1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز میں خشوع کی جستجو میں مختلف مساجد کا رخ کرنا

'مساجد' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مئی 27، 2016۔

  1. ‏مئی 27، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    نماز میں خشوع کی جستجو میں مختلف مساجد کا رخ کرنا

    سوال: میں اس حدیث کے صحیح ہونے سے متعلق جاننا چاہتا ہوں جس میں ہے کہ: (تم اپنی قریب ترین مسجد میں نماز ادا کر لو اور مختلف مساجد میں مت جاؤ) اور اس شخص کے بارے میں ہم کیا کہیں گے جو مختلف مساجد میں اس لیے جاتا ہے کہ نماز میں خشوع تلاش کرے، جہاں اس کا دل نماز میں حاضر رہے اور عشاء کی نماز فوت بھی نہ ہو؟

    Published Date: 2016-05-25

    الحمد للہ:

    " میرے علم کے مطابق اس حدیث کی صحت کے بارے میں اختلاف ہے، اور اگر اسے صحیح مان لیا جائے تو یہ حدیث اس صورت سے متعلق ہو گی جس میں مسجد کے قریبی نمازیوں کو منتشر کرنا لازم آتا ہو، وگرنہ یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے نمازیں پڑھنے کیلیے مسجد نبوی آیا کرتے تھے، بلکہ معاذ رضی اللہ عنہ پہلے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے عشا ءکی نماز پڑھتے اور پھر اپنے قبیلے میں جا کر انہیں عشا ءکی نماز پڑھاتے ، حالانکہ اس طرح ان کی عشا ءکی نماز مؤخر بھی ہو جاتی تھی۔

    لہذا کسی مسجد میں انسان اس لیے جاتا ہے کہ اس کی قراءت بہت اچھی ہے، یا اچھی آواز کی وجہ سے لمبے قیام میں مدد ملتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

    البتہ اگر ایسے کرنے سے فتنے کا خدشہ ہو یا قریبی امام کی اہانت لازم آتی ہو ،مثال کے طور پر وہ علاقے کی معزز شخصیت ہو اور قریبی مسجد کی بجائے کسی دوسری مسجد میں جانے سے امام کی شان میں کمی آتی ہو تو ہم یہاں کہیں گے اس خرابی سے بچنے کیلیے دور والی مسجد میں نہ جائے" انتہی.

    "مجموع فتاوى شیخ ابن عثیمین" (14/241، 242)

    https://islamqa.info/ur/108614
     
  2. ‏مئی 27، 2016 #2
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    ایک دن میں فرض نماز دو دفعہ ادا کرنے کی کیا ممانعت نہیں؟
     
  3. ‏مئی 28، 2016 #3
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے والوں کو نماز پڑھاتے تو ان کی نماز نفل اور قبیلے والوں کی فرض ہوتی تھی۔
    فقہ حنفی میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے برخلاف یہ جائز نہیں۔ یعنی کہ فقہ حنفی میں متنفل کی اقتداء میں مفترض کی نماز جائز نہیں۔ فتدبر!
     
    Last edited: ‏مئی 28، 2016
  4. ‏مئی 28، 2016 #4
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    میرا اشکال در اصل فقرہ کے اس حصہ سے تعلق رکھتا تھا؛
    ان کی عشاء کی نماز مؤخر کیسے ہو جاتی تھی؟؟؟
     
  5. ‏مئی 28، 2016 #5
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    ماروں گھٹنا ، پھوٹے آنکھ

    اس مکمل حدیث کا مطالعہ کریں ان شاء اللہ بات واضح ہو گی!
     
  6. ‏مئی 28، 2016 #6
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    اس تھریڈ کا لبِ لباب اور مکمل حدیث لکھ دیں۔ شکریہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں