• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مکمل صحیح بخاری اردو ترجمہ و تشریح جلد ١ - (حدیث نمبر ١ تا ٨١٣)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
باب : رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہ کا ایک دیہاتی کو چھوڑدینا جب تک کہ وہ مسجد میں پیشاب سے فارغ نہ ہوگیا

حدیث نمبر : 219
حدثنا موسى بن إسماعيل، قال حدثنا همام، أخبرنا إسحاق، عن أنس بن مالك، أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى أعرابيا يبول في المسجد فقال ‏"‏ دعوه‏"‏‏. ‏ حتى إذا فرغ دعا بماء فصبه عليه‏.‏
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے، کہا ہم سے اسحاق نے انس بن مالک کے واسطے سے نقل کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی کو مسجد میں پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو لوگوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو جب وہ فارغ ہو گیا تو پانی منگا کر آپ نے ( اس جگہ ) بہا دیا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
باب : مسجد میں پیشاب پر پانی بہادینے کے بیان میں

حدیث نمبر : 220
حدثنا أبو اليمان، قال أخبرنا شعيب، عن الزهري، قال أخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، أن أبا هريرة، قال قام أعرابي فبال في المسجد فتناوله الناس، فقال لهم النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ دعوه وهريقوا على بوله سجلا من ماء، أو ذنوبا من ماء، فإنما بعثتم ميسرين، ولم تبعثوا معسرين‏"‏‏. ‏
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہمیں شعیب نے زہری کے واسطے سے خبر دی، انھوں نے کہا مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک اعرابی کھڑا ہو کر مسجد میں پیشاب کرنے لگا۔ تو لوگ اس پر جھپٹنے لگے۔ ( یہ دیکھ کر ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو اور اس کے پیشاب پر پانی بھرا ہوا ڈول یا کچھ کم بھرا ہوا ڈول بہا دو۔ کیونکہ تم نرمی کے لیے بھیجے گئے ہو، سختی کے لیے نہیں۔

درمیان میں روکنے سے بیماری کا اندیشہ تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازراہِ شفقت اسے فارغ ہونے دیا اور بعد میں اسے سمجھادیا کہ آئندہ ایسی حرکت نہ ہو اور اس جگہ کو پاک کرادیا۔ کاش! ایسے اخلاق آج بھی مسلمانوں کو حاصل ہوجائیں۔

حدیث نمبر : 221
حدثنا عبدان، قال أخبرنا عبد الله، قال أخبرنا يحيى بن سعيد، قال سمعت أنس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم‏.‏
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں عبداللہ نے خبر دی، کہا ہمیں یحییٰ بن سعید نے خبر دی، کہا میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ( دوسری سند یہ ہے ) ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان نے یحییٰ بن سعید کے واسطے سے بیان کیا، کہا میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی شخص آیا اور اس نے مسجد کے ایک کونے میں پیشاب کر دیا۔ لوگوں نے اس کو منع کیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں روک دیا۔ جب وہ پیشاب کر کے فارغ ہوا تو آپ نے اس ( کے پیشاب ) پر ایک ڈول پانی بہانے کا حکم دیا۔ چنانچہ بہا دیا گیا۔

باب کا منشا ان احادیث سے صاف روشن ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
باب : بچوں کے پیشاب کے بارے میں

حدیث نمبر : 222
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال أخبرنا مالك، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة أم المؤمنين، أنها قالت أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بصبي، فبال على ثوبه، فدعا بماء فأتبعه إياه‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو مالک نے ہشام بن عروہ سے خبر دی، انھوں نے اپنے باپ ( عروہ ) سے، انھوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بچہ لایا گیا۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگایا اور اس پر ڈال دیا۔

حدیث نمبر : 223
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال أخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن أم قيس بنت محصن، أنها أتت بابن لها صغير، لم يأكل الطعام إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأجلسه رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجره، فبال على ثوبه، فدعا بماء فنضحه ولم يغسله‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہمیں مالک نے ابن شہاب سے خبر دی، وہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ ( بن مسعود ) سے یہ حدیث روایت کرتے ہیں، وہ ام قیس بنت محصن نامی ایک خاتون سے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں اپنا چھوٹا بچہ لے کر آئیں۔ جو کھانا نہیں کھاتا تھا۔ ( یعنی شیرخوار تھا ( رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ اس بچے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگا کر کپڑے پر چھڑک دیا اور اسے نہیں دھویا۔

شیرخواربچہ جس نے کچھ بھی کھانا پینا نہیں سیکھا ہے، اس کے پیشاب پر پانی کے چھینٹے کافی ہیں۔ مگریہ حکم صرف مرد بچوں کے لیے ہے۔ بچیوں کا پیشاب بہرحال دھونا ہی ہوگا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
باب : کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پیشاب کرنا ( حسب موقع ہر دو طرح سے جائز ہے )

حدیث نمبر : 224
حدثنا آدم، قال حدثنا شعبة، عن الأعمش، عن أبي وائل، عن حذيفة، قال أتى النبي صلى الله عليه وسلم سباطة قوم فبال قائما، ثم دعا بماء، فجئته بماء فتوضأ‏.‏
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے اعمش کے واسطے سے نقل کیا، وہ ابووائل سے، وہ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم کی کوڑی پر تشریف لائے ( پس ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ پھر پانی منگایا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا۔

معلوم ہوا کہ کسی ضرورت کے تحت کھڑے ہوکر بھی پیشاب کیا جا سکتا ہے اور جب ضرورتاً کھڑے ہوکر پیشاب کرنا جائز ہوا تو بیٹھ کر تویقینا جائز ہوگا مگرآج کل کوٹ پتلون والوں نے کھڑے ہوکر جو پیشاب کرنا انگریزوں سے سیکھا ہے ایک مرد مسلمان کے لیے یہ سراسر ناجائز اور اسلامی تہذیب کے خلاف ہے کیونکہ اس میں نہ پردہ ملحوظ ہوتا ہے نہ چھینٹوں سے پرہیز۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
باب : اپنے ( کسی ) ساتھی کے قریب پیشاب کرنا اور دیوار کی آڑ لینا

حدیث نمبر : 225
حدثنا عثمان بن أبي شيبة، قال حدثنا جرير، عن منصور، عن أبي وائل، عن حذيفة، قال رأيتني أنا والنبي، صلى الله عليه وسلم نتماشى، فأتى سباطة قوم خلف حائط، فقام كما يقوم أحدكم فبال، فانتبذت منه، فأشار إلى فجئته، فقمت عند عقبه حتى فرغ‏.
ہم سے عثمان ابن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے منصور کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابووائل سے، وہ حذیفہ سے روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ( ایک مرتبہ ) میں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جا رہے تھے کہ ایک قوم کی کوڑی پر ( جو ) ایک دیوار کے پیچھے ( تھی ) پہنچے۔ تو آپ اس طرح کھڑے ہو گئے جس طرح ہم تم میں سے کوئی ( شخص ) کھڑا ہوتا ہے۔ پھر آپ نے پیشاب کیا اور میں ایک طرف ہٹ گیا۔ تب آپ نے مجھے اشارہ کیا تو آپ کے پاس ( پردہ کی غرض سے ) آپ کی ایڑیوں کے قریب کھڑا ہو گیا۔ یہاں تک کہ آپ پیشاب سے فارغ ہو گئے۔ ( بوقت ضرورت ایسا بھی کیا جا سکتا ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
باب : کسی قوم کی کوڑی پر پیشاب کرنا

حدیث نمبر : 226
حدثنا محمد بن عرعرة، قال حدثنا شعبة، عن منصور، عن أبي وائل، قال كان أبو موسى الأشعري يشدد في البول ويقول إن بني إسرائيل كان إذا أصاب ثوب أحدهم قرضه‏.‏ فقال حذيفة ليته أمسك، أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم سباطة قوم فبال قائما‏.‏
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے منصور کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابووائل سے نقل کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری پیشاب ( کے بارہ ) میں سختی سے کام لیتے تھے اور کہتے تھے کہ بنی اسرائیل میں جب کسی کے کپڑے کو پیشاب لگ جاتا۔ تو اسے کاٹ ڈالتے۔ ابوحذیفہ کہتے ہیں کہ کاش! وہ اپنے اس تشدد سے رک جاتے ( کیونکہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم کی کوڑی پر تشریف لائے اور آپ نے وہاں کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔

حضرت کی غرض یہ تھی کہ پیشاب سے بچنے میں احتیاط کرنا ہی چاہئیے۔ لیکن خواہ مخواہ کا تشدد اور زیادتی سے وہم اور وسوسہ پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے عمل میں اتنی ہی احتیاط چاہئیے جتنی آدمی روزمرہ کی زندگی میں کر سکتا ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
باب : حیض کا خون دھونا ضروری ہے

حدیث نمبر : 227
حدثنا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى، عن هشام، قال حدثتني فاطمة، عن أسماء، قالت جاءت امرأة النبي صلى الله عليه وسلم فقالت أرأيت إحدانا تحيض في الثوب كيف تصنع قال ‏"‏ تحته، ثم تقرصه بالماء، وتنضحه وتصلي فيه‏"‏‏. ‏
ہم سے محمد ابن المثنی نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے ہشام کے واسطے سے بیان کیا، ان سے فاطمہ نے اسماء کے واسطے سے، وہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ حضور فرمائیے ہم میں سے کسی عورت کو کپڑے میں حیض آ جائے ( تو ) وہ کیا کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کہ پہلے ) اسے کھرچے، پھر پانی سے رگڑے اور پانی سے دھو ڈالے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھ لے۔

معلوم ہوا کہ نجاست دور کرنے کے لیے پانی کا ہونا ضروری ہے۔ دوسری چیزوں سے دھونا درست نہیں۔ اکثر علماءکا یہی فتویٰ ہے۔ حنفیہ نے کہا ہے کہ ہر رقیق چیز جو پاک ہو اس سے دھوسکتے ہیں جیسے سرکہ وغیرہ، امام بخاری رحمہ اللہ وجمہور کے نزدیک یہ قول صحیح نہیں ہے۔

حدیث نمبر : 228
حدثنا محمد، قال حدثنا أبو معاوية، حدثنا هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة، قالت جاءت فاطمة ابنة أبي حبيش إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله إني امرأة أستحاض فلا أطهر، أفأدع الصلاة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لا، إنما ذلك عرق، وليس بحيض، فإذا أقبلت حيضتك فدعي الصلاة، وإذا أدبرت فاغسلي عنك الدم ثم صلي‏"‏‏. ‏ قال وقال أبي ‏"‏ ثم توضئي لكل صلاة، حتى يجيء ذلك الوقت‏"‏‏. ‏
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابومعاویہ نے، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے باپ ( عروہ ) کے واسطے سے، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں، وہ فرماتی ہیں کہ ابوحبیش کی بیٹی فاطمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا کہ میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ کی بیماری ہے۔ اس لیے میں پاک نہیں رہتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے حیض نہیں ہے۔ تو جب تجھے حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب یہ دن گزر جائیں تو اپنے ( بدن اور کپڑے ) سے خون کو دھو ڈال پھر نماز پڑھ۔ ہشام کہتے ہیں کہ میرے باپ عروہ نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ( بھی ) فرمایا کہ پھر ہر نماز کے لیے وضو کر یہاں تک کہ وہی ( حیض کا ) وقت پھر آ جائے۔

تشریح : استحاضہ ایک بیماری ہے جس میں عورت کا خون بند نہیں ہوتا۔ اس کے لیے حکم ہے کہ ہر نماز کے لیے مستقل وضو کرے اور حیض کے جتنے دن اس کی عادت کے مطابق ہوتے ہوں ان دنوں کی نماز نہ پڑھے۔ اس کے لیے ان ایام کی نماز معاف ہے۔ اس سے یہ بھی نکلا کہ جو لوگ ہوا خارج ہونے یا پیشاب کے قطرے وغیرہ کی بیماری میں مبتلا ہوں، وہ نماز ترک نہ کریں بلکہ ہر نماز کے لیے تازہ وضو کرلیاکریں۔ پھر بھی حدث وغیرہ ہوجائے تو پھراس کی پر وا نہ کریں۔ جس طرح استحاضہ والی عورت خون آنے کی پر واہ نہ کرے، اسی طرح وہ بھی نماز پڑھتے رہیں۔ شریعت حقہ نے ان ہدایات سے عورتوں کی پاکیزگی اور طبی ضروریات کے پیش نظر ان کی بہترین رہ نمائی کی ہے اور اس بارے میں معلومات کوضروری قرار دیا۔ ان لوگوں پر بے حد تعجب ہے جو انکارِحدیث کے لیے ایسی ہدایات پر ہنستے ہیں۔ اور آج کے دورکے اس جنسی لٹریچر کو سراہتے ہیں جو سراسر عریانیت سے بھرپورہے۔ قاتلہم اللّٰہ انی یوفکون۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
باب : منی کا دھونا اور اس کا کھرچنا ضروری ہے۔ نیز جو چیز عورت سے لگ جائے اس کا دھونا بھی ضروری ہے

حدیث نمبر : 229
حدثنا عبدان، قال أخبرنا عبد الله، قال أخبرنا عمرو بن ميمون الجزري، عن سليمان بن يسار، عن عائشة، قالت كنت أغسل الجنابة من ثوب النبي صلى الله عليه وسلم، فيخرج إلى الصلاة، وإن بقع الماء في ثوبه‏.‏
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا مجھے عبداللہ ابن مبارک نے خبر دی، کہا مجھے عمرو بن میمون الجزری نے بتلایا، وہ سلیمان بن یسار سے، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔ آپ فرماتی ہیں کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت کو دھوتی تھی۔ پھر ( اس کو پہن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے جاتے اور پانی کے دھبے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں ہوتے تھے۔

حدیث نمبر : 230
حدثنا قتيبة، قال حدثنا يزيد، قال حدثنا عمرو، عن سليمان، قال سمعت عائشة، ح وحدثنا مسدد، قال حدثنا عبد الواحد، قال حدثنا عمرو بن ميمون، عن سليمان بن يسار، قال سألت عائشة عن المني، يصيب الثوب فقالت كنت أغسله من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فيخرج إلى الصلاة وأثر الغسل في ثوبه بقع الماء‏.‏
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید نے، کہا ہم سے عمرو نے سلیمان سے روایت کیا، انھوں نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ( دوسری سند یہ ہے ) ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے، کہا ہم سے عمرو بن میمون نے سلیمان بن یسار کے واسطے سے نقل کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس منی کے بارہ میں پوچھا جو کپڑے کو لگ جائے۔ تو انھوں نے فرمایا کہ میں منی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے دھو ڈالتی تھی پھر آپ نماز کے لیے باہر تشریف لے جاتے اور دھونے کا نشان ( یعنی ) پانی کے دھبے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں باقی ہوتے۔

تشریح : باب میں عورت کی شرمگاہ سے تری وغیرہ لگ جانے اور اس کے دھونے کا بھی ذکر تھا۔ مگر احادیث واردہ میں صراحتاً عورت کی تری کا ذکر نہیں ہے۔ ہاں حدیث نمبر 227 میں کپڑے پر مطلقاً منی لگ جانے کا ذکر ہے۔ خواہ وہ مرد کی ہو یا عورت کی۔ اسی سے باب کی مطابقت ہوتی ہے۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ منی کو پہلے کھرچنا چاہئیے پھر پانی سے صاف کرڈالنا چاہئیے پھر بھی اگرکپڑے پر کچھ نشان دھبے باقی رہ جائیں توان میں نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ کیونکہ کپڑا پاک صاف ہوچکا ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
باب : اگر منی یا کو ئی اور نجاست ( مثلاً حیض کا خون ) دھوئے اور ( پھر ) اس کا اثر نہ جائے ( توکیا حکم ہے؟ )

حدیث نمبر : 231
حدثنا موسى، قال حدثنا عبد الواحد، قال حدثنا عمرو بن ميمون، قال سألت سليمان بن يسار في الثوب تصيبه الجنابة قال قالت عائشة كنت أغسله من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم يخرج إلى الصلاة وأثر الغسل فيه بقع الماء‏.‏
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے عمرو بن میمون نے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کپڑے کے متعلق جس میں جنابت ( ناپاکی ) کا اثر آ گیا ہو، سلیمان بن یسار سے سنا وہ کہتے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو دھو ڈالتی تھی پھر آپ نماز کے لیے باہر نکلتے اور دھونے کا نشان یعنی پانی کے دھبے کپڑے میں ہوتے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پاک کرنے کے بعد پانی کے دھبے اگرکپڑے پر باقی رہیں توکچھ حرج نہیں۔

حدیث نمبر : 232
حدثنا عمرو بن خالد، قال حدثنا زهير، قال حدثنا عمرو بن ميمون بن مهران، عن سليمان بن يسار، عن عائشة، أنها كانت تغسل المني من ثوب النبي صلى الله عليه وسلم، ثم أراه فيه بقعة أو بقعا‏.‏
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے، کہا ہم سے عمرو بن میمون بن مہران نے، انھوں نے سلیمان بن یسار سے، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو دھو ڈالتی تھیں ( وہ فرماتی ہیں کہ ) پھر ( کبھی ) میں ایک دھبہ یا کئی دھبے دیکھتی تھی۔

تشریح : قسطلانی رحمہ اللہ نے کہا کہ اگراس کا نشان دورکرنا سہل ہو تو اسے دور ہی کرنا چاہئیے، مشکل ہو تو کوئی ہرج نہیں۔ اگر رنگ کے ساتھ بوبھی باقی رہ جائے تو وہ کپڑا پاک نہ ہوگا۔ حضرت امام بخاری قدس سرہ نے اس با ت میں منی کے سوا اور نجاستوں کا صراحتاً ذکر نہیں فرمایا۔ بلکہ ان سب کو منی ہی پر قیاس کیا، اس طرح سب کا دھونا ضروری قرار دیا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
باب : اونٹ، بکری اور چوپایوں کا پیشاب اور ان کے رہنے کی جگہ کے بارے میں

وصلى أبو موسى في دار البريد والسرقين والبرية إلى جنبه فقال ها هنا وثم سواء‏.‏
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے داربرید میں نماز پڑھی ( حالانکہ وہاں گوبر تھا ) اور ایک پہلو میں جنگل تھا۔ پھر انھوں نے کہا یہ جگہ اور وہ جگہ برابر ہیں۔

تشریح : دارالبرید کوفہ میں سرکاری جگہ تھی۔ جس میں خلیفہ کے ایلچی قیام کیا کرتے تھے۔ حضرت عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے زمانوں میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کوفہ کے حاکم تھے۔ اسی جگہ اونٹ، بکری وغیرہ جانوربھی باندھے جاتے تھے۔ اس لیے حضرت ابوموسیٰ نے اسی میں نماز پڑھ لی اور صاف جنگل میں جوقریب ہی تھاجانے کی ضرورت نہ سمجھی پھر لوگوں کے دریافت کرنے پر بتلایا کہ مسئلہ کی رو سے یہ جگہ اور وہ صاف جنگل دونوں برابر ہیں اور اس قسم کے چوپایوں کالید اور گوبر نجس نہیں ہے۔

حدیث نمبر : 233
حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب، عن أبي قلابة، عن أنس، قال قدم أناس من عكل أو عرينة، فاجتووا المدينة، فأمرهم النبي صلى الله عليه وسلم بلقاح، وأن يشربوا من أبوالها وألبانها، فانطلقوا، فلما صحوا قتلوا راعي النبي صلى الله عليه وسلم واستاقوا النعم، فجاء الخبر في أول النهار، فبعث في آثارهم، فلما ارتفع النهار جيء بهم، فأمر فقطع أيديهم وأرجلهم، وسمرت أعينهم، وألقوا في الحرة يستسقون فلا يسقون‏.‏ قال أبو قلابة فهؤلاء سرقوا وقتلوا وكفروا بعد إيمانهم، وحاربوا الله ورسوله‏.‏
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انھوں نے حماد بن زید سے، وہ ایوب سے، وہ ابوقلابہ سے، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ عکل یا عرینہ ( قبیلوں ) کے مدینہ میں آئے اور بیمار ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں لقاح میں جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہاں اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ چنانچہ وہ لقاح چلے گئے اور جب اچھے ہو گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر کے وہ جانوروں کو ہانک کر لے گئے۔ علی الصبح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( اس واقعہ کی ) خبر آئی۔ تو آپ نے ان کے پیچھے آدمی دوڑائے۔ دن چڑھے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پکڑ کر لائے گئے۔ آپ کے حکم کے مطابق ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور آنکھوں میں گرم سلاخیں پھیر دی گئیں اور ( مدینہ کی ) پتھریلی زمین میں ڈال دئیے گئے۔ ( پیاس کی شدت سے ) وہ پانی مانگتے تھے مگر انھیں پانی نہیں دیا جاتا تھا۔ ابوقلابہ نے ( ان کے جرم کی سنگینی ظاہر کرتے ہوئے ) کہا کہ ان لوگوں نے چوری کی اور چرواہوں کو قتل کیا اور ( آخر ) ایمان سے پھر گئے اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی۔

تشریح : یہ آٹھ آدمی تھے چارقبیلہ عرینہ کے اور تین قبیلہ عکل کے اور ایک کسی اور قبیلے کا۔ ان کو مدینہ سے چھ میل دور ذوالمجدا نامی مقام پر بھیجا گیا۔جہاں بیت المال کی اونٹنیاں چرتی تھیں۔ ان لوگوں نے تندرست ہونے پر ایسی غداری کی کہ چرواہوں کو قتل کیا اور ان کی آنکھیں پھوڑدیں اور اونٹوں کو لے بھاگے۔ اس لیے قصاص میں ان کو ایسی ہی سخت سزا دی گئی۔ حکمت اور دانائی اور قیام امن کے لیے ایسا ضروری تھا۔ اس وقت کے لحاظ سے یہ کوئی وحشیانہ سزا نہ تھی جو غیرمسلم اس پر اعتراض کرتے ہیں۔ ذرا ان کو خود اپنی تاریخ ہائے قدیم کا مطالعہ کرنا چاہئیے کہ اس زمانے میں ان کے دشمنوں کے لیے ان کے ہاں کیسی کیسی سنگین سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

اسلام نے اصول قصاص پر ہدایات دے کر ایک پائیدار امن قائم کیا ہے۔ جس کا بہترین نمونہ آج بھی حکومت عربیہ سعودیہ میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ والحمدللّٰہ علی ذلک ایدہم اللّٰہ بنصرہ العزیز آمین۔

حدیث نمبر : 234
حدثنا آدم، قال حدثنا شعبة، قال أخبرنا أبو التياح، يزيد بن حميد عن أنس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي قبل أن يبنى المسجد في مرابض الغنم‏.‏
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا مجھے ابوالتیاح یزید بن حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی تعمیر سے پہلے نماز بکریوں کے باڑے میں پڑھ لیا کرتے تھے۔ معلوم ہوا کہ بکریوں وغیرہ کے باڑے میں بوقت ضرورت نماز پڑھی جا سکتی ہے۔
 
Top