1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز میں ستر کی حدود کیا ہیں؟

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏نومبر 02، 2016۔

  1. ‏نومبر 02، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    نماز میں ستر کی حدود کیا ہیں؟

    سوال: ستر کسے کہتے ہیں؟ اور اس کی حد بندی کیا ہے؟ اگر کسی شخص کو شک گزرے کہ اس کے ستر کا کچھ حصہ نماز میں عیاں ہو جاتا ہے تو کیا اس کی نماز ٹوٹ جائے گی؟

    Published Date: 2016-10-30

    الحمد للہ:

    اول:

    لغوی طور پر عربی زبان میں ستر پر "اَلْعَوْرَةُ" کا لفظ بولا جاتا ہے جو کسی بھی درّے میں پائے جانے والے خلل کو کہتے ہیں۔

    لغت کی کتاب: " الْمِصْبَاحِ المنير " میں ہے کہ:

    جس چیز کو بھی انسان حیا اور شرم کی وجہ سے ڈھانپے اسے [اردو میں ستر اور] عربی میں " عَوْرَةُ " کہا جائے گا۔

    فقہائے کرام کے ہاں ستر یہ ہے کہ:

    جسم کے جس حصے کو بھی مرد یا خاتون کیلیے عریاں کرنا حرام ہے اسے ستر کہتے ہیں۔

    اور فقہائے کرام کے مطابق ستر پوشی اسے کہتے ہیں کہ:

    انسان چاہے مرد، عورت یا مخنث کوئی بھی ہو، اس کا اپنے جسم کے اس حصے کو ڈھانپ کر رکھنا جسے عیاں کرنا عار اور شرمندگی کا باعث ہو ستر پوشی کہلاتا ہے۔

    دیکھیں: الموسوعة الفقهية (24/173)

    دوم:

    نماز کے درست ہونے کیلیے ستر ڈھانپنا شرط ہے؛ کیونکہ فرمانِ باری تعالی ہے:

    ( خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُل مَسْجِدٍ )

    ترجمہ: کسی بھی مسجد کے پاس [جانے کیلیے] لباس ِزینت زیب تن کر کے جاؤ۔ [الأعراف:31]

    اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ:

    "زینت سے مراد نماز کیلیے لباس ہے"

    تفسیر طبری: (12/391)


    اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

    (کسی بھی بالغہ عورت کی نماز دوپٹے کے بغیر اللہ تعالی قبول نہیں فرماتا)

    ابو داود: (641) اور ترمذی: (377) نے اسے حسن قرار دیا ہے جبکہ البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔


    اسی طرح المغنی: (1/336) میں ہے کہ:

    "ستر کو ایسے انداز سے ڈھانپنا کہ یہ نمایاں نہ ہو اور نہ ہی جسم کے خد وخال اسے عیاں ہو نماز کے صحیح ہونے کیلیے شرط ہے، امام شافعی اور اصحاب رائے کا بھی یہی موقف ہے" انتہی

    ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "جمہور اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ ستر کو نماز میں ڈھانپنا شرط ہے" انتہی
    فتح الباری: (1/466)

    سوم:

    نمازی کیلیے اپنے ستر کو دورانِ نماز ڈھانپ کر رکھنا تمام مسلمانوں کے ہاں واجب ہے، مرد کا ستر جمہور اہل علم کے ہاں ناف سے گھٹنے تک ہے۔

    مزید کیلیے دیکھیں: المغنی (3/7) ، الاستذكار (2/197) ، فتاوى إسلامية" (1/427)

    جبکہ عورت کے نماز کیلیے ستر بالوں سمیت عورت کا پورا جسم ستر ہے، ما سوائے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے ، چنانچہ اگر اس طرح نماز ادا کرے تو اس کی نماز متفقہ طور پر مکمل ہے۔

    مزید کیلیے دیکھیں: "الإقناع في مسائل الإجماع "از: ابن قطان (1/121-123) اور اسی طرح "الشرح الممتع" (2/160) اور اس کے بعد والے صفحات کا مطالعہ کریں۔

    چہارم:

    نمازی نماز میں داخل ہو تے وقت مطمئن اور پر یقین ہو کہ اس کا ستر ڈھانپا ہوا ہے لیکن درمیان میں اسے یہ شک گزرے کہ ستر کا کچھ حصہ عیاں ہے تو شک چھوڑ دے اور اپنی نماز مکمل کرے؛ کیونکہ یقینی طور پر اس نے ستر ڈھانپا ہوا ہے لہذا یقین کو شک کی بنا پر ختم نہیں کیا جا سکتا اور ایسی صورت میں شک کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

    بخاری: (137) اور مسلم: (361) میں عباد بن تمیم اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی ایسے شخص کے بارے میں شکایت کی گئی کہ اسے دورانِ نماز محسوس ہوتا ہے کہ ہوا خارج ہو گئی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (وہ اس وقت تک نماز مت توڑے جب تک آواز یا بد بو نہ سونگھ لے)

    نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "یہ حدیث اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک اصول بیان کر رہی ہے اور یہ اصول فقہی قواعد میں سے عظیم قاعدہ ہے، یعنی کہ ہر چیز کا یقینی حکم باقی ہے جب تک اس کے متصادم یقینی دلائل ثابت نہ ہو جائیں، لہذا وقتی طور پر پیدا ہونے والا شک اس چیز کے اصلی حکم پر اثر انداز نہیں ہو گا" انتہی

    البتہ نمازی کی ذمہ داری ہے کہ نماز میں داخل ہونے سے پہلے مکمل تیاری کر لے اور ایسا لباس زیب تن کرے جس میں یقینی طور پر ستر ڈھک جائے اور ایسے لباس سے بچے جس میں دوران نماز ستر کے عیاں ہونے کا خدشہ ہو ، مثال کے طور پر ٹی شرٹ وغیرہ جو کہ پچھلی جانب سے عام طور پر سرک جاتی ہیں اور رکوع یا سجدے میں جاتے ہوئے ستر عیاں ہو جاتا ہے۔

    مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (3075) اور (107701) کا مطالعہ بھی کریں۔

    واللہ اعلم.

    اسلام سوال و جواب

    https://islamqa.info/ur/126265
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں