1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

میڈیکل انسورینس جائز یا حرام

'فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد بن اقبال, ‏ستمبر 16، 2017۔

  1. ‏ستمبر 16، 2017 #1
    محمد بن اقبال

    محمد بن اقبال مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 16، 2017
    پیغامات:
    12
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبکاتہ، اہل علم سے گذارش ہے کہ وہ مہربانی کر کے رہنمائی فرماۓ کے میڈیکل انسورینس کرانا جائز ہے یا نہیں؟

    جواب کا منتظر
     
  2. ‏اکتوبر 11، 2017 #2
    محمد المالكي

    محمد المالكي رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2017
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    153
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

  3. ‏اکتوبر 11، 2017 #3
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    فقہی و اجتہادی مسائل کے حوالے سے جن امور میں فتاوی مطلوب ہوتے ہیں، ان کا جواب با سند علماء کو دینا چاہیئے!
    میں اس کا اہل نہیں!
    شاید اس سوال کو سوال جواب کے زمرے میں منتقل کرکے اس کا جواب دیا جا چکا ہوگا! اگر نہیں تو ان شاء اللہ اب شیوخ دے دیں گے!
     
  4. ‏اکتوبر 11، 2017 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,725
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

    ہیلتھ انشورنس
    شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 29 May 2014 09:14 AM
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    ہیلتھ انشورنس کے نام سے ایک کمپنی ہے جو ٤٠٠٠ روپے میں ایک کارڈ بنا کر دیتی ہے۔ وہ کارڈ پوری فیملی کے لئے ہوتاہے۔ ایک سال تک اس کارڈ کو استعمال کر سکتے ہیں۔ اس میں طریقہ کار کچھ اس طرح ہے کچھ مخصوص ہسپتال میں علاج بالکل فری ہے اور کچھ ہسپتال میں ٣٠ فیصد کی رعایت ہے جب بھی جتنا بھی علاج کروائیں تو اس پر پیسے نہیں دینے ہو نگے کیا یہ طریقہ صحیح ہے ۔؟

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    انشورنس کی تمام صورتیں واضح اور صريح سود ہیں، جس میں اوپر آپ کی بیان کردہ ہیلتھ انشورنس بھی ہے۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں۔

    1۔پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ بیع مجہول ہے، جس میں بیمار ہونے یا نہ ہونے دونوں کا احتمال ہے۔ اور پھر اگر وہ بیمار ہو ہی جائے تو اس بیماری کی نوعیت اور اس پر ہونے والے اخراجات بھی مجہول ہیں۔ اور شرعی نقطہ نظر سے بیع مجہول حرام ہے۔

    2۔ یہ جوئے کی شکل بن جاتی ہے کہ بیماری کی صورت میں آپ 4000 کے بدلے میں لاکھوں کے مستحق بن جاتے ہیں۔ جبکہ عدم بیماری کی صورت میں آپ اس 4000 سے بھی محروم ہیں۔ یہ کیوں۔؟ اور شریعت میں جوا بھی حرام ہے۔

    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
    فتوی کمیٹی
    محدث فتوی
    ربط
     
    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 2
    • لسٹ
  5. ‏اکتوبر 12، 2017 #5
    محمد بن اقبال

    محمد بن اقبال مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 16، 2017
    پیغامات:
    12
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    جزاك الله خيرا۔۔ ویسے شیخ محترم مقبول سلفی صاحب نے مجھے اس سوال کا جواب ایک دوسرے تھریڈ میں دے دیا تھا-
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں