1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مہر مؤجل کی سپردگی سے قبل بیوی کا انتقال اور اس مسئلہ میں شریعت کا حکم.

'حق مہر' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عبد الرحمن الكاشفي, ‏جون 23، 2019۔

  1. ‏جون 23، 2019 #1
    محمد عبد الرحمن الكاشفي

    محمد عبد الرحمن الكاشفي مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2019
    پیغامات:
    32
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    السلام عليكم
    سوال:اگر شوہر مہر ادا نہ کیا ہو اور بیوی کا انتقال ھو گیا تو مہر کسکو دیا جائے ؟
    یا پہر اسکا کیا حکم ہے براہ کرم جواب دیکر شکریا کا موقع عنایت فرمائے.

    الجواب و بالله التوفيق
    مہر کی رقم بیوی کا حق ہے. جب تک ادا نہ کرے یا بیوی خوشدلی سے معاف نہ کرے واجب الادا رہتا ہے۔ بوقت نکاح اگر مہر مؤجل مقرر کیا تھا تو دونوں میں سے کسی ایک کی موت سے قطعی واجب الاداء ہوجاتا ہے۔ مہر کی رقم مرحومہ کے ترکہ میں شامل ہوگی اور اس ترکہ کو شرعی طور پر تقسیم کردیا جائے گا جس میں شوہر بھی حسب قواعد وراثت اپنا مقررہ حصہ پائے گا۔
    حررہ محمد عبد الرحمن کاشفی اڑیشوی
    ــــــــــــ ــــــــ ـــــــــ ــــــــــ ــــــــ
    الأدلة على ما قلنا
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    فالصَّداق يَجِبُ للمرأة بنفس العقد ويتأكَّد جميعُه بأمورٍ مِنْها:
    وفاةُ أحدِ الزَّوْجَيْنِ، ويَحِلُّ المؤجَّلُ منه بِحُلولِ أجله؛ فقد روى أبو داود والترمذي والنسائيُّ عن علقمةَ عنِ ابن مسعود رضي الله عنه: أنَّه سُئِلَ عن رجُلٍ تزوَّج امرأةً ولم يفرض لها صَداقًا ولم يدخل بها حتى مات, فقال ابن مسعود: لها مثل صَداق نسائِها, لا وَكْسَ ولا شَطَط, وعليها العِدَّة, ولها الميراث، فقام معقل بن سنان الأشجعي فقال: "قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في برْوَع بنتِ واشق -امرأة منَّا- مثل الذي قضيتَ، ففرح بها ابن مسعود"، وصحَّحه ابنُ مهدي وابنُ حزم والألباني في "إرواء الغليل"،

    والحديث نص في محل النزاع، كما قال ابن قدامة، وهو مذهب ابن مسعود وأبي حنيفة وأحمد وقول للشافعي. قال الشوكاني في "السيل الجرَّار": فيه دليل على ثبوت المهر بالموت بطريق الأولى لأنَّه إذا ثبت مع عدم التَّسمية يثبُتُ معها بِفَحْوَى الخطاب، فهذا الحديث يَكْفِي في الاستدلال به على أنَّ الموت يجب به المهرُ والميراثُ،

    وأمَّا قولُه سبحانه: {وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ} [البقرة: 237] فلا معارضة بينه وبين هذا الحديث؛ لأنَّ هذا الحديث في الموت والآية في الطلاق، وقياس الموت على الطَّلاق قياسٌ في مُقابلة النَّصِّ وهو فاسد الاعتبار، والحديث صحيحٌ وله شواهِدُ، ولم يُصِبْ مَن أعلَّه بالاضطراب". اهـ. وقال الكاساني في "بدائع الصنائع": "فالمَهْرُ يَتَأَكَّدُ بأَحَدِ مَعَانٍ ثَلاثَةٍ: الدُّخُولُ وَالْخَلْوَةُ الصَّحِيحَةُ وَمَوْتُ أَحَدِ الزَّوْجَيْنِ" انتهى،
    وقال في "الهداية": "وما سُمِّي مهرًا -عشرة فما زاد- فعليْهِ المسمَّى إن دخل بها أو ماتَ عنها"،
    وقال الصنعاني في "سبل السلام": "والحديث دليلٌ على أنَّ المرأة تستحق كمال المهر بالموت، وإن لم يُسَمِّ لها الزوج، ولا دَخَلَ بِها، وتستحقُّ مَهْرَ مِثلها".
    قال ابن قدامة في "المغني": "ولو مات أحدُهُما قبل الإصابة، وقبل الفرض، ورثه صاحبه، وكان لها مَهْرُ نسائِها" أمَّا الميراث فلا خلافَ فيه وأمَّا الصَّداق، فإنَّه يكمل لها مهر نِسائِها، في الصحيح من المذهب ... فإنَّ الموت يَتِمُّ به النكاح فيكمل به الصَّداق، والطلاق يقطَعُه ويُزِيله قبل إتمامه، ولذلكَ وَجَبَتِ العِدَّة بالموتِ قبل الدخول، ولم تَجِبْ بالطلاق، وكمل المسمَّى بالموت ولم يكمل بالطلاق. وعليه؛ فالزوجة بوفاتِها تستحقُّ المَهْرَ كاملاً -مقدَّمه ومؤخَّره- فيضافُ إلى ما خلفتْهُ من تركة ثُمَّ يُقْسَمُ على ورثَتِها الشرعيِّين ومنهم الزوج،، والله أعلم
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 24، 2019
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں