1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

میرا کوئی فرقہ نہیں کیا یہ کہنا صحیح ہے - آپ کی کیا رائے ہیں

'عقیدہ اہل سنت والجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏دسمبر 09، 2013۔

  1. ‏دسمبر 09، 2013 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,971
    موصول شکریہ جات:
    6,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    میری رائے یہ ہے !!!
    1476376_10201572594655809_1846258297_n.jpg
     
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 18، 2018 #2
    آفتاب خان

    آفتاب خان مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2018
    پیغامات:
    2
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    اس حدیث مبارکہ میں امت مسلمہ کے اندر تفریق و گروہ بندی کی جو پیشن گوئی تھی وہ محض بطور تنبیہ و نصیحت کے تھی -بد قسمتی سے مسلمانوں کے مختلف فرقوں نے اس حدیث کو اپنے لئے ڈھال بنا لیا ہے اور (ماآنا علیہ واصحابی) کی کسوٹی سے صرف نظر کرتے ہیں ہرگر وہ اپنے آپ کو ناجی فرقہ کہتا ہے اور اپنے علاوہ دیگر تمام مکاتب فکر کو ضال و مضل اور بہتر (٧٢) فرقوں میں شمار کرتا ہے-
    اس حدیث میں مذموم فرقوں سے فروعی مسائل میں اختلاف کرنے والے فرقے مراد نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد وہ فرقے ہیں جن کا اختلاف اہل حق سے اصول دین و عقائد اسلام میں ہے، مثلا مسائل توحید، تقدیر، نبوت، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت و موالات وغیرہ میں، کیونکہ انہی مسائل میں اختلاف رکھنے والوں نے باہم اکفار و تکفیر کی ہے، فروعی مسائل میں اختلاف رکھنے والے باہم اکفار و تکفیر نہیں کرتے، (٧٣) واں فرقہ جو ناجی ہے یہ وہ فرقہ ہے جو سنت پر گامزن ہے، بدعت سے مجتنب اور صحابہ کرام سے محبت کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلتا ہے، حدیث سے یہ بھی پتا چلا کہ ان تمام گمراہ فرقوں کا شمار بھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امت میں کیا ہے وہ جہنم میں تو جائیں گے، مگر ہمیشہ کے لئے نہیں، سزا کاٹ کر اس سے نجات پا جائیں گے (٧٣) واں فرقہ ہی اول وہلہ میں ناجی ہوگا کیونکہ یہی سنت پر ہے، یہی باب سے مناسبت ہے۔
    قرآن نے فرقہ واریت کی ممانعت فرمائی ہے - لہٰذا ہم کو فرقہ واریت سے بچنا ہے مگر پھر بھی کچھ ملسمان شیطان کے زیر اثر فرقے بنایں گے جس کی بشارت
    نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمائی -
    لہٰذا یہ کہنا درست ہے کہ میرا کوئی فرقہ نہیں میں تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کے طریقه پر مسلمان ہوں ، قرآن نے بھی ہماری نام مسلم رکھا -
    إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۚ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّـهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ( ١٥٩ سورة الأنعام)
    ترجمہ : "جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے یقیناً ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں، ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے، وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے-

    وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّـهُ ۗ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴿٧١
    سورة التوبة

    مومن مرد وعورت آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار ومعاون اور) دوست ہیں، وه بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، نمازوں کو پابندی سے بجا ﻻتے ہیں زکوٰة ادا کرتے ہیں، اللہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ بہت جلد رحم فرمائے گا بیشک اللہ غلبے واﻻ حکمت واﻻ ہے (9:71
    سورة التوبة
    )

    وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ﴿١١٥﴾ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿١١٦
    سورة النساء


    مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے، درآں حالیکہ اس پر راہ راست واضح ہو چکی ہو، تو اُس کو ہم اُسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بد ترین جائے قرار ہے اللہ کے ہاں بس شرک ہی کی بخشش نہیں ہے، اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہوسکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہے جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا (4:115,116
    سورة النساء
    )

    فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ۚ إِلَى اللَّـهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ (5:48)

    لہذا تم سب نیکیوں کی طرف سبقت کرو کہ تم سب کی بازگشت اللہ ہی کی طرف ہے -وہاں وہ تمہیں ان تمام باتوں سے باخبر کرے گا جن میں تم اختلاف کررہے تھے (5:48)

    " ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ ! ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﻛﺮﻭ ﺍللہ ﺗﻌﺎلی ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﻛﺮﻭ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﯽ ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﮔﺮ ﻛﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﻣﯿﮟ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﻛﺮﻭ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻟﻮﭨﺎؤ، ﺍللہ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ، ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍللہ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻛﮯ ﺩﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮨﮯ ۔ ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﺑﺎﻋﺘﺒﺎﺭ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﻛﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ ۔"(قرآن )
    اللہ تعالیٰ نے دین اسلام پر قائم لوگوں کا نام "مسلم" رکھا ہے واحد مرد ہے تو "مسلم" ، دو مسلم مرد ہیں تو "مسلمان"، تین یا زیادہ جمع میں مسلم مرد ہوں تو "ملسمون" یا "مسلمین"، اس کا مقبول اردو، ترجمہ "مسلمان" Muslim ہے.قرآن میں 43 مختلف شکل میں استعمال ہوا ہے ، یہ روٹ س-ل-م سے ماخوز ہے -
    اورمسلمان کے علاوہ دوسرے نام بھی اللہ تعالیٰ نے قران کریم میں ہمارے لیئے پسند فرمائے ہیں :
    " یٰایھا الذین اٰمنوا " یعنی اے ایمان والو. واحد کے لیئے "مؤمن" جمع کے لیئے "مؤمنون یا مؤمنین".
    پھر مسلمانوں کی صفتیں ہیں اور صفاتی نام بھی ہیں.
    ربانی، ربٰنیون یا ربٰنیین، اور متقی متقون یا متقین اور محسن، محسنون صادق صادقون اور بھی صفاتی نام تو ہیں.
    لیکن سنی، شیعہ، بریلوی، دیوبندی، حنفی مالکی، شافعی حنبلی. اہل حدیث ، سلفی ، وہابی یا جن ناموں سے فرقے موسوم ہیں اور آپس میں جھگڑا کرتے ہیں ان ناموں کا ذکر نہیں-
    وَ جَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِيْ هٰذَا لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا عَلَيْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِيْرُؒ(22:78 الحج )
    مفھوم : اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔اُس نے تمہیں اپنے کام کےلیے چُن لیا ہےاور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ قائم ہو جاوٴ اپنے باپ ابراہیمؑ کی ملّت پر۔ اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام ”مسلم“ رکھا تھا اور اس (قرآن)میں بھی (تمہارا یہی نام ہے )۔ تاکہ رسولؐ تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ۔ پس نماز قائم کرو ، زکوٰة دو، اور اللہ سے وابستہ ہو جاوٴ۔ وہ ہے تمہارا مولیٰ، بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار۔ (22:78 الحج )
    تفسیر: ”تمہارا“ کا خطاب مخصوص طور پر سرف اُنہی اہلِ ایمان کی طرح نہیں ہے جو اِس آیت کے نزول کے وقت موجود تھے ، یا اس کے بعد اہلِ ایمان کی صف میں داخل ہوئے، بلکہ اس کے مخاطب تمام وہ لوگ ہیں جو آغازِ تاریخِ انسانی سے توحید ، آخرت، رسالت اور کتبِ الہٰی کے ماننے والے رہے ہیں۔ مدّعا یہ ہےکہ اِس ملّتِ حق کے ماننے والے پہلے بھی ”نوحی“،”ابراہیمی“،”موسوی“،”مسیحی“ وغیرہ نہیں کہلاتے تھے بلکہ ان کا نام”مسلم“(اللہ کا تابع فرمان) تھا، اور آج بھی وہ ”محمدی“ نہیں بلکہ”مسلم“ ہیں۔ اس بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگوں کے لیےیہ سوال معمّا بن گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرووں کا نام قرآن سے پہلے کس کتاب میں مسلم رکھا گیا تھا۔(تفہیم القرآن )
    یہ دین کوئی نیا دین نہیں۔ یہ تمہارے اسی باپ ابراہیم کا دین ہے جس کی عظمت کے گیت تم گاتے ہو جس کی زندگی کو ایک مثالی زندگی یقین کرتے ہو جس کی ذات والا صفات کی طرف اپنے آپ کا منسوب کرکے تم صد عزو افتخار محسوس کرتے ہو اسی نے تمہیں مسلم کا معزز اور محترم لقب عطا فرمایا ہے۔ ملۃ ابراہمی کے برحق، سراپا یمن و برکت اور سب اقوام عالم کے لیے آیہ رحمت ہونے پر اگر تمہیں کسی دلیل کی ضرورت ہو۔ اگر کسی کو کوئی گواہ درکار ہو تو یہ دیکھو میرا رسول مکرم، میرا حبیب معظم کھڑا ہے۔ اس کی کتاب زیست کا ہر ورق اس دین و ملت کی حقانیت و صداقت کی گواہی دے رہا ہے۔ اس کی راتوں کا سوزوگداز اس کے دنوں کی مصروفیتیں، اس کا ہر بول، اس کا ہر فعل، اپنے دوستوں کے ساتھ اس کا برتاؤ اپنے دشمنوں کے ساتھ اس کا سلوک، اس کی جنگیں اور اس کی صلحیں، اس کی مکی زندگی، غرضیکہ تم اسے جس پہلو سے دیکھنا چاہو دیکھو۔ جس کسوٹی پر پرکھنا چاہو خوب پرکھو۔ اگر تمہاری چشم دل نور حق کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتی ہے تو تم بےاختیار کہہ اٹھو گے کہ اس سے سچا گواہ آج تک چشم فلک پیرنے نہیں دیکھا۔ تمہارا دل مان جائے گا کہ جس کی گواہی یہ دے رہا ہے اس کے برحق ہونے میں ذرا تامل نہیں کیا جاسکتا۔
    اور ایسے سچے گواہ کی گواہی قبول کرکے ایمان لانے والو! مسلم کے محترم و معزز لقب سے سرفراز ہونے والو! بزم عالم میں تمہارا مقام بھی یہ ہے کہ تم اپنی گفتار، اپنے کردار، اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی اس طرح بسر کرو کہ تم اس دین کے برحق ہونے کی ایسی گواہی دے سکو جسے تسلیم کرنے کے بغیر کسی کو چارہ کار نہ ہو۔ لوگ تمہیں دیکھ کر، تم سے مل کر، اور تم سے معاملہ کرکے یہ یقین کر لیں کہ جس دین کے تم پیروکار ہو وہی سچا دین ہے۔ جس نظام حیات کے تم نقیب ہو سارے جہان کی فلاں و سلامتی کا صرف یہی ضامن ہو سکتا ہے۔ (تفسیر ضیاء القرآن )​
    ھُوَ سَمّٰىکُمُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ۬ ۙ مِنۡ قَبۡلُ وَ فِیۡ ہٰذَا( سورة الحج22:78)
    اسی اللہ.نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے، اس سے پہلے اور اس (قرآن) میں بھی تمہارا نام مسلم.ہے۔
    سورة البقرة 132
    وَ وَصّٰی بِہَاۤ اِبۡرٰہٖمُ بَنِیۡہِ وَ یَعۡقُوۡبُ ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰی لَکُمُ الدِّیۡنَ فَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۳۲﴾ؕ
    اور اسی دین کی وصیت کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے کہ اے میرے بیٹو! بیشک اللہ نے یہ دین تمہارے لئے چن لیا تو نہ مرنا مگر مسلمان ۔
    اللہ تعالیٰ نے ہم کو یہ ہی حکم فرمایا:
    3 : سورة آل عمران 102
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَ لَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿آل عمران:۱۰۲﴾
    اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان.
    اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی کریم کے توسط سے سب اھل کتاب کو اس بات پر متفق ہونے کی دعوت دی.
    3 : سورة آل عمران 64
    قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ تَعَالَوۡا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍۢ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمۡ اَلَّا نَعۡبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشۡرِکَ بِہٖ شَیۡئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُوۡلُوا اشۡہَدُوۡا بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۶۴﴾
    آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالٰی کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں ،نہ اللہ تعالٰی کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں ،پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں.
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلا مسلم ہونے کے لیئے حکم دیا گیا:
    6 : سورة الأنعام 163
    لَا شَرِیۡکَ لَہٗ ۚ وَ بِذٰلِکَ اُمِرۡتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۶۳﴾
    اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا مسلمان ہوں.
    39 : سورة الزمر 12
    وَ اُمِرۡتُ لِاَنۡ اَکُوۡنَ اَوَّلَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۲﴾
    اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلم (فرماں بردار) بن جاؤں۔
    مسلم لفط کی معنی ہے: "فرمانبردار"
    اللہ تعالیٰ نے اسلام میں پورا پورا داخل ہونے کا حکم فرمایا ہے نہ کہ کسی بھی فرقہ میں نہ ہی کسی فرقہ واریت والے نام والے کسی بھی مسلک میں.
    2 : سورة البقرة 208
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ادۡخُلُوۡا فِی السِّلۡمِ کَآفَّۃً ۪ وَ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۰۸﴾
    اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجائواور شیطان کی پیروی نہ کروکیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے.
    إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ ۖ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿١٣١۔2﴾
    اس کا حال یہ تھا کہ جب اس کے رب نے اس سے کہا: "مسلم ہو جا"، تو اس نے فوراً کہا: "میں اللہ رب العا لمین کا "مسلم" ہو گیا"
    رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴿١٢٨۔2﴾
    اے رب، ہم دونوں کو اپنا مسلم (مُطیع فرمان) بنا، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا، جو تیری مسلم ہو، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا، اور ہماری کوتاہیوں سے در گزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
    مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَـٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (3:67)
    ابراہیم تو نہ یہودی تھے نہ نصرانی تھے بلکہ وه تو یک طرفہ (خالص) مسلمان تھے، وه مشرک بھی نہیں تھے، (3:67)
    رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ ۚ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ (12:101)
    اے میرے پروردگار! تو نے مجھے ملک عطا فرمایا اور تو نے مجھے خواب کی تعبیر سکھلائی۔ اے آسمان وزمین کے پیدا کرنے والے! تو ہی دنیا وآخرت میں میرا ولی (دوست) اور کارساز ہے، تو مجھے اسلام کی حالت میں فوت کر اور نیکوں میں ملا دے (12:101)
    إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّـهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّـهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا (33:35)
    بےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں مومن مرد اور مومن عورتیں فرماں برداری کرنے والے مرد اور فرمانبردار عورتیں راست باز مرد اور راست باز عورتیں صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اپنی شرمگاه کی حفاﻇت کرنے والے مرد اور حفاﻇت کرنے والیاں بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان (سب کے) لئے اللہ تعالیٰ نے (وسیع) مغفرت اور بڑا ﺛواب تیار کر رکھا ہے (33:35)
    قبر - سوالات اور مسلمان کے جوابات

    "… پھر دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور اپنے پاس بیٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں:
    تمہارا رب کون ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔ تو جواب دیتا ہے: میرا رب اللہ ہے،

    پھر کہتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ جواب دیتا ہے، میرا دین اسلام ہے،

    پھر اس سے پوچھتے ہیں: یہ شخص جو تمہارے مابین مبعوث کیا گیا کون ہے؟ ۔۔۔۔۔۔ کہتا ہے: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں،
    پھر کہتے ہیں: تمہارا علم کیا ہے؟
    کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا اور تصدیق کی،
    پھر آسمان سے ایک آواز آتی ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا، اس کے لئے جنت میں فرش بچھا دو، اور جنت کا دروازہ کھول دو،…."

    [ابو داؤد (4753) مسند احمد (18063) اور یہ الفاظ مسند احمد کے ہیں ۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح الجامع (1676) میں صحیح قرار دیا ہے ۔ صحیح مسلم 2871, ابن ماجہ 4269[
    نوٹ فرمائیں … قبر میں مسلمان سے, الله ، اسلام ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اور کتاب اللہ (قرآن) کے بارے میں سوالات ہوں گے- اب ہم جو بھی تاویلات، ایجادات کرلیں....قرآن و حدیث غیر مبہم ہیں .. [واللہ اعلم ]
    هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَـٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ ( سورة الحج22:78)
    اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام “مسلم” رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ –
    فرقہ واریت کا خاتمہ : پہلا قدم
    ⬅ *فرقہ واریت \ اختلاف کا حل :*
    ہر شخص اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھیوں کی رہنمائی پر عمل کرنے کی پابند ہے. یہ اہل سنت کا راستہ ہے.
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :لَایَبقٰی الاِسلاَمِ اِلاَّ اِسمُہُ (میں اسلام کے سوا نام نہیں رکھوں گا) [مشکوۃ:کتاب العلم، رقم:276]
    اللہ تعالى كا فرمان ہے:
    قُلْ هَـٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّـهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي ۖ وَسُبْحَانَ اللَّـهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (12:108)
    آپ کہہ دیجئے میری راه یہی ہے۔ میں اور میرے متبعین اللہ کی طرف بلا رہے ہیں، پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ۔ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں (12:108)
    وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا (4:115)
    اور جو شخص بھی ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد رسول سے اختلاف کرے گا اور مومنین کے راستہ کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کرے گا اسے ہم ادھر ہی پھیر دیں گے جدھر وہ پھر گیا ہے اور جہّنم میں جھونک دیں گے جو بدترین ٹھکانا ہے (4:115)
    1. *"بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کر دیا اور گروہ گروہ بن گے, آپ کا ان سے کوئ تعلق نہیں بس ان کا معاملہ ﷲ تعالی کے حوالے ہے پھر ان کو ان کا کیا ہوا جتلا دیا جاے گا"* (الانعام : 159)

      2. *"آپ کہیے کہ اس پر بھی وہی قادر ہے کہ تم پر کوئ عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے یا تمہارے پاوں تلے سے یا کہ تم کو گروہ گروہ کر کے سب کو بھڑا دے اور تمہارے ایک کو دوسرے کی لڑائ چکھا دے۔ آپ دیکھیے تو سہی کہ ہم کس طرح دلائل مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں شاید وہ سمجھ جائیں"* (الانعام : 65)

      3. *"ہر گروہ اسی پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے"* (الروم : 32)

      4. *"بلکہ ان کے پاس حق آ گیا اور ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے ہیں"* (المؤمنون : 70)

      5. *"اور اگر آپ ان کا کہنا ماننے لگیں جو زمین میں اکثریت میں ہیں تو وہ آپ کو ﷲ کی راہ سے بہکا دیں گے وہ محض بے اصل خیالات پر چلتے ہیں اور بالکل قیاسی باتیں کرتے ہیں"* (الا نعام : 116)

      6. *"ان میں اکثر لوگ باوجود ﷲ پر ایمان رکھنے کے, مشرک ہیں"*(الیوسف : 106)

      7. *"اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ﷲ تعالی کی اتاری ہوئ کتاب کی تابعداری کرو تو جواب دیتے ہیں ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا گو کہ ان کے باپ دادا بے عقل اور گمراہ ہوں"* (البقرہ : 170)

      8. *"اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ﷲ تعالی نے جو احکام نازل فرمائے ہیں ان کی طرف اور رسول کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں ہم کو وہی کافی ہے جس پر ہم نے بڑوں کو پایا, کیا اگرچہ ان کے بڑے نہ کچھ سمجھ رکھتے ہوں اور نہ ہدایت رکھتے ہوں"*(المائدہ : 104)

      9. *"اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ﷲ کی اتاری ہوئ وحی کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو جس طریق پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے اسی کی تابعداری کریں گے اگرچہ شیطان ان کے بڑوں کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو"*(لقمان : 21)

      10. *"اس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے کہیں گے کہ کاش ہم ﷲ تعالی اور رسول کی اطاعت کرتے اور کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی مانی جنہوں نے ہم کو راہ راست سے بھٹکا دیا۔ پروردگار تو انہیں دگنا عذاب اور ان پر بہت بڑی لعنت فرما"*(الاحزاب : 66 - 68)

      11. نبی اکرم (ﷺ) تحجد کی نماز میں یہ دعا پڑھا کرتے *"اے ﷲ! جبرئیل , میکائیل اور اسرافیل کے رب , زمین اور آسمان کے پیدا کرنے والے , غائب اور حاضر کے جاننے والے , جن باتوں میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں ان کا فیصلہ تو ہی کرے گا۔ ان اختلاف کی باتوں میں تو مجھے اپنی توفیق سے حق کی راہ دکھلا کیونکہ سیدھے راستے کی طرف تو ہی ہدایت دیتا ہے جسے چاہے"* (صحیح مسلم)

      12. *"اور ایمان لاؤ اس چیز پر جو محمد (ﷺ) پر نازل کی گئ ہے , وہی حق ہے تمہارے رب کی طرف سے"* (محمد : 2)

      13. *"ﷲ نے آپ (ﷺ) پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے"*(النساء : 113)

      14. *"یہ کتاب شک سے پاک ہے"* (البقرہ : 2)

      15. *"یہ کتاب ﷲ رب العالمین کی طرف سے نازل کی گئ ہے جس میں کوئ شک نہیں"*(السجدہ : 2)

      16. *"یہ (رسول ﷺ) اپنی طرف سے کچھ نہیں بولتے , جو کچھ کہتے ہیں (دین میں) وہ ﷲ تعالی کی طرف سے وحی ہوتی ہے"*(النجم : 3 - 4)

      17. ﷲ ﷻ نے رسول ﷲ (ﷺ) کی بیویوں کو خطاب فرمایا : *"اور یاد کرو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں ﷲ کی آیات اور حکمت (صحیح احادیث کی باتیں)"* (الاحزاب : 34)

      18. *"حق کے بعد جو کچھ بھی ہے وہ گمراہی ہے"* (یونس : 32)

      19. *"اے ایمان والو! ﷲ کی اطاعت کرو اور رسول (ﷺ) کی اطاعت کرو اور (نافرمانی کر کے) اپنے اعمال برباد نہ کرو"*(محمد : 33)

      20. *"اور ﷲ تعالی اور اس کے رسول (ﷺ) کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو"* (انفال : 1)

      21. *"اے ایمان والو! ﷲ اور اس کے رسول (ﷺ) کا کہنا مانو اور سنتے جانتے اس (کا کہنا ماننے) سے روگردانی مت کرو"*(انفال : 20)

      22. *"اور ﷲ کی اور اس کے رسول (ﷺ) کی فرمانبرداری کرتے رہو , آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ حاے گی"*(انفال : 46)

      23. *"اے ایمان والو! ﷲ کی اطاعت کرو اور رسول (ﷺ) کی اطاعت کرو , اور تم میں اقتدار والے ہیں ان کی , پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ , ﷲ تعالی (قرآن مجید) کی طرف اور رسول (دین کے متعلق صحیح احادیث) کی طرف , اگر تمہیں ﷲ تعالی اور قیامت ک دن پر ایمان ہے, یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے"* (النساء : 59)

      24. *"ﷲ کی اور اس کے رسول (ﷺ) کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جاے"* (آل عمران : 132)

      25. *"اور جو ﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے , ﷲ اسے اپنی جنت میں داخل کرے گا جس کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں"*(النساء 13)

      26. *"کہ دیجیے کہ ﷲ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم اس (اطاعت) سے منہ موڑو تو ﷲ ایسے کافروں سے محبت نہیں رکھتا"*(آل عمران : 32)
      27. *"اور جس نے رسول (ﷺ) کی اطاعت کی تو درحقیقت اس نے ﷲ کی اطاعت کی"*(النساء : 80)

      28. *"اے نبی (ﷺ) اس چیز کو پکڑ لیں جو آپ (ﷺ) کی طرف وحی کی جاتی ہے بےشک آپ (صراط مستقیم) سیدھے راستے پر ہیں , یہ نصیحت آپ کے لیے ہے آپ کی قوم کے لیے بھی ہے"*(الزخرف : 43 - 44)

      29. *"ایمان والوں کی یہ شان ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ ﷲ اور اس کے رسول (ﷺ) کی طرف (کہ تمہارے اختلافات کا) فیصلہ کریں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور اطاعت کی (مان لینا) پس یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں"* (النور : 51)

      30. *"جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس چیز (قرآن مجید) کی طرف جو ﷲ نے نازل کی ہے اور رسول (حکمت : دین میں صحیح احادث) کی طرف تو آپ دیکھ لیں گے کہ یہ منافق آپ سے منہ پھیر کر رکے جاتے ہیں"*(النساء : 61)

      31. *"اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں جو بالکل صاف صاف ہیں تو یہ لوگ جن کو ہمارے پاس آنے کی امید نہیں ہے یوں کہتے ہیں کہ اس کے سوا دوسرا قرآن لایے یا اس میں کچھ ترمیم کر دییے۔ مجھے یہ حق نہیں کہ میں اپنی طرف سے اس میں ترمیم کروں, بس میں تو اس کی اطباع کروں گا جو میرے پاس وحی کے زریعے پہنچا ہے , اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں"*(یونس : 15 - 16)

      32. *"اور ﷲ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا"* (الکھف : 26)

      33. *"یہ لوگ آپ (ﷺ) کو اس وحی سے جو ہم نے آپ (ﷺ) پر اتاری ہے , بہکانا چاہتے ہیں کہ آپ (ﷺ) اس کے سوا کچھ اور ہی ہمارے نام سے گھڑ گھڑا لیں , تب تو آپ (ﷺ) کو یہ لوگ اپنا ولی دوست بنا لیتے , اگر ہم آپ (ﷺ) کو ثابت قدم نہ رکھتے تو بہت ممکن تھا کہ ان کی طرف قدرے مائل ہو ہی جاتے , تو ہم بھی آپ (ﷺ) کو دوہرا عذاب دنیا کا کرتے اور دوہرا ہی موت کا, پھر آپ (ﷺ) تو اپنے لیے ہمارے مقابلے میں کسی کو مددگار نہ پاتے"*(بنی اسرائیل : 73 -75)

      34. *"بےشک ﷲ کے نزدیک دین اسلام ہے"*(آل عمران : 19)

      35. *"آج (وہ خاص دن ہے) ہم نے تمہارے لئے دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا"*(المائدہ : 3)

      36. *"کیا ان لوگوں نے ایسے (ﷲ کے) شریک (مقرر کر رکھے) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دیے ہیں جو ﷲ کے فرمائے ہوئے نہیں"* (الشوری : 21)

      37. *"بس ایمان والے تو ایسے ہیں کہ جب ﷲ تعالی کا ذکر آتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ﷲ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائ جاتی ہیں تو آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ کر دیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں"* (الانفال : 2)
    قرآن و سنت پر عمل کریں تو فرقہ بازی میں نہ پڑیں
    واللہ اعلم
     
  3. ‏مارچ 18، 2018 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یہاں ترجمہ میں آپ سے غلطی ہوگئی ہے ،
    مکمل حدیث صحیح ترجمہ کے ساتھ دیکھئے :
    وعن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يوشك أن يأتي على الناس زمان لا يبقى من الإسلام إلا اسمه ولا يبقى من القرآن إلا رسمه مساجدهم عامرة وهي خراب من الهدى علماؤهم شر من تحت أديم السماء من عندهم تخرج الفتنة وفيهم تعود» . رواه البيهقي في شعب الإيمان (مشکوۃ ،کتاب العلم )
    ترجمہ :
    " اور جناب علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا (یعنی انہیں پر ظالم) مسلط کر دیئے جائیں گے۔" (بیہقی)

    اور اسناد کے لحاظ سے یہ روایت بالکل ضعیف ہے ، اس کی سند ناکارہ ہے ،جس کی تفصیل یہ ہے :
    امام بیہقیؒ کی کتاب "شعب الایمان " میں اسناد کے ساتھ مکمل حدیث یوں ہے :
    أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان، أخبرنا أحمد بن عبيد الصفار، حدثنا محمد بن عيسى بن أبي إياس، حدثنا سعيد بن سليمان، عن عبد الله بن دكين، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جده، عن علي بن أبي طالب، رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يوشك أن يأتي على الناس زمان لا يبقى من الإسلام إلا اسمه، ولا يبقى من القرآن إلا رسمه، مساجدهم عامرة وهي خراب من الهدى، علماؤهم شر من تحت أديم السماء من عندهم تخرج الفتنة وفيهم تعود "
    الحديث ضعيف لا يصح ، وفيه ثلاث علل :
    الأولى :
    عبد الله بن دكين – وإن روي توثيقه عن بعض أهل العلم – إلا أنه لا يقبل تفرده بالحديث ، فقد ضعفه كثير من النقاد وجرحوه برواية المناكير ، والجرح المفسر مقدم على التعديل المبهم .
    قال ابن معين : " ليس بشيء " انتهى من " الكامل " (4/227) .
    وقال أبو زرعة : " ضعيف " انتهى من " سؤالات البرذعي " (355) .
    وقال أبو حاتم : " منكر الحديث ، ضعيف الحديث ، روى عن جعفر بن محمد غير حديث منكر " انتهى من " الجرح والتعديل " (5/48)، وانظر: " تهذيب الكمال " (14/469) .

    ________
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں