1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

نماز میں سستی کی سزا ۔۔۔ اس روایت کی تحقیق درکار ہے۔

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از ام حسان, ‏مارچ 29، 2017۔

  1. ‏مارچ 29، 2017 #1
    ام حسان

    ام حسان رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 12، 2015
    پیغامات:
    53
    موصول شکریہ جات:
    30
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

    اس روایت کی صحت جاننا چاہتی ہوں،

    امام ذھبی رحمہ اللہ الکبائر میں نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی اپنی بہن کو دفن کرنے جاتا ہے، اور اس دوران کچھ نقدی گر جاتی ہے قبر میں، قبر کو کھولا گیا، تو دیکھا کہ پوری قبر آگ سے بھری ہوی ہے، وہ اپنی ماں کے پاس پہنچتا ہے اور پوچھتا ہے اپنی بہن کے بارے میں، تو ماں کہتی ہے کہ نماز میں سستی کرتی تھی۔۔۔


    جزاکم اللہ خیرا
     
  2. ‏مارچ 29، 2017 #2
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,549
    موصول شکریہ جات:
    3,498
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    اس قصہ کو امام ذہبی نے کتاب الکبائر میں بنا کسی سند کے ذکر کیا ہے۔ اس قصہ کو انہوں نے محض بعض اسلاف کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔
    عن بعض السلف أنه أتى أختا له ماتت فسقط كيس منه فيه مال في قبرها فلم يشعر به أحد حتى انصرف عن قبرها ثم ذكره فرجع إلى قبرها فنبشه بعدما انصرف الناس فوجد القبر يشعل عليها نارا فرد التراب عليها ورجع إلى أمه باكيا حزينا فقال يا أماه أخبريني عن أختي وما كانت تعمل قالت وما سؤالك عنها قال يا أمي رأيت قبرها يشتعل عليها نارا قال فبكت وقالت يا ولدي كانت أختك تتهاون بالصلاة وتؤخرها عن وقتها (الکبائر: ص 25)
    اس لئے اس پر صحت یا ضعف کا کوئی حکم لگانا ممکن نہیں ہے، البتہ ان جیسے اقوال جو ترغیب وترہیب کے باب میں بنا سند ذکر کیے جاتے ہیں وہ اکثر ضعیف یا موضوع ہوتے ہیں۔ البتہ عذاب قبر کے اثبات اور ترک نماز کی ترہیب میں جو آیات، اور صحیح احادیث وآثار نقل ہوئے ہیں وہ سب ان جیسے اقوال کی نسبت کافی ہیں۔
    اس کے برعکس عذاب قبر کا حال دکھانے اور دیکھنے والی جتنی بھی روایات ہیں وہ سب نبی اکرم ﷺ کے اس قول کے مخالف ہیں:
    لولا أن لا تدافنوا لدعوت الله أن يسمعكم عذاب القبر
    "اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ تم مُردوں کو دفن نہیں کر و گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمھیں عذاب قبر سنا دے۔" (صحیح مسلم: 2868)
    کیونکہ دیکھنا تو سننے سے بھی زیادہ بھاری اور واضح ہے۔
    واللہ اعلم
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں