1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

"نحن اقرب الیه من حبل الورید" اور ایک غلطی فهمی کا ازاله.

'عقیدہ اہل سنت والجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عثمان رشید, ‏اگست 12، 2019۔

  1. ‏اگست 12، 2019 #1
    محمد عثمان رشید

    محمد عثمان رشید رکن
    جگہ:
    پاکستان فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2017
    پیغامات:
    86
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    "ولقد خلقنا الانسان ونعلم ما توسوس به نفسه ونحن اقرب الیه من حبل الورید."
    (سورۃ ق ۱۶.)
    ترجمه:
    "هم نے انسان کو پیدا کیا هے اور اسکے دل میں جو خیالات اٹهتے هیں ان سے هم واقف هیں اور هم اس کی شه رگ سے بھی زیاده اس سے قریب هیں."
    .
    "فلو لا اذا بلغت الحلقوم* وانتم حینذ تنظرون* ونحن اقرب الیه منکم ولکن لا تبصرون."
    (الواقعه ۸۳, ۸۵.)
    "پس جبکه روح نر خرے تک پهنچ جائے اور تم اس وقت آنکھوں سے دیکھتے رهو هم اس شخص سے به نسبت تمهارے بهت زیاده قریب هوتے هیں لیکن تم نهیں دیکھ سکتے."
    .
    یهاں لفظ "نحن اقرب الیه" سے بعض حضرات سے یه شبه پیدا کیا که الله انسان کے ساتھ هے لیکن هم اس تکلف میں نهیں جاتے که وه کیسے هیں لیکن وه ساتھ هے جیسے اسکی شان کے لائق هے.
    تو هم الله کے فضل وکرم سے کپھ گزارشات پیش کرنا چاهتے هیں
    سب سے پهلے تو یه عرض هے که الله تعالی بائن من خلقه هے اور عرش پر مستوی هے جیسا که علماء نے ذکر کیا هے. رهی بات اس آیت کی تو مفسرین نے اس آیت کی تفسیر یه بیان کی هے که الله اپنے علم وقدرت کے لحاظ سے شه رگ سے بھی قریب هے اس سے قرب مکانی وقرب حلول واتحاد مراد نهیں. الله کی ذات اس سے پاک هے. اور بعض لوگوں نے اس سے فرشتے مراد لیتے هیں.
    .
    دوسری بات یه هے که یه آیت آیات صفات میں سے هے که نهیں هے اس میں اختلاف هے
    اس میں دو قول هیں ایک قول یه هے که یه آیت آیات صفات میں نهیں هے یهاں قرب سے مراد الله تعالی کی ذات نهیں بلکه فرشتے مراد هیں یه قول امام طبری, ابن تیمیه, ابن القیم, ابن کثیر, محمد بن ابراهیم آل الشیخ, وابن عثیمین رحمهم الله کا هے.
    (تفسیر الطبری ۲۲/ ۳۷۳. فی کلامه علی آیه الواقعه. مجموع الفتاوی ج ۵ ص ۴۹۴, ۵۰۲, بیان تلبیس الجھمیه لابن تیمیه ج ۶ ص ۳۰, الفوائد لابن القیم ص ۱۲, المدارج السالکین لابن القیم ج ۲ ص ۲۲۰. الروح ص ۳۱۴, مختصر الصواعق للموصلی ج ۳ ص ۱۲۵۰, فتاوی ورسائل الشیخ محمد بن ابراهیم ج ۱ ص ۲۱۱, شرح القواعد المثلی ص ۲۹۶. ابن کثیر ج ۴ ص ۳۴۵.)
    صرف فرشتے مراد لینے کا ایک قول صلاح الدین یوسف صاحب کا بھی هے جیسا که انهوں نے اپنی تفسیر میں الواقعه کی آیت کے تحت ذکر کیا.
    .
    #نمبر ۲.
    "نحن اقرب الیه من حبل الورید"
    (سورۃ ق)
    "نحن اقرب الیه منکم..."
    (سورۃ الواقعه.)
    "نتلو علیک من نبا موسی وفرعون بالحق لقوم یومنون."
    (القصص ۳.)
    "نحن نقص علیک احسن القصص بما اوحینا علیک هذا القرآن."
    (یوسف ۳.)
    وقال
    "ان علینا جمعه وقرآنه فاذا قراناه فاتبع قرآنه ثم ان علینا بیانه."
    (القیامه ۱۷-۱۹.)
    ان آیات میں "نحن" کا لفظ جمع کا صیغه هے. اور یه آیات اس بات پر دلالت کرتی هیں که اس سے مراد فرشتے هیں نه که الله کی ذات اور یه معنی پر صحیح هوتا هے که "اسکے دل میں جو خیالات اٹهتے هیں ان سے هم واقف هیں اور هم اس کی شه رگ سے بھی زیاده اس سے قریب هیں"
    اس آیت کا سیاق وسباق بھی اس پر دلالت کرتا هے که یهاں مراد فرشتے هیں نه که الله کی ذات مراد هے اور نه هی یهاں الله کا علم مراد هے.
    حالانکه الله فرشتوں کے ذریعے جاننے کا محتاج نهیں بلکه یه تو اتمام حجت کے لئے هے. اور صلاح دین یوسف صاحب نے بھی اپنی تفسیر میں سورۃ الواقعه کے تحت ذکر کیا هے که یهاں الله کا علم مراد هے یا فرشتے مراد هے.
    (مجموع الفتاوی ج ۵ ص ۵۰۷, وینظر ج ۵ ص ۵۱۵, بیان تلبیس لابن تیمیه ج ۶ ص ۳۶.
    مدارج السالکین ج ۲ ص ۲۲۰. الفوائد لابن القیم ص ۱۲. المحرر المجیز لابن عطیه ج ۸ ص ۱۸۶. وفتح القدیر للشوکانی ج ۷ ص ۲۹.)
    .
    دوسرا قول یه هے که یه آیت آیات صفات میں سے هے لیکن اس میں قرب مذکوره قرب الله عزوجل هی هے لیکن ذات کے اعتبار سے نهیں بلکه علم کے اعتبار سے هے.
    اور یه قول امام اسحاق بن راهویه,
    (الابانه ابن بطه ج ۱ ص ۱۶۱ رقم ۱۱۸. سیر اعلام النبلاء ج ۱۱ ص ۳۷۰.)
    امام احمد بن حنبل,
    (الابانه لابن بطه رقم ۱۱۶. ابطال التاویلات للفراء رقم ۲۸۶, ج ۲ ص ۲۸۹, طبقات الحنابله لابی یعلی ج ۱ ص ۶۱, حادی الارواح لابن القیم ج ۱ ص ۹۹.)
    امام دارمی
    (نقص للدارمی علی المریسی ج ۱ ص ۴۴۸.)
    ایک قول امام الطبری کا بھی
    (تفسیر الطبری ۲۱/ ۴۲۲, ۲۲/ ۳۸۵.)
    ابن الماجشون
    (مجموع الفتاوی ج ۵ ص ۵۰۰.)
    ابن جزی
    (التسهیل لابن جزی ج ۲ ص ۳۶۴.)
    امام ابو عمر الطلمنکی
    (مجموع الفتاوی لابن تیمیه ج ۵ ص ۵۰۱, بیان تلبیس ج ۶ ص ۲۷.)
    امام البغوی
    (تفسیر البغوی ج ۱ ص ۲۰۴, ج ۷ ص ۳۵۸, ج ۸ ص ۲۵.)
    ایک قول ابن تیمیه کا
    (مجموع الفتاوی ج ۴ ص ۲۵۳, ج ۵ ص ۱۲۲, ج ۵ ص ۲۲۷.)
    ایک قول ابن القیم کا
    (الفوائد ص ۱۲, مدارج السالکین ج ۲ ص ۲۲۰.)
    ایک قول امام شوکانی کا
    (فتح القدیر ج ۵ ص ۸۶. وفی ص ۹۲, ۱۹۹)
    والسعدی
    (تفسیر السعدی ص ۳۸۴, ۳۸۵, ۸۰۵.)
    والشنقیطی
    (تفسیر اضوء البیان ج ۷ ص ۶۸۷.)
    وهو قول طائفه من اهل السنه من السلف وکثیر من الخلف
    (مجموع الفتاوی ج ۵ ص ۵۰۰.)
    جن میں قرطبی, نسفی, زمخشری, فخرالدین رازی, ابن الجوزی, بیضاوی, علامه قاسمی, آلوسی, شیعه عالم طبرسی, شبیر احمد عثمانی, امین احسن اصلاحی, ابوالاعلی مودودی, سید امیر علی وغیره نے بھی یهاں علم هی مراد لیا هے.
    بریلوی عالم محمد نعیم مراد آبادی نے ذکر کیا هے که
    "یه کمال علم کا بیان هے که هم بنده کے حال کو خود اس سے زیاده جاننے والے هیں."
    (خزائن العرفان ۹۳۴.)
    اور شیخ صلاح الدین یوسف حفظه الله نے ذکر کیا هے که
    "اس قرب سے مراد قرب علمی هے یعنی علم کے لحاظ سے هم انسان کے بالکل بلکه اتنے قریب هیں که اسکے نفس کی باتوں کو بھی جانتے هیں."
    (احسن البیان ۱۲۱۶.)
    اور یه قول حضرت ابن عباس رضی الله عنه کے طرف بھی منسوب هے.
    (بیان تلبیس لابن تیمیه ج ۶ ص ۳۰.)
    .
    تو معلوم هوا که اهل علم نے یهاں قرب سے مراد الله کی ذات نهیں لی بلکه یا فرشتے مراد لیں هے یا تو الله کا علم مراد لیا هے جیسا که لفظ المعیه هے
    (مجموع الفتاوی ج ۵ ص ۵۰۲, بیان تلبیس.)
    نیز شیخ الاسلام کھتے هیں
    "وما ظن ان المراد بذلک قرب ذات الرب من حبل الورید او ان ذاته اقرب الی المیت من اهله فهذا فی غایه الضعف."
    (مجموع الفتاوی ج ۵ ص ۵۰۵.)
    نیز علامه سعدی کھتے هیں که الله کا قرب دو طرح کا هے ایک قرب عام هے اور ایک خاص هے قرب عام جو هے وه الله کا علم هے جو که تمام مخلوق کے ساتھ هے. جیسا که الله نے قرآن میں فرمایا ونحن اقرب الیه من حبل الورید. اور دوسرا قرب یه هے که الله کی عبادت کرنا اور اسکی رضا حاصل کرنا اس سے سوال کرنا اور اس سے محبت کرنا جیسا که الله نے فرمایا "واسجد واقترب." (سورۃ العلق ۱۹.)
    انکے الفاظ هیں.
    "اعلم قربه تعالی نوعان عام وخاص فالقرب العام بعلمه من جمیع الخلق وهو المذکور فی قوله تعالی ونحن اقرب الیه من حبل الورید
    والقرب الخاص قربه من عابدیه وسائلیه ومحبیه وهو المذکور فی قوله تعالی واسجد واقترب."
    (تفسیر السعدی ص ۳۸۴, ۳۸۵, ۸۰۵.)
    .
    تیسرا قول یه هے که لفظ قرب دو لفظ پر مشتمل هے ایک قرب علم الله اور دوسرا قرب ذوات الملائکه.
    دیکھیں
    (فتاوی اللجنه الدائمه للافتاء ج ۳ ص ۱۴۸. ومجله البحوث الاسلامیه ۳۹/ ۱۰۳)
    .
    خلاصه کلام یه که اس مذکورۂ آیت نحن اقرب الیه... سے مراد یهاں الله کا علم هے اور اگر کوئی کھے که آپ نے تاویل کیوں کی تو عرض هے که پهلی بات تو یه هے که یه تاویل نهیں تفسیر هے اور اس آیت کا سیاق وسباق هی اس بات پر دلالت کرتا هے که یهاں اسکا علم مراد هے قرآن هی قرآن کی تفسیر کرتا هے اسلئے قرآن کے دوسرے مقامات کو دیکھنے سے بات واضح هو جاتی هے که یهاں الله کا علم مراد هے نه که خود الله کی ذات مراد هے اور جو نحن کا صیغه هے اگرچه جمع کا هے لیکن بعض دفعه یه تعظیم کیلئے بھی استعمال هوتا هے لیکن یهاں سیاق وسباق اس بات پر دلالت کرتا هے که یهاں علم مراد لیا جائے اور یه تفسیر خود قرآن سے هی واضح هے اهل سنت وسلف کے موافقه هے قرآن کی تفسیر قرآن سے هی هے یه تفسیر تفسیر بالرای نهیں.
    الله سمجھنے کی توفیق دے. آمین.
    .
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں