1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مکروہ نظام انصاف : 19 سال بعد بے گناہ ٹھہرنے والا قید میں ہی دنیا چھوڑ گیا

'جمہوریت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏اکتوبر 08، 2016۔

  1. ‏اکتوبر 08، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    14470526_694691480695350_1767086048665172737_n.jpg

    مکروہ نظام انصاف : 19 سال بعد بے گناہ ٹھہرنے والا قید میں ہی دنیا چھوڑ گیا

    .
    یہ کوئی آج کا المیہ نہیں ، برسوں سے یہی ہوتا چلا آ رہا ہے ، اور روز ہوتا ہے - یہ سلسلہ کب تھمے گا کچھ نہیں کہا جا سکتا - انیس برس کی قید کے بعد عدالت عالیہ اس نتیجے پر پہنچ سکی کہ وہ "مجرم" نہ تھا ، بلکہ بے گناہ تھا - اس کی ماں اس کی راہ تکتے تکتے اس جہاں سے گذر گئی ، اس کی آنکھیں بھی اس فیصلے کا انتظار کرتے کرتے پتھرا گئیں ...جی ہاں جب یہ فیصلہ جج صاحب نے سنایا ،تب "مجرم" خود بھی دو سال پھلے دنیا چھوڑ چکا تھا -
    پاکستان کے نظام انصاف میں یہ روز کا قصہ ہے ، آپ عدالتوں چلے جائیں وہاں محنت ہی اس بات پر ہوتی ہے کہ معاملے کو لمبا کیسے کرنا ہے ، فریق مخالف کو کتنے برس خوار کرنا ہے ؟ -
    ایک روز ایک جج صاحب بتا رہے تھے کہ الیکشن کے کے جب دھاندلی کے مقدمات ہماری عدالتوں میں آتے ہیں تو جیتنے والا فریق وکیل کو مقدمہ جیتنے کا ہدف نہیں دیتا ، بلکہ یہ تقاضا ہوتا ہے کہ معاملے کو اگلے انتخابات تک لٹکانے کے کتنے پیسے لو گے ...
    معروف حربہ ہوتا ہے کہ وکیل حضرات چار پانچ پیشوں پر حاضر نہیں ہوتے ، جب آخری نوٹس ملتا ہے تب عدالت جاتے ہیں اور پھر کوئی سچا جھوٹا بہانہ بنا کر تاریخ لے لیتےہیں ٠- اس دوران دوسرا فریق لاچار اور مجبور ہوتا ہے جیل کاٹنے کو
    حیرت ہے کہ جس فیصلے پر دیہاتوں کے ان پڑھ بزرگ ، قبائل کے سرپنچ ، ایک مجلس میں پہنچ جاتے ہیں ، اس تک ہمارے قانون کی موٹی موٹی اور منوں وزنی کتابیں پڑھے منصف انیس انیس برس تک نہیں پہنچ پاتے - نظام انصاف کے ان تاخیری حربوں نے اس پر عوام کے اعتماد کو ختم کر دیا ہے ... بدقسمتی سے انہی حربوں نے اور بعض " سہولتوں " نے مجرمین کے اعتماد کو بڑھاوا دیا ہے - آپ کو یاد ہو گا ابھی سال بھر پہلے گوجرانوالہ میں سرعام ہوائی فائرنگ کے مجرم پکڑے گئے ، ان کا میڈیا پر خوب چرچا ہوا ، تیسرے روز ان کی ضمانت پر رہائی ہوئی تو ان کا بیان چھپا کہ "ہمیں پاکستانی عدالتوں کے نظام پر بھروسہ تھا کہ ہمارا معاملہ فورا حل ہو جائے گا "
    لیکن اگر کسی کے پاس مناسب وسائل نہ ہوں ، اس کی جیب خالی ہو تو یہی عدالتی نظام اس کو جھوٹے مقدمے میں بھی انیس برس تک قید میں رکھ سکتا ہے
    اب جج صاحب فرماتے ہیں کہ اس کا ازالہ کیسے ہو ؟
    جی ہاں اس کا ازالہ ہو سکتا ہے - جس جج نے غلط فیصلہ دیا اگر ثابت ہو جاتا ہے کہ جان بوجھ کر یا رشوت لے کر ایسا کیا تو جج صاحب کو بھی اسی کال کوٹھری میں رکھا جائے - ان کی تنخواہ بھی اتنا عرصۂ بند کی جائے ...اگر اس میں عدالت عالیہ اپنی " توھین محسوس کرتی ہے تو کم ازکم انیس برس کی تنخواہ واپس لی جائے - جس نے جھوٹی گواہی دی اس کو اسی کوٹھری میں رکھا جائے اس وکیل کو پکڑا جائے کہ جس نے ایک بے گناہ کو قید رکھنے کو اتنی"محنت" کی -
    جج صاحب نے سیاسی بیان تو دے دیا کہ جھوٹے گواہ کو پکڑنا چاہیے - محترم جج صاحب یہ کام کون کرے گا ؟ - آپ خود یہ قدم کیوں نہیں اٹھاتے ؟ -آپ کی عدلیہ کی عزت اور وقار پر یہ داغ لگا ہے ، خود اسے دھونے کی فکر کیوں نہیں کرتے ؟ - آپ کے پاس مکمل اختیار ہے یہ کام کیجئے نا
    اس معاملے کا ایک اور انسانی پہلو اس سے بھی کربناک ہے کہ اس سے صرف ملزم ہی متاثر نہیں ہوا اس کا تمام خاندان برباد ہو گیا اس کی اہلیہ کی جوانی برباد ہوئی ، اس کے بچے بچپن سے جوانی کو پہنچے ان کی شادیاں ہو گئیں اور باپ کا ہاتھ سر پر نہ تھا ، ماں انتظار میں مر گئی ....ان کے مالی معاملات کیا رہے ہوں گے ، کچھ نہیں کہا جا سکتا - دکھ یہ ہے کہ ایسی المیہ داستانیں کبھی کبھار سامنے آتی ہیں ، ورنہ یہ ہمارے ہاں روز کا معمول ہے

    .............ابوبکرقدوسی
     
  2. ‏اکتوبر 08، 2016 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یہ سب شریعت سے منہ موڑ کر انسان کے بنائے قوانین اپنانے کا نتیجہ ہے ،
    اگر شرعی قوانین کے نفاذ کے بغیر انسانی معاشرے میں عدل کا وجود ممکن ہوتا ، تو اللہ تعالی شریعت میں قوانین
    کا باب ہی نہ رکھتا ، نہ ہی نفاذ شریعت کیلئے جنگیں جائز نہ ہوتیں ،
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں