1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مولانا ابو البیان حماد عمری حفظہ ﷲ کی غزل

'شعر' میں موضوعات آغاز کردہ از حافظ عبدالکریم, ‏جنوری 11، 2017۔

Tags:
  1. ‏جنوری 11، 2017 #1
    حافظ عبدالکریم

    حافظ عبدالکریم رکن
    جگہ:
    کڑمور
    شمولیت:
    ‏دسمبر 01، 2016
    پیغامات:
    140
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    مولانا ابو البیان حماد عمری حفظہ اللہ کی غزل
    اب مجھے دنیا میں کوئی آشنا ملتا نہیں
    بے وفا ملتا ہے لیکن باوفا ملتا نہیں


    کیا خزاں کا دور دورہ ہے چمن میں آج کل
    کوئی پیغامِ بہارِ جاں فزا ملتا نہیں

    سر حدِ ادراک سے ہے ‛ ماورا رازِ خودی
    مبتدا ملتا ہے اُس کا منتہا ملتا نہیں

    کشتیِ ملت کو طوفاں میں بھی جو ثابت رکھے
    دہر میں اب کوئی ایسا ناخدا ملتا نہیں

    مل گیا جو یار کوئی ‛ ہے سراسر نا سپاس
    پاس دارِ خوے تسلیم و رضا ملتا نہیں

    کس لیے یہ شکوۂ مایوسی و حِرماں بھلا
    ہو اگر سچی تڑپ دل میں تو کیا ملتا نہیں

    خود خدا کو ہے تلاشِ بندۂ عرفاں طلب
    کون کہتا ہے کہ ڈھونڈے سے خدا ملتا نہیں


    آرہی ہے دور سے حماد گُل بانگِ جَرس
    منزلِ مقصود کا لیکن پتا ملتا نہیں


     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں