی کے زمانے سے بعد کی امت محمدیہ مراد لی جائے تو یہ بھی نا ممکن ہے کیونکہ بہت سے ممالک ابھی بھی اشرف علی تھانوی کا نام نہیں جانتے تو ان امتیوں کا حکیم اشرف علی تھانوی کو کیسے متصور کیا جائے گا۔ بس ثابت ہوا کہ وہ امت محمدیہ کے علاوہ دیوبندیوں میں سے کوئی امت ہوگی جس کے حکیم اشرف علی ٹھانوی ہوں گے ۔ حکیم الامت جناب محمد ﷺ ہے قرآن گواہ ہے کہ محمد ﷺ نے امت کو کتاب
    حکمت سکھائی ۔ لیکن افسوس دیوبند نے اس مرتبہ کے قابل بھی اشرف علی تھانوی کو سمجھا ۔( نعوزباللہ ) اسی طرح دیوبندی احمد رضا کو اعلیٰ حضرت نہیں مانتے اس لئے کہ انہونے اپنا اعلیٰ حضرت امداد اللہ محاجر مکی کو بنایا ہوا ہیں ، دیکھئے فضائل اعمال نامی کتاب باب فضائل ذکر صفہ نمر ۳۰ میں لکھ رکھا ہے ، صرف بریلویوں کی طرح زبانی چرچا نہیں کرتے پھرتے یعنی اخفارکھا ہوا ہے بھلا پھر دیوبندی بریلویوں کے احمد رضا کو اعلیٰ حضرت کیوں مان لیں ۔ اسی طرح جماعت اسلامی والوں نے جب دیکھا کہ بریلویوں اور دیوبندیوں نے اپنا اپنا اعلیٰ حضرت بنا لیا تو ہم کیا کریں اور سوچا ہمیں ان سے بھی آگے بڈھنا چاہئے ۔ چناچہ انہونے مولوی مودودی صاٖحب کو ابوالاعلیٰ مودودی تحریر کردیا ۔
    الغرض کہ ہر فرقہ اپنے اپنے منتخب شدہ بزرگوں کو ہی اونچا اور دوسرے فرقہ کے بزرگوں کو نیچا دکھانے کے چکر میں ہے ، واقعہ ہی اگر کوئی اونچ نیچ کا چکر ہے تو پھر یہ موجودہ فرقے الیکشن ہی کیوں نہیں کروالیتے کہ معلوم ہوجائے کہ کس فرقے کا اعلیٰ حضرت کامیاب ہوتا ہے ۔ بہتر یہی تھا کہ سب فرقے مل کر صرف اور صرف اپنا اعلیٰ حضرت جناب محمد ﷺ جو اشرف المخلوقات میں سے اعلیٰ ہے ان کو اور ان کے نام کو اعلیٰ حضرت مان لیتے تو یہ جھگڈا ہی ختم ہوجاتا ، سب فرقوں میں اتحاد ہوجاتا اور پھر کتنے ستم کی بات ہے یہ لوگ اپنی کتابوں میں جناب محمد ﷺ کو اعلیٰ حضرت کے الفاظ سے تحریر نہیں کرتے ۔


    من مرضی کی چند جھلکیاں اور بھی پڈھئے ۔
    مثلا ، وضو کی پاکی حاصل کرنے کے متعلق حنفیہ مقلدین نیت کو سنت کا درجہ دئیے بیٹھے ہیں ۔ دوسری طرف اسی نیت کو غصل کی پاکی حاصل کرنے کے لئے سنت کے درجہ سے اٹھا کر فرض کے درجے میں داخل کئے بیٹھے یے ۔ اسی طرح جمعہ کے اذان ثانی جو کہ حکم عثمانی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے اس کو مضبوطی سے پکڈے بیٹھے ہے ۔ تو دوسری طرف سحری کی اذان جو حکم محمد ﷺ ہے اس کے منکر بنے بیٹھے ہے ۔
    اسی طرح ۲۰ رقعت تراویح جیسے عمل کو سنت سمجھ کر مضبوطی سے پکڈے بیٹھے ہے اور دوسری طرف میراث حکم الٰہی جیسے اہم فرض کے تارک بنے بیٹھے ہیں ۔

    الغرض یہ لوگ نہ شریعت پر چلتے ہے اور نہ ائمہ کے تریقہ کے مطابق عمل کرتے ہے اگر غور کیا جائے تو یہ مقلدین لوگ صرف اور صرف من مرضی کے لوگ ہیں !!!!
     
  2. ‏اکتوبر 22، 2012 #2
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ تحریر پڑھ کر بے ساختہ قہقہہ نکل پڑا۔خصوصا صاحب تحریر نے مولانا اشرف علی تھانوی کے تعلق سے حکیم الامت ہونے کے تعلق سے جوسوال اٹھائے ہیں وہ توبہت کمال کے ہیں۔
    ویسے امام غزالی کو حجۃ الاسلام کہاجاتاہے۔اس پر بھی یہی سارے اعتراضات ہوسکتے ہیں۔ ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام کہاجاتاہے اس پر بھی یہ سارے اعتراضات منطبق ہوسکتے ہیں۔
     
  3. ‏اکتوبر 22، 2012 #3
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    ارے بھائیو یہ مقلد اور غیر مقلد بھی کوئی شرعی اصطلاح ہے جس میں امت کو الجھایا جارھا ہے؟
    میری سمجھ کے اعتبار سے مقلد وہ جو شریعت پر عمل کرے اور جو عمل نہ کرے وہ غیر مقلد ،تمام صحابہ کرام مقلد تھے اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال پر عمل کرتے تھے اس طرح سے یہ علم منتقل ہوتے ہوتے ہم تک پہونچا وقت اور ضروت کے تحت موجودہ تقاضوں کو قرآن کی سنت حل کرنا یہی اسلام کی وسعت ہمہ گیری کا ثبوت ہے اب نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو ہے نہیں جوعصری کی تقاضوں کو حل فرمائیں ۔اور سارے مسلمان عالم بھی نہیں یا عربی داں نہیں اور اگر عربی داں بھی ہوں تو سب کی فہم و فراست بھی ایک جیسی نہیں حتیٰ کہ یہ امتیازصحابہ کرام میں بھی تھا صحابہ کرام بھی ایک دوسرے کے تعامل کے بارے میں دریافت فرمایا کرتے تھے کی اس بابت فلاں صحابی کا عمل کیا تھا ۔اس وقت امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ بھی صحابہ کرام میں موجود ہوا کرتے تھے جو ڈائریکٹ صحابہ کرام کو اعمال و افعال النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آگاہ فرمایا کرتے یقین نہیں آتا تو اسلامی تاریخ کامطالعہ فرمالیں اس کے بعد جہا لت کے اندھیروں میں ائمہ اربعہ پیدا ہوئے اور انہوں نے مسلما نوں کو گمراہ کرنا شروع کردیا اور مسلمان تھے کہ گمراہ ہوتے چلے اس وقت کسی کے پاس اتنا علم نہیں تھا کہ ان حضرات کی باتوں کو سمجھتے ابن تیمیہ بھی نہیں تھے وہ پہلے ہی صحابہ کرام کے زمانہ میں انتقال فرماگئے تھے اب یہ مقلدوں کے امام آزاد تھے اسلام کی کل بگاڑنے کے لئے ۔اب اللہ کا شکر ہے چودہ سو سال کے لوگوں میں علم فہمی آئی چناچہ آج کا بچہ بچہ علم دین کا ماسٹر ہے اسکول میں جاتے ہیں اوردونوں طرح کی ڈگری حاصل کرتے ہیں ۔اب رہی یہ بات کہ مولانا تھانوی کو حکیم الامت کیوں کہتے ہیں ہاں یہ بات بلکل غلط ہے یہ ایسا ہی ہے کہ خربوزہ کو شکایت ہوئی کہ تربوز کو تربوز کیوں کہتے ہیں خربوزہ یا ٹماٹر کہنا چاہئے؟ ارے بھا ئی ابا کو ابا کہا جائگا اماں نہیں کہا جائیگا۔اس لئےمیرے بھائیو اس چکر میں مت پڑو نہ کسی کو برا کہو کیا ایک غریب امام ابو حنیفہ ہی نشانہ سادھنے کو ملا ہے اور بھی ہیں مثلا امریکہ ہے جو اسلا م کو چیلنج کررہا ہے اس کے چیلنج کو قبول کرو اور میدان میں آو میں ایمانداری سے کہ رہا ہوں جس دن امریکہ کے خلاف بولنا شروع کردو گے تنخواہ ملنا بند ہو جائے گی۔یہ ابو حنیفہ ہی کی دین ہے کہ دنیا میں اسلامی مدارس کا جال پھیلا ہوا ہے لیکن اس وقت تو امریکہ کا جال پھیلا ہوا ہے سب اسی کی زبان بول رہے ہیں اب ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ تو آئیں گے نہیں اب ہم تم ہی رہ گئے ہیں کیا غلط ہےکیا صحیح اس کے لئے تعصب کا چشمہ اتار کر مطالعہ کرنا چاہئے اور سے اس بارے میں مدد مانگنی چاہئے کیونکہ کہ ابو حنیفہ کسی مزار پر چادر چڑھانے نہیں گئے تھے۔فقط والسلام
    مفتی عابد الرحمٰن بجنوری(اب یہ کہو گے کہ میں نے اپنے آپ کو مفتی کیوں لکھ دیا اللہ مجھے صحیح سمجھ عطا فرمائے)
     
  4. ‏اکتوبر 22، 2012 #4
    ہابیل

    ہابیل سینئر رکن
    جگہ:
    lahore
    شمولیت:
    ‏ستمبر 17، 2011
    پیغامات:
    961
    موصول شکریہ جات:
    2,890
    تمغے کے پوائنٹ:
    225

    کیا فتوی مارا مان گئے مفتی صاحب آپ نے اپنے استادوں سے یہی سبق سیکھا ہے آپ نے کیا ہر مقلد مفتی کبھی بھی اس کام سے پیچھے نہیں ہٹا اس نے اپنے استادوں کی تقلید لازم کرتے ہوئے ہم غیر مقلد وں کو لادین ثابت کرنا ہوتا ہے ،جیسے آپ نے ہمیں شریعت کا باغی قرار دیا .

    یا تو میرے علم میں کمی ہے یا آپ لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں ہم آپ سے پوچھتے ہیں کیا امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ تابعی تھے ......اگر بازار سے عقل کرایہ پر ملتی تو ہم اس معاملے میں آپ کی مدد ضرورکرتے ......آپ کے علم اور مفتی ہونے پر ترس آرہا ہے ........جس قدر آپ نے تعصب کا مظاہرہ کیا اس کا مطلب جلالین کے ترجمہ اور تفسیر میں آپ کیا حشر کریں گیں................جناب گبھرائیں نہیں آپ ہی نے ہمیں شریعت پر عمل نہ کرنے والہ لکھا ہے اب ہم بھی تو دیکھیں آپ کی شریعت کونسے والی ہے اب تو چل سو چل ہے
     
  5. ‏اکتوبر 22، 2012 #5
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    اللہ اللہ میری توبہ

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    اللہ گواہ ہے میں نے کسی کو باغی نہیں کہا اور نہ کسی کو حنفی یا مقلد یا غیر مقلد کہا میں نے شروع میں ہی یہ عرض کیا کہ مقلد وہ جو شریعت پر عمل کرے اور جو شریعت پر عمل نہ کرے وہ غیر مقلد ۔اس میں تو شریعت کا باغی کہیں کہا گیا برائے مہربانی تعصب کا چشمہ اتار کر دوبارہ سے مضمون پڑھیں مٰیں اور میرے والد بہت معتدل عالم تھے کسی کی برائی کرنا ہم نے سیکھا نہیں چاہے وہ امام تیمیہ ہوں یا کوئی اور صاحب میرے مضمون سے پہلے والا مضمون ملاحظہ فرمالیں کہ کس نے کس کو برا کہا حضرت تھانوی ہوں یا کوئی اور ہم سے پہلے جو آیا وہ بڑا ہی کہلا ئگا کسی کا اچھا برا ہونا الگ بات ہے امام ابو حنیفہ کو برا کہنا یہ کون سی شرافت ہے انہوں نے کسی کو مجبور نہیں کیا کہ میرے مسلک پر عمل کرو انہوں نے تو یہ فرمایا لکم دینکم ولی دین آپ کو جو اچھا لگے کرو دوسروں کو کیوں مقلد اور غیرمقلد کہ کر رسوا کیا جائے یہ کون سی شرافت اب رہی یہ بات کہ امام ابن تیمیہ تابعی ہیں تو امام ابو حنیفہ کون ہوئے پہلے امام ابو حنیفہ آئے یا امام ابن تیمیہ خود فیصلہ کرلیں میرے مضمون میں جو پیغام پوشیدہ ہے اس کو سمجھیں کیا آپ غور کیا کہ میں نے امام تیمیہ کو صحابہ کے دور میں کیوں لکھا ؟اور ساتھ میں تاریخ کے مطالعہ کا مشورہ کیوں دیا ؟اور پھر میں نے یہ لکھا کہ چودہ سوسال لوگوں کو صحیح علم آیا اتنے بڑے بڑے جید عالم گزر گئے اور کسی کو یہ فکر نہ ہوئی کہ ہمارے علم سے امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم گمراہ ہوگی تو اس کی زمہ داری کس پر عائد ہوگی بھائی میں تو امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا بھی احترام کرتا ہوں اور آپ کا بھی لیکن افسوس صد افسوس کہ آپ کی زبان اور قلم بہت آزاد ہے بھائی ان کو بھی ادب سکھاو بھائی آپ نے تو میرے علم کو بھی چیلنج کردیا اور در پردہ میرے استاذوں کوبھی، کیا یہی ادب ہے ،توبہ توبہ میں تو اس فورم میں یہ سمجھ کے شامل ہوا تھا کہ کچھ سیکھنے کو ملے گا یہاں سر منڈاتے ہی اولے برس گئے والی بات ہوئی ارے بھائی کوئی اپنے امام ابن تیمیہ کو اپنا رھبر مانتا ہے اور کوئی کسی کو ۔کوئی یون کیوں کہے کہ فلاں غلط ہے اور فلاں صحیح ۔ارے بھائی امام ابو حنیفہ گمراہ ہیں کیا اگر ہیں تو بتائیں لیکن ادب کے دائرے میں مجھے بہت افسوس ہے کی آپ نے میری جلالین کی شرح کو بھی نشانہ بنا لیا بھائی امریکہ والی بات جو بھی اس کے خلاف بولے اس کے پورے خاندان کو نشانہ بنا لو بڑا افسوس ہو توبہ توبہ توبہ اللہ حفاظت فرمائیں ارے بھائیوسب ایک لڑی میں شامل ہوجاو منتشر نہ ہوں یاد رکھو ہمارے سر پر امریکہ ہے اللہ حافظ تکلیف پہونچی ہو گی معاف کرنا اللہ حافظ
    عابدالرحمٰن بجنوری
     
  6. ‏اکتوبر 22، 2012 #6
    ہابیل

    ہابیل سینئر رکن
    جگہ:
    lahore
    شمولیت:
    ‏ستمبر 17، 2011
    پیغامات:
    961
    موصول شکریہ جات:
    2,890
    تمغے کے پوائنٹ:
    225

    کیا آ پ نے ہم کو پاگل سمجھ رکھا ہے یا موصوف صاحب خو د بوکھلاہٹ کا شکار ہے
    کیا آپ کی نظر میں غیر مقلد شریعت پر عمل نہیں کرتا؟
     
  7. ‏اکتوبر 22، 2012 #7
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    مفتی صاحب ذرا یہ مقلد اور غیر مقلد والی اصطلاح ہی ہمیں سمجھادیں۔ آئی مین کہ مقلد کی ضد غیر مقلد اور غیر مقلد کی ضد مقلد یہ کہاں سے آگئی ؟ اور دوسرا جو مقلد اور غیر مقلد کا معنی آپ نے کیا ذرا وہ بھی وضاحت کے ساتھ پیش فرمادیں۔ شکریہ
     
  8. ‏اکتوبر 23، 2012 #8
    ابن قاسم

    ابن قاسم مشہور رکن
    جگہ:
    الہند
    شمولیت:
    ‏اگست 07، 2011
    پیغامات:
    253
    موصول شکریہ جات:
    1,073
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    بجا فرمایا، غالی مقلد غیر نبی کی غیر مشروط اطاعت کو لازم سمجھتے ہیں اور جو تقلید کا راستہ نہ اپنائے اسے گمراہ سمجھتے ہیں، یقینا راہ نجات تحقیق میں ہے اور تقلید گمراہی کا راستہ ہے

    وعلیکم السلام
    خوش آمدید جناب عابدالرحمٰن صاحب ! آپ کے موضوعات میں تعارفی دھاگہ نہیں ملا
    ابتسامہ!
    مشورہ ہے فورم کے تمام زمروں کا سرسری طور پر جائزہ لیں، یہاں معقول علمی اور دلچسپ مواد ملے گا ان شاءاللہ
    والسلام
     
  9. ‏اکتوبر 23، 2012 #9
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    اب تک فاتحہ خلف الامام، آمین بالجہراوررفع یدین کوچھوڑ کر کتنے مسائل میں تحقیق کی ہے ذراسلسلہ وار بیان فرمائیے گااوراگرہوسکے تواپنی تحقیق اسی فورم پر شائع بھی کردیجئے گا۔ تاکہ ہمیں بھی پتہ چلے کہ تحقیق کے نام لیوا خود کتنے بڑے محقق ہیں یاپھر محکک ہیں یعنی ہرصحیح چیز کو کھرچ کرصاف کردینے والے۔
     
  10. ‏اکتوبر 23، 2012 #10
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    مقلد اور غیر مقلد

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ما خلق ومن شر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    السلام علیکم جملہ ایمانی اورغیر متعصب بھائیو
    اگر کسی شوھر کی چار بیویاں ہوں ،اور پھر ان کی اولاد ہوں ،تو یہ بتائیں یہ اولادیں کس کس کو اپنی حقیقی ماں کہیں گے یا سبھی کو حقیقی ماں کہیں گے کھلی بات ہے جس ماں سے جنم لیا ہے وہ حقیقی ماں باقی سوتیلی ماں ہوئیں ادب سب کا کیا جائیگا لیکن جومقام شرعآ حقیقی ماں کا ہے وہ سوتیلی ماں کا نہیں ۔میں نے ائمہ اربعہ کا ذکر نہیں کیا میں تو ابن تیمیہ کو بھی امام مانتا ہوں ۔ مقلد کیا غیر مقلد کیا ؟ یہ ہماری اصطلا ح نہیں دینی بھائیوں کی نہیں اس اصطلاح پیچھے بھی کوئی اور ہی ہے بس گڑے مردوں مت اکھڑواو ،اپنی صلاحیتیں اللہ کے ذکر میں اور قرآن کی تلاوت میں مسلمانوں کے فلاحی کاموں میں خرچ کرو میرے بھائیو یہ سب کسی اور چیز کا کمال ہے ۔ یہ کٹھپتلی کا کھیل ہے ہمیں مت نچاو یاد جو زبان آپ لوگ استعمال فرما رہے ہیں وہ مناسب نہیں میں بار بار عرض کررہا ہوں اگر امام ابو حنیفہ جو کہ اعظم ہیں اور اعظم رہیں گے تمہارے کہنے سے اصغر نہیں ہو جائیں گے اگر میں نعوذباللہ امان تیمیہ کو نا مناسب الفاظ کہوں یقینآ آپ کو ناگوار گزرے گا کیوںکہ وہ آپ کے قائد اور امام ہیں یہاں بھی شخصی تقلید ہے اور اگر نا گوار نہیں گزرتا ہے تو آپ لوگوں کا کچھ اور ہی مقصد ہے جس کو اللہ ہی بہتر جانتاہے۔آپ لوگوں کو خیال آنا چاہیےکہ امام ابو حنیفہ کو اس دنیا سے رخصت ایک زمانہ ہوا اور ان کی وفات کےکافی وقت بعد مخالفین پیدا ہوئے( جیسا کہ امریکہ کا وجود بھت بعد میں آیا پہلے اس کو کا پانی کہا جاتا تھا اور یہاں دنیا کے خطرناک ترین مجرم ہوا کرتے تھے دھیرے ان بدمعاشوں کی تعداد بڑھتی گئی اور دیکھتے دیکھتے ایک خطرناک صورت سامنے آئی معاف کرنا میں آپ کسی کے لئے یہ الفاظ نہیں بول رہا کبھی اپنے آپ کو سمجھنے لگو) اور یہ مخالفین کئی فرقوں میں بٹے ہوئیں ہیں یہ لوگ اللہ کا ذکر کم نماز بس صرف فرض والی پڑھتے ہیں اور دعویٰ کیا کیا کرتے ہیں اور رہے بیچارے حنفی یا دیگر مسلکی وہ سیتین اور نفلیں اوابین اشراق چاشت تھجد وغیرہ نمازیں ادا کرتے ہیں ترویح بھی پوری پڑھتے ہیں اور سب زیادہ حفاظ قران بھی ان ہی کے یہاں ملیں گے اور سب زیادہ حفاظ الاحادیث انہی کے یہاں ملیں گے اور مخالفین کی بڑی تعداد وہ جو اسکولوں اور کالجوں سے فراغت حاصل کئے ہوتی ہے اور انکی زیادہ تعدا د فارن کنڑیز سے فا رغ ہوکر آتی ہے اب چونکہ چشمہ کسی اور کا لگا ہو تا ہے تو جیسا چشمہ ہو گا ویسا ہی نظر آیئگا بھلے سے آنکھیں خراب ہوجائیں مگر گھور گھور کر دیکھیں گے ضرور یا د رکھو جو زبان آپ لوگ استعما ل کر رہے ہیں وہ انتھائی غیر مہذب اور لچر ہے جھوٹی کہانیاں گھڑنا یہ کس سے سیکھا ہے اس کام کے لئے تو صرف امریکہ ہی مناسب ہے کیونکہ وہ اپنی بنائی ہوئی کہانی میں نہیں بھنستا آپ پھنس جاو گے ۔توبہ توبہ توبہ آپ نے میری زبان بھی گندی کرادی پہلی بار میں نے اس طرح کے کلمات لکھے ہیں وہ مجھے کرایا گیا تب کسی کو تکلیف پہونچی ہو معاف کرنا اللہ حافظ
    عابدالرحمٰن بجنوری
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں