1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز میں صف بندی کا آداب !!!

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جنوری 20، 2014۔

  1. ‏جنوری 20، 2014 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,985
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    نماز میں اپنی صفیں برابر رکھو !!!
    1524967_617289874972973_992565375_n.jpg
     
  2. ‏جنوری 20، 2014 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,985
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    كيا صف بندى پاؤں كے ساتھ ہو گى يا كندھوں سے !!!

    نماز ادا كرنے كے ليے ہمارى صف بندى پاؤں برابر كر كے ہو گى يا كہ كندھے برابر كر كے ؟

    الحمد للہ:

    صحيح يہ ہے كہ:

    صف بندى كندھوں اور پاؤں دونوں برابر كر كے ہو گى.

    امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے" كندھے كے ساتھ كندھا اور پاؤں كے ساتھ پاؤں ملانے كا باب " باندھا ہے، اور اس كے بعد كہتے ہيں: نعمان بن بشير رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ: ميں ديكھتا تھا كہ ہم ميں مرد اپنا كندھا اور ٹخنہ اپنے ساتھ والے كے كندھے اور ٹخنے سے ملاتا تھا. اھـ.

    شيخ عبد العظيم آبادى نے " التعليق المغنى " ميں كہا ہے:

    " ان احاديث ميں صف بندى اور برابر كى اہميت پر واضح دلالت پائى جاتى ہے، اور يہ كہ صف برابركرنا اتمام نماز ميں شامل ہوتا ہے، اور يہ كہ كوئى بھى شخص كسى دوسرے سے آگے پيچھے نہ ہو، اور يہ كہ اپنا كندھا اور پاؤں اور گھٹنا اپنے ساتھ والے كے كندھے اور پاؤں اور گھٹنے سے ملا كر ركھے، ليكن آج يہ سنت ترك كى جا چكى ہے، اگر آپ ايسا كريں تو لوگ نيل گائے كى طرح بدك جاتے ہيں!! انا للہ وانا اليہ راجعون. اھـ

    ديكھيں: عون المعبود ( 2 / 256 ).

    المنكب بازو اور كندھے كو ملا كر كہتے ہيں.
    الكعب: پاؤں كے دونوں طرف ابھرى ہوئى ہڈى كو كہتے ہيں.

    واللہ اعلم .
    الشيخ محمد صالح المنجد
     
  3. ‏جنوری 20، 2014 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,985
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    اگر مسجد ميں آئے اور صف ميں جگہ نہ ہو تو كيا كرے ؟

    اگر كوئى شخص نماز كے ليے آئے اور اسے صف ميں جگہ نہ ملے تو كيا كرے، كيا وہ ايك ضعيف حديث كے مطابق اكيلا ہى صف ميں كھڑا ہو جائے جس ميں ذكر ہے كہ اگلى صف سے ايك شخص كھينچ كر اس كے ساتھ نماز ادا كرے ؟

    اور اگر اگلى مكمل صف ميں كھڑا شخص پچھلى صف ميں اكيلے شخص كے جگہ بنائے تو اس كا حكم كيا ہے ؟

    الحمد للہ:

    مستقل فتوى كميٹى كے سامنے درج ذيل سوال ركھا گيا:

    ايك شخص آيا تو صفيں مكمل تھيں، صف ميں كے آخر ميں ايك بچہ تھا، كيا وہ اس بچے كو كھينچ كر اس كے ساتھ نماز ادا كرے يا نہ ؟

    اور اگر كوئى شخص آئے تو نمازى ركوع كى حالت ميں ہوں تو كيا وہ نمازى كو ركوع كى حالت ميں ہى پيچھے كھينچ سكتا ہے يا نہيں ؟

    اگر اگلى صفيں پورى ہو چكيں ہوں اور اس كے ساتھ بچے نماز ادا كر رہے ہوں، جن ميں سے بعض بچے سن امتياز كو پہنچ چكے ہوں، اور بعض نہيں تو كيا ان كے ساتھ نماز ادا كرنا جائز ہے ؟

    كميٹى كے علماء كرام كا جواب تھا:

    اگر نماز اگلى صف مكمل پائے تو كسى كے آنے تك انتظار كرے تا كہ اسكے ساتھ مل كر كھڑا ہو، اور اگلى صف ميں سے كسى كو بھى مت كھينچے اور اگر صف ميں داخل ہو سكے توٹھيك يا پھر امام كے دائيں جانب كھڑا ہو كر نماز ادا كر لے.

    اور اگر بچے سن تميز تك پہنچ چكے ہوں تو ان كے ساتھ كھڑے ہو كر نماز ادا كرنا صحيح ہے.

    يہ اس وقت كا واقعہ ہے جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم چاشت كے وقت ان كے گھر تشريف لائے.

    اور اگر بچے سن تميز تك نہ پہنچے ہوں تو اس كا حكم صف كے پيچھے اكيلے شخص كا نماز والا ہے، اور صف كے پيچھے منفرد شخص كى نماز صحيح نہيں؛

    اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے، اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.

    ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 8 / 6 - 7 ).

    اور اگر اسے نماز نكل جانے كا خدشہ ہو اور صف ميں جگہ نہ ملے اور نہ ہى كوئى شخص آئے تو وہ ان كے پيچھے اكيلا ہى نماز ادا كر لے، اور اس كى نماز صحيح ہو گى-

    شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ تعالى كا فتوى يہى ہے.

    واللہ اعلم .
    الشيخ محمد صالح المنجد
     
  4. ‏جنوری 20، 2014 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,985
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے اور پاؤں سےپاؤں ملانے کا ثبوت
    SABOOT.jpg
     
  5. ‏ستمبر 27، 2014 #5
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,985
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    984224_963653433661818_1107159012329789962_n (1).png
     
  6. ‏اکتوبر 05، 2014 #6
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,985
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    1233534_964256596934835_3704969967796421344_n.png
     
  7. ‏اکتوبر 05، 2014 #7
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,985
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    10678638_964256343601527_8468970662953080175_n.png
     
  8. ‏اکتوبر 05، 2014 #8
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,985
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    10435100_964256070268221_1364528606419753940_n.png
     
  9. ‏مارچ 10، 2015 #9
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,985
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    1484526_796568153755640_1102738525188828135_n.jpg
     
  10. ‏مارچ 11، 2015 #10
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    دراصل صف بندی نماز کی صحت کیلئے شرط ہے اور صحیح صف بندی یہ ہے کہ پیر سے پیر ٹخنہ سے ٹخنہ اور کندھا سے کندھا ملا ہو اور جو لوگ الگ الگ کھڑے ہوتے ہیں پیر سے پیر نہیں ملاتے ہیں ان کی نماز صحیح نہیں ہوتی ہے اسی وجہ سے صف بندی کی حدیث میں بڑی تاکید آئی ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں